Tuesday, September 29, 2020

*💎شمال ومغرب کے کونے میں کھڑے ہوکر سلام پڑھناکیسا؟💎*

*💎شمال ومغرب کے کونے میں کھڑے ہوکر سلام پڑھناکیسا؟💎*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

🌹السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🌹
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسںٔلہ کے بارے میں کہ کیاشمال اور مشرق کے کونے میں کھڑے ہوکر سلام پڑھنا درست ہے اگر ہے تو کیوں /مکمل وضاحت کے ساتھ مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں

سائل ۔۔۔ صابر رضا؛
ا________(🍅)_________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
اسلئے کہ ہمارے ہندستان  سے مدینہ طیبہ جانب شمال مغرب ہے ، اور درود و سلام میں جانب روضہ اطہر متوجہ ہونا محبوب و مطلوب بھی ہے اور طریقہ مرضیہ بزرگان دین بھی

سیدی سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں

*” درود شریف راہ چلتےبھی پڑھنےکی اجازت ہے جہاں نجاست پڑی ہو وہاں رک جائے ، بہتریہ ہےکہ ایک وقت معین کرکے ایک عدد مقرر کرلے ، اس قدر باوضو دو زانو ادب کےساتھ مدینہ طیبہ کی جانب منہ کرکے روزانہ عرض کیاکرے ، جس کی مقدار سو بار سےکم نہ ہو زیادہ جس نبھا سکے بہترہے “*

*{📙فتاوی رضویہ مترجم ج٦ ص١٨٣ ، رضا فاؤنڈیشن}*

معلوم ہواکہ درودپاک پڑھتےہوئے ادب کا تقاضہ یہی ہےکہ پڑھنےوالےکا رخ مدینہ منورہ کی جانب ہو ، بیٹھ کر ہو یاکھڑے ہوکر ، معین تعداد کے لئے ہو یا غیرمعین تعداد کیلئے ، قلیل کیلئے ہو یا کثیرکیلئے ، کہ سرکاراعلیحضرت رضی اللہ عنہ کے اس کلام میں ” بیٹھ کر کم ازکم سو مرتبہ “ کی قید اضافی ہے حقیقی نہیں ، کماھوالظاھر ، نیز بات تو دراصل جانب مغرب وشمال منہ کرنےکی ہے ، جب وہاں درست تو یہاں بھی صحیح

*ھذا ماظہرلی والعلم الحقیقی عندربی*
*واللہ تعالی اعلم بالصواب*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد شکیل اختر قادری برکاتی  شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ؛29/9/2020*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________

Wednesday, September 16, 2020

شوہر نے بیوی سے کہا تیرے ہاتھ کا بناہواکھانامیرے لئے حرام ہے تو کیاحکم ہے

*💚شوہر نے بیوی سے کہا تیرے ہاتھ کا بناہواکھانامیرے لئے حرام ہے تو کیاحکم ہے؟💚*
 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
میاں بیوی میں جھگڑا ہونے کی وجہ سے شوہر نے بیوی سے کہا تیرے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا میرے لئے حرام تو ایسا کہنے پر کھانا حرام ہو جائیگا کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں اسکا حکم کیا ہے 

حدیث کی روشنی میں جلد مسئلہ حل فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں
فقط السلام
ا________(💚)___________
*وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
صورت مسٸولہ میں ایساکہنے سے شوہر کے لٸے بیوی کے ہاتھ تیارکیاہواکھاناتوحرام نہ ہوگالیکن ایساکہناقسم ہے لہذاایساکھاناکھاے گاتوکفارہ لازم ہوگا

*(📙بہارشریعت میں ہے)*
 جو شخص کسی چیزکواپنے اوپرحرام کرے مثلاکہے فلاں چیزمجھ پر حرام ہے تواس کے کہہ دینے سے وہ شی حرام نہیں ہوگی کہ اللہ نے جس چیز کوحلال کیااسے کون حرام کرسکے مگر اس کے برتنے سے کفارہ لازم آے گایعنی یہ بھی قسم ہے
*(📗 ح ٩ ص ٢٠٣ )*
*واللہ تعالی اعلم بالصواب*
 ا________(💚)__________
*کتبہ*
*فضیل یٰسینی رشیدی عفی عنہ  خادم تدریس  دارالعلوم  مصطفاٸیہ درگاہ  شریف چمنی  بازار پورنیہ بہار انڈیا؛*
*💚الحلقةالعلمیہ گروپ💚*
*☎️(موبائل؛8210306436)*
*مورخہ؛1م29/6/2020)*
ا________(💚)__________
*🖊️المشتہر فضل کبیر🖊️*
*منجانب منتظمین الحلقةالعــلمیہ گروپ؛ محمد عقیـــل احمد قادری حنفی اتر دیناج پور بنگال مقیم حال سورت گجرات انڈیا؛*
ا_______(🖊️)__________
820

Saturday, September 12, 2020

فاتحہ میں پانی کیوں رکھا جاتا ہے؟

*❣️فاتحہ میں پانی کیوں رکھا جاتا ہے؟❣️*
 
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ فاتحہ خوانی میں پانی کا اہتمام کرنا کیسا ہے " آخر پانی کیوں رکھا جاتا ہے اس کا مطلب کیا ہے
*فخر ازھر چینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل محمد شاہ جہاں اسمعیلی ٹھاکر گنج کشن گنج بہار🔸*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمة اللّٰه وبرکاته*

*الجواب :* فاتحہ میں پانی رکھنا جائز ہے اس میں ثواب ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں 

۱ دنیا میں لوگوں کا دستور ہے کہ جب کھانا کھاتا ہے تو پانی بھی پیتا ہے اس لئے کھانا کے ساتھ پانی کا گلاس، یا بوتل، یا جگ رکھا جاتا ہے
اور یہی دستور فاتحہ میں رکھا گیا کہ جسے کھانا کھلایا جائے، یا شیرنی کھلائی جائے اسے پانی بھی پلایا جائے اور وہ کھاکر پانی بھی پیتا ہے ،جس فقیر کو کھانا کھلا کر پانی پلایا جائے اس کا دل خوش ہوتا ہے، اور اس سے پیاس بجھتی ہے 

۲ دوسری بات پیاسے کو پانی پلانا بہت ثواب اس سے فقیر پیاسا کا دل خوش ہوتا ہے،
 حدیث شریف میں ہے کہ *" احب الاعمال الی المولی تعالیٰ  بعد الفرائض ادخال السرور قلب المسلم "*
یعنی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں فرائض کے بعد سب سے زیادہ  پسندیدہ عمل یہ ہے کہ مسلمان کا دل خوش کرے
*( 📕مرقات المفاتیح عن ابن عباس بحوالہ الطبرانی، جلد 8 ص 753)*

 اور پانی پلانا ایک بہترین صدقہ اور ثواب ہے
 حدیث شریف میں ہے کہ *افضل الصدقۃ سقی الماء*
یعنی سب سے بہتر صدقہ پانی پلانا ہے
*( 📘الدر المقدور ،جلد 3 ص 90)*
،ایک دوسری ِحدیث میں یے کہ جہاں پانی نہ ملتا ہوکسی کو پانی پلانا ایک جان کو زندہ کرنے کی مثل ہے اور جہاں پانی ملتا ہو وہاں پانی پلانا غلام کو آذاد کرنے کے مثل ہے 

۳ بالجملہ اج کل کے مروجہ فاتِِحہ کی اباحت و جواز میں شک نہیں کہ وہ مجموعہ امور  مستحسنہ کا ہے اور مجموعہ امور مستحسنہ مستحسن ہوتا ہے اور  اجتماع سے کوئی حکم منافی احاد کئے پیدا نہیں ہوتا بلکہ حسن اس کا حسن ہر واحد سے زیادہ ہوتا ہے

لھذا اس مروجہ فاتحہ میں  پانی، کھانا، تلاوت قرآن اول و آخر درود شریف و دعا کا ایک ساتھ جمع کرکے ایصال ثواب کرنا جائز اور باعث برکت اور زیادتی نیکیاں ہیں، جبکہ ہر ایک عمل یعنی پانی، کھانا، شیرنی، اور  اول و اخر درود شریف اور یہ دعا یہ سب ثواب سے خالی  نہیں ہے اور جس قدر پاک ِحلال اشیاء پر فاتحہ ہوگا اس قدر مردے کو ثواب زیادہ ملے گا اسی لئے امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب الگ الگ افراد حرام نہیں تو مجموعہ کہاں سے حرام ہوگا اور جب مباحات کے افراد مجتمع ہوں تو مجموعہ بھی مباح ہوگا  اس اصول پر دیکھا جائے تو فاتحہ مروجہ میں پانی ایک نیکی، کھانا، ایک نیکی، صدقہ ایک نیکی، درود و سلام ایک نیکی، تلاوت قران ایک نیکی  اور دعا بھی ایک نیکی اور دعا میں ہاتھ اٹھانا آداب دعا اس لئے یہ بھی ایک نیکی اور جب سب نیکیاں ہی نیکیاں  ہیں تو ان کا مجموعہ بھی خیر ہی خیر  اور نیکیاں ہی نیکیاں  ہوں گی 
لھذا اسی وجہ سے فاتحہ میں پانی رکھا جاتا یے اور اس کا اہتمام کیا جاتا ہے،

*🔸واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ🔸*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✍🏻 کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*پیر طریقت مصباح ملت حضرت مفتی محمد ثناءاللہ خاں ثناءالقادری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مرپا شریف بانی تحقیق مسائل جدیدہ اکیڈمی مرپا شریف :*
*🗓۱۹ ذی القعدہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۱۱ جولائی ٠٢٠٢؁ء بروز سنیچر* https://wa.me/+916203312595
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث.وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

Tuesday, September 8, 2020

کیا رونے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے؟

*🔇کیا رونے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے؟🔇*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia


السلام عليكم ورحمت اللہ وبر کاتہ
کیا اگرکسی کے انتقال کے بعد رونے سے میت کو تکلیف ہوتی ہے ؟

ا_______(❤️)__________
*وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ*

  الجواب : حدیث شریف میں ہے کہ:
" عن عمرۃ بنت عبدالرحمن انھا قالت سمعت عائشۃ و ذکر لھا ان عبداللہ بن عمر یقول ان المیت لیعذب ببکاء الحی علیہ تقول یغفراللہ بے عبدالرحمن اما انہ لم یکذب ولکن نسی او خطاء انما مر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی یھودیۃ یبکے علیھا فقال انھم لیبکون علیھا وانما لتعذب فے قبرھا،  متفق علیہ-"
یعنی " روایت ہے حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن سے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ( رضی اللہ تعالی عنھا) کو سنا ان سے ذکر کیا گیا کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ( رضی اللہ تعالی عنھما) فرماتے ہیں کہ زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتاہے - فرمانے لگیں  اللہ تعالی ابو عبدالرحمن کو بخشے انھوں نے جھوٹ نہ بولا لیکن وہ بھول گئے یا خطا کی -"
*(📘 مرآت شرح مشکوۃ جلد ۲ صفحہ ۵۰۸)*
اس حدیث شریف کے تحت حضور سرکار حکیم الامت مفتی محمد یارخاں نعیمی علیہ تحریر فرماتے ہیں کہ:
" یا تو وہ حدیث شریف بھول گئے یا حدیث کو عام سمجھ کرخطا کر گئے -
کسی چیز کو بالکل بھول جانا نسیان ہے اور اس کے وصف کو بھول کر اس میں فرق کردینا خطا ہے-
حضرت ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنھا کا منشاء یہ ہے کہ نوحہ سے مسلمان  میت کو عذاب نہیں ہوتا بلکہ کفار کو ہوتا ہے - حضرت ابن عمر نے اسی عام کو خاص سمجھ لیا - یا یہ مطلب ہے کہ وہاں عذاب تو کفرکی وجہ سے ہورہاتھا حضرت ابن عمر نے  اسے رونے کی  وجہ سمجھ لیا - لہذا  ان سے یا بھول  ہوئی یا یاخطا - 
اس کے متعلق  تحقیقی  مسئلہ   یہ  ہے کہ اگر میت نے اس  رونے  پیٹنے کی وصیت  کرگیا ہو تو عذاب پائےگا -یا یہ مطلب  ہے کہ مرنے والےکو مرتے وقت یا مرنے کے بعد اس   شورو پکار سے تکلیف ہوتی ہے جیسے اسے تلاوت قرآن وغیرہ سے راحت حاصل ہوتی ہے کیونکہ میت کی روح موذی چیزوں سے ایذاء اور آرام دہ چیزوں سے راحت پاتی ہے - اسی لئے قبر پر چلنے اس کا تکیہ لگانے سے میت کو ایذاء ہوتی ہے -" 
*(📓حوالہ مذکور صفحہ ۵۰۹)*
مذکورہ بالا نقل کردہ عبارات سے معلوم ہوا کہ  میت کو  عذاب اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ اس نے نوحہ کرنے کی وصیت کر گیا ہو یا وہاں نوحہ کا رسم و رواج رہا اور اس نے منع نہ کیا ہو- 
نیز زور زور سے چلانے شور  کرنے سے بھی میت کو تکلیف ہوتی ہے  نہ مطلقا رونے اور آنسو بہانے سے -
جیساکہ  حدیث شریف میں ہے کہ کوئی میت فوت ہوئی تو عورتیں جمع ہوکر رونے لگیں حضرت عمر کھڑے ہوکر انھیں منع  کرکے ڈانٹنےلگے تو حضور نبئ کریم  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  نے فرمایا اے عمر ..!!! انھیں چھوڑ دو ...!!! کیونکہ آنکھیں  بہتی  ہیں دل مصیبت زدہ ہے اور واقعہ غم تازہ ہے -(📗حوالہ مذکور صفحہ ۵۱۳) *(بحوالہ احمد،  نسائی)*
یہ  میت حضرت زینب بنت رسول  رضی اللہ تعالی عنہا  کی تھی  اور اس وقت تک حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ  کو  رونے اور نوحہ  میں فرق معلوم نہ  ہوا تھا -  
*(📗 حوالہ  مذکور صفحہ ۵۱۳)  
*واللہ تعالی اعلم*
 ا_________(📌)________
*کتبـــہ؛*
*محمد جعفر علی رضوی خادم التدریس کرلوسکرواڑی سانگلی مہاراشٹر؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8530587825)*
*مورخہ؛10/9/2020)*
ا________(🖊)_________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
896

Saturday, September 5, 2020

نانا سے کیا وعدہ جو اس کو نبھایا ہے

نقبت درشان امام عالی مقام سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ)_____________🌹_____________
نانا سے کیا وعدہ جو اس کو نبھایا ہے
شبیر نے کربل میں سر اپنا کٹایا ہے
اے دین نبی تیری عظمت ہی کی خاطر تو
فرزند علی نے سب گھر بار لٹایا ہے
پوچھے تو کہوں کوٸ باطل کو مٹایا کون 
زہرہ کے تو بیٹے نے باطل کو مٹایا ہے
ہر ڈھنگ سکھایا تو شبیر عبادت کا
چڑھ کے بھی تو  نیزے پہ قرآن سنایا ہے
کیوں بندۂ مومن کو الفت نہ ہو پھر تجھ سے
ایمان کی دولت جو در سے ترے پایا ہے
عمران مقدر پہ نازاں ہے ہر اک لمحہ
 شبیر ترا دامن قسمت سےجو پایا ہے______________🌻______________(عمران علی دیناجپوری)

زندگی ‏کو ‏ملی ‏زندگی ‏آپ ‏سے



ایک اور نیا کلام احباب کی نذر

(نعت شریف)

زندگی   کو  ملی  زندگی  آپ سے
دونوں عالم کی ہر اک خوشی آپ سے

پتلۂ خاک جس دم بنایا گیا 
جسمِ آدم میں جاں آگٸ آپ سے

یا نبی آپ سا کون اور ہوگا بھلا
سب نبی کو نبوت ملی آپ سے

یہ زمین و زماں یہ مکین و مکاں 
یانبی ساری خلقت بنی  آپ  سے

کیا کہوں کیا مِلا آپ کے آنے سے
ہم نے سیکھا شعور بندگی آپ سے

مصطفی آپ کا ہے ہمیں آسرا
 ہونگے محشر میں ہم سب بری آپ سے

نام عمران نے لے لیا آپ کا 
اسکی ہر اک مصیبت ٹلی آپ سے
______________🌹______________
✍ (عمران علی دیناجپوری)

صحابی عشق میں آقا کی کیا کیا چھوڑ دیتے ہیں

ایک اور نیا کلام آپ سبھی احباب کے حوالے 
_______________✍_______________

صحابی عشق میں آقا کی کیا کیا چھوڑ دیتے ہیں
پدر مادر برادر مال و جاں سب چھوڑدیتے ہیں

خدا نے دی ہے کتنی طاقت و قوت ذرا دیکھو
اشارے سے مرے آقا قمر کو توڑ دیتے ہیں

علی کی جب قضا ہوتی نماز عصر صہبا میں 
تو رخ سورج مرے آقا دوبارہ موڑ دیتے ہیں

نبی کے عشق کی شیرِخدا میں دیکھئے قوت 
اکیلے ہی جو خیبر کا وہ قلعہ توڑ دیتے ہیں

مقدر اسکا دوزخ ہے وہ دوزخ کا پلندہ ہے 
علی کو مانتے ہیں جو عمر کو چھوڑ دیتے ہیں

نبی کی آل و عترت سے محبت جن کو ہوتی ہے
فرشتےاس کومحشرمیں تویونہی چھوڑدیتےہیں

محبت کا جو رشتہ جوڑکے رکھتا ہے آقا سے
مرے آقا تو اس کا رشتہ رب سے جوڑدیتے ہیں

کفن پر نام آقا جس کے بھی عمران لکھا ہو
فرشتے قبر میں اس کو یقینا چھوڑ دیتے ہیں
_______________✍_______________

✍ از قلم۔(عمران علی)

کتنے ہیں مرے دل میں ارمان مدینے کے

ایک اور نیا کلام آپ تمامی احباب کے حوالے


کتنے ہیں مرے دل میں  ارمان مدینے کے 
اے کاش! بلالیں اب سلطان مدینے کے 

انساں ہی نہیں بلکہ آتے ہیں فرشتے بھی 
دن رات سبھی لینے فیضان مدینے کے

آئے ہیں نبی جتنے اعلی ہیں سبھی لیکن
 سب نبیوں میں افضل ہیں سلطان مدینے کے

یہ دنیا پڑی رہتی ہے قدموں میں بس اس کے
ہوتا ہے جسے حاصل عرفان مدینے کے

سرکار کی الفت میں لکھتا ہی رہوں نعتیں
مجھ کو جو ملیں صدقے عمران مدینے کے
,____________________

✍ از قلم (عمران علی دیناجپوری)

گھر میں میت ہو جائے تو گھر کا کھانا پانی پھینکنا کیسا؟

🔎 *گھر میں میت ہو جائے تو گھر کا کھانا پانی پھینکنا کیسا؟*🔍

◆  ــــــــــــــــــــ▪  📝   ▪ــــــــــــــــــــ  ◆
*اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*
میرا ایک سوال یہ ہے کہ جب گھر میں کسی کی موت ہو جاتی ہے تو گھر والے جو کھانا بنا ہوتا ہے تو اس کو اٹھا کر پھینک دیتے ہیں اور برتن وغیرہ میں جو پانی وغیرہ ہوتا ہے اس کو بھی پھینک دیتے ہیں تو میرے نزدیک یہ جہالت ہے کیونکہ وہ اللہ تبارک و تعالی کارزق ہے اور رزق کو پھینکنا نہیں چاہیے لیکن لوگ کہتے ہیں کہ یہ شریعت مطہرہ میں ہے آپ میری اس میں اصلاح فرمادیں 
*ا•─────────────────────•*
*سائلہ؛ نوشین بانو ،*
◆  ــــــــــــــــــــ▪  📝   ▪ــــــــــــــــــــ  ◆

*وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب ۔۔۔* 
🔍 *یہ سخت جہالت ناجائز و حرام کام ہے،اس بہتر اور کیا ہوتا کہ میت کے نام سے فقراء کو صدقہ کر دیا جاتا*

🔍اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: *اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِؕ-وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا(📗سورہ بنی اسرائیل آیت ۲۷)*
📝ترجمہ ؛ "بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے"

*📃پہلی آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ فضول خرچی نہ کرو جبکہ اس آیت میں فرمایا کہ بیشک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں کیونکہ یہ ان کے راستے پر چلتے ہیں اور چونکہ شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے، لہٰذا اُسکا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔*
(بحوالہ ؛ مدارک، الاسراء، تحت الآیۃ:۲۸ ، ص ۶۲۱ ،ملخصاً؛ حوالہ: صراط الجنان)

*اگر اس اعتقاد سے کھانا پانی ضائع کیا گیا کہ گھر میں میت ہوگئی ہے تو گھر کا کھانا نہیں کھا سکتے رشتہ دار یا پڑوسی کھانا بھیجیں گے وغیرہ وغیرہ تو یہ بھی جہالت پر جہالت ہے جہاں تک کہ میت کے گھر کھانا بھیجنے کی بات ہے تو یہ سنت ہے نہ کہ فرض واجب ہے کہ گھر کا کھانا ہی ضائع کر دیا جائے،*

*📝حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ؛ میت کے پڑوسی یا دور کے رشتہ دار اگر میّت کے گھر والوں کے لیے اُس دن اور رات کے لیے کھانا لائیں تو بہتر ہے اور انھیں اصرار کرکے کھلائیں* 
(📙بحوالہ: ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ الجنازۃ، مطلب في الثواب علی المصیبۃ، ج۳، ص۱۷۵۔حوالہ بہار شریعت جلد اول ح چہارم) 
*اور صرف پہلے دن کھانا بھیجنا سنت ہے، اس کے بعد مکروہ ہے*
(📗بحوالہ: الفتاوی الھندیۃ، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني عشر في الھدایا و الضیافات، ج۵، ص۳۴۴-حوالہ ؛ المرجع السابق) 

*📝لہذا میت کے گھر والے توبہ کریں اور ایسے کام سے بیزاری کا اظہار کریں اور جو لوگ اس فعل حرام کو شریعت مطہرہ کی طرف منسوب کرنے کی جرئت کیں ان سب پر اعلانیہ توبہ واجب ہے انکا اس طرح بنا علم کے مسائل بیان کرنا حرام ہے وہ سب اپنے قول سے رجوع کریں اور توبہ کریں اور جس کے متعلق علم نہ ہو وہ باتیں نہ کریں پتہ نہ ہو تو علمائے کرام کی طرف رجوع کریں*

*🔍اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ؛ فاسالوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون*
ترجمہ "تو تم علم والوں سے پوچھو اگر تمہیں نہیں پتہ"

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
*ا•─────────────────────•*
*✒️کتبہ :ابــو حنـــیـــفـــہ محـــمـــد اکـبــــر اشــرفــی رضـوی، مانـخـــورد مـــمـــبـــئـــی*
 *رابطہ نمبر ؛ 9167698708*
*ا•─────────────────────•*
۱۵ محرم الحرام ۲۴۴۱؁ھ ، مطابق ۴ ستمبر ٠٢٠٢؁ء
*ا•─────────────────────•*

بچوں کے ماتھے، گال یا ٹھوڑی پر سُرمے اور کاجل وغیرہ سے نقطہ نما کالا نشان لگانا کیسا ہے

*سوال نمبر 3:
بچوں کے ماتھے، گال یا ٹھوڑی پر سُرمے اور کاجل وغیرہ سے نقطہ نما کالا نشان لگانا کیسا ہے ؟ 
*جواب:*
بچوں کے ماتھے، گال یا ٹھوڑی پر سرمے اور کاجل وغیرہ سے نقطہ نما کالا نشان لگانا بالکل جائز ہے بلکہ لگانا چاہیے کہ اس کے ذریعے بچوں کی نظرِبد سے حفاظت ہوتی ہے اور نظرِ بد سے بچانے کے لئے ٹھوڑی میں کالا نقطہ لگوانا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔
چنانچہ علامّہ علی بن سلطان محمد قاری رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
*”فی شرح السنۃ روی ان عثمان رضی اللہ عنہ رأی صبیاً ملیحا فقال دسموا نونتہ کیلا تصیبہ العین“*
یعنی شرح السنّۃ میں حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے ایک خوبصورت بچہ دیکھا تو فرمایا :
"اس کی ٹھوڑی میں سیاہ نقطہ یا ٹیکہ لگا دو تاکہ نظر نہ لگے۔" 
*(مرقاۃ المفاتیح جلد 8 صفحہ 305 تحت الحدیث :4531)*
شیخ الحد یث حضرت علا مہ مولانا عبد المصطفی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :
"نظر سے بچنے کے لیے ماتھے یا ٹھوڑی وغیرہ میں کاجل وغیرہ سے دھبہ لگا دینا یا کھیتوں میں کسی لکڑ ی میں کپڑا لپیٹ کر گاڑ دینا تاکہ دیکھنے والے کی نظر پہلے اس پر پڑے اور بچوں اور کھیتی کو کسی کی نظر نہ لگے ایسا کرنا منع نہیں ہے کیونکہ نظر کا لگنا حد یثوں سے ثابت ہے اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ 
حد یث شریف میں ہے کہ :
جب اپنی یا کسی مسلمان کی کوئی چیز دیکھے اور وہ اچھی لگے اور پسند آجائے تو فوراً یہ دعا پڑھے :
*تَبَارَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ فِیْہِ*
*(ردالمحتار علی الدرالمختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی اللبس، جلد 9 صفحہ 601 دار المعرفۃ بیروت)*
یا اردو میں یہ کہہ د ے کہ :
*"اللہ برکت د ے"*
 اس طرح کہنے سے نظر نہیں لگے گی۔
*(جنتی زیور صفحہ 411،  412 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
15/01/2019
03068209672

Sunday, August 16, 2020

قبل نکاح پیدا ہونے والا بچہ ثابت النسب ہوگا یا نہیں

*🔹قبل نکاح پیدا ہونے والا بچہ ثابت النسب ہوگا یا نہیں🔹*


السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
مفتیان کرام سے عرض ہے کہ مرد و عورت نے نکاح سے پہلے قربت کرلی ۔
اب اسی سے حمل بھی ٹھر گیا اب نکاح بھی اسی عورت سے ہوا وہ بچہ حلالی ہو گا یا حرامی ؟ توبہ بھی کر چکے ۔ 
حمل ضائع کروا دیں تو گناہ ہوگا یا نہیں۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔
*فخر ازھر چینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔹سائل لقمان پاکستان🔹*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب* اگر کوئی مرد نے کسی عورت سے زنا کر لے پھر وہ حاملہ ہو جائے اور اس کے بعد اس عورت سے نکاح کر لے تو اگر نکاح سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کا نسب قضاءً ناکح سے ثابت ہوجائے گا اور دیانةً ثابت نہیں ہوگا ۔ اور اگر نکاح کی تاریخ سے چھ مہینہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے ۔ اور خاوند یہ اقرار کرے کہ یہ بچہ میرا ہے تو ثبوت نسب کے لئے یہ اقرار تو معتبر نہیں ہوگا ۔ لیکن اس اقرار کی وجہ سے بچہ اس کی میراث میں وارث بنے گا 

📑جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ *" إذا زنا بامرأة ثم تزوجها فولدت منه إن جاءت به لستة عشر فصاعدا يثبت نسبه إلا ان يدعيه ولم يقل إنه من الزنا إلا ان قال أنه من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه " اھ*
*(📕 فتاوی عالمگیری ج 1 ص 540 : كتاب الطلاق ، الباب الخامس عشر )*

📄 اور اسی میں ہے کہ *" اذا تزوج الرجل امرأة فجائت بالولد لأقل من ستة أشهر منذ تزوجها لم يثبت نسبه و ان جاءت لستة أشهر فصاعداً يثبت نسبه منه اعترف به الزوج أو سكت " اھ*
*(📘 فتاوی عالمگیری ج 1 ص 536 )*

📜 اور اسی میں ہے کہ *" إذا زنى رجل بامرأة فجاءت بولد فالدعاه الزاني لم يثبت نسبه منه و اما لمراة فيثبت نسبه منها " اھ*
*(📗 فتاوی عالمگیری ج 4 ص 127 : كتاب الدعوى /  تبيين الحقائق ج 3 ص 275 : كتاب الطلاق ، باب ثبوت النسب )*

📃 اور بہار شریعت میں ہے کہ " کسی عورت سے زنا کیا پھر اُس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ یہ زنا سے میر ا بیٹا ہے " اھ
*(📚 بہار شریعت ج 2 ص 251 : ثبوت نسب کا بیان )*

📌چار ماہ کے بعد اسقاط حمل حرام ہے اس سے قبل ضرورۃ کر سکتے ہیں

📄جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ *" و قالوا : يباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر " اھ*

📃 رد المحتار میں ہے کہ *" ( و قالوا الخ ) هل يباح الاسقاط بعد الحبل ؟ نعم  يباح ما لم يتخلق منه شئى ولن يکون ذلک الا بعد مائة وعشرين يوما هذا يقتضى انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح " اھ*
یعنی کیا حمل ٹھرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے ؟ ہاں جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے ۔ پھر تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے اور تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے " اھ 
*( 📚در مختار مع رد المحتار ج 4 ص 336 : کتاب النکاح ، باب نکاح الرقیق ، دار الکتب العلمیہ بیروت )*

*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*🗓 ۱۷ مارچ ٠٢٠٢؁ء مطابق ۲۱ رجب المرجب ۱۴۴۱؁ھ بروز منگل*
*رابطہ* https://wa.me/+917666456313
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی شکیل اختر صاحب قبلہ کرناٹک*
ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب
*✅الجوابـــــ صحیح فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب وامام جامع مسجد مہاسمند(چھتیس گڑھ)*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

Friday, July 31, 2020

عیدالاضحیٰ کے مسائل اور ان کا حل

*🌹ِعیدالاضحیٰ کے مسائل اور ان کا حل🌹*


*سوال 1:*
عیدالاضحیٰ کی نماز کی کیا شرعی حیثیت ہے ؟
*جواب:*
عیدالاضحیٰ کی نماز (اسی طرح عیدالفطر کی نماز) ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اِس کی ادائیگی کیلیے وہی شرائط ہیں جو جمعہ کیلیے ہیں، البتہ جمعہ اور عید کی نماز میں تین طرح سے فرق ہے :
 1- پہلا فرق یہ ہے کہ جمعہ کیلیے خطبہ شرط ہے جبکہ عید کیلیے سنت ہے. 
2- دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز سے پہلے ہوتا ہے جبکہ عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے. 
3- تیسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کیلیے دو اذانیں اور ایک اقامت ہوتی ہے جبکہ عید کیلیے نہ اذان ہوتی ہے اور نہ ہی اقامت.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 51 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 150 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 2:* 
نمازِ عیدالاضحیٰ کی زائد تکبیرات کتنی ہوتی ہیں ؟
*جواب:*
فقہ حنفی میں نماز ِعیدالاضحیٰ کی (اسی طرح نمازِعیدالفطر کی) زائد تکبیرات کل چھ (6) ہیں، تین (3) پہلی رکعت میں اور تین (3) دوسری رکعت میں، اور یہ زائد تکبیرات کہنا واجب ہیں.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 150 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ:*
ان چھ (6) زائد تکبیرات میں رفع یدین (یعنی ہاتھوں کو  کانوں تک بلند کرنا) متعدد احادیث سے ثابت ہے.
*(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 1 صفحہ 495 دارالکتب العلمیہ بیروت، کتاب الآثار لابی یوسف جلد 1 صفحہ 59 دارالکتب العلمیہ بیروت، مصنف عبدالرزاق جلد 3 صفحہ 169 دارالکتب العلمیہ بیروت، سنن الکبری جلد 5 صفحہ 72 دارالفکر بیروت)*
*سوال 3 :*
کیا نمازِ عید مسجد میں ادا کی جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
نمازِ عید مسجد میں ادا کرنا جائز تو ہے مگر سنت نہیں بلکہ نمازِ عید کو عیدگاہ میں ادا کرنا سنت و مستحب ہے. 
*(فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 561، 576 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 4:*
کیا عید کی نماز صرف شہر میں پڑھنا درست ہے؟
*جواب:*
عید کی نماز شہر میں بھی درست ہے اور ایسے گاؤں میں بھی درست ہے جہاں کی سب سے بڑی مسجد میں اہلِ جمعہ (یعنی گاؤں کے وہ افراد جن پر جمعہ فرض ہو سکے) نہ سما سکیں اور وہ مسجد ان پر تنگ ہوجائے یہاں تک کہ انہیں نمازِجمعہ کیلیے جامع مسجد بنانی پڑے.
اور اگر گاؤں میں ایسی صورت نہ ہو تو اس گاؤں میں عید کی نماز جائز نہیں.
*(بنایہ شرح ہدایہ جلد 3 صفحہ 53 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347 رضا فاؤنڈیشن لاہور، قربانی کے احکام صفحہ 250 والضحیٰ پبلی کیشنز، فیضان فرض علوم جلد 1 صفحہ 503، 504 مکتبہ امام اہلسنت)*
*سوال 5:* 
نمازِ عید کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
سب سے پہلے یوں نیت کیجیے :
*"میں نیت کرتا ہوں.(نیت کی میں نے دو رکعت) دونوں طرح کہہ سکتے ہیں دو رکعت نماز عیدالاضحیٰ کی، ساتھ چھ زائد تکبیروں کے، واسطے اللہ پاک کے، منہ خانہ کعبہ شریف کی طرف، پیچھے اس امام کے"*
پھر کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر حسبِ معمول ناف کے نیچے ہاتھ باندھ کر ثناء پڑھیے، پھر کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ لٹکا دیجیے پھر دوسری مرتبہ ہاتھ کانوں تک اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ لٹکا دیجیے پھر تیسری مرتبہ ہاتھ کانوں تک اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لیجیے پھر امام تَعَوُّذ اور تَسْمِیَہ  آہستہ پڑھ کر الحمد شریف اور کوئی سورۃ بلند آواز میں پڑھے گا، پھر رکوع و سجود کرے گا، دوسری رکعت میں امام پہلے آہستہ بسم اللہ پڑھ کر الحمدشریف اور کوئی سورۃ بلند آواز میں پڑھے گا پھر لگاتار تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ کبر کہہ کر، ہر بار ہاتھ لٹکا دیجیے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی بار رکوع کیلیے اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائیے اور حسبِ معمول نماز مکمل کیجیے، سلام پھیرنے کے بعد امام کھڑا ہو کر دو خطبے دے گا، جن کو توجہ سے سننا واجب ہے اور ان کے دوران سلام و کلام ناجائز و ممنوع ہے.  
*نوٹ :*
چھ زائد تکبیروں میں ہر دو تکبیروں کے درمیان تین (3) بار *"سبحٰن اللہ"* کہنے کی مقدار چپ کھڑے رہنا ہے. 
*فائدہ :*
امام کیلیے مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری میں سورہ منافقون پڑھے یا پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ اور دوسری میں ھَلْ اَتٰکَ پڑھے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 61 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 781، 782 مکتبۃ المدینہ کراچی، قربانی کے احکام صفحہ 237، 238 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*سوال 6:*
نمازِ عید کا وقت کب سے لیکر کب تک ہوتا ہے ؟
*جواب:*
نمازِ عید کا وقت سورج طلوع ہونے کے 20 منٹ بعد سے لیکر ضَحْوَہءِکُبْریٰ (یعنی نِصْفُ النَّہَار شرعی جس کو عرفِ عام میں زوال کہتے ہیں) تک ہوتا ہے۔
*فائدہ :*
عیدالفطر کو دیر سے اور عیدالاضحیٰ کو جلدی پڑھنا مستحب ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 60 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 7:* 
اگر کوئی شخص امام کے نمازِ عید میں زائد تکبیرات کہنے کے بعد شامل ہوا تو زائد تکبیرات کب کہے گا ؟
*جواب:*
اس مسئلے کی چندصورتیں بنتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
1- اگر پہلی رکعت میں امام کے زائد تکبیرات کہنے کے بعد شامل ہوا تو اسی وقت تین زائد تکبیرات کہہ لے اگرچہ امام فاتحہ و سورۃ پڑھ رہا ہو.
2- اگر اس وقت شامل ہوا کہ امام رکوع میں ہے اور اس کو ظنِ غالب ہو کہ تین زائد تکبیرات کہہ کر رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے گا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے.
3- اگر امام کو رکوع میں پایا اور ظنِ غالب ہے کہ تین زائد تکبیرات کہنے سے امام رکوع سے سر اٹھا لے گا تو بغیر زائد
تکبیرات کہے رکوع میں شامل ہوجائے اور بغیر ہاتھ اٹھائے رکوع میں زائد تکبیرات کہہ لے. 
4- اگر رکوع میں زائد تکبیرات کہنے کے دوران امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو اب یہ مقتدی بھی رکوع سے سر اٹھالے کیونکہ اب اس پر باقی تکبیرات کہنا معاف ہوگئیں.
5- اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہوا تو اب زائد تکبیرات نہیں کہے گا بلکہ جب اپنی فوت شدہ رکعت مکمل کرے گا، اس وقت تین زائد تکبیرات کہے گا. 
6- اگر دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کی تین زائد تکبیرات نہ کہے گا بلکہ جب پہلی رکعت پڑھے گا اس وقت کہے گا. 
7- اگر دوسری رکعت کی تین زائد تکبیرات امام کےساتھ پالے تو ٹھیک ہے ورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کی تین زائد تکبیرات میں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 64، 65، 66 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 782 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 8:*
اگر امام زائد تکبیرات بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟
*جواب:*
اس مسئلے کی درج ذیل دو صورتیں ہیں :
1- اگر پہلی رکعت میں امام زائد تکبیرات بھول کر فاتحہ شریف پڑھنا شروع کر دے تو فاتحہ اور سورہ کے بعد تکبیرات کہہ لے یا رکوع میں کہہ لے اور دوبارہ فاتحہ و سورۃ نہ پڑھے.
2- اگر دوسری رکعت کی زائد تکبیرات بھول جائیں اور رکوع میں یاد آئیں تو واپس قیام کی طرف نہ لوٹے بلکہ رکوع میں ہی کہہ لے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 65 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 254 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 9:* 
اگر امام مکمل چھ (6) زائد تکبیرات بھول جائے یا چھ (6) میں سے کچھ بھول جائے یا بھول کر چھ (6) سے زیادہ کہہ لے یا غیرِمحل میں تکبیرات کہے تو کیا ان صورتوں میں سجدہ سھو واجب ہوگا ؟
*جواب:* 
ان تمام صورتوں میں سجدہ سھو واجب ہو جائے گا مگر جماعت کثیر ہو تو بوجہِ فتنہ سجدہ سھو نہ کرنا بہتر ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 128 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 675 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بحرالرائق جلد 2 صفحہ 170 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 10:*
اگر امام چھ (6) سے زائد تکبیرات کہے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے ؟
*جواب:*
اگر امام بھول کر چھ (6) سے زائد تکبیرات کہے تو مقتدی بھی امام کی پیروی کرے لیکن اگر امام تیرہ (13) سے بھی زائد تکبیرات کہے تو پھر تیرہ (13) سے زائد میں مقتدی امام کی پیروی نہ کرے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 63 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارِ شریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 782 مکتبۃ المدینہ کراچی)*

*سوال 11:*  
گر امام چھ (6) زائد تکبیرات میں کانوں تک ہاتھ نہ اٹھائے تو مقتدی کو کیا کرناچاہیے ؟
*جواب:*
ایسی صورت میں مقتدی امام کی پیروی نہ کرے بلکہ چھ (6) زائد تکبیرات میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 12:*
اگر کسی کی نمازِعید فوت ہو جائے تو کیا اس کی قضاء کرے گا ؟
*جواب:*
اگر کسی کی نمازِ عید فوت ہو جائے اور اس کو کسی دوسری جگہ نمازِعید مل سکتی ہو تو وہیں ادا کر لے ورنہ اس کی قضاء نہیں ہے البتہ اس کیلیے بہتر یہ ہے کہ 4 رکعت نمازِ چاشت پڑھ لے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 67 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 13:*
نمازِ عید کے بعد مصافحہ کرنا اور گلے ملنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
نمازِ عید کے بعد مصافحہ کرنا (یعنی ہاتھ ملانا) اور گلے ملنا بہتر ہے جیسا کہ عموماً مسلمانوں میں رائج ہے کیونکہ اس میں خوشی کا اظہار ہے.
*(الحدیقۃ الندیہ جلد 2 صفحہ 150، مسوّی جلد 2 صفحہ 221، فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 601 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 14:*
عید الاضحٰی کے دن کون کون سےکام کرنا مستحب ہیں ؟
*جواب:*
عید الاضحٰی کے دن درج ذیل کام کرنا مستحب ہیں :
1- حجامت بنوانا. 
2- ناخن ترشوانا.
3- غسل کرنا. 
4- مسواک کرنا. 
5- نئے یا پرانے دھلے ہوئے اچھے کپڑے پہننا.
6- خوشبو لگانا.
7- ساڑھے چار ماشے سے کم ایک نگ والی چاندی کی ایک ایسی انگوٹھی پہننا جو زنانہ طرز پر نہ بنائی گئی ہو.
8- نمازِفجر محلے کی مسجد میں پڑھنا. 
9- نمازِعید سے پہلے کچھ نہ کھانا. 
10- عیدگاہ میں نمازِعید ادا کرنا. 
11- عیدگاہ جلدی جانا.
12- عیدگاہ پیدل جانا (واپسی سواری پر آنے میں حرج نہیں).
14- عیدگاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا. 
15- خوشی ظاہر کرنا. 
16- آپس میں مبارک باددینا.
17- کثرت سےصَدَقَہ دینا.
18- راستے میں بلند آواز سے تکبیرِ تشریق کہنا.
19- عیدگاہ کی طرف وقار و اطمینان اور نگاہوں کو نیچی رکھ کر جانا. 
20- عید کے بعد ہاتھ ملانا اور گلے ملنا. 
*(ملخصاً نماز کے احکام صفحہ 444، 445، 446 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 15:*
اگر کسی عذر کے سبب 10 ذی الحجہ کو عید کی نماز نہ ہوسکی تو کیا دوسرے روز (یعنی 11 ذی الحجہ کو) یا تیسرے روز (یعنی 12 ذی الحجہ کو) پڑھ سکتے ہیں ؟ 
*جواب:*
اگر کسی عذر کے سبب 10 ذی الحجہ (یعنی عید کے پہلے دن) کو عید کی نماز نہ ہوسکی مثلاً سخت بارش ہوئی تو دوسرے روز عید الاضحٰی کی نماز ادا کی جائے گی اور اگر دوسرے روز بھی کسی عذر کے سبب عید کی نماز نہ ہوسکی تو تیسرے روز ادا کی جائے گی اور دوسرے یا تیسرے دن نمازِ عید کا وہی وقت ہوگا جو پہلے دن تھا.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 67 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 16:*
کیا ایک عید گاہ میں دو مرتبہ عید کی نماز ادا کی جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! ایک عیدگاہ میں دو مرتبہ عید کی نماز ادا کی جا سکتی ہے جبکہ دو اماموں نے پڑھائی ہو اور دونوں کو نمازِ عید قائم کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہو. 
*(فتاویٰ رضویہ جلد صفحہ 576 رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 250 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 17:*
کیا نمازِ عید ادا کرنے کے بعد خطبہ سننے سے پہلے گھر جانا جائز ہے ؟
*جواب:*
نماز عید کے بعد خطبہ سننا واجب ہے، لہذا نمازِ عید کے بعد خطبہ سنے بغیر گھر نہیں جا سکتے، جو خطبہ سنے بغیر گھر چلے جائیں گے، وہ خطبہ نہ سننے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے.
*(فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 249 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 18:*
عید کی نماز کے بعد والی دعا کب مانگنی چاہیے (خطبے سے پہلے یا خطبہ کے بعد) ؟ 
*جواب:*
عید کی نماز کے بعد دعا مانگنا مستحب و مستحسن اور مسنون ہے، چاہے خطبے سے پہلے مانگیں یا خطبے کے بعد مانگیں دونوں صورتوں میں جائز ہے لیکن خطبے کے بعد دعا مانگنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اگر خطبے سے پہلے دعا مانگی جائے تو کئی لوگ خطبہ سنے بغیر، دعا ہوتے ہی چلے جائیں گے.
اور اگر خطبہ اور نماز دونوں کے بعد مانگیں تو زیادہ مناسب ہے کیونکہ دعا خطبہ کے بعد مسنون ہے یا نماز عید کے فوراً بعد مسنون ہے، اس کی تصریح نہیں ہے تو دونوں کے بعد دعا مانگنے سے یقینی طور پر سنت ادا ہوجائے گی اور مکرر (یعنی ڈبل) کا ثواب بھی مل جائے گا۔
*(فتاوی مصطفویہ صفحہ 173 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 19:*
عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں نوافل پڑھنا کیسا ہے؟
*جواب:* 
عید کی نماز سے پہلے نوافل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، عیدگاہ میں پڑھے جائیں یا گھر میں، اُس پر عید کی نماز واجب ہو یا نہ ہو، یہاں تک کہ اگر عورت چاشت کی نماز گھر میں پڑھنا چاہے تو نمازِ عید ہو جانے کے بعد پڑھے اور نمازِ عید کے بعد عیدگاہ میں نوافل پڑھنا مکروہ ہے، گھر میں پڑھ سکتے ہیں بلکہ عید کی نماز کے بعد گھر میں چار رکعتیں پڑھنا مستحب ہیں یہ احکام خواص کے لیے ہیں، جبکہ عوام الناس کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ نوافل پڑھیں اگرچہ نماز عید سے پہلے، اگرچہ عید گاہ میں، تو انہیں منع نہ کیا جائے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 57، 58، 59، 60 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارِشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 20:*
نمازِ عید کی دوسری رکعت میں رکوع میں جانے کے لیے اللہ اکبر کہنا سنت ہے یا واجب ؟
*جواب:*
نماز عید کی دوسری رکعت میں رکوع میں جانے کے لیے لفظِ *"اللہ اکبر"* کہنا واجب ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 71 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 181 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*

*سوال 21:*
کیا عورتوں پر عید کی نماز واجب ہے ؟
*جواب:*
عورتوں پر عید کی نماز واجب نہیں ہے.
*(فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 424 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 22:*
کیا کوئی عورت، دیگر عورتوں کو عید الاضحٰی کی نماز پڑھا سکتی ہے ؟ 
*جواب:*
عورت دیگر عورتوں کو عید الاضحٰی کی نماز نہیں پڑھا سکتی کیونکہ عورت کی جماعت مکروہِ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے.
*(ماخوذ از فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 426 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 23:*
کیا عورتیں علیحدہ علیحدہ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کر سکتیں ہیں ؟ 
*جواب:*
عورتیں علیحدہ علیحدہ بھی عیدالاضحیٰ کی نماز ادا نہیں کر سکتیں، اگر علیحدہ علیحدہ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کریں گی تو گناہگار ہوں گی کیونکہ عیدالاضحیٰ کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے. 
*(فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 426 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 24:*
کیا عورتیں عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے جا سکتیں ہیں ؟ 
*جواب:*
عورتیں عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے نہیں جاسکتیں کیونکہ وہاں پر مردوں کے ساتھ ان کا اختلاط (ملاپ) ہوگا جو کہ جائز نہیں ہے۔
*(فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 426 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 25:*
کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ جس میں عورتوں کے لئے مسجد یا عید گاہ میں عید کی نماز ادا کرنا جائز ہو؟ 
*جواب :*
جی ہاں! اگر عورتیں عید کی نماز ادا کرنے کے لئے درج ذیل شرائط کا لحاظ کرکے جائیں تو پھر ان کے لئے مسجد یا عیدگاہ میں ےف
جانا جائز ہوگا :
1- عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا اِخْتِلاَط (ملاپ) نہ ہو. 
2- عورتوں کیلیے عید کی نماز کے لیے علیحدہ باپردہ جگہ موجود ہو. 
3- عورتوں کی جگہ پر غیر مردوں کا گزر نہ ہو.
4- عورتیں باپردہ ہو کر جائیں.
5- شادی شدہ عورتیں اپنے شوہر سے اجازت لیکر جائیں. 
6- کنواریں عورتیں اپنے والدین سے اجازت لیکر جائیں. 
7-عورتیں غیر مردوں پر اپنی زیب و زینت ظاہر نہ کریں. 
8- عورتوں پر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور نہ عورتوں کی وجہ سے کسی اور پر فتنے کا اندیشہ ہو. 
9- ایسی خوشبو لگا کر نہ جائیں جو غیر مردوں تک پہنچے.
*ٹوٹ :* 
چونکہ ان شرائط کا لحاظ رکھنا بہت مشکل ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ عورتیں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے نہ جائیں.
*سوال 26:*
کیا مریض اور مسافر پر عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے ؟ 
*جواب:*
مریض اور مسافر پر عیدالاضحیٰ کی نماز واجب نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 159، 165 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
*سوال 27:*
بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا کیسا ہے ؟ 
*جواب:*
بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا گمراہی اور بدعت ہے. 
*(الجوھرۃ النیرۃ صفحہ 119 باب المدینہ کراچی، بہارِشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 779 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 28:*
کیا گرمی کی وجہ سے عیدالاضحیٰ کے خطبے کے دوران دستی پنکھے کا استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ 
*جواب:*
گرمی کی وجہ سے عیدالاضحیٰ کے خطبے کے دوران دستی پنکھے کا استعمال کرنا منع ہے.
*(ماخوذ از فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 417 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 29:*
عیدالاضحیٰ کا خطبہ عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان مثلاً اردو وغیرہ میں پڑھنا کیسا ہے ؟ 
*جواب:*
عیدالاضحیٰ کا خطبہ عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان مثلاً اردو وغیرہ میں پڑھنا سنتِ متوارثہ کے خلاف، مکروہ اور بدعتِ سیئہ ہے.
*(ماخوذ از فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 410 شبیر برادرز لاہور، تحقیق الخطبہ صفحہ 9 کتب خانہ اعزازیہ دیوبند، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد اول و دوم صفحہ 294، 312 وغیرہ)*
*سوال 30:*
کیا عیدالاضحیٰ کی نماز لاؤڈ اسپیکر پر پڑھانا جائز ہے ؟  
*جواب:*
جی ہاں! عیدالاضحیٰ کی نماز لاؤڈ اسپیکر پر پڑھانا بلاکراہت جائز ہے کیونکہ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت ہوتی ہے.
*(فتاوی نوریہ جلد 1 صفحہ 369 دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپور ضلع اوکاڑہ، دارالافتاء اہلسنت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
31/07/2020
03068209672

🔘المشتھر۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

Wednesday, July 29, 2020

اگر بیوی شوہر کےحقوق ادانہ کرےتو کیانان ونفقہ روکا جائےگا؟

*💎اگر بیوی شوہر کےحقوق ادانہ کرےتو کیانان ونفقہ روکا جائےگا؟💎*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 اگر بیوی شوہر کے حقوق ادا نہ کرے تو کیااسکانان ونفقہ روکا جاسکتاہے؟
سائل ۔۔۔۔۔ عبداللہ ، ممبئی؛
ا________(🍅)__________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
اگر حقوق ادا نہ کرنے سے مراد یہ ہےکہ شوہر کو جماع کرنے نہیں دیتی مگر رہتی ہے شوہر کے گھر میں ہی ، اور شوہر اگر چاہے تو جبرا جماع کرسکتاہے تو ایسی صورت میں بلاشبہ عورت نان ونفقہ کی مستحق ہوگی ، شوہر کیلئے جائز نہیں کہ ایسی صورت حال میں عورت کا نفقہ روکے
*(🖋️علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” لہا النفقۃ لو مرضت۔۔۔ وفی منزلہا بقیت ولنفسہا مامنعت۔۔۔ ، لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزہ حتی تعود ۔۔۔ قید بالخروج لانہا لو مامنعتہ من الوطئ لم تکن ناشزة “*
*{📘الدرالمختار ص٢٥٨ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(🖍️علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” قیدہ فی السراج بمنزل الزوج وبقدرتہ علی وطیہا کرھا “*
*{📗ردالمحتار ج٣ ص٥٧٦ ، ٥٧٧ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(✏️سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں)*
*” عورت اگر مکان شوہر میں نہ رہے نفقہ نہ پائےگی ، اوراگر یہاں رہے اور جماع پر راضی نہ ہو مگر شوہر چاہے توجماع کرسکے پھراگرچہ نہ کرے نفقہ پائےگی ۔۔۔۔ عورت اس کےیہاں رہناچاہے اور یہ اس سے زبردستی جماع پرقادر ہوگا تو نفقہ آئےگا “*
*{📗فتاوی رضویہ ج١٣ ص٤٧٩ ، رضا فاؤنڈیشن}*
*واللہ اعلم بالصواب؛*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ24/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
813