Monday, May 17, 2021

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔



کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

اگر امام اُن رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے(اور وُہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ایك آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرِشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدًا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلًا ایك آدھ کلمہ بآوازِ  بلند  نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ 

📚فتاوی رضویہ ج 6 مطبوعہ دعوت اسلامی

✏از قلم محمد عمران علی نعمانی رضوی

Monday, April 19, 2021

کیا اذان میں فرض و سنت ہیں؟

*کیا اذان میں فرض و سنت ہیں؟*

*مزید معلومات کے لئے ٹیلی گرام پر قادری فقہی گروپ میں شامل ہونے کے لیے لنک پر کلک کریں*
*https://t.me/joinchat/AAAAAFjqHuwUzJVKK7a6-Q*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*السلام علیکم ورحمتہ اللہْ وبرکاتہ*
*ســــــوال ــــــــ* اذان میں کتنی فرض اور کتنی سنتیں ہیں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرماٸں
*🌹ساٸل محمد نورالزماں🌹*
*🌱سائل :-🌱*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*مزید معلومات کے لئے ہمارے چینل رضا اینڈ ازہری نیٹورک کو ابھی سبسکرائب کریں*

*سوال کے جواب کو تلاش کرنے کا آسان طریقہ ہے؟*
*https://youtu.be/eQet4MT67QE*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*

آذان میں دو فرض ہیں

*(١) اوّل حٙیّٙ علی الصلوٰة*

(٢) *دوسرا حٙیّٙ عٙلیٙ الْفلاح*

اور دس سنتیں ہیں : 
اوّل باوضو ہونا؛ دوسرے اونچائی پر کھڑے ہونا؛ تیسرے مسجد میں دائیں جانب کھڑا ہونا؛چوتھے دائیں بائیں گردن گمانا؛ پانچویں انگلیاں کانوں میں ڈالنا؛ چھٹے قبلے کی طرف منہ ہونا؛  ساتویں صحیح اذان کہنا؛ آٹھویں سارے کلمات اذان کے الگ الگ ادا کرنا ؛نویں انگلیاں کانوں میں ہلانا اور دسویں باہر صحن میں کھڑے رہنا۔
* 📙تفسیر نعیمی*

*📚کیا آپ جانتے ہیں صفحہ نمبر 576 *

*🕋واللہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم🕋*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*✍🏻ازقلم حافظ وقاری محمد امتیاز عالم منشی ٹولہ تارا باڑی بائسی پورنیہ بہار*
*رابطہ؛📞............⇩⇩*
*https://wa.me/+918922921676*
*۳ذی القعدہ ١۴۴٠ ھ بمطابق ۷جولائی ٢٠١٩ بروز اتوار*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت حافظ و قاری محمد انور رضا صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی پیاگ پور بہرائچ شریف یوپی الھند 8355972177*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی گونڈہ یوپی 9918562794*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح :-حضرت مولانا محمد عالمگیر صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی ضلع امروہا یوپی*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح :-حضرت مولانا محمد ریحان رضا رضوی صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 *🔹قـــادری فــقــھــی گـــروپ؛🔹*
*رابطہ؛📞............⇩⇩*
*https://wa.me/+918922921676*
*المشتـــہر؛*
*منجانب؛منتظمین قــادری فقہــی گروپ؛محمد امتـــیاز عالــم تـارابـاڑی پورنیہ بہــار  انڈیا؛*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Monday, March 22, 2021

‎نعت خواں جب نعت پڑھتے ہیں تو ان پر روپیہ اُڑانا کیسا ہے؟ نیز ان کو نذرانہ دینا کیسا ہے

السلام عليكم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ نعت  خواں جب نعت پڑھتے ہیں تو ان پر روپیہ اُڑانا کیسا ہے؟ نیز ان کو نذرانہ دینا کیسا ہے 
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا یوسف اکبری انجھار کچھ گجرات 
======== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*=========
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
سرکار اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں  نعت خواں کو نعت پڑھنے کا روپیہ دینا حرام ہے اور دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہے 📙فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 726 رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور 📕 اب نعت خواں اور عوام دونوں کے حالات ایسے ہیں کہ نہ تو بغیر مال کے نعت خواں ملتے ہیں اور نہ ہی عوام سمجھنے کو تیار ہے کہ نعت شریف پڑھنا عبادت ہے اور عبادت کی اجرت لینا حرام ہے اور دینا بھی حرام ہے مگر افسوس ہے ایسے مسلمانوں پر جو نعت خواں پر اپنا مال برباد کر رہے ہیں لیکن ان کو جب مسجد کے امام کو دینا پڑے تو منہ پھول جاتا حالانکہ یہ ہی امام ہے جو مسلمانوں کی پیدائش سے لے کر قبر تک ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اس امام کے لیے یہ ہی مسلمان غریب بن جاتے جاتے ہیں نعت رسول مقبول بیشک سنے مگر صرف ان سے سنے جو بغیر اجرت کے سناتے ہیں اور یہ صرف امام ہی وہ شخصیت ہے بغیر اجرت کے تقریر بھی کرتا ہے نعت رسول مقبول بھی سناتا ہے لہٰذا نعت شریف کے لیے ان جاہل نعت خواں کے بجائے اہل علم کو بلائے تاکہ عبادت کا ثواب ملے گا مگر ہر مسلمان کو شائد یہ بات سمجھ میں نہ آئے اس لیے اب حکم شرع یہ ہے کہ کسی بھی نعت خواں کو یہ کہے کہ آپ تین یا چار گھنٹے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت کی اجرت اتنی اتنی ہم آپ کو دیں  گے اب ان لوگوں کواس وقت مقرر کے پیسے لینا جائز ہوگا اور عوام کو دینا بھی جائز ہوگا *واللہ اعلم و رسولہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*تاریخ 19 مارچ 2021*  ✍🏻

Friday, March 12, 2021

کیا عورتیں آپس میں مصافحہ اور معانقہ مردوں کے طرح کر سکتی ہیں یا نہیں

*کیا عورتیں آپس میں مصافحہ اور معانقہ مردوں کے طرح کر سکتی ہیں یا نہیں ؟؟؟حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں*

الجواب  ✍🏻بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں عورتوں کا آپس میں مصافحہ اور معانقہ کرنا جائز و درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :ما من مسلمین یلتقیان فیصافحان الا غفر لھما قبل ان یفترقا (ابو داؤد) 

دو مسلمان جب بھی ملتے ہیں اور مصافحہ بھی کرتے ہیں تو الگ ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں 

فقہ حنفی کی مشہور کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے :تجوز المصافحۃ والسنۃ فیھا ان یضع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب او غیرہ 
مصافحہ کرنا جائز ہے اور سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو (الھندیہ ٥/٣٦٩)

ایسا ہی رد المحتار میں ہے 
اور معانقہ کا جواز بھی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے معانقہ کیا اور اس کا جواز اس وقت ہی جبکہ خوف فتنہ اور اندیشہ شہوت نہ ہو جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے :فان کانت المعانقۃ فوق قمیص او جبۃ......... جاز عند الکل کذا فی فتاوی قاضی خاں (حوالہ سابق) 

کتب احادیث اور کتب فقہ میں مردوں اور عورتوں کی کوئی تفریق نہیں ہے تو جس طرح آپس میں ایک مرد دوسرے مرد سے مصافحہ و معانقہ کر سکتا ہے اسی طرح عورتوں کا آپس میں مصافحہ و معانقہ کرنا مسنون ہے 

ھذا ما ظھر لی واللہ اعلم بالصواب 

Thursday, March 4, 2021

کیا سوالات قبر امت محمدیہ صلـی اللہ علیـــہ وسلم کے ساتھ خاص ہے؟ نیز اگلی امتوں کس نبـــی کـــــے بارے میــــں ســـــــوال ہـــوتا تھا

*     _◆ـــــــــ    ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*کیا سوالات قبر امت محمدیہ صلـی اللہ علیـــہ وسلم کے ساتھ خاص ہے؟ نیز اگلی امتوں کس نبـــی کـــــے بارے میــــں ســـــــوال ہـــوتا تھا؟*
*     _◆ـــــــــ    ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*_پیغــــام مســــــلک اعلـی حضــــرت چینـــــــل_*
*_https://t.me/joinchat/AAAAAE9tEmBQwHPlzWwyPg_*
*_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*🌹 _اَلسَـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ_ 🌹‎*
*_★★ــــــــــــ♥🌸🌸🌸♥ــــــــــــ★★_*
 *_📜کیا فـرماتــے ہیں علمائـــے دین ومفتیــان شرع متین مسئلــہ ذیل کـــے بارے میـــــں کــہ کیا صحابہ کرام سے سوالات قبر ہوتے تھے؟ اور حضرت آدم کے زمانے میں جو لوگ مرتے تھے کیا ان سے سوالات قبر ہوتے تھے اور ایسے ہی دیگر انبیاء کرام کی امت کے متعلق ذرا تفصیــــل ســے جـــــواب درکار ہـــــے_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_☘ســائل:محمــد انصــار رضــا رضــوی☘_* *_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*🌹وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ🌹*   
*📝الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب*👇

*🎗اگلی امتوں سے سوال قبر کے سلسلے میں صحیح وراجح قول یہی ہے کہ اگلی امتوں سے سوال قبر نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ اسی امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے ۔*

*🎗جیساکہ فتــاوی حدیثیہ میـــں ہــــے👇*

*_📖وکان اختصاصھم بالسوال فی القبر من التخفیفات التی اختصوابھا عن غیرھم لماتقرر فتامل ذلک ومقتضی احادیث سوال الملکین ان المومن ولو فاسقا یجیبھما کالعدم ولکن بشارتہ تحتمل ان تکون بحسب حالہ ویوافقہ قول ابن یونس اسمھما علی المذنب منکر ۔ اھ (ص۱۱)_*
 *🎗اور اس کی ترجیح علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں ۔👇*
*_📖نقل العلقمی فی شرحہ علی الجامع الصغیر ان الراجح ایضا اختصاص السوال بھذہ الامۃ خلافا لما استظھرہ ابن القیم ونقل ایضا عن الحافظ ابن حجر العسقلانی ان الذی یظھر اختصاص السوال بالمکلف وقال تبعہ علیہ شیخنا یعنی الحافظ السیوطی ۔ اھ_*

*_📕ردالمختار جلد دوم صفحہ ۱۹۲_*

*🎗اصح قول یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام سے سوال نہیں ہوتا ۔*
*_📓درمختار میں ہے ۔👈🏽والا صح ان الا نبیاء لایسالون ۔ اھ_*
*_📗ردالمختار میں ہے ۔👈🏽واشار الشارح الی ان یزاد الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لانھم اولی من الصدیقین ۔ اھ " جلد دوم صفحہ ۱۹۲ مطلب ثمانیۃ لایسالون فی قبورھم_*

*_📕ماخوذ فتاوی مرکز ترتیب افتاء جلد اول صفحہ ۳۴۰/ ۳۴۱_*
       *🌹 _واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب_ 🌹*
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
         *📝 _شــــــــرف قلـــــــم_ 📝*
*_محمـــــــدمشــــــاہد رضــــاقــــادری رضـــــــوی خـــــادم التــدریس دارالعـــلوم شہیــد اعظـــم دولھـــــاپـــور پہــــاڑی انٹیــــاتھـــــــوک بـازار ضلــــــع گــــــونڈہ یــوپی ـ الھنـــــــــــــــــــــــــد_*
*☎https://wa.me/+917311172696*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_✅قداجاب المجیب جــوابا صحیحا ومافیـــہ لغوا والمجیب اعطاہ اللہ تعالیٰ ثوابا کثیـــــــرا محمد عمر رضا خان المسعـــودی والنیفالی دار العلوم ظفـــــــر الاســـــــــلام لوکاہــــــی بازار_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_۳/جمادی الاولی،۲۴۴۱؁بمطابق ۱۹/دسمبـر،٠٢٠٢؁_* *_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
                 *🖥 _المشتہــــــر_ 🖥*
*_بـانـئ پیغــام مســلک اعلٰــی حضــرت گــــروپ محمــد نــوشــاد عـالـم کٹیہــاربہــار الھنــــــــد شامل ہونے کے لیے رابطہ کریں رابطہ نمبـر👇_*
*☎https://wa.me/+919934959535*
*•─────────────────────•*
 *💙 _(پیغـام مسلک اعلٰی حضرت گـروپ)_ 💙*
*•─────────────────────•*
🚤🚤🚤🚤☘☘☘🚤🚤🚤🚤

Wednesday, December 30, 2020

زنا اگر ثابت ہوجائے تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے🌹*


*🌹زنا اگر ثابت ہوجائے تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے🌹*



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  ہمارے گاؤں میں ایک امام صاحب  ہے جو علاج کرتے ہیں  علاج کے ذریعے ایک لڑکی سے زنا کرتے ہیں ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا کیسا اور جو لوگ یہ بات جانتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہےاور جو نماز پڑھی گئی ہے اس کے بارے میں کیا ہے  برائے کرم جواب حوالے کے ساتھ عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

*🔸سائل عبداللہ 🔸*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*📝الجواب بعون الملک الوھاب*

*امام پر اگر صرف زنا کی تہمت ہے مگر ثابت نہیں تو اس پر تہمت لگانے والے سخت گہنگار حق العبد میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہیں ان پر توبہ واستغفار اور امام مذکور سے معافی طلب کرنا لازم ہے اگر حکمومت اسلامیہ ہوتی تو زنا کی تہمت لگانے والے اگر چار گواہوں سے زنا ثابت نہ کر پاتے تو اسی ۸۰ کوڑے مارے جاتے جیساکہ خداے تعالی کا ارشاد ہے*

والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعة شھداء فاجلدوھم ثمنین جلدہ
(📖پ ۱۸ سورہ نور آیت ۴) 

*📜اور امام مذکور کا زنا کرنا یا اس کا کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں رہنا اگر ثابت ہو اور اس نے توبہ کرلی تو ان دونوں صورتوں میں اس سے بیزار رہنے والے غلطی پر ہیں ان کی اور ان سب کی نماز اس کے پیچھے ہوجاے گی بشرطیکہ اور کوئی مانع امامت نہ ہو*

🏷اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے
ھو الذی یقبل التوبة من عبادہ
اور سچی توبہ کے بعد گناہ بلکل باقی نہیں رہتے حدیث شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں


♦التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ
گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے توبہ کے بعد اس کی امامت میں اصلا حرج نہیں بعد توبہ اس پر گناہ کا اعتراض جائز نہیں حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

*"" "" عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ وفی روایة بذنب تاب منہ وبہ فسر ابن منیع"“"* 

🗒جو کسی اپنے بھائی کو ایسے گناہ سے عیب لگاے جس سے توبہ کرچکا ہے تو یہ عیب لگانے والا نہ مرے گا جب تک خود اس گناہ میں مبتلا نہ ہوجائے 

رواہ الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ

*(📓فتاوی رضویہ جلد سوم ص225)*

*🗞اور اگر امام نے جرم ثابت ہونے کے بعد اگر توبہ نہیں کی ہے تو جو لوگ یہ جانتے ہوے اس کے پیچھے جتنی نمازیں پڑھے ہوں سب دوبارہ پڑھیں اور توبہ کریں امام پر اس صورت میں لازم ہے کہ اب توبہ کرلے پھر سب لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور توبہ کے بعد بھی جو لوگ الگ نماز پڑھیں گے وہ تفریق المسلمین کے مجرم ہوں گے*

📿اگر بیزار شدہ لوگ مسجد اور اس کی جماعت چھوڑ کر بلاوجہ شرعی گھر پر نماز پڑھتے ہیں اگر چہ ان کی نماز ہوجاتی ہے مگر وہ گنہگار ہوتے ہیں رہی جمعہ کی نماز تو اسے قائم کرنے کے لئے سلطان اسلام یا اس کا نائب یا اس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطان اسلام نہ ہو وہاں ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم کے اذان سے امام جمعہ و عیدین مقرر ہوسکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو تو بمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وہ جمعہ قائم کرکے اس کی امامت کرسکتا ہے ہر شخص کو اختیار نہیں کہ وہ بطور خود یا دس بیس یاسو پچاس آدمی کے کہنے سے جمعہ کا امام بن جاے گا ایساشخص اگر چہ اس کا عقیدہ صحیح ہو اور عمل میں بھی فسق وفجور نہ ہو جب بھی جمعہ کی امامت نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز اس کے پیچھے باطل محض ہوگی

*(📘فتاوی رضویہ جلد سوم ص275)*

*اگر بیزار شدہ لوگ اگر نئی مسجد اس لئے بنانا چاہتے ہیں کہ پرانی مسجد میں آنے سے فتنہ کا اندیشہ ہے تو ان کا یہ اقدام درست ہوگا*

🍁اور اگر ان کا مقصود پرانی مسجد کو ضرر دینا ہے اور جماعت مسلمین میں تفرقہ ڈالنا ہے تو ہر گز درست نہیں

(📕 فتاوی رضویہ جلد ششم ص425) 

*(📙فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص237)*

*🔹واللہ اعلم ورسولہ🔹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*✍کتبــــــــــــــہ :-*
*حضرت علامہ و مولانا محمداسماعیل خاں امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دولہا پور گونڈہ یوپی*
*🗳آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ 🗳*
رابطــہ ؛📞9918562794
*تاریخ؛ 25/جولائی 2019 ء*

Sunday, December 27, 2020

کــــــوئــی شخـــــص گھــــر ســــے 92 کلــــومیٹـــــر کـــــے ارادے ســــے گھــــر ســــے نکـــــلا تو کیــــا وہ مسافـــــر ہـــــے ‏

🛤️کــــــوئــی شخـــــص گھــــر ســــے 92 کلــــومیٹـــــر کـــــے ارادے ســــے گھــــر ســــے نکـــــلا تو کیــــا وہ مسافـــــر ہـــــے 🛸
🎆🎆🎆🎆🏕️🛣️🏕️🎆🎆🎆🎆
🔖الســـلام علیکــم ورحمـــتہ اللہ وبـــرکاتــــہ🔖
 
🪜،:،کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و ملت مسٔلۂ ذیل کے بارے میں
(1️⃣) کہ کوئ شخص سفر کرے
جو کہ 92 کلومیٹر سے کم  ہو
 یعنی تین دن کی مسافت سے کم ہو تو کیا وہ مسافر کے حکم میں ہے 

 (2️⃣)رستے میں کسی مہمان کے ہاں رکنا پڑے تو اب سفر گھر سے مسافر  ہوگا یا وہاں سے آگے جہاں رکا تھا 
(3️⃣) اور قصر نماز‌پڑھے گے یا مکمل‌نماز؟
(4️⃣) اور اگر گھر سے ہی نیت تھی کہ کسی مقام پر رکنا ھے تو پھر کیا مسافر نہیں رہے گا؟
جواب عنائیت فرما دیجے

ســـــــائـــل؛ بیــــــرون ملـــــــک
🟧🟨🟧🟨🟧🟨🟧🟨🟧🟨🟧
《☆============♡=============☆》
🟩وعلیکــــــم الســـــلام ورحمـــــۃ اللہ وبــــــرکاتـــــــہ 🟢
💚بســـــم اللہ الرحمـــــن الرحیــــــم🤎 
💠الجــــوابـــــــ بعــــون الملـــــک الوھـــــابـــــــــــــــــــ💠
(1️⃣)نہیں یہ شخص مسافر کے حکم میں نہیں ہے ⚜️
جیسا کہ، 
📗(فتـــاوی رضــویــــہ جلد 8صفحہ نمبر 270،📓
پر ہے،
🏹: شیــــــخ الاســــلام المسلمیــــن اشّـــــاہ امـــــام احمــــد رضــــا خـــان علیـــہ الرحمــــۃ والرضـــــوان،🏆
 نے ساڑھے ستّاون ،میٖل لکھا ہے 
⭕جو نۓ حساب سے تقریباً ،92،کلومیٹر ہے،
 تخریج کردہ قاضی محمودالحسن ڈومریا گنج ضلع بستی،⭕
(2️⃣) (4️⃣) سفر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں سے چلا وہاں سے تین دن کی راہ کا ارادہ ہو اور اگر دو دن کی راہ کے ارادے سے نکلا وہاں پہنچ کر دوسری جگہ کا ارادہ ہوا کہ وہ بھی تین دن سے کم کا راستہ ہے یوں ہی ساری دنیا گھوم ہے مسافر نہیں
📚: (الــــدرالمختــــــار )"کتاب الصلوۃ "باب صلاۃ المسافر، جلد نمبر، ۲،صفحہ نمبر، ۷۲۳،۷۲۴،📚
اسی طرح،
📚: (فتـــاوی رضـــویـــہ) جلد ۸،صفحہ نمبر، ۲۷۰،📚
پر ہے کہ 
🎐: یہ بھی شرط ہے کہ تین دن کا ارادہ متّصل سفر کا ہو،
 اگر یوں ارادہ کیا کہ مثلاً دو دن کی راہ پر پہنچ کر کچھ کام کرنا ہے وہ کر کے پھر  ایک دن کی راہ جاؤں گا  تو یہ تین دن کی راہ کا متّصل ارادہ نہ ہوا مسافر نہ ہوا،

(3️⃣)یہ شخص مکمل نماز پڑھے اس لۓ کہ یہ مسافر کے حکم میں نہیں ہے، 

اب آئیے اسی طرح کے ایک سوال کا جواب، 
📚: فتاوی مرکز تربیت افتاء،📚
 میں ہے ،
زید اگرچہ 92 کلومیٹر سے زائد مسافت کے ارادے سے چلتا ہے مگر دوران راہ چند گھنٹے ٹھہرتا  اور قریبی بستیوں میں قیام پذیر ہو کر کچھ کام کرتا ہے،
 تو ایسی صورت میں وہ مسافر نہیں اور اس پر سفر کے احکام جاری نہ ہوں گے
 اور وہ اپنی نماز پوری پڑھے گا

📚(فتــــاوٰی مــــرکـــز تــــربــــیت افتـــــاء) جلد اول صفحہ نمبر 296،📚

🔎: تمام حوالہ جات سے یہ ظاھر و باہر ہو گیا کہ یہ مسافر کے حکم میں نہیں ہے اپنی نمازیں پوری پڑھے ؛⚜️
 
❄️: وھو سبحانہ تعالی اعلم بالصواب :❄️
🟨🔳◾◼️▪️🟣▪️◼️◾🔳🟨

♡!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!¡¡¡¡¡¡¡!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!♡
➡️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️⬅️
کتبـــــــــــــــــــــــہ:🟦🔵🔷🔹 
خلیفــــــۂ مجـــــاز العبـــد ابــو الفیضـــان محمــــد عتیــــق اللہ فیـــــضی صدیـــــقی یــار علـوی اویـــسی ارشـــدی دامــــت بــرکـــاتہـــــم القدسیـــــہ 
دارالعلــــوم اھلسنتـــــــ مـــــحی الاســلام بتھـــــریا کــــلاں ڈومــریــا گنــج سدھـــارتھ نگـــر(یــــوپـــی)
 رابطـــــــہ نمبــــــر ☎️
🪀🎴7081618182🎴🪀
؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞
؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀
⬛🔳◾◼️▪️⚫▪️◼️◾🔳⬛
فیضــــــان تـــــاج الشریعــــہ رحمــــۃ اللہ علیـــــہ گــــروپــــــــــ 
گــــروپـــــــ میــــں شــــامل ہــــو نــــے کــــے لیـــے
 رابطــــــہ کریـــــــں☎️ 
🪀🎴8938992801🎴
🪀🎴9690363948🎴
🪀🎴7081618182🎴
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
المرتبـــــــــــــــ : 🖨️🖥️ 
گــــــداۓ حضــــور تــــاج الشریعــــہ رحمـــــۃ اللہ علیـــــہ 
قـــاری محمـــــد معـــــراج رضــــــوی سنبھـــــــلی مدرســــہ نعمانیـــــہ اصــــلاح المسلمیــــن مرادآبــــاد سنبھــــــل بــــراہــــی شــــریفـــــــ 
رابطــــــہ نمبـــــر☎️ 
🎴9690363948🎴
%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%
نـــوٹـــــــ : اس پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بالکل نہیں کریں بلکہ ثواب کی نیت سے شیئر کریں

Saturday, December 26, 2020

*سال نو کی مبارک باد دینا کیسا ہے

*سال نو کی مبارک باد دینا کیسا ہے*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
💌 *مسئلہ نئےسال 2021کا مبارک باد دے سکتے ہیں یا نہیں؟*
🇿🇲 *سائل:سلیمان انصاری*
🏠 *گڑولہا رامکولہ کشی نگر* 
🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶
     *بسم اللہ الرحمن الرحیم*
📋 *الجواب سراج الفقہاء محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گرھ یوپی فرماتے ہیں "نئے سال کی مبارک باد دینے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ سال آپ کے لئے مبارک رہے،خیرسےگذرے،یہ جائز ہے کہ دعاے خیر ہے-ہاں اگرکوئی انگریزوں کے بناےہوے ماہ وسال کی تعظیم کے لئے کہے تومکروہ ہے مگرعام طورپرمسلمان یہ نیت نہیں رکھتے بلکہ ان کامقصد دعاے خیر ہوتا ہے اوراس میں کوئی مضایقہ نہیں "اھ(📚 ملفوظات سراج الفقہاء ص ١٤٤)-*
   *فخر ازہر قاضی القضاة فی الھند تاج الشریعہ حضور مفتی اختررضا خان ازہری بریلوی فرماتے ہیں "نیاسال مبارک ہو بذریعہ دعا کہنے میں حرج نہیں ہے جب کہ تشبہ نہ ہوغیروں سے اور نہ تشبہ مقصود ہو "اھ*
       *خیرالاذکیاء محمد احمدمصباحی* 
 *ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی فرماتے ہیں" بلاضرورت مبارک باد دینے سے بچا جاے"اھ*
         *مفتی عقیل خان قادری مصباحی* 
*جامعہ اسلامیہ روناھی فیض آباد یوپی فرماتے ہیں "سال نو کی آمد یقینا نعمت الہی ہے،اس اعتبار سے تبریک وتہنیت پیش کرنا باعث فرحت وانبساط ہے جو بلاشبہہ جائز ہے،مگر بزرگان دین اس طرح کے تکلفات عرفیہ سے ہمیشہ دور رہے ہیں اسی وجہ سے دور ماضی میں اس طرح کی کوئی مثال علم میں نہیں آئی "اھ  -واللہ تعالی اعلم*
📝 *کتبہ محمد ابراھیم المصباحی*
             *کوشی نغر یوبی الھند*
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷          
💻     *طالب دعا : نشتر مصباحی* 
       *امیراعلی شرعی عدالت کشی نگریوپی*
            *رابطہ نمبر09984902633*
🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵
🖨 *المشتھر شرعی عدالت گروپ*
*رابطہ نمبر 08400848675*
=========================

Friday, December 18, 2020

اسلام میں قبرستان کی اھمیت کیا ہے اور قبرستان کا اداب واحترام کس طرح کرناچاییئے؟

*🖌️اسلام میں قبرستان کی اھمیت کیا ہے اور قبرستان کا اداب واحترام کس طرح کرناچاییئے؟🖌️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ قبرستان کی اسلام میں کیا اہمیت ہے نیز قبرستان کا ادب واحترام کس طرح کرنا چاہیے۔قبرستان کے کسی حصے میں بطور سیر و تفریح آگ جلا کر کھانا یا دیگر اشیاء  وغیرہ بنانا کیسا ہے؟تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔المستفتی شکیل احمد خان قادری رضوی بنارس
ا________(🍅)___________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
اسلام میں قبور ومقابر مسلمین کی بڑی اہمیت ہے فلہذا ان کا ادب واحترام بھی مسلمانوں لازم قرار دیاگیاہے
ہمارے فقہائےاحناف علیہم الرضوان فرماتےہیں کہ قبرپر رہنےکومکان بنانا ، یاقبرپر بیٹھنا یا سونا ، یااس پر یا اس کےنزدیک بول وبراز کرنا یہ سب اموراشدمکروہ قریب بہ حرام ہیں
*(📙فتاوی ہندیہ میں ہے)*
*” ویکرہ ان یبنی علی القبر او یقعد او ینام علیہ او یؤطا علیہ او یقضی حاجۃالانسان من بول او غائط “*
*{📗ج١ ص١٦٦ ، بولاق مصر}*
*(🖍️علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ مکروہات استنجاء بیان کرتےہوئے فرماتےہیں)*
*” وبجنب مسجد ومصلی عید و فی مقابر الخ “*
*{📕الدرالمختار ص٤٩ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(📕علامہ شامی علیہ الرحمہ اس کی وجہ بیان کرتےہوئے رقمطرازہیں)*
*” لان المیت یتاذی بمایتاذی بہ الحیی والظاھر انہا تحریمیۃ “*
*{📘ردالمحتار ج١ ص٣٤٣ ، دارالکتب العلمیۃ}*
سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ سےسوال ہواکہ قبرستان میں یا اس کےمتعلقہ زمین میں بول براز گندگی وغیرہ پھینکنا یاقبرستان کو گندگی کا مخزن بنانا کیسا نیز مسلمانوں پر قبرستان کی حرمت کس حدتک واجب ہے ؟ توجوابا آپ نےارشاد فرمایا
*” حرام حرام سخت حرام ہے اوراس کامرتکب مستحق نار وغضب جبار ہے ، قبورمسلمین پرچلناجائزنہیں ، بیٹھنا جائزنہیں ، ان پرپاؤں رکھناجائزنہیں ، یہانتک کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہےکہ قبرستان میں جونیا راستہ پیداہوا اس میں چلناحرام ہے ، اورجن کے اقرباء ایسی جگہ دفن ہوں کہ ان کےگرد اور قبریں ہوگئیں اوراسےان قبورتک اورقبروں پر پاؤں رکھےبغیرجانا ممکن نہ ہو دور ہی سے فاتحہ اورپاس نہ جائے “*
*{🖌️فتاوی رضویہ مترجم ج٩ ص٤٨١ ، رضا فاؤنڈیشن}*
*(🖍️صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” مسلمانوں پر لازم ہےکہ مقابرمسلمین کو نجاست سےپاک کریں اورجس طرح ممکن ہوہندؤں کوباز رکھیں قبرستان میں جوتا پہن کر جاناتک تو حدیث میں منع فرمایا نہ کہ وہاں کفارکاجانا اور نجاست کاڈھیر قبروں پرلگانا یہانتک کہ قبرستان میں جونیا راستہ نکالاہو اس پر چلنامنع ہے یونہی وہاں جانوروں کو باندھنا بلکہ لےجانابھی ممنوع ہے “*
*{📗فتاوی امجدیہ ج١ ص٣٣٨ ، مکتبہ رضویہ کراچی}*
*(🖊️دوسری جگہ ارشاد فرماتےہیں)*
*” قبرستان میں کھانا پینا سگریٹ حقہ پینا مکروہ ہے اوربظاہریہ کراہت تنزیہی ہے مگر دونوں میں پچھلی بہ نسبت پہلی کےسخت ہے کہ آگ قبرستان میں نہ لےجانا چاہئیے یونہی قبرستان میں آگ جلانا بھی مکروہ تنزیہی ہے جبکہ قبرپرنہ ہو “*
*{📘ایضا ص٣٦٢}*
سوال میں مذکورہ امور جو بغرض سیروتفریح کئےجاتےہیں سخت قیبح وشنیع ہیں ، جن سےاحتراز واجب ہے اورقبرستان کمیٹی پربھی لازم ہے کہ لوگوں کو حتی المقدور ان امور سے باز رکھیں

*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛*
ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ29/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
*الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد شہباز عالم نعیمی عفی عنہ)*
ا_________(💚)___________
819

Saturday, December 12, 2020

موبائل سے قرآن ڈلیٹ کرنا

*موبائل سے قرآن ڈلیٹ کرنا*
📱📱📱📱📱📱📱📱جو لوگ موبائل یا کمپیوٹر میں قرآن پاک رکھتے ہیں اور کبھی کسی خرابی کی وجہ سے ڈلیٹ بھی ہو جاتا ہے تو کیا یہ اس حدیث کے حکم میں‌ شامل ہے جس میں‌ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو اپنے ہاتھوں سے مٹائیں گے؟ مدلل جواب مطلوب ہے؟ ۔
👏اور کیا ایسی کوئی حدیث ہے بھی یا نہیں؟ 
سائل: *حافظ احمد رضا نوری* پونہ مہاراشٹر 


الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

هَـذَا بَلاَغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُواْ بِهِ وَلِيَعْلَمُواْ أَنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ.

یہ (قرآن) لوگوں کے لئے کاملاً پیغام کا پہنچا دینا ہے، تاکہ انہیں اس کے ذریعہ ڈرایا جائے اور یہ کہ وہ خوب جان لیں کہ بس وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے اور یہ کہ دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔

إِبْرَاهِيْم، 14: 52

سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

خيرکم من تعلم القرآن وعلمة.

تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآنِ مجید کو خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

بخاری، الصحيح، 4: 1919، رقم: 4739، دار ابنِ کثير اليمامة، بيروت، لبنان

دوسرے مقام پر آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

بلغوا عنی و لو آية.

میری طرف سے اگر ایک آیت بھی (تمہارے پاس) ہو تو وہ لوگوں تک پہنچاؤ۔

بخاری، الصحيح، 3: 1245، رقم: 3272، دار ابنِ کثير اليمامة، بيروت، لبنان

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات خود سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا بھلائی اور خیر کا کام ہے۔

اچھے معلم کی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ تعلیم و تعلم کے لیے جدید طریقوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ اسی طرح اچھے داعی اور مبلغ کی ضرورت بھی ایسے جدید طریقِ ابلاغ ہیں جن سے پیغام جلد اور سہل انداز میں پہنچایا جاسکے۔ تاکہ اہلِ اسلام، اسلام کی تعلیمات کو سمجھ سکیں اور غیرمسلم، اسلام کا مطالعہ کرسکیں جس سے ان کی اسلام کی طرف رغبت ہو۔

لہٰذا حذف (Delete) ہونے کے خوف سے قرآن و حدیث کو جدید ذرائع ابلاغ سے دور رکھنا ان کی ترویج و اشاعت کو روکنے کے مترادف ہے۔ تمام جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے تعلیماتِ اسلام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

🎤 *اپنے سوال میں آپ نے جس حدیث کا تذکرہ کیا ہے، ایسی کوئی حدیث ہمارے علم میں نہیں۔*

*مزید وضاحت*

📱موبائل میں قرآن  کریم کی آیات موصول ہوں  تو ان کو پڑھنے کے بعد یا ان سے نصیحت حاصل کرنے کے بعد  اگر ان کومٹانے (ڈیلیٹ) کرنے کی ضرورت درپیش ہو  تو اس کو مٹانے  میں شرعاً حرج نہیں ہے ؛ اس لیے کہ فقہاءِ کرام نے  ضرورت کی صورت میں  کاغذ  وغیرہ سے قرآنی آیات اور احادیث  کو مٹانے کی اجازت دی ہے؛ لہذا موبائل سے قرآن کریم کی آیات  مٹانے کی گنجائش ہے۔

''فتاوی عالمگیری'' میں ہے:

''ولو محا لوحاً كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز''. (5 / 322، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، 

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

*محمدرضا مرکزی*
خادم التدریس والافتا
*الجامعۃ القادریہ نجم العلوم* مالیگاؤں

*شرعی عدالت واٹس ایپ گروپ*

https://chat.whatsapp.com/GhLibedpn1kG2LdZdYTTKj

ایڈمن: *اسلامک معاشرہ یوٹیوب چینل* 

👍Plzzzz 🔀 subscribe 

*islamic muashra* 

🛑 youtube channel 🛑

*شرعی عدالت یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں*..

https://www.youtube.com/channel/UCvWcXNmBFucLXlArnrloz1w

Friday, December 11, 2020

حکومتی رقم سے مسجد میں مٹی گرواناکیسا؟

*💚حکومتی رقم سے مسجد میں مٹی گرواناکیسا؟💚*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔۔۔۔کیا فرماتےہیں علماء دین مفتیان عظام مندرجہ ذیل کے بارے میں سوال یہ ہےکہ ہمارے پنچایت کے وارڈ مسجد میں سرکاری پیسہ سے  مٹی گرانا چاہتا ہےکیاگروانا جائز ہے یا نہیں ؟قرآن  وحدیث کی روشنی میں حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں برائے مہربانی۔۔۔۔۔۔۔۔  فقط والسلام  المستفتی محمد ہارون سمستی پور؛
ا________(🍅)__________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ*
*بسم اللہ الرحمن الرحیم*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب ہاں !*
جاٸزہےکہ خزانہ والی ملک کی اپنی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا بلکہ اس کےہم سبھی ملک باشی برابرکےحقدارہیں 
مگراس کےلینےمیں ہماراکوٸی دینی نقصان ہویاوہ کسی طرح کاکوٸی احسان جتلاٸےتوہرگزنہ لیاجاٸے،
*(📘فتاوی رضویہ میں اسی طرح کےسوال کےجواب میں ہے”)*
مگریہاں ضروروہ خرچ خزانہ سےملتاہوگانہ کہ راجہ کی جیب سے،اورخزانہ والی ملک کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتاتواس کےلینےمیں حرج نہیں جب کہ کسی مصلحت شرعیہ کےخلاف نہ ہو“
*(📘ج١٦ص٤٦٨)*
اوراسی میں ہے”ہندوسےکسی کاردینی میں مددنہ لی جاٸےگی وہ اس میں مسجدومسلمانان پراپنااحسان سمجھےگا“
*(📕ج١٦ص٥٦٦،)*
لہذامذکورہ صورت میں مٹی گرواناجاٸزہےجبکہ کسی مصلحت شرعیہ کےخلاف نہ ہو،
*واللہ تعالی اعلم*

١٧شوال المکرم ١٤٤١ھ
ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛2م11/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
802

Wednesday, December 9, 2020

شرع میں نفع لینے کی کوئ حد متعین نہیں ہے؛

*❣️شرع میں نفع لینے کی کوئ حد متعین نہیں ہے؛❣️*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia


 السلام علیکم ورحمۃ ﷲ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ۔

🛡 سوال
دین اسلام میں کسی بھی کاروبار میں شرح منافع کنتا لیا جا سکتا ہے ؟ مثال کے طور پر ان دو کاروبار کے بارے میں رہنمائی فرمائیں

*کپڑے کا کاروبار اور کھانے کا ہوٹل ۔*

💈سائل : محمّد آصف قاسم نثار رضا قادرى
🏠 مقام : پاکستان کراچی
🌈 مورخہ : 2020-03-09

ا_________(💚)_________
*الجواب بعون الملک الوہاب*
*اللھم ھدایۃ الحق والصواب؛*
شریعت مطہرہ میں نفع لینے کی کوئی حد متعین نہیں ہے جتنا چاہیں نفع لے سکتے ہیں بشرطیکہ جھوٹ نہ بولیں اورخریدار کو دھوکہ نہ دیں، ہاں کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا او راتنا زیادہ نفع لینا کہ جس کو عرف میں غبن فاحش سمجھا جاتا ہو یہ مروت کے خلاف ہے اس سے بچنا بہتر ہے۔

*عَنْ اَنَسٍ قَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اﷲِ غَلَا السِّعْرُ فَسَعِّرْ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اﷲِ: إِنَّ اﷲَ هُوَ الْمُسَعِّرُ الْقَابِضُ الْبَاسِطُ الرَّازِقُ وَإِنِّي لَاَرْجُو اَنْ اَلْقَی اﷲَ وَلَيْسَ اَحَدٌ مِنْکُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ،،*

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھاؤ بہت چڑھ گئے ہیں لہٰذا ہمارے لیے نرخ مقرر فرما دیجیے۔ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نرخ مقرر کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، وہی رزق کی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور میں یہ تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملوں کہ تم میں سے کسی کا مجھ سے مطالبہ نہ ہو، جانی یا مالی زیادتی کا۔‘‘

*(📕ابي داؤد، السنن، 3: 272*

*(📗ابن ماجه، السنن، 2: 741)*

*الثمن المسي ہو الثمن الذي یسمیہ و یعنیہ العاقدان وقت البیع بالتراضي سواء کان مطابقاً لقیمتہ الحقیقیة أو ناقصاً عنہا أو زائداً علیہا،،*

*(📗شرح المجلہ رستم، ط: اتحاد ۱/۷۳)*

*(📕فتاوی ھندیہ سوم ص161میں ہے)*

*المرابحة بیع بمثل الثمن الأول وزیادة ربح ․․․․ والکل جائز ،،*

البتہ ایک مسلمان کے لیے مارکیٹ کی عام اور متعارف قیمت سے زیادہ وصول کرنا اور لوگوں کی مجبوری و لاعلمی سے فائدہ اُٹھانا جائز نہیں۔ 
*واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔*

 ا________(🖊)________
*کتبــہ؛*
*حضرت علامہ مفتی محمد شہروزعالم رضوی اکرمی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی صدر شعبئہ افتاء دارالعلوم قادریہ حبیبیہ فیل خانہ ہوڑہ کلکتہ بنگال؛*
*مورخہ؛9/3/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ🖊*
*رابطہ؛📞9883016746)*
ا_________(🖊)___________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین؛الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)___________
*الجواب صحیح والمجیب نجیح(حضرت علامہ مفتی)محمد شرف الدین رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی؛*
ا__________(💚)__________
413

Tuesday, December 8, 2020

عاصیوں کو ملا ہے جو در تمہارا غوث اعظم

عاصیوں کو ملا ہے جو در تمہارا غوث اعظم
بے ٹھکانوں کو ملا ہے اک ٹھکانا غوث اعظم

کتنا اونچاہوگا بھلامصطفی کارتبہ لوگوں
تیرے لیۓ۔ جب ہے دنیا  راٸ جیسا غوث اعظم

لاتخف کہتے ہوۓ آجانا محشر میں اے لوگوں
یہ حسیں اور پیارا مژدہ بھی سنایا غوث اعظم

 رہ گۓ دنگ دیکھ کر اتنی جگہ پر ایک ساعت
تم جو ستر گھرپہ دعوت جا کے کھایا غوث اعظم

مصطفی معراج میں رکھے تھے پاٶں کس کے دوش پر
ہر جگہ چرچا ہوا ہےآپ ہی کا غوث اعظم

میرا سایہ تو مریدوں پر ہمیشہ ہوگا سن لو
یہ تمھارا ہی ہےفرمان میرے آقا غوث اعظم

حشر میں عمران کو بھی دیکھ کر اے شاہ جیلاں
رب سے کہنا یہ مرا ہے نام لیوا غوث اعظم