Friday, July 10, 2020

خوشی کے موقع پر تالیاں بجانا کیسا ہے؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
_____________________________

🔷 سوال:خوشی کے موقع پر تالیاں بجانا کیسا ہے؟
_________________________________
📚✍ الجواب بعون الملک الوھاب

تالیاں بجانا منع ہے۔تفسیرِ کبیر میں ہے:حضرتِ سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں کہ کفار ِقریش برہنہ (بے لباس) ہو کر خانۂ  کعبہ کا طواف کرتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔(تفسیرِ کبیر، پ9، الانفال  ،  تحت الآیۃ:35،ج 5،ص481) بہارِ شریعت میں ناچنا اور تالی بجانا وغیرہ کو ناجائز فرمایا ہے۔(ماخوذ از بہارِ شریعت،ج3،ص511)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
________________________________
📚 ماہنامہ فیضان مدینہ 1439

✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

کیا بیٹھ کر اذان دے سکتے ہیں؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±±

🔷 سوال:کیا بیٹھ کر اذان دے سکتے ہیں؟
_______________________________
📚✍ الجواب بعون الملک الوھاب

بہارِ شریعت میں ہے:بیٹھ کر اَذان کہنا مکروہ ہے، اگر کہی اِعادہ کرے (یعنی دوبارہ دے)۔(بہارِ شریعت،ج 1،ص468)

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
______________________________
📚 ماہنامہ فیضان مدینہ 1439

✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

اگر کسی کی جیب یا وائلیٹ سے پیسے یا کوئی قیمتی چیز گر جائے تو کیا بندہ مؤمن کو اس پر ثواب دیا جاتا ہے؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷÷

🔷 سوال:اگر کسی کی جیب یا وائلیٹ سے پیسے یا کوئی قیمتی چیز گر جائے تو کیا بندہ مؤمن کو اس پر ثواب دیا جاتا ہے؟
_______________________________
📚✍ الجواب بعون الملک الوھاب

مسلمان کاجو نقصان ہو،چاہے ڈکیتی پڑ جائے یا چوری ہوجائے یا جیب سے کوئی چیز گر جائے یا کوئی بھی تکلیف پہنچے تو اس پر اسے ثواب ملتا ہے، اگر اس پر صبر کریں گے تو اب صبر کرنے پر بھی جداگانہ  ثواب ملے گا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
_______________________________
📚 ماہنامہ فیضان مدینہ 1439

✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

بچوں کا کارٹون دیکھنا کیسا ہے؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
_________________________________

🔷 سوال:بچوں کا کارٹون دیکھنا کیسا ہے؟
_________________________________
📚✍ الجواب بعون الملک الوھاب

آجکل کے کارٹون میوزک، واہیات و خرافات، مار دھاڑ سے بھرپور اور گناہ کے کام سکھانے والے ہوتے ہیں، ان کے دیکھنے سے بچوں کے ذہن  پر بُرا اَثر پڑتا ہے لہٰذا بچوں کو ایسے کارٹون نہ دیکھنے دیئے جائیں بلکہ ان کو ’’غلام رسول کے مدنی پھول“  دکھائے جائیں جو میوزک و مار دھاڑ سے پاک اور اچھی اور دینی باتوں پر مشتمل ہوتے ہیں تاکہ ان کی اچھی تربیت ہو۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
__________________________________
📚 ماہنامہ فیضان مدینہ 1439

✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

کیا قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا ضروری ہے؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
_____________✍_____________

سوال:کیا قربانی کے گوشت کے تین حصے کرنا ضروری ہے؟

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📚✍ الجواب بعون الملک الوھاب

مستحب ہے کہ قربانی کے گوشت کے تین حصے کئے جائیں: ایک حصہ اپنے لئے، ایک حصہ رشتے داروں کےلئے اور ایک حصہ غریبوں کےلئے۔(ماخوذ از فتاویٰ ھندیہ،ج 5،ص300)

اگر کوئی ایسا نہیں کرتا بلکہ سارا گوشت اپنے لئے رکھ لیتا ہے تب بھی جائز ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم
___________________________

📚 ماہنامہ فیضان مدینہ 1439

✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

lدو بھائیوں نے شادی کی شب زفاف میں دونوں نے ایک دوسرے کی بیوی سے انجانے میں جِماع کر لیاتو شرعاً كیا حکم ہے؟ـ

دو بھائیوں نے شادی کی شب زفاف میں دونوں نے ایک دوسرے کی بیوی سے انجانے میں جِماع کر لیاتو شرعاً كیا حکم ہے؟ـ

کیا فرماتے ہیں علماء ملت اسلامیہ اس مسئلہ کے بارے ميں دو بھائی ایک ساتھ شادی کیا جب دونوں بھائی بیوی کو گھر لایا لیکن ہمبستری کے وقت بیوی میں مشابہ ہوگیا مثلا چھوٹے کی بیوی بڑےبھائ کے پاس. اور بڑے بھائی کی بیوی چھوٹے بھائی کے پاس  ہمبستری کیا  اب صورت مسئلہ میں. کیا بیوی ویساہی رہے گی جیسا نکاح پڑھایا گیا تھا.  یا کچ اور صورت ہوگی.        جواب مع حوالہ عنایت فرمائیں کرم ہوگا.

سائل محمد شریف الحق رضوی

بســـم اللہ الــرحمٰــــن الـــــرحیـــم
الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مسؤلہ کلام یہ ھیکہ کوفہ کے ایک شخص نے بڑے دھوم دھام سے ایک ساتھ اپنے دو بیٹوں کی شادی کی؛؛  ولیمہ کی دعوت میں تمام اکابر موجود تھے مسعر بن کدام حسن بن صالح  سفیان ثوری؛؛ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہم شریک دعوت تھے لوگ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک صاحب خانہ بد حواس گھر سے نکلا اور کہا غضب ہوگیا زفاف کی رات عورتوں کی غلطی سے بیویاں بدل گئی جس عورت نے جس کہ پاس رات گزاری وہ اس کا شوہر نہیں تھا؛
لہذا سفیان ثوری نے کہا کہ امیر معاویہ کے زمانے میں ایسا واقعہ پیش آیا تھا اس سے نکاح پر کچھ فرق نہیں پڑتاہے البتہ دونوں کا مہر لازم ہوگا؛
 مسعر بن کدام حضرت امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ آپ کی کیا رائے ہے ہمارے امام؛ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا پہلے دونو‍ں لڑکے کو بلایا جائے تب جواب دونگا چنانچہ دونوں شوہر ( یعنی دونوں لڑکے)  کو بلایا گیا اور امام اعظم نے دونوں سے الگ الگ دریافت فرمایا کہ رات تم نے جس عورت کے ساتھ رات گزاری ہے اگر وہی تمہارے نکاح میں رہے تو کیا تمہیں پسند ہے؛  دونوں لڑکے نے امام اعظم کو جواب دیا جی ہاں تب ہمارے امام؛  امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تم دونوں اپنی اپنی بیوں کو جن سے تمہارا نکاح پڑھایا گیا تھا اسے طلاق دے دو اور ہر شخص اس سے نکاح کر لے جو اس کے ساتھ ہم بستر رہ چکی ہے
 
لہذا صورت مسؤلہ کا حل بھی یہی ہے جو ہمارے امام ـ امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کا فیصلہ ہے ـ

(عقود الجمان  ص 255 )

یاد رہے کہ حضرت سفیان ثوری نے جو جواب دیاتھا وہ بھی مسئلہ کے لحاظ سے صحیح تھا کیونکہ وطی بالشبہ کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا ہے مگر امام اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے جس مصلحت کو پیش نظر رکھا وہ انہی کے حکیمانہ فراست کا حصہ تھا اس لئے کہ وطی بالشبہ کی وجہ سے عدت تک انتظار کرنا پڑتا جو اس وقت ایک مشکل امر تھا پھر عدت کے زمانے میں ہر ایک کو یہ خیال گزرتا کہ میری بیوی دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہے اور اس کے ساتھ رہنے پر غیرت گوارہ نہ کرتی اور نکاح کا اصل مقصد الفت و محبت ہے لہذا اتحاد و اعتماد بڑی مشکل سے قائم ہوپاتا واہ ہمارے امام اعظم نے ایسے پیچیدہ مسئلہ کا حل حکیمانہ فراست سے بڑی آسانی میں فرمادیا کیا عظیم شان ہے ہمارے امام ـ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی اللہ اکبر کبیرا ؛؛

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

ازقلــم؛  العبد الاثیم خاکسار ابوالصدف محمد صادق رضاصاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی مقام؛ سنگھیاٹھاٹھول (پورنیہ)  خادم؛ شاہی جامع مسجد پٹنہ  بہار   الھند

الجواب صحيح والمجيب نجيح
محمد عثمان غنى جامعى مصباحى عفى عنہ دربهنگہ
الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء اللہ النعیمی خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی

الـمرتـب؛اسـیرتـاج الـشریـعـه
غـلام احمـدرضـاقـادی یـوپــی

فخر ازهر فقہى گروپ

#نکاح

Thursday, July 9, 2020

قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط دوم (2)- سوال 11 تا 20🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط دوم (2)- سوال 11 تا 20🌺
https://chat.whatsapp.com/FfX6PtkpycFLvof7qH5PPz
*سوال 11:*
اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟
*جواب :*
اگر کسی کے پاس صرف ایک تولہ سونا ہو اور اس کے علاوہ کوئی اور حاجت اصلیہ سے زائد مال نہ ہو تو قربانی واجب نہ ہو گی، اگرچہ ایک تولہ سونے کی قیمت فی زمانہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت سے زائد بنتی ہے۔ 
ہاں اگر ایک تولہ سونا کے ساتھ اس کے پاس کوئی حاجت اصلیہ سے زائد مال ہو جیسے کچھ روپے یا اضافی برتن یا کپڑے وغیرہ تو اس پر قربانی واجب ہو جائے گی.
 لہٰذا جن کے پاس ایک تولہ سونا  یا چند تولے سونا ہو تو وہ اس مسئلے کا ضرور خیال رکھیں کہ عموماً ان پر قربانی واجب ہوجاتی ہے کیونکہ سونے کے علاوہ کچھ نہ کچھ اضافی سامان ضرور ہوتا ہے.
*(ماخوذ از بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 196 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہار شریعت حصہ 15 جلد 3 صفحہ 333 مکتبۃ المدینہ کراچی وغیرہ)*
*سوال 12:*
اگر صاحبِ نصاب مسافر، سفر سے گھر واپس پہنچ جائے تو کیا اب اس پر قربانی واجب ہوگی؟ 
*جواب :*
اگر صاحبِ نصاب مسافر ایامِ قربانی میں سفر سے گھر واپس پہنچ جائے تو اس پر قربانی کرنا واجب ہوگا اور اگر ایامِ قربانی کے بعد گھر واپس پہنچا تو قربانی کا وقت گزر جانے کی وجہ سے اس پر قربانی کرنا واجب نہ ہوگا۔
*(الھدایہ جلد 4 صفحہ 443، 444 مکتبہ رحمانیہ لاہور)*
*سوال 13:*
اگر کسی شخص پر قربانی واجب ہو اور وہ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اپنے ماں، باپ کی طرف سے قربانی کر دے تو کیا ماں باپ کی طرف سے کی گئی قربانی درست ہوگی یا نہیں ؟
*جواب :*
جس شخص کے اوپر خود قربانی واجب ہو اور وہ اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اپنے ماں، باپ کی طرف سے قربانی کر دے تو ان کی طرف سے قربانی درست ہو جائے گی لیکن اس پر اپنی طرف سے قربانی کرنا واجب تھی اور اس نے اپنی طرف سے قربانی نہیں کی تو واجب کو چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اور اس کے سر سے اپنی قربانی کا بوجھ نہیں اترے گا. 
*(فتاوی امجدیہ جلد 3 صفحہ  314 مکتبہ رضویہ کراچی، فتاوی فیض الرسول جلد 2 صفحہ 440 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 14:*
اگر کوئی شخص مالکِ نصاب ہو مگر اس کے پاس نقد رقم نہ ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟
*جوب :* 
اگر کوئی شخص مالکِ نصاب ہو مگر اس کے پاس نقد رقم نہ ہو مثلاََ کسی کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا ہو لیکن نقد رقم نہ ہو تو اس پر قربانی واجب ہوگی لہذا وہ یا تو سونا بیچ کر قربانی کرے یا کسی سے قرض لے کر قربانی کرے. 
*(فتاویٰ رضویہ جلد 20 صفحہ 370 رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاویٰ امجدیہ جلد 3 صفحہ 315 مکتبہ رضویہ کراچی)*
*سوال 15:*
اگر کسی کے پاس ایسی زمین ہو کہ جس پر وہ کاشتکاری کرتا ہو اور وہ زمین اس کی آمدنی کا ذریعہ ہو اور اس زمین کی قیمت نصاب کی حد تک پہنچ رہی ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟
*جواب :*
اگر کسی کے پاس صرف ایسی زمین ہو کہ جس پر وہ کاشتکاری کرتا ہو اور وہ زمین اس کی آمدنی کا ذریعہ ہو اور اس زمین کی قیمت نصاب کی حد تک پہنچ رہی ہو تو اس پر قربانی واجب نہ ہوگی.
*(ماخوذ از فتاویٰ رضویہ جلد 20 صفحہ 367 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 16:*
اگر کسی کے پاس کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ وغیرہ ہوں تو کیا یہ حاجتِ اصلیہ میں شمار ہوں گے ؟
*جواب :* 
اگر کسی کے پاس کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ وغیرہ ہوں اور وہ ان کو فرض علوم سیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہو یا روز مرہ کے استعمال میں لاتا ہو خواہ روز مرہ کا استعمال گھریلو ہو یا کاروباری، تو یہ حاجتِ اصلیہ میں شامل ہوں گے اور اگر ان کا غیر ضروری استعمال کرتا ہوں تو یہ حاجتِ اصلیہ میں شامل نہ ہوں گے، اس صورت ان کو دیگر زائد سامان اور مال کے ساتھ جمع کرکے ان کی مالیت کو دیکھا جائے گا، اگر ان سب کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت تک پہنچ جائے تو قربانی واجب ہوگی ورنہ قربانی واجب نہ ہوگی. 
*(ملخصا و مُرَمَّماً از فتاوی اہلسنت کتاب الزکوٰۃ صفحہ 124 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 17:*
کیا شرعی فقیر پر قربانی واجب ہوتی ہے ؟
*جواب :* 
شرعی فقیر پر صرف دو صورتوں میں قربانی واجب ہوتی ہے :
1- جب شرعی فقیر نے قربانی کی منت مانی ہو. 
2 - جب شرعی فقیر نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو، (خاص اسی جانور کی قربانی اس پر واجب ہوتی ہے۔)
ان دو صورتوں کے علاوہ شرعی فقیر پر قربانی واجب نہیں ہوتی. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 291، 292 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ :* جو صاحبِ نصاب نہ ہو وہ شرعی فقیر کہلاتا ہے.
*(ماخوذ از بہارشریعت حصہ 5 جلد 1 صفحہ 924 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 18:*
اگر شرعی فقیر کے پاس پہلے سے جانور موجود ہو اور اس نے اس میں قربانی کی نیت کرلی تو کیا اب قربانی واجب ہوجائے گی؟ 
*جواب :*
اگر شرعی فقیر کے پاس پہلے سے گھر میں جانور موجود ہو اور اس نے اس جانور میں قربانی کی نیت کرلی تو اس پر قربانی واجب نہیں ہو گی، ایسے ہی اگر اس نے باہر سے جانور خریدا اور خریدتے وقت قربانی کی نیت نہیں کی تھی بلکہ بعد میں قربانی کی نیت کی تو اس پر بھی قربانی واجب نہیں ہوگی. 
البتہ ان دونوں صورتوں میں اگر قربانی کرے گا تو نفل کا ثواب پائے گا. 
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 465 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 452 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 19:*
کیا حاجی پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہوتی ہے ؟
*جواب :*
اگر حاجی مقیم (یعنی مسافر نہ ہو) اور مالدار (یعنی صاحبِ نصاب) ہو تو اس پر بقرہ عید کی قربانی واجب ہوتی ہے اور اگر حاجی مقیم نہ ہو بلکہ مسافر ہو تو اس پر بقرہ عید کی قربانی واجب نہیں ہوتی اگرچہ مالدار ہو. 
*نوٹ :*
بقرہ عید کی قربانی کا حرم شریف میں ہونا ضروری نہیں بلکہ اپنے ملک میں بھی کسی کو کہہ کر کروائی جاسکتی ہے البتہ اس میں دن کا خیال رکھنا ہوگا کہ جہاں قربانی ہونی ہے وہاں بھی اور جہاں قربانی والا ہے وہاں بھی دونوں جگہ قربانی کے دن ہوں. 
*(البحرالرائق جلد 2 صفحہ 606 مطبوعہ کوئٹہ، رفیق الحرمین صفحہ 194 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 20:* 
قربانی کے فضائل کیا ہیں؟
*جواب :*
قربانی کے فضائل بیشمار ہیں، جن میں سے بعض یہ ہیں : 
1- جانور کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی.
*(جامع ترمذی جلد 3 صفحہ 162 رقم الحدیث: 1498 دارالفکر بیروت)* 
2- قربانی نیکیوں کے پلڑے میں بروزِ قیامت رکھی جائے گی، جس سے قربانی کرنے والے کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہوجائے گا۔
*(اشعۃ اللمعات جلد 1 صفحہ 654 مطبوعہ کوئٹہ)*
3- قربانی پل صراط کی سواری بنے گی.
*(مرقاۃ المفاتیح جلد 3 صفحہ 574 دارالفکر بیروت)*
4- قربانی کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی سارے گناہ معاف ہو جائیں گے.
*(السنن الکبریٰ جلد 9 صفحہ 476 رقم الحدیث: 19161 دارالکتب العلمیہ بیروت)*
5- خوش دلی سے کی گئی قربانی جہنم کی آگ سے رکاوٹ بنے گی. 
*(المعجم الکبیر جلد 3 صفحہ 84 رقم الحدیث : 2736 دار احیاء التراث العربی بیروت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ 
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
09/07/2020
03068209672
*👈🤳🏻خود بھی پڑھیں اور بہ نیت ثواب دوسروں تک بھی پہنچائیں🤳🏻*
https://t.me/joinchat/AAAAAFG2o0-ENW8I0CZsOQ
*🤲دعا کیجیئے🤲دعا دیجیئے🤲دعا لیجیئے🤲علم دین حاصل کریں اور دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کریں🌹🤲🌳🤲❤🤲💚🤲🌳*
*بیان سننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں  اور چینل بھی سبسکرائب* 👇👇👇
https://www.youtube.com/channel/UCozd6j_NckxZnJcYJe0N6wQ
*نوٹ دینی مسائل سیکھنے کیلئے اس گروپ میں شامل ہو جائیں*
*🌸فیضان حضور صدر الشریعہ🌸*  
 *گروپ میں شامل ہو نے کیلئے  نیچے دی آئی ڈیوں پر رابطہ کریں*
*اور اپنے اچھے مشورے بھی دے سکتے ہیں اور کچھ کمی نظر آئے وہ بھی بتائیں* 

http://Wa.me/919326049045

http://Wa.me/919897759577

http://Wa.me/919027270234

http://Wa.me/917026351713

http://Wa.me/919838291162 
✍🏻مولانا محمد رضا نوری 
✍مولانا عبد الوارث رضوی 
✍مولانا شاہ رخ مصباحی 
✍مولانا غلام حسین رضوی
✍🏻حافظ محمد عاقب رضا

قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*🌺قسط اول (1)- سوال 1 تا 10🌺

*🌹قربانی کے مسائل اور ان کا حل🌹*
🌺قسط اول (1)- سوال 1 تا 10🌺
*سوال 1:*
قربانی کسے کہتے ہیں ؟ 
*جواب:*
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں اللہ پاک کی بارگاہ میں قُرب حاصل کرنے کے لیے یا نیکی کی نیت سے ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے. 
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 519 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 2:*
قربانی کا شرعی حکم کیا ہے ؟ 
*جواب:*
قربانی کبھی واجب ہوتی ہے اور کبھی صرف سنت و نفل ہوتی ہے. 
*(عیدِقربان صفحہ 11 مکتبہ اعلیٰ حضرت بحوالہ فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 291 مکتبۃ الفرقان کراچی)*
*سوال 3:*
قربانی کس پر واجب ہوتی ہے ؟ 
*جواب:*
ہر مسلمان مرد و عورت جو بالغ ہو، مقیم ہو (یعنی مسافر نہ ہو)، مالکِ نصاب ہو اور آزاد ہو تو اس پر قربانی واجب ہوتی ہے. 
*(الھدایہ جلد 4 صفحہ 443 مکتبہ رحمانیہ لاہور، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 521 تا 524 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ:* اس سے معلوم ہوا کہ قربانی اس پر واجب ہوتی ہے جس کے اندر درج ذیل پانچ شرائط پائی جائیں :
1- مسلمان ہونا
2- مقیم ہونا (یعنی مسافر نہ ہونا) 
3- آزاد ہونا (یعنی غلام نہ ہونا)
4- بالغ ہونا 
5- مالکِ نصاب ہونا۔
*سوال 4:*
اگر نابالغ مالدار ہو تو کیا اس پر قربانی واجب ہوگی ؟ 
*جواب:*
نابالغ اگرچہ مالدار ہو، اس پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 525 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 20 صفحہ 369 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 5:*
کیا عورت پر قربانی واجب ہوگی ؟ 
*جواب:*
اگر عورت مسلمان، بالغ، مقیم، آزاد اور مالکِ نصاب ہو تو مرد کی طرح اس پر بھی قربانی واجب ہوگی. 
*(ماخوذ از ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 9 صفحہ 524 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، قربانی کے احکام صفحہ 72 والضحی پبلی کیشنز)*
*سوال 6:*
قربانی والے مسئلہ میں مالکِ نصاب ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ 
*جواب:*
قربانی والے مسئلہ میں مالکِ نصاب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قربانی کے دنوں میں اس شخص کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی چاندی کی مالیت کے برابر رقم یا اتنی چاندی کی مالیت کے برابر مالِ تجارت یا اتنی چاندی کی مالیت کے برابر حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان ہو اور اس پر اتنا قرضہ نہ ہو کہ جس کو ادا کرنے کے بعد (اوپر بیان کردہ) نصاب باقی نہ رہے.
*(بہارشریعت حصہ 15 صفحہ 333 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 7:* 
حاجتِ اصلیہ سے کیا مراد ہے ؟
*جواب :* 
حاجتِ اصلیہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جن کی عموماً انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور ان کے بغیر گزر اوقات میں شدید تنگی اور دشواری ہوتی ہے جیسے رہنے کا مکان، پہننے کے کپڑے، سواری (موٹر سائیکل، گاڑی وغیرہ)، علمِ دین سے متعلق کتابیں، پیشے سے متعلق اوزار، خانہ داری کا ضروری سامان وغیرہ.
*(ماخوذ از بہارشریعت حصہ 15 صفحہ 333 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*نوٹ:* 
حاجتِ اصلیہ کی تعریف پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ درج ذیل چیزیں حاجتِ اصلیہ میں داخل نہیں ہوں گی اور اگر ان کی قیمت دیگر نصاب کی چیزوں کے ساتھ مل کر ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہوگئی تو قربانی واجب ہو جائے گی جیسے :
1- ڈیکوریشن پیسز
2- سینریز
3- سال بھر بالکل استعمال نہ ہونے والے برتن
4- سال بھر بالکل استعمال نہ ہونے والے کپڑے
5- ضرورت سے زیادہ بالکل استعمال نہ ہونے والا مکان
وغیرہ وغیرہ.
*سوال 8:*  
کیا مقروض پر قربانی واجب ہوتی ہے ؟
*جواب :* 
اگر مقروض (یعنی جس کے ذمے لوگوں کا قرضہ ہو،اس) کے پاس موجود کُل نصاب میں سے قرض کو نکال کر اتنا مال باقی بچے جو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر ہو تو قربانی واجب ہوگی اور اگر قرض کو نکالنے کے بعد اتنا مال باقی نہ بچے تو قربانی واجب نہ ہو گی. 
*(فتاوی عالمگیری جلد 5 صفحہ 292 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بدائع الصنائع جلد 4 صفحہ 196 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 9:*  
اگر کوئی شخص صاحبِ نصاب ہو لیکن اس نے سابقہ کسی سال میں زکوۃ نہ دی ہو یا سابقہ کسی سال قربانی نہ کی ہو تو اگر اس کی سابقہ سال کی زکوۃ کو یا سابقہ سال کی قربانی کے جانور کی قیمت کو اس کے موجودہ نصاب میں سے نکالا جائے تو اب نصاب باقی نہیں بچتا تو کیا ایسے شخص پر  قربانی واجب ہوگی یا واجب نہیں ہوگی؟
*جواب:*
 ایسے شخص پر قربانی واجب نہ ہو گی لہذا یہ پہلے سابقہ سال کی زکوۃ ادا کرے گا اور اگر قربانی نہیں کی تھی تو پہلے سابقہ سال کی قربانی کی طرف سے زندہ جانور، شرعی فقیر کو صدقہ کرے گا.
*(عیدِ قربان صفحہ 15 مکتبۃ الفرقان کراچی بحوالہ فتاوی رضویہ جلد 20)*
*سوال 10:*  
کیا شرعی مسافر پر قربانی واجب ہوتی ہے ؟
*جواب :* 
شرعی مسافر پر قربانی واجب نہیں ہوتی .
*(الہدایہ جلد 4 صفحہ 446 مکتبہ رحمانیہ لاہور)*
*نوٹ:*
شرعی مسافر وہ شخص ہے جو ساڑھے 57 میل (یعنی تقریباً 92 کلومیٹر) دور جانے کے ارادے سے اپنے شہر کی حدود سے باہر نکل گیا ہو یا اتنے فاصلے پر کسی جگہ پہنچ کر پندرہ دنوں سے کم ٹھہرنے کی نیت کی ہو.
*(ماخوذ از فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 270 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ
*ابواُسَیْدعبیدرضامدنی*
08/07/2020
03068209672
*👈🤳🏻خود بھی پڑھیں اور بہ نیت ثواب دوسروں تک بھی پہنچائیں🤳🏻*
https://t.me/joinchat/AAAAAFG2o0-ENW8I0CZsOQ
*🤲دعا کیجیئے🤲دعا دیجیئے🤲دعا لیجیئے🤲علم دین حاصل کریں اور دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کریں🌹🤲🌳🤲❤🤲💚🤲🌳*
*بیان سننے کیلئے اس لنک پر کلک کریں  اور چینل بھی سبسکرائب* 👇👇👇
https://www.youtube.com/channel/UCozd6j_NckxZnJcYJe0N6wQ
*نوٹ دینی مسائل سیکھنے کیلئے اس گروپ میں شامل ہو جائیں*
*🌸فیضان حضور صدر الشریعہ🌸*  
 *گروپ میں شامل ہو نے کیلئے  نیچے دی آئی ڈیوں پر رابطہ کریں*
*اور اپنے اچھے مشورے بھی دے سکتے ہیں اور کچھ کمی نظر آئے وہ بھی بتائیں* 

http://Wa.me/919326049045

http://Wa.me/919897759577

http://Wa.me/919027270234

http://Wa.me/917026351713

http://Wa.me/919838291162 
✍🏻مولانا محمد رضا نوری 
✍مولانا عبد الوارث رضوی 
✍مولانا شاہ رخ مصباحی 
✍مولانا غلام حسین رضوی
✍🏻حافظ محمد عاقب رضا

Wednesday, July 8, 2020

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم

نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
مگر نازم بہ ایں ذوقے کہ پیشِ یار می رقصم !!

نہیں جانتا کہ آخر دیدار کے وقت میں کیوں رقص کر رہا ہوں، لیکن اپنے اس ذوق پر نازاں ہوں کہ اپنے یار کے سامنے رقص کر رہا ہوں۔

تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیَم اے یار می رقصم !!

تو جب بھی اور جس وقت بھی نغمہ چھیڑتا ہے میں اسی وقت اور ہر بار رقص کرتا ہوں، اور جس طرز پر بھی تو ہمیں رقص کرواتا ہے، اے یار میں رقص کرتا ہوں۔

تُو آں قاتل کہ از بہرِ تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم !!

تُو وہ قاتل کہ تماشے کیلیے میرا خون بہاتا ہے اور میں وہ بسمل ہوں کہ خوں خوار خنجر کے نیچے رقص کرتا ہوں۔

بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہِ جانبازاں
بہ صد سامانِ رسوائی سرِ بازار می رقصم !!

آجا جاناں اور دیکھ کہ جانبازوں کے گروہ میں، میں رسوائی کے صد سامان لیے سر بازار رقص کر رہا ہوں۔

اگرچہ قطرۂ شبنم نہ پویَد بر سرِ خارے
منم آں قطرۂ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم !!

اگرچہ شبنم کا قطرہ کانٹے پر نہیں ٹھہرتا لیکن میں وہ قطرۂ شبنم ہوں کہ نوکِ خار پر رقص کرتا ہوں۔

خوش آں رندی کہ پامالش کنم صد پارسائی را
زہے تقویٰ کہ من با جبّہ و دستار می رقصم !!

واہ وہ رندی کہ جس کیلیے میں سیکنڑوں پارسائیوں کو پامال کر دوں، مرحبا یہ تقویٰ کہ میں جبہ و دستار کے ساتھ رقص کرتا ہوں۔

منم عثمانِ مروندی کہ یارے شیخ منصورم
ملامت می کند خلقے و من بر دار می رقصم !!

میں عثمان مروندی کہ شیخ منصور (حلاج) میرے دوست ہیں، مجھے خلق ملامت کرتی ہے اور میں دار پر رقص کرتا ہوں۔..

کون سی مچھلی کا کھانا حرام ہے؟

✨ *کون سی مچھلی کا کھانا حرام ہے؟*✨
*ا•─────────────────────•*
✍🏻 *الجـــــواب ........*
جو مچھلی پانی میں  مر کر تیر گئی یعنی جو بغیر مارے اپنے آپ مر کر پانی کی سطح پر اولٹ گئی وہ حرام ہے مچھلی کو مارا اور وہ مر کر اولٹی تیرنے لگی یہ حرام نہیں ۔
*(📗 بہار شریعت، جلد ۳ حصہ پانزدہم، ذبح کا بیان)*

✒️ حضرت سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا کہ’’سمندر جس مچھلی کو پھینک دے یا (مچھلی کے کنارے کے قریب پہنچنے پر) پانی پیچھے ہٹ گیا (اور وہ مچھلی خشکی میں آنے کے سبب مر گئی) تو ایسی مچھلی کو کھاؤ اور جو (بلا سبب) پانی میں مرکر اُلٹی تیر گئی وہ نہ کھاؤ ۔“
*(📗 مچھلی کے عجائبات، ص٣۱)* 
*(📗 ابو داؤد، حدیث ۳۸۱۵)*

*والله اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله تعالیٰ علیہ واٰلہٖ واصحابہ وبارک وسلم*

*ا•─────────────────────•*
✍🏻 *ازقلــــم*
 *ســید فیضـان الـقـادری*
 *رابطـہ نمبــر ؛7408251621*
*ا•─────────────────────•*

Tuesday, July 7, 2020

قوالی مع مزامیر یعنی ہارمونیم اور ڈھولک کے ساتھ حرام ہے

*🌹قوالی مع مزامیر یعنی ہارمونیم اور ڈھولک کے ساتھ حرام ہے:🌹*

*ـــــــــــــــــــــــ🔶♦🔶ـــــــــــــــــــــــ*
_*🌹اَلسَّــــلَامُ عَلَــــیْکُمْ وَرَحْـــمَتُہ اللُّہِ وَبَـــرَکَاتُہ*_

_*📜ســــوال:👈 بـــرائـــے عـــلـــمـــاء کـــرام👇*_
حضرت میرا ایک سوال ہے براۓ کرم جواب عنایت فرمائیں کی کیا  قوالی سننا جائز ہے یا نہیں
مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی,,

*💜 سائل:👈 حافظ اجمیر خان الٰہی نگر* 
*ـــــــــــــــــــــــ🔶♦🔶ـــــــــــــــــــــــ*
*🌹 _وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ  وَرَحْمَةُ اللّٰہِ وَبَــرَڪَاتُہْ_*

*📚🌹الجـــــوابــــــــــــــــــ' بعون الملک الوہاب اللہم ھدایة الحق والصواب👇*
*🕋 قوالی مع مزامیر یعنی ہارمونیم اور ڈھولک کے ساتھ حرام ہے*
*حدیث شریف میں ہے*
*لیکونن فی امتی اقوام* *یستحلون الحرم والحریر والخمر والمعازف*
*یعنی ضرور میری امت میں کچھ لوگ ایسے ہونے والے ہیں کہ حلال ٹھرائیں گے عورتوں کی شرم گاہ یعنی زنا اورریشمی کپڑوں اورشراب اورباجوں کو*

*📕 ایساہی فتاوی رضویہ جلد دہم نصف اول صفحہ 213  پر ہے*

  *🔰 جن لوگوں نے اس قوالی کی بزم  رچائ اور اورشرکت کی سب گناہ عظیم کےمرتکب ہوئے علانیہ توبہ استغفار اورآئندہ نہ کرنے کاعھد کریں*
 
*📗 فتاوی فقیہ ملت جلددوم صفحہ 338*

    _*🌹(واللّٰہ و رسولہ اعلم بالصواب)🌹*_
*ـــــــــــــــــــــــ🔶♦🔶ـــــــــــــــــــــــ*
*📝کتبــــــــــــہ؛📝*
*🖋حـضـرت  عـلامـہ ومـولانـا مفتی مـحـمّـد اسماعیل خان امجدی صــاحــب قــبــلہ مـدظـلــہ الــعــالــی والــنــورانــی*
*رابطہ کریں👇*
*📲 +91 9918562794*

👇🌹 *تصد یق شدہ*🌹👇

*✅الجواب' ھوالجواب واللہ ھوالمجیب المصیب المثاب*
*فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب و امام جامع مسجد مہا سمند (چھتیس گڑھ)*

*✅ ماشاءاللہ الجواب صحیح والنجیح*
 *فقط محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الوری ڈانگا لکھیم پورکھیری یوپی*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*فقط غــلام تـــاج الشـریــعــــہ*
*مـحـمـد جـعـفــــــرالقـادری صــاحب قــبلــہ خـادم دارالعــلوم رضــویـہ امدادالعلـــوم بلـــرامپـــور یـــوپـــــــــــــــــــی*

*سبحان اللہ بہت عمدہ وجامع جواب ہے*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح*
*محمد امجد علی نعیمی صاحب قبلہ غفرلہ رائیگنج،اتردیناجپوربنگال*
*خطــــــــــیب وامـــــــــام*
*مســـــــجـــد نیــــم والی*
*مرادآباد،اترپردیش،الھـــند*
*ـــــــــــــــــــــــ🔶♦🔶ـــــــــــــــــــــــ*
*ٹیلیگرام پرمحفل غلامان مصطفےٰﷺ گروپ میں ایڈ کیلئے اِس لینک پر کلک کریں👇*
*https://t.me/MahfileGulamaneMustafaGroup*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧* 
*🕋محــفـــل غــلامــان مصطــفیٰﷺگــروپ* 
*بــتاریـخ(21)اگست (2019)عــیــســوی🕋*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*🖥المـــشـــتــــــــہر؛🖥*
*المنتظمین!!!محفل غلامان مصطفیٰﷺ گروپ* 
*فقط غــلام تـــاج الشـریــعــــہ*
*مـحـمـد جـعـفــــــرالقـادری صــاحب قــبلــہ خـادم دارالعــلوم رضــویـہ امدادالعلـــوم بلـــرامپـــور یـــوپـــــــــــــــــــی*
*گــروپ ھٰــذا مـــیـــں ایـــڈ کــیـلـــئـــے رابـــطہ کـــریـــں:👈 9984186617 91+📲*
*•─────────────────────•*
  *💓 (محفل غلامان مصطفیٰﷺ گروپ) 💓*
*•─────────────────────•*
*🌿ـــــــــــــــــــــ🌼🌸🌺ـــــــــــــــــــــ🌿*

بغیر دانت کے جانور کی قربانی کا حکم

*🌹بغیر دانت کے جانور کی قربانی کا حکم 🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے ایک بکرا خریدا جو سال بھر سے زائد کا ہے اور جملہ عیوب سے پاک ہے بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے پیدائشی ہی دانت نہیں ہے آیا اس کی قربانی جائز ہے یا نہیں دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پیدائشی دانت تھے بعد میں ٹوٹ گئے توکیا ایسے جانور کی قربانی جائز ہے کہ نہیں 
*🌹سائل محمد منظور عالم رفاقتی ممبرا🌹*
ا__________💠⚜💠___________
*و علیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ*
*📝الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ⇩*
صورت مستفسرہ میں اگر وہ بکرا گھاس وغیرہ کھانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ورنہ نہیں 

📑جیساکہ حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان بھار شریعت میں تحریر فرماتے ہیں "جس کے دانت نہ ہوں اسی کے تحت حاشیہ میں ہے 
"یعنی ایسا جانور جو گھاس کھانے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ہاں البتہ اگر گھاس کھانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے 
*( 📕جیساکہ "بحر الرائق ج:8/ص:323 )*
*( 📔اور" ھدایۃ شریف ج:2/ص:359)*
*( 📘اور"تبین الحقائق ج:6/ص:481 )*
*( 📙اور"فتاوی خانیہ ج:2/ص:334 )*
*(📓اور"فتاوی ھندیہ ج:5/ص:298"پر مذکور ہے)*

*(📚بھار شریعت ج:3/ح:15/ص:341/مطبوعہ المکتبۃ المدینہ)*

*🌹واللہ تعالیٰ اعلم🌹*
ا__________💠⚜💠___________
*✍🏻کــــــتـــــــبـــــہ*
*حضرت علامہ مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*
*🗓 ۵ اگست بروز سوموار ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* https://wa.me/+919756464316
ا___________💠⚜💠__________
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________💠⚜💠__________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
ا__________💠⚜💠___________

گھوڑے کا گوشت کھانا کیسا ہے؟

*🔸گھوڑے کا گوشت کھانا کیسا ہے؟؟🔸*


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیافرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کہ گھوڑے کا گوشت کھانا کیسا ہے. ؟
برائے مہربانی جواب مدلل جواب مرحمت فرما کر ممنون و مشکور ہوں
*فخر ازھر چینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔹سائل عبدالکلام رضوی بریلی شریف یوپی🔹*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب بعون الوھاب* 
*وعن جابران رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى يوم خيبر عن لحومِ الحمر الاهلية واذن في لحوم الخيل*
روایت ہے حضرت جابر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشتوں سے منع فرمایا  اور گھوڑوں کے گوشتوں کی اجازت دی
*(مسلم،بخاری)*
اس حدیث کی شرح میں حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ " یعنی شروع اسلام میں گدھا پالتو حلال تھا،غزوہ خیبر میں قیامت تک کے لیے حرام کردیا۔اس خیبر میں عورتوں سے متعہ حرام ہوا اس کی حرمت بھی تاقیامت ہے گھوڑے کی حلت میں فقہاء کا اختلاف ہے۔امام شافعی،احمد اور صاحبین کے نزدیک حلال ہے،یہ حدیث حلال فرمانے والوں کی دلیل ہے
۔امام اعظم رحمۃ اللہ  علیہ کی دلیل وہ آیت کریمہ ہے کہ رب تعالٰی نے گدھا،خچر، گھوڑا ان تینوں کو جمع فرما کر فرمایا"
*" والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینة"*
کہ یہ تینوں جانور سواری اور زینت کے لیے پیدا فرمائے۔ معلوم ہوا کہ ان تینوں میں سے کوئی کھانے کے لیے نہیں مگر چونکہ گھوڑے کی حرمت شرافت وکرامت کی بناء پر ہے اس لیے اس کا جھوٹا پاک ہے جیسے انسان کہ اس کا گوشت حرام مگر جھوٹا پاک

📄،نیز ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ نے حصرت خالد ابن ولید سے روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے گھوڑے،خچر اورگدھے کے گوشتوں سے منع فرمایا

📜،نیز نسائی شریف نے حضرت سلمہ ابن نفیل سکونی سے روایت کی کہ حضور نے گھوڑے کو ذلیل کرنے اور اس پر ذلت سے بوجھ لادنے سے منع فرمایا۔
اس حدیث کے چند جواب دیئے:ایک یہ کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ وہ ہی حدیث خالد ہے جو ابھی عرض کی گئی۔دوسرے یہ کہ گھوڑے کے متعلق حلت و حرمت دونوں کی روایات ہیں اور جب حلت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔ تیسرے یہ کہ یہاں اذن بمعنی رخص ہے بلکہ بعض روایات میں رخص ہی ہے
لہٰذا مطلب یہ ہوا کہ غزوہ خیبر میں ایک ضرورت کی وجہ سے گھوڑا کھانے کی اجازت دی یہ اجازت خصوصی تھی۔چوتھے یہ کہ اگر گھوڑا گائے بھینس کی طرح حلال ہوتا تو اس کی قربانی بھی جائز ہوتی، حالانکہ اس کی قربانی کسی نے جائز نہ کی۔پانچویں یہ کہ حضور اور خلفاء راشدین سے گھوڑا کھانا کبھی ثابت نہیں۔

📃اور صاحب ہدایہ تحریر فرماتے ہیں کہ آدمی کا گوشت ان کی کرامت و بزرگی کی وجہ سے حرام ہے اور گھوڑے کا گوشت شرافت کی وجہ سے حرام ہے 
*"لحم الآدمی حرام لکرامتہ و لحم الفرس حرام لشرافتہ*
*( 📚مراۃ المناجیح جلد ۵ صفحہ ۷۳۱  )*

*🔸واللہ اعلم باالصواب🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍کتبــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت علامہ مفتی محمد مظہر علی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خادم التدریس مدرسہ غوثیہ حبیبیہ بریل دربھنگہ بہار*
*🗓 ۹ رمضان المبارک ۴۴۱؁ھ مطابق ۳ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار*
*رابطه* https://wa.me/+918051028089
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح خلیفئہ حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی سید شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ