مسلک اعلحضرت سلامت رہے اک پہچان دین نبی کیلۓ مسلک اعلحضرت پہ قاٸم رہو زندگی دی گٸ ہےاسی کیلۓ
Saturday, November 28, 2020
غیر مسلم سے قرض لیا اور وہ مرگیا وارثین بھی نہیں ہے تو کیاحکم ہے؟💚*
Thursday, November 26, 2020
دنیا میں کتنی دفعہ سورج کا ٹھہرنا یالوٹناہوا
Wednesday, November 25, 2020
نماز میں امام اور مقتدی دونوں آمین کہے گا یا نہیں؟
_ایک آیت پڑھنـے کـے بعد دوســری آیتـــوں کــی طــــرف منتقــــل ہوگیـا تـو کیـا حکــم ہـــــے ؟_
Friday, November 20, 2020
مسجد کے امام صاحب سے پوچھے بغیر کسی اور نے نماز جنازہ پڑھا دی تو کیا حکم ہے؟
جان بوجھ کر دیوبندیہ کا نکاح سنی لڑکے سے پڑھوانے اور پڑھانے والے پر شرعی حکم کیا ہے؟
Wednesday, November 18, 2020
مہر کی مقدار کم سے کم کتنی ہے؟
Monday, November 16, 2020
دو خطبوں کے درمیان دعا ہاتھ اٹھا کر مانگنی چاہئے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ دو خطبوں کے درمیان دعا ہاتھ اٹھا کر مانگنی چاہئے یا بغیر ہاتھ اٹھائے؟سائل:(اسامہ محبوب عطاری،باب المدینہ کراچی)
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
خطیب دونوں خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر زبانی دعا کرسکتا ہے،لیکن مناسب یہ ہے کہ ہاتھ اٹھائے بغیر دعا کرے تاکہ خطیب کو دیکھ کر مقتدی بھی ہاتھ اٹھا کر زبانی دعا کرنا نہ شروع ہوجائیں کیونکہ قولِ اَرجح کے مطابق دورانِ خطبہ مقتدیوں کو زبان سے دعا کرنے سے احتراز کرنا چاہئے۔ البتہ خطیب کے علاوہ حاضرین ہاتھ اٹھاکر دل میں دعا مانگیں تواس میں فِی نَفْسِہٖ توحرج نہیں لیکن وہی خدشہ کہ عوام ہاتھ اٹھاکر دعا مانگتے دیکھیں گے تو زبانی دعا میں مشغول ہوجائیں گے اس لئے سامعین کو بھی دل ہی میں بغیر ہاتھ اٹھائے دعا کرلینی چاہئے۔
لیکن یاد رہے کہ اگر سننے والوں میں سے کوئی دونوں خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر زبان سے بھی دعا کرتا ہے تو اس سے اُلجھنا،اسے روکنا،منع کرنا بھی رَوا نہیں کہ ایک صحیح اور معتمد قول پر اس کی بھی اجازت ہے، یہی وجہ ہے کہ خود امامِ اہلِ سنّت علیہ الرَّحمہ نے اپنے ایک فتوی میں ارشاد فرمایا ہے کہ (میں نے) ہمیشہ سامعین کو بَیْنَ الْخُطْبَتَیْن دعا کرتے دیکھا اور کبھی منع و انکار نہیں کرتا۔ مزید تفصیل کے لئے فتاویٰ رضویہ میں اس مسئلہ کی تحقیق میں عمدہ تنقیحات پر مشتمل فتاویٰ موجود ہیں ان کا مطالعہ کیا جائے۔
حوالہ۔ماہنامہ فیضان مدینہ۔ ذوالحجة الحرام 1439 ھجری