Friday, May 15, 2020

قبرستان کے ہرے اور سوکھے گھاس کا حکم

*🌹قبرستان کے ہرے اور سوکھے گھاس کا حکم🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
💚💚💚💚💚💚💚
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان 
شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
شب برات کے موقع پرقبرکو صاف 
کرنا کیساہے حدیث وقرآن کی روشنی 
میں جواب عنایت فرمائیں 
☪☪☪☪☪☪☪☪
*🌹سائل محمد رفیق عالم قادری گھر بہاری گنج🌹*
ا__________💠⚜💠___________
*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ*

*📝الجواب اللھم ہدایت الحق والصواب* 

💫مقبرے کی گھاس(سبز) کاٹنا مکروہ ہے کہ جب تک وہ (گھاس سبز)تر رہتی ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے اس(سبز گھاس) سے اموات کا دل بہلتا ہے *اور اُن پر رحمت الٰہی کا نزول ہوتا,* ہاں خشک گھاس کاٹ لینا جائز ہے, مگر وہاں سے تراش کر جانوروں کے پاس لے جائیں, اور ممنوع ہے کہ انھیں گورستان میں چرنے چھوڑ دیں:،
*'📕 في جنائز رد المحتار يكره أيضاً قطع النبات الرطب :* *والحشيش من المقبرة دون اليابس كما في البحر و الدرر و شرح المنية،وع لله في الامداد بأنه مادام رطبا يسبح الله تعالى فيوسن الميت و تنزل بذكره الرحمة و نحوه في الخانية اتنهي و في العالمگیرية عن البحر الرائق لوكان فيها حشيش و يحشو يرسل الي الدواب و لا ترسل الدواب فيها،:*
📙 ردالمحتار کے جائز میں ہے کہ تر گھاس کا مقبرے سے کاٹنا مکروہ ہے 
خشک گھاس کا نہیں, 
📑جیسا کہ بحر درر اور شرح منیہ میں ہے, اور امداد میں اسکی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ 
*🎗جب تک وہ تر رہتی ہے اللہ کی تسبیح کرتی رہتی ہے جس سے میت کو انس حاصل ہوتا ہے,*
📃 خانیہ میں بھی اسی طرح ہے انتہی, اور علمگیر یہ میں بحر الرائق سے ہے کہ اگر قبرستان خشک گھاس ہوتو کاٹ لائی جا سکتی ہے مگر جانور اس میں نہ چھوڑے جائیں, 

*📚فتاویٰ رضویہ شریف جدید ج (۹) ص (۴۴۴)*

*🌹واللہ ورسولہ اعلم بالصواب🌹*
ا___________💠⚜💠___________
*✍🏻شـر ف قـلـم حضرت عـلامہ و مولانا محمد راشد مکی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والـنورانی گرام ملک پور کـٹیـہـار بہار*
*🗓 ۲۵ اپریل بروز جمعرات ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطه* https://wa.me/+918743811087
ا___________💠⚜💠___________
*🔸فیضان غوث و خواجہ گروپ ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________💠⚜💠___________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غوث و خواجہ گـروپ؛ مـحمـد ایـوب خان علوی*
ا__________💠⚜💠___________

No comments:

Post a Comment