Monday, July 20, 2020

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط دہم (10) - سوال 91 تا 100🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط دہم (10) - سوال 91 تا 100🌺
*سوال 91:*
اگر کسی جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں تو کیا اس کی قربانی جائز ہے ؟
*جواب :* 
جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے. 
*(الھدایہ جلد 4 صفحہ 447 مکتبہ رحمانیہ لاہور، فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 535 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 92:* 
اگر قربانی کے جانور کے سینگ ٹوٹ جائیں کیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے ؟
*جواب :*
اس مسئلہ کی درج ذیل تین صورتیں ہیں :
1- اگر سینگ جڑ تک نہ ٹوٹیں بلکہ اوپر سے ٹوٹ جائیں تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے. 
2- اگر سینگ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹ جائیں جس کی وجہ سے سر میں زخم ہو جائے اور قربانی تک وہ زخم بھر جائے تو ایسے جانور کی بھی قربانی جائز ہے.
3- اگر سینگ سر کے اندر جڑ تک ٹوٹ جائیں جس کی وجہ سے سر میں زخم ہو جائے اور قربانی تک وہ زخم نہ بھرے تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے کیونکہ سینگ ٹوٹنے کی وجہ سے جو زخم ہوا وہ عیب ہے اور وہ اب تک برقرار ہے. 
*(ماخوذ از فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 460 رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 535 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 93:* 
اگر کسی جانور کے سینگ جلا دیے اور بعد میں دونوں سینگ نہ نکلے یا کوئی ایک سینگ نہ نکلا تو کیا ایسے جانور کی قربانی ہو جائے گی ؟
*جواب :*
اگر کسی جانور کے سینگ جلا دیے اور جلانے کی وجہ سے بعد میں دونوں سینگ نہ نکلے یا دونوں میں سے کوئی ایک نہ نکلا تو ایسے جانور کی قربانی ہوجائے گی بشرطیکہ سینگ جلانے کی وجہ سے ہونے والا زخم قربانی تک باقی نہ ہو. 
*(ماخوذ از فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 460 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 94:*
اگر کسی جانور کے پورے دوکان یا کوئی ایک کان کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی جانور کے پورے دوکان کٹے ہوئے ہوں یا کوئی ایک کان کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 536 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 95:*
اگر کسی جانور کا کان چِرا ہوا ہو تو اس کی قربانی کرنا کیسا ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی جانور کا کان لمبائی میں چِرا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے مگر بچنا بہتر ہے۔
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 298 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 96:*
اگر کسی جانور کا کان پھٹا ہوا ہو یعنی اس کے کان میں سوراخ ہو تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی جانور کا کان پھٹا ہوا ہو یعنی کان میں سوراخ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے مگر بچنا بہتر ہے۔
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 298 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 97:* 
اگر کسی جانور کے کان کا اگلا یا پچھلا حصہ کٹا ہوا ہو لیکن جدا نہ ہو تو کیا اس کی قربانی جائز ہے ؟ 
*جواب :*
اگر کسی جانور کے کان کا اگلا یا پچھلا حصہ کٹا ہوا ہو لیکن جدا نہ ہو بلکہ لٹکا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے مگر بچنا بہتر ہے۔
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 298 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 98:*
اگر کسی جانور کے پیدائشی طور پر کان چھوٹے ہوں تو کیا اس کی قربانی جائز ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی جانور کے کان پیدائشی طور پر چھوٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتارعلی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 537 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 99:*
اگر کسی جانور کے پیدائشی طور پر دونوں کان نہ ہوں یا ایک کان نہ ہو تو اس کی قربانی کرنا کیسا ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی جانور کے پیدائشی طور پر دونوں کان نہ ہوں ایک کان نہ ہو تو اس کی قربانی کرنا جائز نہیں.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتارعلی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 537 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 100:* 
جس جانور کی اون کاٹ لی گئی ہو اس کی قربانی کرنا کیسا ہے ؟
*جواب :*
جس جانور کی اون کاٹ لی گئی ہو، اس کی قربانی کرنا بالکل جائز ہے. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 298 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی* 
18/07/2020
03068209672

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط نہم (9) - سوال 81 تا 90🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط نہم (9) - سوال 81 تا 90🌺
*سوال 81 :* 
قربانی کے لئے گائے اور بھینس کی عمر کتنی ہونی ضروری ہے؟
*جواب :*
قربانی کے لئے گائے اور بھینس کی عمر کم از کم دو سال ہونی ضروری ہے، اگر یہ اس سے کم عمر ہوں تو ان کی قربانی جائز نہیں ہوگی. 
*(ردالمحتار علی الدر المختار جلد 9 صفحہ 534 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 82:*
قربانی کے لیے اونٹ کی عمر کتنی ہونا ضروری ہے ؟
*جواب :*
قربانی کے لئے اونٹ کی عمر کم از کم پانچ سال ہونا ضروری ہے، اگر اس سے کم عمر ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہوگی.
*(ردالمحتار علی الدر المختار جلد 9 صفحہ 533 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 83:*
کیا بھینس کی قربانی کرنا جائز ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں ! بھینس کی قربانی کرنا بالکل جائز ہے کیونکہ یہ پالتو گائے کی ایک قسم ہے. 
*(پارہ 17 سورۃ الحج : 34، مصنف عبدالرزاق جلد 4 صفحہ 24 رقم الحدیث : 6851 مطبوعہ المجلس العلمی، فتاویٰ خانیہ جلد 3 صفحہ 348 قدیمی کتب خانہ کراچی، فتح القدیر جلد 9 صفحہ 531 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 400 تا 404 رضا فاؤنڈیشن لاہور، بہار شریعت حصہ 15 جلد 3 صفحہ 339 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
آج کل کچھ لوگ بھینس کی قربانی کا انکار کرتے ہیں حالانکہ ان کے علماء نے بھینس کی قربانی کو جائز قرار دیا ہے جن کے کچھ حوالے استاذی المکرم علامہ محمد صادق القادری دامت برکاتھم العالیہ نے اپنی کتاب *"عیدالاضحیٰ کا تحفہ"* کے صفحہ 36 پر تحریر فرمائے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :
1- غیر مقلدین کے عالم ثناء اللہ امر تسری کا یہی موقف ہے.
*(فتاوی ثنائیہ جلد 1 صفحہ 810 مطبوعہ کراچی)*
2- غیر مقلدین کے عالم اور مفتی ابو البرکات کا یہی موقف ہے .
*(فتاوی برکاتیہ صفحہ 342 مطبوعہ گوجرانوالہ)*
3 - غیر مقلدین کے عالم اور امام عبدالستار دہلوی کا یہی موقف ہے. 
*(فتاوی ستاریہ جلد 3 صفحہ 2، جلد 2 صفحہ 15 مطبوعہ کراچی)*
4- غیر مقلدین کے عالم مقیم الحسن دہلوی کا یہی موقف ہے. 
*(بھینس کی قربانی)*
5 - غیرمقلدین کے امام نذیر حسین دہلوی کا یہی موقف ہے.
*(فتاوی نذیریہ جلد 3 صفحہ 257، 258 مکتبۃ المعارف الاسلامیہ گوجرانوالہ)*
*لطیفہ :*
بھینس کی قربانی سے روکنے والوں اور اسے ناجائز قرار دینے والوں کے مشہور (غیرمقلد) علماء کے نزدیک خود مرغ کی قربانی کے جائز ہے۔
*(فتاوی ستاریہ جلد 2 صفحہ 72 مطبوعہ کراچی)*
*سوال 84 :*
کیا قربانی کے جانور کو صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے قریب کسی کو آنے نہیں دیتا اور مارتا ہے، واپس یا تبدیل کرایا جا سکتا ہے؟
*جواب :*
اگر یہ جانور شرعی فقیر نے قربانی کی نیت سے خریدا ہے تو اس پر اسی جانور کی قربانی کرنا واجب ہے وہ اس کے لڑنے کی وجہ سے اسے تبدیل نہیں کر سکتا. 
اور اگر ایسے شخص نے قربانی کی نیت سے خریدا ہے جس پر قربانی واجب تھی تو چونکہ جانور کا لڑنا ایسا کوئی عیب نہیں ہے جس کی وجہ سے قربانی جائز نہ ہو تو اس کی قربانی درست ہے. 
البتہ اس لڑنے کی وجہ سے اس کی دیکھ بھال میں مشکل پیش آرہی ہو تو اس جانور کو فروخت کرکے یا تبدیل کرکے دوسرے جانور کی قربانی کرسکتے ہیں لیکن یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ دوسرے جانور کی قیمت پہلے جانور سے کم  یا برابر نہیں ہونی چاہیے بلکہ زیادہ ہونی چاہیے.
*(ماخوذ از عالمگیری جلد 5 صفحہ 291، 292 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، جدالممتار علی ردالمحتار جلد 6 صفحہ 459، 460 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 85:*
اگر شرعی فقیر  نے کوئی ایسا جانور قربانی کیلئے خریدا جو کم عمر یا عیب دار تھا تو اب کیا صورت ہوگی ؟
کیا اسی جانور کی قربانی کرنا شرعی فقیر پر واجب ہوگی یا اس کی جگہ دوسرا جانور لینا واجب ہوگا یا کچھ بھی واجب نہیں ہوگا؟
*جواب :*
فقیر پر اسی کم عمر یا عیب دار جانور کی قربانی کرنا واجب ہے اس کی جگہ دوسرا جانور تبدیل نہیں کر سکتا.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 539 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 86:*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو تو کیا وہ اپنی طرف سے ایک سے زائد قربانیاں کر سکتا ہے ؟
*جواب :*
مالدار شخص پر ایک ہی قربانی واجب ہوتی ہے جبکہ ایک سے زائد قربانیاں کرنا اس کے لیے نفل ہیں، لہذا اگر ایک سے زائد قربانیاں کرے گا تو ثواب پائے گا.
*نوٹ :*
البتہ اگر ایک پوری گائے قربانی کی قربانی کی تو پوری گائے سے ہی واجب ادا ہوگا، ایسا نہیں ہوگا کہ ساتویں حصے سے واجب ادا ہوجائے اور باقی چھ حصے نفل ہوجائیں۔
*(بہارِ شریعت حصہ 15 جلد 3 صفحہ 352 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 87:*
قربانی کے جانور کا معیار کیسا ہونا چاہئے ؟
*جواب :* 
مستحب ہے کہ قربانی کے جانور کے کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں وغیرہ بالکل سلامت ہوں اور جانور میں کسی بھی طرح کا کوئی بھی عیب نہ ہو. 
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 536 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 88:*
کیا خارشی جانور کی قربانی کرنا جائز ہے ؟
*جواب :*
اگر خارش والا جانور موٹا تازہ ہو تو اس کی قربانی کرنا جائز ہے اور اگر اتنا کمزور ہو کہ ہڈیوں میں مغز نہ رہے تو اس کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 298 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 535 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 89:*
کیا پاگل جانور کی قربانی کرنا جائز ہے ؟
*جواب :* 
اگر پاگل جانور چارہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی کرنا جائز ہے اور اگر پاگل جانور چارہ نہ کھا سکتا ہو تو اس کی قربانی کرنا جائز نہیں.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 535 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 90:* 
اگر کسی جانور کی ناک کٹی ہو تو کیا اس کی قربانی کرنا جائز ہے ؟
*جواب :* 
اگر کسی جانور کی ناک کٹی ہو تو اس کی قربانی کرنا جائز نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 537 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
ابواسیدعبیدرضامدنی 
17/07/2020
03062809672

Saturday, July 18, 2020

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط ہشتم (8) - سوال 71 تا 80🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط ہشتم (8) - سوال 71 تا 80🌺
*سوال 71:*
کیا مالدار قربانی کا جانور خرید کر بیچ سکتا ہے ؟ 
*جواب:*
اگر مالدار قربانی کا جانور اپنی قربانی کی نیت سے خریدے تو اس کو بیچنے کی تین صورتیں بنتی ہیں جن میں سے ایک جائز اور دو ناجائز ہیں :
1- اگر قربانی کا جانور بیچ کر اس سے بہتر خریدنا چاہتا ہے تو بیچنا جائز ہے. 
2- اگر قربانی کا جانور بیچ کر اس کی مثل دوسرا جانور خریدنا چاہتا ہے تو مکروہِ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے. 
اس صورت میں بیچ دیا تو صرف توبہ اس پر لازم ہے. 
3- اگر قربانی کا جانور بیچ کر اس کی قیمت میں سے کچھ بچا کر دوسرا سستا جانور خریدنا چاہتا ہے تو تو مکروہِ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے. 
اگر اس صورت میں بیچ دیا تو توبہ کے ساتھ ساتھ بچائی ہوئی رقم صدقہ بھی کرے. 
*(جدالممتار علی ردالمحتار جلد 6 صفحہ 459، 460 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 72:*
قربانی کا انکار کرنا کیسا ہے ؟ 
*جواب:*
قربانی کا انکار کرنا گمراہی ہے. 
*(فتاوی رضویہ جلد 14 صفحہ 324 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 73:*
کتنی قسم کے جانوروں کی قربانی ہو سکتی ہے ؟
*جواب :*
درج ذیل تین قسم کے جانوروں کی قربانی ہو سکتی ہے :
1- بکری 
2- گائے 
3- اونٹ 
*نوٹ :* 
بکری میں خصی بکرا، غیر خصی بکرا، بھیڑ، خصی دنبہ (خصی مینڈھا)، غیر خصی دنبہ (غیر خصی مینڈھا) سب شامل ہیں. 
اسی طرح گائے میں خصی بیل، غیر خصی بیل، بھینس، خصی بھینسا، غیر خصی بھینسا سب شامل ہیں. 
اور اونٹ میں خصّی اونٹ، غیر خصّی اونٹ اور اونٹنی سب شامل ہیں. 
*(الھدایہ جلد 4 صفحہ 449 مکتبہ رحمانیہ لاہور، فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 74:* 
کیا مرغی اور مرغے کی قربانی ہو سکتی ہے ؟
*جواب :* 
مرغی اور مرغے کی قربانی نہیں ہو سکتی بلکہ مرغی کی قربانی کرنا مکروہ اور مجوسیوں کی ساتھ مشابہت ہے.
*(فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 560 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 75:*
اگر ہرن اور نیل گائے (یعنی وحشی گائے) کو گھر میں پالا اور وہ مانوس ہوگئے تو کیا ان کی قربانی ہو سکتی ہے ؟ 
*جواب :*
ہرنی اور نیل گائے کیونکہ جنگلی جانور ہیں لہذا ان کی قربانی نہیں ہو سکتی اگرچہ یہ پالنے کی وجہ سے مانوس ہوگئے ہوں.
*(فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 205 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 76:*
قربانی کے لئے بکرے اور بکری کی عمر کتنی ہونا ضروری ہے؟ 
*جواب:*
قربانی کے لیے بکرے اور بکری کی عمر کم از کم ایک سال ہونا ضروری ہے، ایک سال سے کم عمر کی قربانی جائز نہیں اور اگر ایک سال سے زیادہ عمر کے ہوں تو یہ افضل ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 534 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 77:*
قربانی کے لئے دنبے (مینڈھے) اور بھیڑ کی عمر کتنی ہونا ضروری ہے ؟
*جواب :*
قربانی کے لیے دنبے یا بھیڑ کی بھی عمر کم از کم ایک سال ہونا ضروری ہے، البتہ اگر دنبے یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا لگے تو اس کی قربانی جائز ہے اور اگر ایک سال سے کم عمر کا بچہ دور سے دیکھنے سے سال بھر کا نہیں لگتا تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 533 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 78:*
اگر ایک سال سے کم عمر کا بکرا یا بکری، اتنے فربہ (موٹے) اور بڑے ہوں کہ دیکھنے میں سال بھر کے معلوم ہوں تو کیا ان کی قربانی ہو جائے گی ؟ 
*جواب :*
بکرا اور بکری کے لئے ایک سال کی عمر کا ہونا ضروری ہے، اگر ایک سال سے ایک دن بھی کم کے ہوں گے تو قربانی نہیں ہوگی اگرچہ دیکھنے میں سال بھر کے معلوم ہوں. 
*(صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 833، 834 قدیمی کتب خانہ کراچی، فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 443 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 79:*
اگر بکرے یا بکری کی عمر ایک سال ہو چکی ہو لیکن ابھی تک ان کے دو دانت نہ نکلے ہوں (یعنی دُندے نہ ہوں) تو کیا ان کی قربانی ہو سکتی ہے ؟
*جواب :*
قربانی کے لئے بکرے اور بکری کی عمر کا کم از کم ایک سال کا ہونا ضروری ہے خواہ وہ دو دانت والے ہوں یا نہ ہوں.
*(فتاوی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 454 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 80:*
اگر بکرا یا بکری منڈی سے خرید رہے ہوں اور ان کے دو دانت نہ نکلے ہوں اور بیچنے والا کہے کہ یہ سال کے ہیں تو کیا اس کی بات کا اعتبار کیا جائے گا؟ 
*جواب :*
لوگ تو اپنا مال بیچنے کے لیے مختلف حیلے بہانے اور جھوٹ کا بھی سہارا لیتے ہیں لہذا آپ اپنی قربانی کی حفاظت کے لیے کسی عام آدمی کی بات کر اعتبار نہ کریں، اگر کوئی دیندار آدمی کہتا ہے تو اس کی بات مان لی جائے گی ورنہ احتیاطاً ایسا جانور نہ خریدیں، جس میں قربانی کے لئے عمر پوری ہونے کا شک ہو. 
*(قربانی کے احکام صفحہ 128 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
16/07/2020
03068209672

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط ہفتم (7) - سوال 61 تا 70🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط ہفتم (7) - سوال 61 تا 70🌺
*سوال 61:*
کیا 11 اور 12 ذی الحجہ کی راتوں میں قربانی کرسکتے ہیں؟ 
*جواب :* 
11 اور 12 ذی الحجہ کی راتیں ایامِ نحر (یعنی قربانی کے دنوں) میں داخل ہیں لہذا ان دونوں راتوں میں قربانی کرنا جائز ہے مگر اندھیرے کی وجہ سے ذبح میں غلطی کا احتمال ہونے کی وجہ سے مکروہِ تنزیہی اور شرعاً ناپسندیدہ ہے. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ  295 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بحرالرائق جلد 8 صفحہ 332 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ 1:* 
رات میں قربانی کرنا اس وقت مکروہِ تنزیہی اور ناپسندیدہ ہے جب روشنی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے ذبح میں غلطی کا احتمال اور دشواری ہو اور جہاں روشنی کا انتظام اچھا ہو کہ ذبح میں غلطی کا احتمال اور دشواری نہ ہوگی تو رات کو قربانی کرنا مکروہ اور ناپسندیدہ بھی نہ ہوگا.
*(ماخوذ از بحر الرائق جلد 8 صفحہ 322 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، عید الاضحٰی کا تحفہ صفحہ 25 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*نوٹ 2 :*
10 ذی الججہ کے دن کے بعد جو رات آتی ہے، اسے 11 ذی الحجہ کی رات کہا جاتا ہے اور 11 ذی الحجہ والے دن کے بعد جو رات آتی ہے، اسے 12 ذی الحجہ کی رات کہا جاتا ہے.
*سوال 62:*
کس دن قربانی کرنا سب سے افضل ہے ؟
*جواب :*
پہلے دن (یعنی 10 ذی الحجہ کے دن) قربانی کرنا سب سے افضل ہے، پھر دوسرے دن (یعنی 11 ذی الحجہ کے دن) اس سے کم درجہ ہے، اور پھر تیسرے دن (یعنی 12 ذی الحجہ کے دن) سب سے کم درجہ ہے. 
*(فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 295 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 63:*
اگر شہر میں پہلے دن قربانی کرنی ہو تو کس وقت کی جائے گی ؟ 
*جواب :*
اگر شہر میں پہلے دن قربانی کرنی ہو تو اس کے لئے شرط یہ ہے کہ نمازِ عید ہو چکنے کے بعد کی جائے لہذا اگر کسی نے شہر میں نماز ِعید سے پہلے قربانی کی تو جانور حلال ہوجائے گا مگر قربانی کا واجب ادا نہ ہوگا.
*(صحیح بخاری جلد 2 صفحہ  832 قدیمی کتب خانہ کراچی، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 527، 528 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 64:*
اگر شہر میں نمازِ عید ہو چکی ہو مگر ابھی خطبہ نہ ہوا ہو تو کیا قربانی کرسکتے ہیں ؟ 
*جواب :*
اگر شہر کے اندر نمازِ عید ہو چکی ہو مگر خطبہ نہ ہوا ہو تو قربانی ہوجائے گی مگر ایسا کرنا مکروہِ (تنزیہی) ہے لہٰذا شہر میں بہتر یہ ہے کہ نمازِ عید کا خطبہ ہو چکنے کے بعد قربانی کی جائے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 528 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہار شریعت حصہ 15 جلد 3 صفحہ 337 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 65:*
اگر شہر میں متعدد جگہ نمازِ عید ہوتی ہو تو کس وقت قربانی کی جائے گی ؟
*جواب :*
اگر شہر میں متعدد جگہ نمازِ عید ہوتی ہو تو پہلی جگہ نماز عید ہو جانے کے بعد قربانی جائز ہے، سب جگہوں کا انتظار کرنا ضروری نہیں. 
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 527، 528 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ:* 
اس صورت میں ضروری ہے کہ پہلی جگہ جہاں عید کی نماز ہوئی ہے وہ مسلکِ حق اہلسنت و جماعت والوں کی ہو کیونکہ بدمذہبوں کی نمازِ عید کا کوئی اعتبار نہیں.
*سوال 66:*
اگر گاؤں میں پہلے دن قربانی کرنی ہو تو کس وقت قربانی کی جائے گی ؟
*جواب :*
گاؤں میں جہاں عید کی نماز نہ ہوتی ہو تو وہاں طلوعِ صبحِ صادق ہوتے ہی (یعنی نمازِ فجر کا وقت شروع ہوتے ہی) قربانی کی جا سکتی ہے مگر بہتر ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد قربانی کی جائے. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 295 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 67:* 
اگر قربانی کرنے والا شہر میں ہو مگر اس کی قربانی کا جانور گاؤں میں ہو تو کس وقت قربانی کی جائے گی ؟ 
*جواب :* 
اگر قربانی کرنے والا شہر میں ہو مگر اس کی قربانی کا جانور گاؤں میں ہو تو نمازِ فجر کا وقت داخل ہوتے ہی اس کی قربانی کی جا سکتی ہے مگر بہتر ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد قربانی کی جائے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 529 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 68:* 
اگر قربانی کرنے والا گاؤں میں ہو مگر اس کی قربانی کا جانور شہر میں ہو تو کس وقت قربانی کی جائے گی ؟ 
*جواب :* 
اگر قربانی کرنے والا گاؤں میں ہو مگر اس کی قربانی کا جانور شہر میں ہو تو نمازِ عید کے بعد قربانی کی جائے گی. 
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 529 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 69:*
اگر کسی گاؤں میں نمازِ عید ہوتی ہو تو وہاں قربانی کس وقت کی جائے گی ؟
*جواب :*
گاؤں دو طرح کے ہوتے ہیں : 
1 - وہ گاؤں کہ جہاں عید کی نماز روایتِ نادرہ کے مطابق جائز ہوتی ہے تو وہاں احتیاطاً نمازِ عید ہو چکنے کے بعد قربانی کی جائے گی.
*(ماخوذ از صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 832 قدیمی کتب خانہ کراچی، قربانی کے احکام صفحہ 91 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
2 - وہ گاؤں کہ جہاں عید کی نماز روایتِ نادرہ کے مطابق بھی جائز نہیں ہوتی تو وہاں پر طلوعِ فجر کے بعد قربانی کی جا سکتی ہے مگر بہتر ہے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد قربانی کی جائے۔
*(ماخوذ از فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 295 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، عید الاضحیٰ کا تحفہ صفحہ 65 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*سوال 70:*
کس گاؤں میں عیدین کی نماز جائز ہے اور کس گاؤں میں عیدین کی نماز جائز نہیں ؟
*جواب :* 
ہر وہ گاؤں جس کی آبادی میں اتنے مسلمان، مرد، عاقل، بالغ ایسے تندرست کہ جن پر جمعہ فرض ہوچکے آباد ہوں، اگر وہ سب وہاں کی سب سے بڑی مسجد میں جمع ہوں تو نہ سما سکیں تو ایسے گاؤں کے اندر عیدین کی نماز قائم کرنا جائز ہے. 
کیونکہ یہ امام ابو یوسف علیہ رحمہ کی ایک روایتِ نادرہ کے مطابق شہر ہے اگرچہ یہ اصلِ مذہبِ احناف کے خلاف ہے مگر فی زمانہ تعامل اور دفعِ حرج کی بنا پر علماء کرام کی اکثریت اس روایت پر عمل کرنے میں حرج نہیں جانتی اور بلا کراہت ایسی جگہوں پر بسنے والوں کے جمعہ اور عیدین کو درست قرار دیتی ہے.
لہٰذا روایت نادرہ کے مطابق شہر کی یہ تعریف جس گاؤں پر سچی آئے گی، وہاں جمعہ اور عیدین کی نماز درست ہوگی اور جس گاؤں پر یہ تعریف سچی نہیں آئے گی وہاں جمعہ اور عیدین مذہبِ حنفی میں ضرور ناجائز و گناہ ہیں البتہ جہالت کی وجہ سے وہاں کے لوگ پڑھتے ہوں تو منع نہ کیا جائے کہ لوگ جس طرح بھی اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیں، غنیمت ہے البتہ نرمی کے ساتھ ضرور سمجھایا جائے کہ نمازِ ظہر آپ کے ذمہ لازم ہے، اس کو نہ چھوڑیں اور اپنی آبادی میں باجماعت نمازِ ظہر پڑھیں لیکن اس کا لحاظ ضرور رکھا جائے کہ سمجھانے میں کسی قسم کا فتنہ نہ ہو۔
*(فیضانِ فرض علوم جلد 1 صفحہ 503، 504 مکتبہ امام اہلسنت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
15/07/2020
03068209672

Thursday, July 16, 2020

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط ششم (6)- سوال 51 تا 60🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط ششم (6)- سوال 51 تا 60🌺
https://chat.whatsapp.com/FfX6PtkpycFLvof7qH5PPz
*سوال 51 :*
اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کو یہ کہہ کر قربانی کا جانور دے کہ :
"تم اس کی قربانی اپنے نام سے کرلو." 
تو قربانی کرنے والے کو ثواب ملے گا یا جانور دینے والے کو ؟
*جواب :* 
اس صورت میں دونوں کو ثواب ملے گا کیونکہ نیکی پر رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے. 
*(فتاوی ملک العلماء صفحہ 270 ناشر اکبر بک سیلرز لاہور)*
*سوال 52:*
اگر نمازی پرہیزگار شخص، بے نمازی گناہگار کے ساتھ قربانی کے بڑے جانور میں شریک ہو تو نمازی پرہیزگار شخص کے ثواب میں کمی آئے گی یا نہیں ؟ 
*جواب :* 
اگر نمازی پرہیزگار شخص، بے نمازی گناہگار شخص کے ساتھ قربانی کے بڑے جانور میں شریک ہو جائے تو اس کے ساتھ شریک ہونے کی وجہ سے نمازی پرہیزگار شخص کی قربانی کے ثواب میں کمی نہیں آئے گی.
*(فتاوی ملک العلماء صفحہ 272 ناشر اکبر بک سیلرز لاہور)*
*سوال 53 :*
حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک خصی چتکبرے مینڈھے  کی قربانی ساری امت کی طرف سے کی ہے تو کیا اس بات کی پیروی کرتے ہوئے خصی چتکبرے مینڈھے کے اندر چند لوگ شریک ہو کر اپنی قربانی کرسکتے ہیں ؟ 
*جواب:*
1- پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک خصی چتکبرے مینڈھے کی قربانی اپنی طرف سے کی اور دوسرے خصی چتکبرے مینڈھے کی قربانی ساری امت کی طرف سے کی تو حضور علیہ السلام کی پیروی تو اس طرح ہوگی کہ ایک مینڈھے کی قربانی اپنی طرف سے کی جائے اور دوسرے خصی مینڈھے کی قربانی اپنے تمام مسلمان بھائیوں کی طرف سے کی جائے.
2-  دوسری بات یہ ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے یہ تو نہیں فرمایا کہ وہ چند افراد جن پر قربانی واجب ہو وہ ایک ہی خصی چتکبرے مینڈھے میں شریک ہو کر قربانی کر لیں، الگ الگ مینڈھے لینے کی ضرورت نہیں، لہٰذا کسی کارِ خیر میں لوگوں کو شریک کر لینا اور ہے اور کسی سے واجب کو ساقط (یعنی معاف) کر دینا اور ہے کیونکہ دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے کارِخیر میں امت کو شامل فرمایا، امت سے قربانی کے وجوب کو معاف نہیں کیا ورنہ اُس سال دیگر تمام مالدار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قربانی معاف ہوجاتی حالانکہ اس کے باوجود معاف نہیں ہوئی. 
3- تیسری بات اگر یہ کہا جائے کہ مینڈھے میں چند افراد شریک ہو سکتے ہیں، اس وجہ سے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ایک مینڈھے کی قربانی پوری امت کی طرف سے  کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ پھر کامل پیروی تو یہ ہوگی کہ ایک مینڈھے میں پوری امت کو شامل کرلیا جائے اور اعلان کر دیا جائے کہ کسی اور کو قربانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہم نے ایک مینڈھے میں سب کو شامل کرلیا ہے، تو کون عاقل ہے جو اس طرح کی بات کر سکے ؟
*(ملخصاً و مُرَمَّماً فتاوی ملک العلماء صفحہ 272 ناشر اکبر بک سیلرز لاہور باضافۃِِ)*
*سوال 54:*
اگر چھ آدمی مل کر بڑا جانور خریدیں اور ساتواں حصہ، سب مل کر حضور علیہ الصلاۃ و السلام کے نام کی قربانی کریں تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟
*جواب :* 
چھ آدمی مل کر بڑا جانور خریدیں اور ساتواں حصہ، سب مل کر حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے نام کی قربانی کریں تو یہ جائز ہے اور اس میں شرعاً کوئی برائی نہیں ہے.
*(فتاوی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 446، 453 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 55:*
اگر کسی نے قربانی کا سالِم (یعنی عیب سے پاک) جانور خریدا، پھر قربانی کے دن آنے سے پہلے عیب دار ہوگیا تو اس کی قربانی کا کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی نے قربانی کا جانور سالِم خریدا پھر قربانی کے دن آنے سے پہلے اس میں ایسا عیب پیدا ہوگیا کہ جس کی بناء پر اس کی قربانی نہیں ہو سکتی تو اگر وہ شخص مالدار ہے تو اس پر واجب ہے کہ اس کی جگہ دوسرا جانور قربانی کے معیار کے مطابق خریدے اور اگر وہ شخص شرعی فقیر ہے تو اسی عیب دار جانور کی قربانی اس کے لیے کافی ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 539 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 56:*
کیا قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ شامل کیا جاسکتا ہے ؟
*جواب :*
قربانی کے بڑے جانور میں عقیقہ کا حصہ شامل کیا جاسکتا ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 540 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 57:*
کیا گائے، بھینس یا اونٹ کی قربانی میں سات سے کم افراد برابری کے طور پر شریک ہوسکتے ہیں (مثلا چھ افراد گائے میں شریک ہو کر پوری گائے کے چھ حصے کریں) ؟
*جواب :*
جب گائے، بھینس یا اونٹ میں سات افراد برابری کے طور پر شریک ہو سکتے ہیں تو سات سے کم (مثلا 6 یا  5 یا 4 یا 3 یا 2) افراد بدرجہ اولیٰ شریک ہوسکتے ہیں (بشرطیکہ کسی فرد کا حصہ ساتویں حصے سے کم نہ ہو.) 
*(تفہیم المسائل جلد 2 صفحہ 236 ضیاء القرآن پبلی کیشنز بتغیرِِ قلیلِِ)*
*سوال 58:* 
کیا گائے، بھینس یا اونٹ میں سات سے زائد افراد (مثلا 8 یا 9 یا 10) شریک ہو کر قربانی کر سکتے ہیں ؟
*جواب :*
گائے، بھینس یا اونٹ کے اندر سات سے زائد افراد (مثلا 8 یا 9 یا 10) شریک ہوکر قربانی نہیں کر سکتے، اگر اس طرح کریں گے تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی.
*(سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 40 مکتبہ رحمانیہ لاہور، تفہیم المسائل جلد 2 صفحہ 237 ضیاء القرآن پبلی کیشنز)*
*سوال 59:*
قربانی کا وقت کب سے لے کر کب تک ہوتا ہے ؟
*جواب :* 
قربانی کا وقت 10ذی الحجہ کے طلوعِ صبحِ صادق سے 12 ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب تک ہوتا ہے (یعنی تین دن اور دو راتیں). 
ان دنوں کو ایامِ نحر کہتے ہیں. 
*(ردالمحتار علی الدر المختار جلد 9 صفحہ 520، 527، 528، 529 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 60:* 
کیا 13 ذی الحجہ کو قربانی کی جا سکتی ہے ؟
*جواب :*
چونکہ قربانی کے دن تین (یعنی 10، 11 اور 12 ذی الحجہ) ہیں لہذا 13 ذی الحجہ کو قربانی کرنا جائز نہیں ہے، اگر کسی نے 13 ذی الحجہ کو قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی. 
*(سنن الکبری للبیہقی جلد 14 صفحہ 248 دارالفکر بیروت، الھدایہ جلد 4 صفحہ 446 مکتبہ رحمانیہ لاہور، البنایہ علی الھدایہ جلد 11 صفحہ 29، 31 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 354 رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاوی فقیہِ ملت جلد 2 صفحہ 243 شبیر برادرز لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
14/07/2020
03068209672

Tuesday, July 14, 2020

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط پنجم (5)- سوال 41 تا 50🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط پنجم (5)- سوال 41 تا 50🌺
https://chat.whatsapp.com/FfX6PtkpycFLvof7qH5PPz
*سوال 41:*
اگر کسی کی قربانی کا جانور کرنٹ لگنے کی وجہ سے مر جائے یا کسی اور وجہ سے مر جائے تو اس کے لئے کیا حکم ہوگا ؟
*جواب :* 
اگر کسی کی قربانی کا جانور کرنٹ لگنے یا کسی اور وجہ سے قربانی سے پہلے پہلے مر جائے تو اگر وہ شرعی فقیر ہو تو اس پر نیا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم نہیں ہے لیکن اگر کوئی مالدار ہو (یعنی صاحبِ نصاب ہو) تو جانور کے مرنے سے قربانی معاف نہیں ہوگی، اس کو قربانی کیلئے دوبارہ نیا جانور خریدنا ہوگا.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 539 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارشریعت حصہ 15 جلد 3 صفحہ 342 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ :*
جب نیا جانور خریدا جائے تو ضروری نہیں ہے کہ جتنے کا پہلا جانور تھا یہ بھی اتنی مالیت کا ہو.
*سوال 42:*
اگر قربانی کا جانور گم ہو جائے یا چوری ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
اگر قربانی کا جانور گم ہو جائے یا چوری ہو جائے تو شرعی فقیر  پر دوسرا جانور خریدنا واجب نہیں ہے جبکہ مالدار (یعنی صاحبِ نصاب)  پر نیا جانور خریدنا واجب ہے.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 539 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 43:*
اگر قربانی کا جانور گم ہونے یا چوری ہونے کے بعد شرعی فقیر اور مالدار دونوں نے نیا جانور خرید لیا اور پہلے والا جانور بھی مل گیا تو کیا حکم ہے ؟ 
*جواب :*
اگر قربانی کا جانور گم ہونے یا چوری ہونے کے بعد شرعی فقیر اور مالدار دونوں نے نیا جانور خرید لیا اور پہلے والا جانور بھی مل گیا تو مالدار کو اختیار ہے کہ دونوں میں سے جس ایک کو چاہے قربان کرے اور اگر دوسرا قربان کیا اور اس کی قیمت پہلے سے کم تھی تو جتنی کم تھی، اتنی قیمت صدقہ کرے جبکہ فقیر پر واجب ہے کہ دونوں کی قربانی کرے کیونکہ جب بھی شرعی فقیر قربانی کی نیت سے جانور خریدے گا تو اس پر اُس خریدے ہوئے جانور کی قربانی واجب ہو جائے گی.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 535، 539 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، جدالممتار جلد 6 صفحہ 459، 460 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 44:*
اگر کسی مالک نصاب نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور قربانی سے پہلے پہلے وہ گم ہوگیا یا چوری ہوگیا یا مر گیا اور اس شخص کا نصاب قربانی کا جانور خریدنے کی وجہ سے ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت سے کم  رہ گیا تو کیا اس پر دوبارہ نیا جانور خرید کر قربانی کرنا واجب ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی مالک نصاب نے قربانی کے لئے جانور خریدا اور قربانی سے پہلے پہلے وہ گم ہوگیا یا چوری ہوگیا یا مر گیا اور اس شخص کا نصاب قربانی کا جانور خریدنے کی وجہ سے ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت سے کم  رہ گیا تو اس پر دوبارہ نیا جانور خرید کر قربانی کرنا واجب نہیں ہے .
 البتہ اگر وہ جانور گم ہوگیا تھا یا چوری ہو گیا تھا اور قربانی کے دنوں میں وہ مل جائے تو پھر یہ شخص اس جانور کی قربانی کرے گا اور اگر وہ جانور قربانی کے ایام کے بعد میں ملے تو پھر اس کو زندہ ہی شرعی فقیر کو صدقہ کردے.
*(مُلَخَّصاً و مُرَمَّماً از فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 292 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 45:*
کیا فوت شدہ مسلمان والدین یا رشتہ داروں کے نام کی قربانی کی جا سکتی ہے ؟
*جواب :*
فوت شدہ مسلمان والدین یا رشتہ داروں کے نام، ایصال ثواب کے لئے قربانی کرنا جائز ہے کہ قربانی کرنا کارِ ثواب ہے اور آدمی اپنے ہر نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچا سکتا ہے. 
*(مجمع الزوائد جلد 3 صفحہ 253 دارالکتب العلمیہ بیروت، فتاوی رضویہ جلد 9 صفحہ 639 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 46:*
اگر کوئی شرعی فقیر اپنے فوت شدہ والدین یا کسی اور رشتہ دار کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کیا اس وجہ سے اس پر اپنی قربانی بھی لازم ہو جاتی ہے ؟
*جواب :* 
اگر کوئی شرعی فقیر اپنے فوت شدہ مسلمان والدین یا کسی دوسرے رشتہ دار کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور اس کی وجہ سے اس کے اوپر اپنی قربانی لازم نہیں ہوتی کیونکہ اس کا صاحبِ نصاب ہونا نہیں پایا جا رہا جو کہ قربانی واجب ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط ہے.
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 524 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 47:*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو مگر کسی وجہ سے نہ کرسکے اور قربانی کے دن گزر جائیں تو کیا حکم ہوگا ؟
*جواب :*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو اور وہ کسی وجہ سے قربانی نہ کر سکے اور قربانی کے دن گزر جائیں تو اگر اس نے قربانی کا جانور خرید لیا تھا تو اسے زندہ صدقہ کردے (یعنی شرعی فقیر کو دیدے) اور اگر قربانی کا جانور نہیں خریدا تھا تو ایک بکری کی قیمت صدقہ کردے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 296 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 48:*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی نہ کرے یہاں تک کہ دوسری بقرہ عید آجائے تو کیا وہ اس دوسری بقرہ عید پر پہلی قربانی کی قضا کر سکتا ہے ؟ 
*جواب :*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی نہ کرے یہاں تک کہ دوسری بقرہ عید آجائے تو اس دوسری بقرہ عید کے موقع پر گزشتہ سال کی قربانی کی قضا نہیں کرسکتا بلکہ اب بھی اس پر واجب ہے کہ اگر پہلی قربانی کا جانور خریدا ہوا تھا تو اس کو شرعی فقیر پر زندہ صدقہ کردے اور اگر پہلی 
اقربانی کے لئے جانور نہیں خریدا تھا تو ایک بکری کی قیمت شرعی فقیر کو صدقہ کردے.
*(فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 296، 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 49:*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی کا جانور خریدے مگر اس کی قربانی نہ کرے اور قربانی کے دنوں کے بعد  اس جانور کو بیچ دے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
*جواب :*
اگر کسی پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی کا جانور خریدلے مگر قربانی نہ کرے اور قربانی کے دنوں کے بعد اس جانور کو بیچ دے تو اس پر واجب ہے کہ اس جانور کو جتنے کا بیچا ہے اتنی قیمت شرعی فقیر کو صدقہ کردے. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 296، 297 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 50:*
اگر کسی مالکِ نصاب نے قربانی کے لئے جانور خرید کر اس کو نفع پر فروخت کرکے اس سے سستا جانور قربانی کے لئے خرید لیا تو کیا حکم ہے ؟
*جواب:*
 مالکِ نصاب کو نفع لینے کے لئے قربانی کے لئے خریدے گئے جانور کو بیچنے کی اجازت نہیں تھی مگر اب چونکہ بیچ چکا ہے تو بیچنے کی وجہ گناہ گار ہوا ہے لہذا اس گناہ سے توبہ بھی کرے اور جتنی رقم پہلے جانور سے اضافی بچی ہے اس کو صدقہ بھی کرے. 
*(جدالممتار جلد 6 صفحہ 459، 460 مکتبۃ المدینہ کراچی، فتاوی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 468 شبیر برادرز لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
13/07/2020
03068209672

بچوں کو دودھ پلانے کی مدت کتنی ہے نیز اگر مدت سے زائد ہو تو شرعی حکم؟

*🕳️ بچوں کو دودھ پلانے کی مدت کتنی ہے نیز اگر مدت سے زائد ہو تو شرعی حکم؟🕳️*
*_◆ــــــــــــــــــــــ🌸🌻🌸ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*(💓)السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ(💓)*

*📜سـوال___________↓↓↓* 
کیا فرماتے ہیں علماء کرام وشرح متیں مسئلہ ذیل میں کہ بچہ یا بچی کے دودھ پینے کی مدت کتنی اگر مدت سے زائد ہو جائے تو کیا حکم ہے شرح میں،
رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی
*♦️سائل۔ حمد سمیع اللہ نظامی، سنت کبیر نگر، یو پی♦️*

*📞ٹیلیگرام پرمحفل غلامان مصطفےٰﷺ گروپ میں ایڈ کیلئے اِس لینک پر کلک کریں*
*https://t.me/MahfileGulamaneMustafaGroup*
*_◆ــــــــــــــــــــــ🌸🌻🌸ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*(💓)وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ(💓)*

*✅الجـــــوابـــــ: بعون الملک الوہاب👇* 
بچوں کو دودھ پلانے کی مدت دو سال تک ہے، دوسال سے زیادہ پلانے کی اجازت نہیں، 

🖍️جیسا کہ صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضور امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ والرضوان نے"بھار شریعت حصہ ہفتم " میں بیان فرمایا ہے بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں  ۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی  اور یہ جو بعض عوام میں  مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں ۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لیۓ ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو ۲ برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر  دودھ پلا دے گی، حرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں اور مدّت پوری ہونے کے بعد بطورعلاج بھی دودھ پینا یا پلانا جائز نہیں۔

*(📔بھار شریعت ۔جلد دوم، حصہ ہفتم، صفحہ ۳۷سوفٹویر)*

*♦️واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب♦️* 
*♦️المفتقر الی رحمۃ اللہ التواب♦️*
 *_◆ــــــــــــــــــــــ🌸🌻🌸ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
 *حضرت مولانا محمد ندیم رضا حشمتی امجدی عفی عنہ صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی پیلی بھیت شریف*
*📌رابطـہ نمبــر👇*
*📲+91 8958365877*
 *_◆ــــــــــــــــــــــ🌸🌻🌸ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*🗓️مؤرخہ: (۲۰)رجب المرجب ١٤٤١؁ھ*
*(💙محفل غلامان مصطفیﷺگــروپــــ💙)*
*🌹رابطہ نمبر 👇*
*_◆ــــــــــــــــــــــ🌸🌻🌸ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*🖥️المشتـــــہر👇*
*مـحـمّـد رضـــا بـرکاتــی(نیپـــال🇳🇵)*
*مــدرسـہ الجــامـعتہ الـرضــویـہ مــناظــر الـعــلــوم مــوجــودہ حـال کانــپور اتــرپـردیــش (یوپی)*
*🌹رابطہ نمبر 👇*
*📲+91 7237805032*
*_◆ــــــــــــــــــــــ🌸🌻🌸ـــــــــــــــــــــــــ◆_*
*💙محفل غلامان مصطفیﷺگـــروپــــــ💙*
*میں شامل ہونے کے لئے رابـــــطہ کریـــــں👇*
*📲+91 7860124553*
*📲+91 7237805032*
*••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••*

جس عورت کا شوہر گم ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں

*جس عورت کا شوہر گم ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے یا نہیں*

*السلام علیکم ورحمتہ اللّٰہ وبرکاتہ ومغفرتہ وجنّتہ . سوال ایک لڑکی کی شادی ہوی 10سال ہوگیا ہے لڈکا 5سال سے لا پتہ ہے اس کے ما ں باپ بھی نہیں ہیں ایسے حالات میں لڑکی دو سری شادی کرسکتی ہے یا نہیں جواب عطا فرمائے قرآن کی رو شنی میں {ساںٔل محمد اسلام رضا قادری دیوسر ضلع سنگرولی ایم پی مدھیہ پردیش}*

الجواب ہدایۃ الحق بالصواب
صورت مسئولہ میں کلام یہ ھیکہ جس مرد کی موت و زندگی کا حال نہ معلوم وہ مفقود الخبر ہے  اورمفقود کی بیوی کے لئے مذہب حنفی میں یہ حکم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عمر نوے  سال ہونے تک انتظار کرے
اور امام ابن ہمام رضی اللہ تعالی عنہ کا مختار یہ ہیکہ وہ اپنے شوہر کی عمر ستر سال ہونے تک انتظار کرے یوم پیدائش سے

 بیہقی شریف جلد سوم صفحہ 518 پر ہے  لقولہ علیہ السلام اعمار امتی مابین الستین الی سبعین ھ۱

*مگر وقت ضرورت مفقود کی بیوی کو حضرت سید نا امام مالک رضی اللہ تعالی عنہ کے مذہب پر عمل کرنے کی رخصت ہے انکے مذہب پر عورت ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم کے حضور فسخ نکاح کا دعوی کرے اور وہ عالم اسکا دعوی سن کر چار  سال کی مدت مقرر کرے اگر مفقود کی بیوی نے کسی عالم کے پاس اپنا دعوی پیش نہ کیا ارر بطور خود چار  سال تک انتظار کرتی رہی تو یہ مدت حساب میں شمار نہ ہوگی بلکہ دعوی کے بعد چار  سال کی مدت درکار ہے  اس مدت میں اسکے شوہر کی موت و زندگی معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے جب یہ مدت گزر جائے اور اس کے شوہر کی موت و زندگی نہ معلوم ہوتو وہ عورت اس عالم کے پاس استغاثہ پیش کرے اس وقت وہ عالم اسکے شوہر پر موت کا حکم کرےگا پھر عورت عدت وفات گزار کر جس سنی صحیح العقیدہ سے چاہے نکاح کر سکتی ہے اس سے پھلے اسکا نکاح کسی سے ہرگز جائز نہیں

 فتاوی فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 122
فتاوی بحر العلوم جلد دوم صفحہ 286
فتاوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ 328

 نــــــــــوٹ
 معدومۃ النفقہ
 یعنی ایسی عورت جس کو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ نہ ملتے ہوں اسکی دو صورتیں ہیں؛  لیکن مسئلہ بالا کے تحت میں دوسری صورت تحریر کی گئی ہے؛ 
 یعنی صورت مسؤلہ میں ایسی عورت جس کا  شوہر نان و نفقہ دینے پر قادر ہے مگر غائب ہونے کی وجہ سے نان و نفقہ نہیں دے رہا ہے اور عورت شوہر کے مال سے نان و نفقہ حاصل کرنے پر قدرت نہیں رکھتی ہے ایسی صورت میں اگر عورت قاضی شہر سے تفریق کا مطالبہ کرے تو بعد ثبوت صحت دعوی قاضی شہر زن و شوہر کے درمیان تفریق کردے یہ صورت حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے مسلک پر ہے مگر ضرورت و مصلحت کے پیش نظر ہمارے کچھ علماء کرام نے اس پر فتوی دیا ہے جیساکہ مجمع الانہر میں ہے
 مجلس شرعی کے فیصلے ص 502

کتبہ؛
 ابو الصدف  محمد صادق رضا 
مقام؛  سنگھیا  پورنیہ 
خادم؛ شاہی جامع مسجدپٹنہ,بہار,الھند

Monday, July 13, 2020

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط چہارم (4)- سوال 31 تا 40🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط چہارم (4)- سوال 31 تا 40🌺
https://chat.whatsapp.com/FfX6PtkpycFLvof7qH5PPz
*سوال 31:*
اگر کسی شخص کے پاس خالی زمین یا پلاٹ وغیرہ ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی؟ 
*جواب :*
اگر خالی زمین یا پلاٹ وغیرہ کی قیمت نصاب (یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت) کو پہنچ جائے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔
*(فتاوی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 438 شبیر برادرز لاہور بحوالہ فتاوی بزازیہ و دُرِّمُختار)*
*سوال 32:*
اگر کسی نے دوسرے شخص کو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر قرض دے رکھا ہو تو کیا ایسے شخص پر قربانی واجب ہوگی ؟
*جواب :* 
اگر کسی شخص نے دوسرے شخص کو ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر قرض دے رکھا ہو تو ایسے شخص پر لازم ہے کہ قرض خواہ سے اتنی رقم کا مطالبہ کرے کہ جس سے قربانی ہو سکے جبکہ اس کو ظنِ غالب ہو کہ وہ دیدے گا اور اگر قرض خواہ سے وہ رقم قربانی کے ایام میں نہ مل سکے اور نہ اس کے پاس کوئی اور مال ہو کہ جس سے قربانی کا جانور خرید سکے تو اس پر قربانی واجب نہیں اور نہ قرض لے کر قربانی کرنا لازم ہے اور نہ ہی قربانی کے ایام کے بعد قرض کی رقم واپس ملنے پر جانور کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے .
*(فتاویٰ بزازیہ جلد صفحہ 406 قدیمی کتب خانہ کراچی، فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 292 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 33:* 
قربانی واجب ہونے کے لئے قربانی کی پانچ شرطوں کا کس وقت میں پایا جانا ضروری ہے ؟ 
*جواب :*
قربانی واجب ہونے کے لئے قربانی کی پانچ شرطوں کا  10 ذی الحجہ کے طلوعِ صبحِ صادِق سے 12 ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک پایا جانا ضروری ہے. 
*(بہارشریعت حصہ 15 جلد 3 صفحہ 332 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 34:*
اگر ابتدائی وقت میں قربانی واجب ہونے کی شرائط نہیں پائی گئیں مگر آخر وقت میں پائی گئیں مثلاً پہلے دو دن شرائط نہیں پائی گئیں اور تیسرے دن پائی گئیں تو کیا قربانی واجب ہوجائے گی؟ 
*جواب :*
اگر ابتدائی وقت میں قربانی واجب ہونے کی شرائط نہیں پائی گئیں مگر آخر وقت میں پائی گئیں مثلاً پہلے دو دن شرائط نہیں پائی گئیں اور تیسرے دن پائی گئیں تو قربانی واجب ہوجائے گی.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 293 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 35:*
اگر ابتدائی وقت میں قربانی واجب ہونے کی شرائط پائی گئیں مگر اس نے قربانی نہیں کی یہاں تک کہ آخر وقت میں قربانی واجب ہونے کی شرائط جاتی رہیں مثلاً پہلے دو دن شرائط پائی گئیں تھیں اور اس نے قربانی نہیں کی اور تیسرے دن قربانی واجب ہونے کی شرائط جاتی رہیں تو کیا قربانی معاف ہوجائے گی؟ 
*جواب :*
اگر ابتدائی وقت میں قربانی واجب ہونے کی شرائط پائی گئیں مگر اس نے قربانی نہیں کی یہاں تک کہ آخر وقت میں قربانی واجب ہونے کی شرائط جاتی رہیں مثلاً پہلے دو دن شرائط پائی گئیں تھیں اور اس نے قربانی نہیں کی اور تیسرے دن قربانی واجب ہونے کی شرائط جاتی رہیں تو اس پر قربانی معاف ہوجائے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 293 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 36:*
اگر مالکِ نصاب قربانی کی منت مان لے تو اس پر کتنی قربانیاں واجب ہوں گی ؟ 
*جواب:*
اگر مالکِ نصاب قربانی کی منت مان لے تو اس پر دو قربانیاں واجب ہوجائیں گی :
1- ایک وہ جو صاحبِ نصاب پر واجب ہوتی ہے. 
2- دوسری وہ جو منت کی وجہ سے اس پر واجب ہوئی. 
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 550 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 37:* 
اگر کوئی ایسا شخص جس پر قربانی واجب ہو اور وہ قربانی کے بجائے کسی غریب کو قربانی کی رقم دیدے تو کیا حکم ہے؟ 
*جواب:*
اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو تو اس پر قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا ہی لازم ہوگا، اگر وہ قربانی کے بجائے کسی غریب کو قربانی کی رقم دیدے گا تو اس کا واجب ادا نہ ہوگا اور واجب کو چھوڑنے کی وجہ سے گنہگار ہوگا. 
*(فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 293، 294 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 38:*
اگر کسی پر قربانی واجب نہ ہو تو اس کے لئے قربانی کے دنوں میں قربانی کرنا افضل ہے یا کسی غریب کی مدد کرنا ؟
*جواب :* 
اگر کوئی شرعی فقیر ہو اور اس پر قربانی واجب نہ ہو تو پھر بھی قربانی کے دنوں میں کسی غریب کی مدد کرنے کے مقابلے میں اس کے لئے قربانی کرنا افضل ہوگا، کیونکہ حضور علیہ الصلاۃ و السلام نے فرمایا :
"جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا، اللہ پاک کو اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں."
*(معجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث : 10894، فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 295 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 39:* 
اگر کوئی بیرونِ ملک ہو تو کیا وہ اپنے آبائی وطن میں کسی کو کہہ کر قربانی کروا سکتا ہے ؟
*جواب :*
چونکہ قربانی میں نیابَت (کسی دوسرے کو نائب بنانا) جائز ہے لہذا اگر کوئی بیرونِ ملک ہو تو اپنے آبائی وطن میں کسی کو کہہ کر اپنی قربانی کروا سکتا ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 293، 294 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ :* 
یاد رہے کہ جہاں قربانی ہو رہی ہوں اور جہاں قربانی والا ہو دونوں جگہ قربانی کے دن کا ہونا ضروری ہوتا ہے. 
*(رفیق الحرمین صفحہ 194 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 40:*
اگر گھر کے چند افراد پر قربانی واجب ہو تو کیا گھر کے سرپرست کی طرف سے قربانی کر لینا کافی ہوگا ؟
*جواب :* 
جی نہیں ! اگر گھر کے چند افراد پر قربانی واجب ہو تو سب کیلئے قربانی کرنا لازم ہے، صرف گھر کے سرپرست کی طرف سے قربانی کر لینا کافی نہیں ہوگا.
*(الھدایہ جلد 4 صفحہ 444 مکتبہ رحمانیہ لاہور، فتاویٰ رضویہ جلد 20 صفحہ 369 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
11/07/2020
03068209672

Saturday, July 11, 2020

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط سوم (3)- سوال 21 تا 30🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط سوم (3)- سوال 21 تا 30🌺
https://chat.whatsapp.com/FfX6PtkpycFLvof7qH5PPz
*سوال 21:*
کیا سیلاب زدگان پر قربانی واجب ہوگی جبکہ ان کے پاس اس وقت سوائے زمین کے کچھ نہیں اور نہ وہ قرض لے سکتے ہیں ؟ 
*جواب:*
جو لوگ ایسے مفلوک الحال ہو گئے ہوں کہ ان کے پاس روپے پیسے نہ ہوں, صرف پانی میں ڈوبی ہوئی زمینیں ہوں اور کچھ نہ ہو تو ان پر قربانی واجب نہ ہو گی. 
*(ماہنامہ اشرفیہ اگست 2018 صفحہ 17)*
*سوال 22:*
ایک ایسا شخص جو مالکِ نصاب نہ ہو بلکہ شرعی فقیر ہو، وہ قربانی کی نیت سے بکرا خریدے مگر قربانی کے دنوں کے آنے سے پہلے وہ بکرا اتنا سخت بیمار ہو جائے کہ ماہر ڈاکٹر کہہ دے کہ قربانی کے دنوں کے آنے سے پہلے مر جائے گا تو اس کے لیے کیا حکم ہو گا ؟ 
*جواب:*
اگر ماہر ڈاکٹر بتائے کہ یہ بکرا قربانی سے پہلے مر جائے گا اور اس کو اس بات کا ظنِ غالب ہو جائے تو وہ قربانی سے پہلے اس بکرے کو ذبح کر کے فقراء و مساکین میں اس کا گوشت تقسیم کر دے اور خود اس میں سے نہ کھائے اور اس کے بدلے اس پر دوسری قربانی واجب نہ ہو گی. 
*(ماہنامہ اشرفیہ اگست 2018 صفحہ 20)*
*سوال 23:*
کیا ٹی وی، ڈش انٹینا، ایل سی ڈی، ٹیپ ریکارڈر اور یو ایس بی وغیرہ حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ؟
*جواب :*
اگر ٹی وی ڈش انٹینا، ایل سی ڈی، ٹیپ ریکارڈر اور یو ایس بی وغیرہ صرف تفریح کی غرض کے لئے استعمال ہوں جیسے فلموں، ڈراموں اور گانوں باجوں کے لئے تو یہ حاجتِ اصلیہ میں داخل نہ ہوں گے اور اگر دینی معلومات کے حصول کے لیے استعمال ہوں جیسے مدنی چینل کے لیے تو یہ حاجتِ اصلیہ میں شامل ہوں گے اور ان کو نصاب کے اندر جمع نہیں کیا جائے گا.
*(ملخصاً و مُرَمَّما عید قربان صفحہ 16، 17 مکتبۃ الفرقان کراچی)*
*سوال 24:*
کیا والد اپنے نابالغ بچوں کی طرف سے قربانی کر سکتا ہے ؟ 
*جواب :*
نابالغ بچوں کی طرف سے قربانی کرنا والد پر واجب نہیں ہے لیکن نابالغ بچوں کی طرف سے اپنے مال سے قربانی کرنا مستحب عمل ہے لہذا اگر کرے گا تو ثواب پائے گا.
*(فتاویٰ عالمگیری جلد 5 صفحہ 293 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 454 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 25:*
کیا اپنے بالغ بچوں اور بیوی کی طرف سے قربانی کرنا درست ہے ؟
*جواب :* 
اگر کوئی اپنے بالغ بچوں اور بیوی کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو ان کی اجازت کے ساتھ قربانی کر سکتا ہے اور بغیر اجازت کے نہیں کر سکتا.
*نوٹ:* 
اجازت دو طرح کی ہوتی ہے :
*1- صراحۃً (یعنی واضح طور پر) اجازت :*
 بالغ بچوں یا بیوی میں سے کوئی واضح طور پر کہہ دے کہ :
"میری طرف سے قربانی کر دیجیے."
*2- دلالۃً اجازت :*
مثلاً بیوی یا اُن بچوں کی طرف سے قربانی کرتا ہے جن کا کھانا پینا اس کے پاس ہوتا ہے تو واضح جازت کے بغیر بھی قربانی ہوجائے گی کیونکہ دلالۃً جازت پائی گئی.
*(فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 453 رضا فاؤنڈیشن لاہور، درمختار وغیرہ)*
*سوال 26:* 
کیا حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے ؟ 
*جواب :* 
جی ہاں ! حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جا سکتی ہے بلکہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے وصالِ ظاہری کے بعد حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ ہر سال ایک دنبے کی قربانی اپنی طرف سے کرتے اور ایک دنبے کی قربانی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کرتے تھے. 
*(سنن ابو داؤد جلد 2 صفحہ 37 مکتبہ رحمانیہ لاہور)*
*سوال 27:* 
قربانی کرنے والے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ: 
*"آج ہمارا روزہ ہے، ہم قربانی کے گوشت سے افطار کریں گے."* 
تو شریعت میں کیا قربانی والے دن روزہ ہوتا ہے ؟
*جواب :*
عید کے دن اور اس کے بعد مزید تین دن کا روزہ رکھنا حرام ہے (یعنی 10 ,11 ,12 اور 13 ذی الحجہ کے روزے حرام ہیں)، البتہ پہلی سے نویں ذی الحجہ کے روزے بہت افضل ہیں، اس پر قربانی ہو یا نہ ہو اور سب نفلی روزوں میں بہتر روزِ عرفہ (یعنی 9 ذی الحجہ) کے دن کا روزہ ہے.
ہاں!  قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ عید کے دن قربانی سے پہلے کچھ نہ کھائے، قربانی کا گوشت پہلے کھائے مگر یہ روزہ نہیں ہے اور نہ اس میں روزے کی نیت کرنا جائز ہے.
*(فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 444 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*نوٹ:* تو لوگوں کا اس طرح کہنا کہ "آج ہمارا روزہ ہے " سے مراد یہی ہوتا ہے کہ وہ قربانی سے پہلے کچھ نہیں کھائیں گے اور  قربانی ہونے کے بعد سب سے پہلے اس کے گوشت میں سے کھائیں گے مگر اس کو روزہ نہیں کہنا چاہیے.
البتہ اگر کسی نے اس میں روزے کی نیت کی تو پھر وہ گناہگار ہوگا.
*سوال 28:* 
اگر کوئی قربانی کر رہا ہوں تو عیدالاضحی کا چاند نظر آنے کے بعد کیا اس کے لئے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا منع ہو جاتا ہے ؟ 
*جواب :* 
اگر کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو چاہے وہ شرعی فقیر ہو یا مالکِ نصاب ہو، اس کے لیے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا منع نہیں ہے البتہ اس کے لئے افضل اور مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بال، مردہ کھال اور ناخن نہ کاٹے اور نہ کٹوائے تاکہ حاجیوں سے مشابہت ہو جائے کہ وہ احرام کی حالت میں حجامت نہیں کروا سکتے تاکہ قربانی ہر بال اور ہر ناخن کا فدیہ بن جائے.
*(مراٰۃ المناجیح جلد 2 صفحہ 370 نعیمی کتب خانہ گجرات)*
*سوال 29:*
کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ جس میں فقیرِ شرعی جو قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اس کو قربانی کا ثواب مل جائے؟ 
*جواب :*
جی ہاں ! اگر کوئی فقیرِ شرعی قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو اور وہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں میں بال اور ناخن وغیرہ نہ ترشوائے اور نمازِ عید ادا کرنے کے بعد بال اور ناخن وغیرہ شوالے تو ان شاءاللہ تعالیٰ اسے قربانی کا ثواب ملے گا.
*(سننِ نسائی رقم الحدیث : 4365، مراٰۃ المناجیح جلد 2 صفحہ 370 نعیمی کتب خانہ گجرات)*
*سوال 30:*
اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی وجہ سے ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ہوں اور ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو کیا وہ بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنے والے فعلِ مستحب پر عمل کر سکتا ہے ؟
*جواب:*
اگر کسی شخص نے 31 دن سے کسی وجہ سے ناخن اور بال وغیرہ نہ کاٹے ہوں اور ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے تو اگرچہ قربانی کا ارادہ رکھتا ہو وہ بال اور ناخن وغیرہ نہ کاٹنے والے فعلِ مستحب پر عمل نہیں کر سکتا کیونکہ اگر وہ اس  فعلِ مستحب پر عمل کرے گا تو بال اور ناخن وغیرہ نہ کٹوائے  ہوئے 41واں دن ہوجائے گا اور مسئلہ یہ ہے کہ 40 دن سے زیادہ بال اور ناخن وغیرہ نہ کٹوانا گناہ ہے تو فعلِ مستحب کے لئے وہ یہ گناہ نہیں کر سکتا.
*(فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 353 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواُسَیْدعبیدرضامدنی*
10/07/2020
03068209672
*👈🤳🏻خود بھی پڑھیں اور بہ نیت ثواب دوسروں تک بھی پہنچائیں🤳🏻*
https://t.me/joinchat/AAAAAFG2o0-ENW8I0CZsOQ
*🤲دعا کیجیئے🤲دعا دیجیئے🤲دعا لیجیئے🤲علم دین حاصل کریں اور دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کریں🌹🤲🌳🤲❤🤲💚🤲🌳*
*بیان سننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں  اور چینل بھی سبسکرائب* 👇👇👇
https://www.youtube.com/channel/UCozd6j_NckxZnJcYJe0N6wQ
*نوٹ دینی مسائل سیکھنے کیلئے اس گروپ میں شامل ہو جائیں*
*🌸فیضان حضور صدر الشریعہ🌸*  
 *گروپ میں شامل ہو نے کیلئے  نیچے دی آئی ڈیوں پر رابطہ کریں*
*اور اپنے اچھے مشورے بھی دے سکتے ہیں اور کچھ کمی نظر آئے وہ بھی بتائیں* 

http://Wa.me/919326049045

http://Wa.me/919897759577

http://Wa.me/919027270234

http://Wa.me/917026351713

http://Wa.me/919838291162 
✍🏻مولانا محمد رضا نوری 
✍مولانا عبد الوارث رضوی 
✍مولانا شاہ رخ مصباحی 
✍مولانا غلام حسین رضوی
✍🏻حافظ محمد عاقب رضا

Friday, July 10, 2020

عورتوں کو پاؤں کی انگلیوں میں بچھیا پہننا کیسا ہے ؟ ‏

*❣عورتوں کو پاؤں کی انگلیوں میں بچھیا پہننا کیسا ہے ؟ ❣*

فخر اعلی حضرت ٹیلیگرام https://t.me/fakhreaalahazrat

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
بعد سلام کے سوال عرض ہے عورتوں کو پاؤں کی انگلیوں  میں بچھیا پہننا کیسا ہے 
اجرا خانم
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجــــــــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــ بعـــــون المــلــــك الــــــوهــــــــاب:*

عورتوں کا اپنے شوہروں کے لئے زیور پہننا اور بناؤں سنگار کرنا اجر عظیم کا باعث ہے 
*کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ👇🏻* 
جو عورت دنیا سے اس حال میں گئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی 
*(📙ترمذی شریف, حدیث, 1161)*
البتہ بجنے والے زیورات صرف اس وقت جائز ہیں جبکہ وہ غیر محرموں کے سامنے نہ جاتی ہو ,چنانچہ , *قال اللہ تعالٰی فی القرآن الکریم, ولایبدین زینتھن الا لبعولتھن*
ترجمہ, عورتیں اپنا سنگار شوہر یا محرم کے سوا کسی پر ظاہر نہ کریں 
*(📘سورہ, نور,آیت 31 )*
اور ارشاد فرماتا ہے *ولا یضربن بارجلھن لیعلم ما یخفین من زینتھن*
عورتیں پاؤں دھمک کر نہ رکھیں کہ انکا چھپا ہوا سنگار ظاہر ہو 
*(📕سورہ, نور, آیت 31)*
اور سیدی سرکار اعلی حضرت مجدد بریلوی رضی اللہُ عنہ فتاویٰ رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں کہ عورت کا اپنے شوہر کے لئے گہنا پہننا بناؤں سنگار کرنا باعث اجر عظیم اور اس کے حق میں نماز نفل سے افضل ہے 
*(📔ج, 22ص,126)*
اور رہا بچھیا کے غیر مسلموں کے مشابہ ہونے کا تو حضور نبی اکرم ﷺ *من تشبہ بقوم فھو منھم*
*(📘رواہ احمد ابودؤاد)*
اس حدیث سے معلوم ہواکہ غیر مسلم کی ہر وہ چیز جو ان کے لئے اس طرح خاص ہوکہ اگرمسلم اسے استعمال کرے تو غیر مسلم ہونے کا اس پر دھوکہ ہوتو اس کا استعمال کرنا مسلمان کے لئے ناجائز ہے 
*(📙فتاوی شارح بخاری, ج2,ص600)*
بچھیا ایک قسم کی انگوٹھی ہے جس کا استعمال غیر مسلم اور مسلمانوں میں عام ہے جس کو استعمال کرنے والی عورت غیر مسلم ہی ہے یہ ثابت نہیں ہوتا اور اگر یہ ثابت ہوجائے کہ بچھیا صرف غیر مسلم ہی پہنتے ہیں تو اسکا پہننا ناجائز ہوگا ورنہ جائز ہے 
*نیـــــــــــز−−−−−−👇🏻* 
اگر بچھیا پہننے والی عورت یہ ارادہ رکھتی ہے کہ یہ میں اہل ہنود کی مشابہت میں پہن رہی ہوں تو بچھیا کا استعمال اس کے لئے نا جائز ہوگا 
*الحاصل______👇🏻* ,
بچھیا کا استعمال کرنا جائز ہے کیونکہ یہ صرف اور صرف عورتوں کی زینت کے لئے ہے اور اسکی شکل وصناعت نفس انگوٹھی کی سی ہے جس کے پہننے سے مشابہت ہنود ثابت نہیں ہوتی 
*(📕رسالہ بچھیا پہننے کا شرعی حکم ص 01)*

*واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضـرت حافظ وقاری محمـد انور رضا صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی پیاگ پور ضلـع بہـــرائــچ شــریف  یـوپــــی الہنــــــــــــــــد*
*بتاریخ 10 جلائی 2020بروز جمعہ*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*حضـــرت علامـــہ ومـــولانا محمــــد جابر القــادری رضوی صــاحب قبلــہ مدظلــہ الـعــالـی والنـــورانــی خطیب وامام مسجد نور جاجپور اڑیسہ*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*حضرت مولانا محمد الطاف حسین قادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا ضلع لکھیم پور کھیری یوپی الہنــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــد*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*حضرت مولانا محمد عمران رضا ساغر صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خطیب وامام؛سنی نورانی مسجد ہسدرگہ چترادرگہ ضلع کرناٹک الہنـــــــــد*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*حضرت علامہ ومولانا غلام شمس ملت سلطان رضا شمسی صاحب مدظلہ العالی والنورانی بلہاوی خادم التدریس مدرسہ حنفیة البرکات پرکوٹ ضلع تنٶ نیپال*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*◆فخر اعلیٰ حضرت فقہی گروپ؛◆*
  شــــامـــل ہـــونــے کــے لیــــے⇩⇩⇩

*https://wa.me/+919918521953*

مــزیـــد مـــعـــلـــومـــات کــے لئــے ٹیـــلیـــگــــرام جـــوائـــــــــن کـــریـں⇩⇩⇩

*https://t.me/fakhreaalahazrat*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین اعلیٰ حضرت گـــروپ*
*مـحـمـد عـامـل رضـا خــان قـادری رضـوی*
*لکھیـم پـور یـوپـی انـڈیـا؛*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
🌹منقبت حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ🌹

✍خصوصی کلام ۔براۓ عرس پاک 28/06/2020

کتابِ عشق کا عنوان اخترِ قادری
مری حیات کا جزدان اخترِ قادری

تو میرا عشق مری جان اختر قادری
میں تیرے نام پہ قربان اختر قادری

طفیل حضرت سرکار مفتٸ اعظم
زمانے بھر میں ہیں ذیشان اخترِ قادری

نگاہ لطف کی وہ مۓ کشی نہیں جاتی
ہمیشہ ہم پہ ہو فیضان اخترِ قادری

جناب سید ابرار کی عطا سے تم
الگ ہی رکھتے ہو پہچان اخترِ قادری

ہمارے قلب میں عشق رسول تم نے جو
بسا کے کر دیا احسان اختر قادری

تمہاری ایسی ہے دنیا میں عظمت و رفعت
عدو ہیں دیکھ کے حیران اختر قادری

تو بھر دے رب کی عطا سے مری بھی جھولی کو
گدا ہے تیرا یہ عمران اختر قادری

✍ از قلم۔عمران علی

بارگاہِ رسالت میں اونٹ کا فریاد کرنا

بارگاہِ رسالت میں اونٹ کا فریاد کرنا
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

🔷 سوال:کیا پیارے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں جانوروں کا فریاد کرنا ثابت ہے؟
______________________________

📚✍ الجواب بعون الملک الوھاب
جی ہاں! پیارے آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں جانوروں کا فریاد کرنا ثابت ہے۔ ایک بار رَحْمتِ عالَم، نورِ مجسم   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک انصاری کے باغ میں تشریف لے گئے وہاں ایک اُونٹ کھڑا تھا، جب اس نے آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو دیکھا تو ایک دَم بِلبِلانے لگا اور اس کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ رَحْمتِ عالَم   صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قریب جاکر اس کے سَر اور کنپٹی پر اپنا دستِ شفقت پھیرا تو وہ تسلّی پاکر بالکل خاموش ہوگیا، تاجدارِ رسالت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا کہ اِس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نوجوان حاضر ہوئے اور عرض کی: یارَسولَ اللہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ! یہ میرا ہے۔ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: کیا تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس جانور کے بارے میں نہیں ڈرتے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جس کا تم کو مالِک بنایا ہے۔ تمہارے اس اونٹ نے مجھ سے تمہاری شکایت کی ہے کہ تم اس کو بھوکا رکھتے ہو اور اس کی طاقت سے زیادہ کام لے کر اسے تکلیف دیتے ہو۔ (ابوداؤد، ج3،ص32، حدیث: 2549) میرے آقا اعلیٰ حضرت، امام احمد رضا خان علیہِ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:

ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد

اسی دَر پر شُتَرانِ ناشاد([1]) گِلۂ رَنج و عَنا(2) کرتے ہیں

(حدائقِ بخشش، ص 113)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
________________________________
📚 ماہنامہ فیضان مدینہ 1438

✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞