Wednesday, July 29, 2020

کیاقربانی کا گوشت کافر حربی کو دینے سے گنہگار ہوگا؟💚

*💚کیاقربانی کا گوشت کافر حربی کو دینے سے گنہگار ہوگا؟💚*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

قربانی کے  گوشت دوست احباب کو دینامستحب ہے 
تو کافر حربی کو دینا منع ہے؛
منع سے مراد ناجائز ہے یا مستحب کے درجے میں ہے؛ 
خاص بات اگر کسی نے دے دیاتو کیاگنہگار ہوگا؛
 گنہگار ہوگایانہیں اس پر حوالہ جات مطلوب ہے
(تیمورلنگ)
ا________(💚)__________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*

*منع  یہاں پر عدم جواز کے معنی میں ہی ہے*


سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ ارشاد فرماتےہیں

*” یہاں کے کافروں کو گوشت دینا جائز نہیں وہ خاص مسلمانوں کا حق ہے “*

{فتاوی رضویہ ج٢٠ ص٤٥٧ ، رضافاؤنڈیشن}

*اور وہ جو فتاوی رضویہ شریف میں ہے کہ*

*” مستحب یہ ہےکہ اگر اسکے تین حصے کرلے ایک حصہ اپنےلئے ایک عزیزوں خویشوں کیلئے ایک تصدق کیلئے ، یہاں کے کفار کو دینا ان تینوں مدوں سے خارج ہے ، لہذا انہیں دینا خلاف مستحب ہے اوراپنے مسلمان بھائی کو چھوڑ کر دینا حماقت ہے “*
*{📙ایضا ج٢٠ ص٤٥٦}*

*اس سے مراد یہ ہےکہ تقسیم گوشت کیلئے تین حصے متعین ہیں چوتھا حصہ عام ازیں کہ وہ کافرکیلئے ہو یا کسی اورکیلئے ، خلاف مستحب ہے ، یعنی باعتبار قسمت خلاف مستحب ہے نہ کہ دینےکے اعتبارسے*

خلاصہ یہ کہ حربی کفار کےساتھ کسی بھی قسم کا احسان روا نہیں کہ نص قرآنی میں منع وارد ہے ، قربانی کا گوشت دینا بھی ایک قسم کا احسان ہی ہے فلہذا یہ بھی ناجائز اوردینے والا گنہگار

سرکاراعلیحضرت فرماتےہیں

*” یہاں اگر مسلمان مسکین نہ ملے توکافر کواصلا نہ دے کہ یہ کفار ذمی نہیں توان کودینا خواہ قربانی ہو یاصدقہ اصلاکچھ ثواب نہیں رکھتا “*

{ایضا ص٢٥٥}

اس پر ”معراج الدرایۃ“ کےحوالے سےاستدلال فرماتےہیں

*” صلتہ لایکون برا شرعا ولذا لم یجز التطوع الیہ “*

{ایضا سوفٹوئر ج ١٤ ص٤٦١}

کہ حربی سے نیک سلوک شرعا کوئی نیکی نہیں اسلئے اسے نفل خیرات دینابھی حرام ہے

علامہ شرنبلالی علیہ الرحمہ کےحوالےسے فرماتےہیں

*” لایجوز للمسلم الصحیح برالحربی “*

{ایضا ، و غنیۃ ذوی الاحکام علی ھامش الدرر والغرر ج٢ ص٤٢٩، میرمحمدکتبخانہ کراچی ،}

کہ صحیح یہ ہےکہ مسلمان کیلئے حربی کیساتھ نیک سلوک حرام ہے“

ومرتکب الحرام آثم کماھوالظاھر

*واللہ اعلم بالصواب* ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ10/6/2020)*
ا_________(💚)__________
*الجواب صحیح*
*عطامحمد مشاہدی*
*خادم التدریس والافتاء دارالعلوم حشمت الرضا پیلی بھیت شریف یوپی انڈیا*

*الجواب صحیح*
*محمد ھاشم رضامصباحی*
*خادم التدریس والافتاء جامعہ رضویہ علیم دیوان شیموگہ کرناٹک*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
801

ایک مسجد میں متعدد بار جمعہ قائم کرناکیسا؟ ؛

*🎶ایک مسجد میں متعدد بار جمعہ قائم کرناکیسا؟ ؛🎶*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmi

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام جمعہ کی نماز ایک مسجد میں کتنی بار ہو سکتی ہے اگر الگ الگ امام پڑھانا چاہیے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہوگا
المستفتی مشتاق احمد مراد آباد؛
ا________(💚)__________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب* ایک مسجدمیں متعددبارجمعہ جاٸزنہیں ہاں اس وقت جاٸزہےجبکہ جگہ وغیرہ کی تنگی ہواورہردوامام ماذون ومقررہوں ورنہ اگرغیرماذون امام نےجگہ کی تنگی کی بنیادپربھی امامت کی توبھی نمازنہ ہوگی ،
*(📕ایساہی فتاوی رضویہ ج٨ص٣٢٢مترجم میں ہے)*
*واللہ تعالی اعلم*
١٨شوال المکرم ١٤٤١ھ
ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛21/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
800

قبرستان میں جگہ کی قلت ہونے پر پرانی قبر کھود کر مردے کو دفن کرناکیسا؟

*❣️قبرستان میں جگہ کی قلت ہونے پر پرانی قبر کھود کر مردے کو دفن کرناکیسا؟❣️*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 
قبرستان میں جگہ کی قلت کی وجہ سے پرانی قبرکو واپس کھود کر میت کو دفن کیا جاتا ہے - تو ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ 
سائل : ڈاکٹر ساحل ملک اشرفی گجرات ؛ا________(❣️)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛* واقعی میں اگر پورا قبرستان بھرگیا ہے تو پرانی قبر کھود کر میت دفن کرنا جائز ہے -  
فتاویٰ رضویہ میں ہے پرانا مقبرہ بالکل بھر گیا اور اس میں کہیں قبر کی جگہ نہ رہی تو کہنہ قبور میں دوسرے میت کو دفن کرنا درست ہے - اور قبر جدید کو کھود کر اس میں دوسری میت کو دفن کرنا درست نہیں ہے  شامی میں ہے وقال الزیلعی ولو بلی المیت وصار ترابا جاز دفن غیرہ فی قبرہ وزرعہ والبناء علیہ الخ  اس کے بعد تاتار خانیہ سے یہ نقل کیا ہے کہ باوجود دوسری جگہ خالی ملنے کے ایسا کرنا بلاضرورت ایسا کرنا اچھا نہیں ہے - پس مدار ضرورت وعدم ضرورت پر ہے - اگر ضرورت ہو پرانی قبر میں میت کو دفن کرنا بلا کراہت درست ہے اور اگر ضرورۃ کچھ نہ ہو بلکہ دوسری جگہ صاف وخالی ہو تو اگرچہ پھر بھی درست ہے مگر غیر  اولٰی مکروہ تنزیہی 
*(📗ج: 4 ، ص : 104/103) قدیم)* 
*واللہ تعالیٰ اعلم*
 ا_________(🖊)__________
*کتبہ؛*
*عبدالستاررضوی فیضی ارشدی  خادم التدریس  والافتاء دارالعلوم ارشدالعلوم عالم بازار کلکتہ بنگال؛*
*مورخہ؛1م10/6/2020)*
*رابطہ📞9007644990)*
ا_________(📍)__________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
799

تعمیر مسجد میں بچے ہوئے سامان کو مسجد کے کالونی میں لگاناکیسا؟

*💚تعمیر مسجد میں بچے ہوئے سامان کو مسجد کے کالونی میں لگاناکیسا؟💚*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام
تعمیر مسجد کے لئے فنڈ اکٹھا کیا گیا مسجد کی تعمیر بھی ہوئی کچھ سامان بچاہوا ہے 
اب کمیٹی بقیہ سامان مثلا چھڑ بالو وغیرہ مسجد کالونی( جس میں کرایا دار رہتے ہیں) میں لگانا چاہتی ہے از روئے شرع اس سامان کو لگانے کا کیا حکم ہے
ساٸل  
قمر حسین ؛
ا_______(💚)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛* 
تعمیری سامان یا اسکے لٸے روپے کسی نے صرف تعمیر مسجد کیلٸے دیا ہے تو وہ سامان کسی بھی طرح تعمیر مسجد ہی میں صرف کیا جاٸے مسجد کے مصالح میں اسے صرف نہیں کرسکتے اور اگر مسجد کے عام مصالح کیلٸے دیا ہے تو اس سے مکان دکان وضو خانہ وغیرہ جو چاہیں تعمیر کرسکتے ہیں 
*(📕جیساکہ فتاوی قاضی خاں میں ہے)*
 *قوم بنوا مسجدا وفضل من خشبھم شٸ قالوا یصرف* *الفاضل الی بناٸہ ولا یصرف الی الدھن والحصیر وھذا اذا سلم اصحاب الخشب الخشب الی المتولی لیبنی بہ المسجد اھ* 
(📕حوالہ)
*(📗فتاوی قاضی خاں مع ھندیہ)* 
جلد سوم 
صفحہ  ٣٣٠
*واللہ تعالی اعلم علمہ اتم واحکم*
 ا________(🖊)_________
*کتبـــہ؛*
*مفتی محمد شہباز اشرف نعیمی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛ بائسی پورنیہ بہار انڈیا*
*مورخہ؛10/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9304119860)*
ا_______(❤)_________
*🖊المشتــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
798

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتنی بیبیاں تھیں؟

*❣️حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتنی بیبیاں تھیں؟❣️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 علمائے کرام سے میرا سوال ہے کہ حضرت علی کی زوجہ کتنی تھی
 اور اولاد کتنے تھے ؟
 با حوالہ جواب عنایت فرمائے
ا________(🍅)___________
*وعلیکم السلام و رحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب اللہم ہدایۃ الحق والصواب*
حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہ نے مختلف وقتوں میں آٹھ عورتوں سے نکاح کیا اس طرح آپ کی کل نو بیویاں ہوئیں جن سے پندرہ صاحبزادگان اور سترہ صاحبزادیاں پیدا ہوئیں ان سب کے اسمائے مبارکہ یہ ہیں
بیویاں
سیدہ فاطمہ
خولہ
لیلہ
ام البنین
ام ولد
اسماء
ام حبیب
امامہ
ام سعد
صاحبزادگان
حسن
حسین
محسن
محمد اکبر ( المعروف محمد بن حنفیہ
عبداللہ اکبر
ابوبکر
عباس اکبر
عثمان
جعفر
عبداللہ اصغر
محمد اوسط
یحییٰ
عون
عمر اکبر
محمد اصغر
صاحبزادیاں
ام کلثوم
زینب الکبری
رقیہ
ام الحسن
رملۃ الکبری
ام ہانی
میمونہ
رملۃ الصغری
ام کلثوم صغری
فاطمہ
امامہ
خدیجہ
ام الخیر
ام سلمہ
ام جعفر
جمانہ
تقیہ
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین
*(📘خطبات محرم صفحہ 218)*
*و اللہ تعالیٰ ورسولہ اعلم*
ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*ابوالاحسان قادری رضوی ؛*
*مورخہ8/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎9838501782)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
*الجواب صحیح والمجیب نجیح؛ محمد شہباز اشرف نعیمی خادم التدریس والافتاء چھپرہ بہار انڈیا؛*
ا________(💚)____________
797

وہ کون سے صحابی ہیں جنکی نعش مبارک کی حفاظت اللہ تعالی نے شہد کی مکھیوں سے کرائ

*💚وہ کون سے صحابی ہیں جنکی نعش مبارک کی حفاظت اللہ تعالی نے شہد کی مکھیوں سے کرائ💚*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 *ایک سوال ابھی آیاہے* 
اگر کسی صاحب کےعلم مین ہوتو بتائیں 
وہ کو ن سےصحابی تھے جن کی نعش کی حفاظت  اللہ نےشہدکی مکھیوں سے کرائی؟ ؟
منتظر#
ا_________(💚)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
وہ حضرت سیدنا عاصم بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ ہیں
*(🖋️امام عزالدین ابن الاثیر جزری علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” وکان قتل عقبۃ بن ابی معیط الاموی یوم بدر وقتل مسافع بن طلحۃ واخاہ کلاب کلاھما اشعرہ سہما فیاتی امہ سلافۃ ویقول : سمعت رجلا حین رمانی یقول : خذ ھا وانا ابن الافلح ، فنذرت ان امکنہا اللہ تعالی من راس عاصم لتشربن فیہ الخمر ، فلما اصیب عاصم یوم الرجیع ارادوا ان یاخذوا راسہ لیبیعوہ من سلافۃ فبعث اللہ سبحانہ علیہ مثل الظلۃ من الدبر فحمتہ من رسلہم فلم یقدروا علی شئی منہ فلما اعجزھم قالوا : ان الدبر سیذھب اذا جآءاللیل فبعث اللہ مطرا فجآء سیل فحملہ فلم یوجد ، وکان قد عاھداللہ تعالی ان لا یمس مشرکا ولا یمسہ مشرک فحماہ اللہ تعالی بالدبر بعد وفاتہ فسمی حمی الدبر “*
*{📗اسدالغابۃ ج٣ ص١٠٨ ، دارالکتب العلمیۃ}*
یعنی حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے بدر کےدن عقبہ ابن ابی معیط کو قتل کیاتھا اور مسافع بن طلحہ اور اس کےبھائی کوبھی قتل کیاتھا ، اس کی ماں سلافہ نے نذر مان لی کہ اگر مجھے عاصم کا سر ملا تو میں اس میں شراب پیونگی ، جب حضرت عاصم شہید ہوئے تو کچھ لوگ ان کا سر لینے کاارادہ کیا تاکہ سلافہ کےہاتھ بیچ دیں ، تواللہ تعالی نے شہد کی مکھیوں کو بادل کی طرح بھیج دیا جو ان پر چھاگئیں اور یہ لوگ کامیاب نہ ہوسکے ، کہنےلگے رات جب آئےگی تو مکھیاں چلی جائینگی اس وقت ہم ان کا سر لے لیں گے ، تو رات میں اللہ سبحانہ وتعالی نے بارش بھیج دی اور سیلاب حضرت عاصم کی نعش مبارک کو بہا لےگیا اور مشرکین کو نہ ملے ، حضرت عاصم نے اللہ تعالی سے عہدکیاتھاکہ وہ کسی مشرک کو نہیں چھوئیں گے اور نہ کوئی مشرک انہیں چھو سکےگا ، تواللہ تعالی نے ان کی شہادت کےبعد شہد کی مکھیوں کے ذریعہ ان کی حفاظت فرمائی اور ” حمی الدبر “ ان کا نام پڑگیا “
*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ7/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
*الجواب صحیح والمجیب نجیح؛محمد شرف الدین رضوی ہوڑہ کلکتہ بنگال؛*
ا________(💚)___________
796

دیہات میں جمعہ کے بعد وہی امام ظہر کی امامت کرسکتاہے؟💚*

*💚دیہات میں جمعہ کے بعد وہی امام ظہر کی امامت کرسکتاہے؟💚*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین مسئلہ ذیل کے بارےمیں  گاؤں کی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد چاررکعت ظہر کی نماز جماعت سےادا کی جاتی ہے  دواقامت کےساتھ جوامام جمعہ کی نمازپڑہاتےہیں وہی امام چاررکعت ظہر کی جماعت پڑھاتے ہیں کیا یے دروست ہے مسئلہ حنفی میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں
ا________(💚)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب*
فتاوی رضویہ میں ھے گاؤں میں جمعہ کی نماز درست نہیں ھے  لیکن عوام اگر پڑھتے ہوں تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ و رسول کا نام لیں غنیمت ھے

*(📙جلد3صفح714)*
گاؤں میں جمعہ کے نام پر پڑھی گئی تو اس سے ظہر کی نماز ساقط نہ ہوگی لہذا گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز پڑھنا فرض  ھے اور جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ھے اس کیلئے بھی تکبیر کہی جائے گی  
*(📕بہار شریعت  میں ھے)* گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت پڑھیں ۔
*(📕جلد 1حصہ 4صفحہ774)*
*(📗فتاوی فقیہ ملت میں ھے)*
 گاؤں میں بنام جمعہ دو رکعت پڑھنے  کیلئے چاہے فرض کی نیت کریں یا نفل کی بہر حال وہ نماز نفل ہی ہوگی چار رکعت سنت ظہر اور فرض نماز ظہر باجماعت کے درمیان دو رکعت بنام جمعہ  کے سبب وقفہ سے شرعا کوئی خرابی نہیں  گاؤں میں اگر چہ جمعہ نہیں صرف ظہر فرض ھے 
لہذا اس گاؤں میں بنام جمعہ جو اذان ہوتی ھے اسی اذان سے ظہر کی نماز پڑھی جائے گی اس کیلئے الگ سے اذان کی ضرورت نہیں 
*(📘جلد 1 صفحہ242)*
 اور اسی کتاب کے 
*(📙صفحہ248 پر ھے))*
 دیہات جو دو رکعت بنام جمعہ پڑھی جاتی ھے  وہ نفل ھے لہذا جمعہ اور ظہر  اگر ایک ہی امام پڑھائے تو وہ جمع بین الصلاتین نہیں ھے 
 صورت مسئولہ میں  دو اقامت کے ساتھ اور وہی امام دونوں نماز  پڑھائے یہ درست ھے
*واللہ تعالی اعلم ورسولہ* ا________(📢)___________
*کتبہ؛*
*محمد ساجد رضا برکاتی مدھوبنی بہار انڈیا؛*
*🖌️الحلقةالعلمیہ گروپ🖌️*
*رابطہ؛☎️9973983650)*
*مورخہ؛6/5/2020)*
ا_________(📢)_________
*🖋️المشتہر فضل کبیر🖋️*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا__________(🖋️)__________
795

کسی سے قربانی کا مکمل رقم لینا اور اس میں سے کچھ رقم بچالیناکیسا؟

*💚کسی سے قربانی کا مکمل رقم لینا اور اس میں سے کچھ رقم بچالیناکیسا؟💚*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

سوال 
کیافرماتے علمإ کرام و مفتیان عظام مسٸلہ ذیل میں 
کچھ لوگ دوسروں کی طرف سے قربانی اس طور پرکرتے ہیں کہ اپنے شہر کے حساب سے جانور کا دام مثلا ٣٠٠٠  روپے وصول کرتے ہیں پھر کسی ایسے علاقے میں چلے جاتے ہیں جہاں جانور سستے مثلا ٢٠٠٠ ہزار کے ہوتے ہیں وہ وہیں پر قربانی کے لاٸق جانور خرید کر ان تمام لوگوں کی طرف سے قربانی کردیتے ہیں اور فی قربانی ایک ایک ہزار روپے مثلا اپنے لٸے بچا لیتے ہیں سوال یہ ہیکہ یہ قربانیاں صحیح ہوٸیں  یا نہیں
اور ایسا کرنے کا کیا حکم ہے ؟
وہ کماٸی ان کے لٸے حلال ہے یا نہیں ؟
ساٸل 
محمد غفران رضا چھپرہ ؛
ا_________(💚)__________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
جو لوگ مسلمانوں سے قربانی کا روپے جمع کرکے قربانیاں کرتے ہیں اور اپنی مزدوری کے طور پر کچھ بچالیتے ہیں انکو چاہٸیے کہ اپنا طریق کار لوگوں کو بتادیں پھر وہ اس پر راضی ہوکر انہیں قربانی کیلٸے روپے دیں تو یہ طریقہ جاٸز ہوگا 
حوالہ  
*(📘فتاوی ھندیہ)*
جلد تین 
صفحہ  ٤٥٠
کتاب الاجارہ 
الباب السادس عشر فی مساٸل الشیوع فی الاجارہ والاستٸجار علی الطاعات والمعاصی والافعال المباحة 
ایضا 
جلد تین 
صفحہ   ٤٥٣
کتاب الاجارہ فصل فی المتفرقات 
مطبوعہ دار احیا ٕ التراث العربی بیروت لبنان 
*واللہ تعالی اعلم علمہ اتم واحکم*
 ا________(🖊)_________
*کتبـــہ؛*
*مفتی محمد شہباز اشرف نعیمی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛ بائسی پورنیہ بہار انڈیا*
*مورخہ؛7/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9304119860)*
ا_______(❤)_________
*🖊المشتــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
794

حالت حیض میں طواف و سعی کا کیاحکم یے؟

*❣️حالت حیض میں طواف و سعی کا کیاحکم یے؟❣️*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

حالت حیض میں طواف اور سعی کرنے کا کیا حکم ہے 
کیا فرماتے علما ٕ کرام و مفتیان عظام مساٸل ذیل میں
١  ایک عورت نے اعتکاف کی نیت کی اور اعتکاف میں نہیں بیٹھ سکی تو اب کیا کرے ؟
٢  حالت حیض میں طواف اور سعی کرنے کا کیا حکم ہے ؟
٣  نفاس ہر روز رات ہی میں آتاہے ایک قطرہ یا دوقطرہ آتاہے تو کیا دن میں غسل کرکے نماز وغیرہ پڑھ سکتی ہے  ؟
ساٸل 
محمد رضوان عالم دیوریا؛
ا________(🍅)_________
*الجواب بعون الملک الوھاب* 
سوال نمبر ایک کا جواب 
یہ عورت اعتکاف کی قضا کرے اگر اعتکاف رمضان المبارک کے عشرہ اخیرہ کا تھا تو روزے رکھے اور دس دن اور رات اپنے گھر میں ہی کوٸی کمرہ عبادت کیلٸے خاص کرکے اس میں بیٹھے اور بلا ضرورت اس کمرے سے باہر نہ نکلے 
حوالہ 
*(📙فتاوی عالمگیری)* 
جلد اول 
صفحہ  ٢١١
کتاب الصوم 
الباب السامع فی الاعتکاف 
واللہ تعالی اعلم 
سوال نمبر دو کا جواب 
حالت حیض میں طواف بیت اللہ حرام ہے اور گناہ ہے اس لٸے اس سے بچے 
ہاں اگر پاکی کی حالت میں طواف کرچکی ہو اور صفا کے پاس سعی کیلٸے پہونچی تھی کہ حیض آگیا تو وہ چاہے تو سعی کرسکتی ہے اور بہتر ہیکہ پاک ہونے تک انتظار کرے جب پاک ہوجاٸے تب سعی کرے لیکن اگر اسے اندیشہ ہوکہ احرام کی پابندیاں وہ لمبے عرصے تک نہ نبھا سکے گی تو سعی کرکے احرام سے باہر ہوسکتی ہے 
حوالہ 
*(📗فتاوی عالمگیری)* 
جلد اول 
صفحہ  ٣٨
کتاب الطھارت 
الباب السادس فی الدما ٕ المختصة بالنسا ٕ 
جلد اول صفحہ  ٢٣٧ کتاب المناسک الباب الثامن الجنایات 
واللہ تعالی اعلم 
سوال نمبر تین کا جواب 
لا جب تک مکمل طور پر نفاس کا خون آنا بند نہ ہوجاٸے وہ نماز سے رکی رہے مگر یہ کہ سلسلہ دارز ہوکر چالیس دن سے زیادہ ہوجاٸے تو اب وہ نفاس کا نہیں استحاضہ یعنی بیماری کا خون مانا جاٸیگا اور استحاضہ کے خون کا حکم یہ ہیکہ ہروقت تازہ وضو کرکے نماز پڑھے 
حوالہ 
*(📕فتاوی عالمگیری)*
جلد اول 
صفحہ   ٣٨ ٣٧
کتاب الطھارت الباب السادس فی الدما ٕ المختصة بالنسا ٕ
*(📘شرح وقایہ)* 
جلد اول 
صفحہ   ١٣٧ 
کتاب الطھارت 
باب الحیض 
*واللہ تعالی اعلم علمہ اتم واحکم* ا________(🖊)_________
*کتبـــہ؛*
*مفتی محمد شہباز اشرف نعیمی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛ بائسی پورنیہ بہار انڈیا*
*مورخہ؛7/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞9304119860)*
ا_______(❤)_________
*🖊المشتــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
793

*💚فرش والے تیری شوکت کا علو کیاجانیں؛ الخ شعر کی تشریح

*💚فرش والے تیری شوکت کا علو کیاجانیں؛ الخ شعر کی تشریح💚*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 السلام عليكم 
فرش والے تیری شوکت کا علو کیا  جانیں 
خسروا عرش پے اڑتا ہے  پھریرہ تیرا 
مفتیان اکرام اس شعر کی تشریح ترجمہ کر دیجئے 
املا میں کوئی غلطی ہوئی ہے براۓ کرم اصلاح فرمائیں؛
ا_______(🍅)_________
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبر کاتہ*
*الجواب بعون الملك الوھاب:*
پہلے مشکل الفاظ کے معانی ملاحظہ کرلیں؛؛
فرش والے:----- زمیں والے
شوکت:------- رعب ودبدبہ
علو:---------------- بلندی
خسروا :------------(عظمت وشوکت؛یہاں یہی مراد ہےیا)خسروایک بادشاہ کا نام بھی ہے اگر چہ یہاں مطلقا بادشاہ کے لئے بولاگیاہے جب کہ الف نداکا ہے؛ یعنی اے خدا کی خدائی کے بادشاہ؛
 پھریرا:------- جھنڈا؛علم؛
*"مفھوم وتشریح"*
یارسول اللہ  آپ کی عظمت کے جھنڈے توعرش پر لہرارہے ہیں؛ان فرش والوں کوکیاپتہ آپ کی عظمت وشان کیاہے؛
اللہ تعالی کا ارشاد ہے؛؛ورفعنالك ذکرك؛؛(الم نشرح٤)ہم نےآپ کی خاطر آپ کےذکرکو بلند کردیا؛ اور حدیث قدسی ؛  اذاذکرت ذکرت معی؛جہاں اور جب میرا ذکر ہوگا؛وہاں تیراذکر ہوگا کوسامنے رکھیں ؛اورپھر سرکاردوعالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم  کی ولادت باسعادت کے وقت بروایت مواہب لدنیہ؛ اللہ تعالی نے ایک نور کاجھنڈا بدست جبریل امین علیہ السلام کعبہ کی صحت پر لگوایا؛ایک مشرق میں ؛ ایک مغرب میں؛یابروایت دیگرایک بیت المقدس پر ؛ ایک زمین وآسمان کے در میان؛ایک حضرت آمنہ کے گھر پر ؛اور ایک آسمانوں کے اوپر بیت المعمور پرجوخانہ کعبہ کی بالکل سیدھ پر ہے؛اور خانہ کعبہ جیسی ہی عمارت ہے؛اب جھوم کر پڑھیں ؛
"خسرواعرش پہ اڑتا ہے پھریراتیرا"
*(📕بحوالہ شرح کلام رضا فی نعت المصطفےصلی اللہ تعالی علیہ وسلم؛؛)*
المعروف 
*(📘؛شرح حدائق بخشش؛ ص* *٧٤\٧٥؛؛)*
*واللہ تعالی اعلم*  ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد اختررضا قادری رضوی نیپال گنجوی خادم التدریس ناظم اعلٰی مدرسہ فیض العلوم سرکھیت نیپال*
*مورخہ5/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ☎️9815598240)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
792

تشہد میں لفظ سیدناکے ساتھ پڑھنازیادہ بہتر یے؛

*❣️تشہد میں لفظ سیدناکے ساتھ پڑھنازیادہ بہتر یے؛❣️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔
کیا فرماتے ہیں علماء دین مفتیان اسلام اس میں کہ۔
التحیات میں تشہد میں *اشھد ان سیدنا محمد عبدہ ورسولہ۔* کے ساتھ پڑھنا کیسا؟ 
*سیدنا کے ساتھ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینا کیسا۔* 
سائل۔ محمد احد چشتی
ا_______(💚)_________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛* 
تشہد میں لفظ *سیدنا* کے ساتھ پڑھنا زیادہ بہتر ہے اور بغیر اضافہ بھی جاٸز ہے 

جیسا کہ حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں کہ : درود شریف میں حضور ﷺ اور حضور سیدنا ابراہیم علیہ الصلاة و السلام کے اسماۓ طیبہ کے ساتھ لفظ *سیدنا* کہنا بہتر ہے 
*(📘 بہار شریعت ج ١ ح ٣ ص ٨٤ قادری بکڈپو )*
اسی طرح فرمایا حضور فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمتہ نے 
*(📗فتاوی فیض الرسول ج ١ ص ٢٥٢)* 
*ھکذا فی الدر المختار ” ندب السیادة لان زیادة الاخبار بالواقع عین سلوک الادب فھو افضل من ترکہ ذکرہ الرملی الشافعی وغیرہ و فی رد المحتار ” و الافضل الاتیان بلفظ السیادة الخ* 
*(📘شامی ج اول ص ٣٤٥ مطبوعہ دیوبند)* 
*واللہ اعلم بالصواب؛*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد مشاھدرضا حشمتی خادم التدریس مدرسہ ریاض الحنہ یوپی انڈیا؛*
*مورخہ3/5/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎9720751982)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
791

بہتر ہے تشہد میں سیدناکا اضافہ نہ کیاجائے؛

*❣️بہتر ہے تشہد میں سیدناکا اضافہ نہ کیاجائے؛❣️*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مفتیان اسلام اس بارے میں کہ التحیات میں تشہد میں اشھد ان سیدنا محمدا عبدہ رسولہ کے ساتھ پڑھنا کیسا ہے؟سیدنا کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لینا کیسا ہے؟
سائل:محمد احمد چشتی؛
ا_______((🍅))__________
*الجواب بعون الملک الوھاب:* بہتر ہے کہ تشہد میں "سیدنا "کا اضافہ نہ کیا جائے کیونکہ جو تشہد ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے اس میں "سیدنا "کا اضافہ نہیں ہےاور  امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کے مطابق  اسی  تشہد کا  پڑھنا بھی  منقول ہے تاہم" سیدنا "کے اضافہ کے ساتھ پڑھنے میں سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا زیادہ سے زیادہ کراہت تنزیہی ہوگی ۔
*(📙در مختار میں ہے:)*
*یقرء تشھد ابن مسعود وجوبا کما بحثہ فی البحر لکن کلام غیرہ یفید ندبہ و جزم شیخ الاسلام الجد بان الخلاف فی الافضلیۃ و نحوہ فی مجمع الانھر۔)*
 اس کے تحت 
*(📗رد المحتار میں ہے: )*
*وكذا جزم به في النهر والخير الرملي في حواشي البحر، حيث قال: أقول الظاهر أن الخلاف في الأولوية، ومعنى قولهم التشهد واجب: أي التشهد المروي على الاختلاف لا واحد بعينه. وقواعدنا تقتضيه. ثم رأيت في النهر قريبا مما قلته. وعليه فالكراهة السابقة تنزيهية. اهـ.(باب صفۃ الصلوۃ )*
اسی میں ہے: 
*والتشهد المروي عن ابن مسعود لا يجب بل هو أفضل من المروي عن ابن عباس وغيره خلافا لما بحثه في البحر(واجبات الصلوۃ )*
*واللہ اعلم بالصواب*
 ا______(🖌)_________
*کتبـــہ؛*
*محمد ھاشم رضا مصباحی خادم الافتاء والقضا دارالعلوم جامعہ رضویہ شاہ علیم دیوان شیموگہ کرناٹکا؛*
*مورخہ؛1/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7760517611)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتـــہر فضل کبیر 🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
790

مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ایک چیز یے؛

*💚مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ایک چیز یے؛💚*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

سوال ۔۔۔۔۔
کیاصرف واجبات نماز کے ترک سے ہی نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے یا محض کراہت تحریم سے ہی واجب الاعادہ ہوجاتی ہے ؟
بینوا بالدلیل
سائل ۔۔۔۔ عبداللہ ، ہبلی؛
ا________(🍅)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
اس باب میں کلیہ یہ ہےکہ جو نماز بھی کراہت تحریم کےساتھ ادا کی جائے وہ واجب الاعادہ ہوتی ہے
*(📖علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” وکذا کل صلوة ادیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتہا “*
*{📙الدرالمختار ص٦٤ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(📝علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” والحق التفصیل بین کون تلک الکراھۃ کراھۃ تحریم فتجب الاعادة او تنزیہ فتستحب “*
*{📘ردالمحتار ج١ ص٤٥٧ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(📝سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں)*
*” واجب الاعادہ اور مکروہ تحریمی ایک چیز ہے “*
*{📕فتاوی رضویہ ج٧ ص ٣٥٩ ، رضافاؤنڈیشن}*
*(📘فتاوی رضویہ شریف)* میں ایسی بہت سی مثالیں ہیں جو واجبات نماز میں سے نہیں ہیں مگر کراہت تحریم کیوجہ سے نماز واجب الاعادہ ہے ، مثلا :
اول ۔۔۔۔ ہاتھوں کی کہنی بلاکھولے  آستین اوپر بلاچڑھائے نماز پڑھنا واجبات صلوة میں سے نہیں لیکن اگر کوئی کہنی کھولے آستین چڑھائے نماز پڑھے تو مکروہ تحریمی اورنماز واجب الاعادہ
*{📗فتاوی رضویہ ج٧ ص٢٩٧}*
ثانی ۔۔۔۔ ریشمی کپڑا نہ پہن کر نماز پڑھنا واجبات نماز میں سے نہیں لیکن اگرکوئی پڑھے تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ
*{📙ایضا ص٣٠٧}*
ثالث ۔۔۔۔ انگریزی وضع کے کپڑے نہ پہن کر نماز پڑھنا واجبات نماز میں سے نہیں مگر کوئی ایساکرے تو سرکاراعلیحضرت رضی اللہ عنہ کافتوی تھاکہ  نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ
*{📙ایضا ص٣٠٩}*
رابع ۔۔۔۔ آستین نہ چڑھاکر نماز پڑھنا واجبات صلوة میں سے نہیں لیکن اگرکوئی اس طرح پڑھے تو نماز پھیرنےکاحکم
*{📕ایضا ص ٣١٠}*
خامس ۔۔۔۔۔ سدل کئے بغیر نماز پڑھنا واجبات نماز میں سے نہیں مگر کوئی کوئی سدل کرکے نماز پڑھے تو مکروہ تحریمی واجب الاعادہ
*{📘ایضا ص ٣٧٦}*
ان تصریحات سے واضح ہواکہ عموما کراہت تحریم کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے
*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛* ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ1/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
789