*❣️قرض لے کر زکوٰةاداکرناکیسا؟❣️*
الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia
سوال : حضرت ایک مسئلہ ہے
قرض لے کر زکوٰۃ ادا کرنا کیسا ہے؟زکوٰۃ فرض ہےحالات کے پیش نظرپاس میں نقد نہیں ہے
سونا چاندی وغیرہ بیچنے کےراستے بند ہیں کسی کا پیسہ گاؤں میں ہےکسی کا پیسہ بینک میں ہےالمختصرزکوٰۃ فرض ہے لیکن پاس میں نقد رقم نہیں ہے
تو کیا ایسی صورت میں قرض لے کر زکوٰۃ ادا کر سکتے ہیں؟؟؟
ا________(🧫)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
بنا عذر شرعی زکوۃ ادا کرنے میں تاخیر کرنے سے بندہ گنہگار ہوتا یہاں تک کہ اس کی شہادت مقبول نہیں ہوتی ۔
لھذا بر تقدیر صدق مستفتی صورت مسئولہ میں واقعی زید کے پاس زکوۃ ادا کرنے کے لیے نقد رقم نہیں ہے اور سونا چاندی فروخت کرنے کی کوئی سبیل بھی نہیں ہے جیساکہ سوال میں مذکور ہے تو زید کے لیے بہتر یہی ہے کہ قرض لے کر زکوۃ ادا کرے جب کہ قرض ادا کرنا مکمن ہو ۔ اور اگر قرض ادا کرنا مکمن نہ ہو سہولت فراہم ہونے تک زکوۃ ادا کرنے میں تاخیر کر سکتا ہے ۔
*(📗رد المحتار میں ہے: )*
*ولو لم يكن عنده مال فأراد أن يستقرض لأداء الزكاة إن كان أكبر رأيه أنه يقدر على قضائه فالأفضل الاستقراض وإلا فلا لأن خصومة صاحب الدين أشد. اهـ*
*(📗ج ۳/ص۱۹۲)*
*واللہ اعلم بالصواب*
ا_________(🖊️)_________
*کتبـــہ؛*
*محمد ھاشم رضا مصباحی خادم الافتاء والقضا دارالعلوم جامعہ رضویہ شاہ علیم دیوان شیموگہ کرناٹکا؛*
*مورخہ؛15/5/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7760517611)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتـــہر فضل کبیر 🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
741
No comments:
Post a Comment