Tuesday, July 7, 2020

غصّے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

*🕳غصّے کی حالت میں طلاق دینے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟🕳*
*________(🖊)__________ا*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*🌷ســـــوال👇*
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مسئلہ ھذا کہ بارے میں کہ "زید اپنی بیوی زینب کو اپنے موبائل سے مائکے فون کرنے سے منع کرتا ہے کہ تم اس موبائل سے مائکے فون نہیں کروگی ، لیکن زینب نے اسی موبائل سے اپنے مائکے فون کی ، تو زید آیا اور کہا کہ تم اس طرح نہیں مانوگی ، اس گھر میں تمہاری مرضی چلنے والی نہیں ہے اپنی مرضی تم اپنے مائکے میں چلانا تو زینب نے کہا چھوڑ دو تب اسی وقت زید نے غصّہ میں کہا تب جا ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق"-تو ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟برائے کرم مدلل ومفصل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی -
*السائل=== محمد غفران رضا جھارکھنڈ*  

*ٹیلیگرام پرمحفل غلامان مصطفےٰﷺ گروپ میں ایڈ کیلئے اِس لینک پر کلک کریں👇*
*https://t.me/MahfileGulamaneMustafaGroup*
*گوگل پرپڑھنے کےلئےاِس لنک پر کلک کریں👇*
*https://ajharigroup.blogspot.com*
*________(🖊)__________ا*
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ
*📜الجـــــوابـــــــــــــــ: بعون الملک الوھاب*
طلاق مغلظہ (یعنی تین طلاق واقع ہو گئیں) اب وہ عورت اس پر حرام، اور اس کے لئے اجنبیہ بن گئی، اس لئے کہ غصّے کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، بلکہ عموماً لوگ غصّہ ہی میں طلاق دیتے ہیں، 
*فتاویٰ شامی میں غایتہ البیان سے ہے " یقع طلاق من غضب " (ج ٣ صفحہ ٢٤٤)* 

*لہذا_________!!*
 دونوں ایک دوسرے سے الگ رہیں، میاں بیوی کے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، اگر یہ ایسا نہ کریں تو سب مسلمان ان کا بائکاٹ کریں،،"
*📓((فتاویٰ فقیہ ملت جلد دوم صفحہ 11))*
*📓((فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد اول، کتاب الطلاق، صفحہ 583))*

*اب_____________↓↓↓*
اگر وہ شخص اس عورت کو دوبارہ اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو پہلے دوسرے سے حلالہ کروائے، پھر از سر نو نکاح کرے,
 *خدائے تعالیٰ کا فرمان ہے____!!*
 *(" فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ")*
*(پ ٢ ع ١٣)* 
 
اورجیساکہ حـضــور صــدر الشــریعـہ بــدر الطــریقـہ حضـرت عـلامــہ امـجــد عــلی خــان اعــظمـی علیہ الرحمۃ والرضوان مشہور زمانہ کتاب بہـــار شـــریعــت میں تحریر فرماتے ہیں کہ"جس عورت کو تین سے کم طلاق بائن دی ہے اس سے عدت میں بھی نکاح کر سکتا ہے اور بعد عدت بھی،، اور تین طلاقیں دی ہوں یا لونڈی کو دو تو بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا،.(الی الآخر)
*📓((بہار شریعت حصہ 8 صفحہ نمبر 177"))*
اور حلالہ کی صورت یہ ہے کہ۔۔۔اگر عورت مدخولہ ہے تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور یہ شوہر ثانی اس عورت سے کم سے کم ایک بار وطی بھی کرے،  اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے،، اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو شوہر اول کے طلاق دینے کے بعد فوراً دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے، اس کے لئے عدت نہیں،، اگر شوہر ثانی ‌نے بغیر ہمبستری طلاق دے دی یا مرگیا  تو حلالہ صحیح نہیں ہوگا، کما فی حدیث العسیلہ،،
*📓((بہار شریعت حصہ آٹھ صفحہ نمبر 177 مطبوعہ دعوت اسلامی"))*

⁩اور رہی بات عدت کے بارے میں۔۔۔فتاویٰ قاضی خاں میں ہے طلاق والی مدخولہ عورت اگر حاملہ آئسہ اور نابالغہ نہ ہو تو اس کی عدت تین حیض ہے خواہ یہ تین حیض تین ماہ یا تین سال یا اس سے زیادہ میں آئیں،،
*📓قرآن مجید پارہ ٢ رکوع ١٢ میں ہے👇*
*_("والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلثة قروء-"📖)_*
اور اگر حاملہ عورت ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے،،

*📓((فتاوی فقیہ ملت جلد دوم باب العدت صفحہ نمبر 63"))*

*اب_____________↓↓*
وہ عورت بعد عدت کسی سے بھی نکاح کر سکتی ہے' بشرطیکہ وہ محرمات یا رضاعت وغیرہ،، یا کوئی وجہ مانع نکاح نہ ہو, اللّٰہ تعالیٰ نے بیان محرمات کے بعد فرمایا کہ

*_(📖"واحل لکم ماوراء ذالکم "📖)_*
*📓((قرآن مجید پارہ 5 آیت نمبر 1"))*

*واللّٰہ تبارک تعالیٰ اعلم بالصواب* 
*المفتقر الی رحمۃ اللہ التواب*
*________(🖊)__________ا*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*حضــرت علامــہ ومــولانا محمـد اختــر رضـا نـوری صــاحــب قبلــہ مدظلــہ العالــی والنورانی بہادر گنج ضلع کشـــــن گنج بہار*
*(مــــــورخــــــہ:👈 7/05/2020)*
*🍃محفل غلامان مصطفیٰﷺگروپ🍃*
*🌹رابـــطـــہ نـــمـــبـــر 👇*
*📲+91 7782988809*

*ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب*
*✅الجوابـــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی* خطیب وامام جامع مسجد مہاسمند(چھتیس گڑھ)
رابطہ نمبر 👇
*https://wa.me/+917860124553*
*________(🖊)__________ا*
*📁المشتـــــہر👇*
*المنتظمین!!!محفل غلامان مصطفیٰﷺ گروپ*
*مـحـمّـد رضــا بـرکاتـی مقـام جـئےنـگـرضـلـع روتـہـٹ(نیپــال)*
*🌹رابطہ نمبر 👇*
*📲+91 7237805032*
*________(🖊)__________ا*
*🍃محفل غلامان مصطفیٰﷺگروپ🍃*
*

جلسوں میں شاعروں پر پیسہ لُٹانا کیسا ہے

*🌹جلسوں میں شاعروں پر پیسہ لُٹانا کیسا ہے🌹*

*السّلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ*
کیا فرماتے ہیں علماء و مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ *جو آج کل نعت خوانوں پر جلسوں یعنی محافل  میں پیسے نوٹوں کی صورت نچھاور کئیے جاتے ہیں* کیا یہ عمل درست ہے یا نہیں؟
بحوالہ کتب معتبر کی روشنی میں مدلل و مفصّل جواب ارسال فرمائیں
*🌹ساٸل۔ محمد ایوب رضا قادری(کولکاتہ)🌹*
ا__________💠⚜💠___________
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
 *📝الجـــوابــــــــــــــ   ـ !!!!!!!!⇩*
جلسوں وغیرہ میں نعت خوانوں اور شاعروں پر پیسہ یا نوٹوں کو لوٹانا یا پھینکنا جائز نہیں
 بلکہ ان کے ہاتھ یا گود رکھ دیں 
📑جیسا کہ امام اہلسنت سیدی اعلٰی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں کہ " 
*" پیسے پھینکنا یا ہوا میں اڑانا منع ہے کیونکہ پیسہ رزق ہے اور رزق کی بے حرمتی جائز نہیں ہے " اھ :*
*(📙 فتاوى رضویہ ج 24 ص 520 : رضا فاؤنڈیشن لاہور )*
🍭اس سے ثابت ہوا کہ نعت خواں یا عالم دین کے سر یا گود میں پیسے ڈالنا کہ جس میں بے ادبی کا پہلو نہ ہو تو جائز ہے ۔

*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*
ا__________💠⚜💠____________
*✍🏻شرف قلم حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*🗓 ۱۵ مئی بروز بدھ ۲۰۱۹ عیسوی* https://wa.me/+917666456313
ا___________💠⚜💠___________
*🔸امام اعظم گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________💠⚜💠___________
*المشتـــہر؛*
*منـتـظـمـیـن امـام اعـظـم گــروپ؛ محمد ایوب خان یار علوی بہرائچ*
ا__________💠⚜💠___________

Monday, July 6, 2020

جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا عندالشرع کیسا ہے؟

*🕳جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا عندالشرع کیسا ہے؟🕳*
*________(🖊)__________ا*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

*🕯ســـــوال👇*
حضرت جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا کیسا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں یہ بدعت ہے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی"
*سائل........... نــاظم رضــــا پورنپور*

*ٹیلیگرام پرمحفل غلامان مصطفےٰﷺ گروپ میں ایڈ کیلئے اِس لینک پر کلک کریں👇*
*https://t.me/MahfileGulamaneMustafaGroup*
*________(🖊)__________ا*
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ

*📜الجـــــوابــــــــــــــــــ: بعون الملک الوہاب* 
جمعہ کےدن کی مبارک باد دینا بالکل جائز ہے کیونکہ:
*پہلی بات👇* 
تو یہ کہ شریعت نے اس سے منع نہیں کیا اور جس کام سے شریعت منع نہ کرے وہ بالکل جائز ہوتا ہے,

جیسا کہ حدیثِ مبارکہ ہے:👇
*("اَلْحَلاَلُ مَااَحَلَّ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَالْحَرَامُ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ وَمَاسَکَتَ عَنْہُ فَھُوَمِمَّاعَفَاعَنْہٗ")*
یعنی حلال وہ ہے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں حرام کیا اور جس سے خاموشی اختیار فرمائی (یعنی منع نہ فرمایا) وہ معاف ہے
(یعنی اس کے کرنے پر کوئی گناہ نہیں)۔

*📕{جامع ترمذی ابواب اللباس باب ماجاءفی لبس الفراء ،سنن ابن ماجہ ،المستدرک للحاکم}*

*🖋دوسری بات👇*
 جمعہ کا دن ہمارے لیۓ مبارک اور اچھا ہے اور مبارک و اچھی بات کی مبارک باد دینا، اس کی اصل صحیح حدیثِ مبارکہ سے ثابت ہے چنانچہ:
"معراج کی رات جب نبی پاک ﷺکا گزر آسمانوں سے ہوا تو انبیاءکرام علیٰ نبیناوعليهم الصلاة والسلام نے آپ ﷺ کو معراج پر مبارک باد پیش کی۔👇 
*{کمافی کتب الاحادیث مشھور}*

لہذاثابت ہوا کہ جمعہ کے دن کی مبارک باد دینا بالکل درست وجائز ہے اور اس سے روکنے والا جاھل و احمق ہے۔

*واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وﷺ*
*________(🖊)__________ا*
*✒کتبــــــــــــــــــــــہ*👇
*حضرت علامہ ومولانا محمد ابواسیدعبید رضا مدنی صاحب قبلہ غفرلہ*
*مورخہ:23/02/2020*
*🍃محفل غلامان مصطفیٰﷺگروپ🍃*
 رابطہ نمبر 👇
*📲+03068209672*

*ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب*
*✅الجوابـــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی* خطیب وامام جامع مسجد مہاسمند(چھتیس گڑھ)
رابطہ نمبر 👇
*https://wa.me/+917860124553*
*________(🖊)__________ا*
*📁المشتـــــہر👇*
*منجانب:منتظمین محفل غلامان مصطفیٰﷺگروپ محمد مکّی رضا خان قادری نظامی مہسوتھوی سیتامڑھی(بہار)*
رابطہ نمبر 👇
*📲+91 9135171974*
*________(🖊)__________ا*
*🍃محفل غلامان مصطفیٰﷺگروپ🍃*
*میں شامل ہونے کے لئے رابطہ کریں👇*
*📲+91 7860124553*
*...........................................................*

جانور ذبح کرتے ہوئے چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے، تو کیا حکم ہے؟

*✨ جانور ذبح کرتے ہوئے چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے، تو کیا حکم ہے؟✨*
*ا•─────────────────────•*
✍🏻 *الجـــــواب ........*
✒️ *حضور صدرالشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں :*
اس طرح ذبح کرنا کہ چھری حرام مغز تک پہنچ جائے یا سر کٹ کر جدا ہو جائے مکروہ ہے مگر وہ ذبیحہ کھایا جائے گا یعنی کراہت اس فعل میں ہے نہ کہ ذبیحہ میں۔

✒️ عام لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ ذبح کرنے میں اگر سر جدا ہوجائے تو اس سر کا کھانا مکروہ ہے یہ کتب فقہ میں نظر سے نہیں گزرا بلکہ فقہا کا یہ ارشاد کہ ذبیحہ کھایا جائے گا اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ سر بھی کھایا جائے گا ۔
*(📗 بہار شریعت، جلد ۳ حصہ پانزدہم، ذبح کا بیان)*

*والله اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی الله تعالیٰ علیہ واٰلہٖ واصحابہ وبارک وسلم*

*ا•─────────────────────•*
✍🏻 *ازقلــــم*
 *ســـید فیضــان الـقـادری*
 *رابطـہ نمبـــر ؛7408251621*
*ا•─────────────────────•*

میں تجھے چھوڑ دونگا" کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟

*🔸"میں تجھے چھوڑ دونگا" کہنے سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟🔸*

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎ 
کیافرماتے ہیں علماے کرام ومفتیان شرع عظام مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تجھے چھوڑ دوں گا اِسی لفظ کو تین بار کہا امرطلب سوال یہ ہے کیا طلاق واقع ہو جاۓ گا ؟ عندالشرع اِسکا کیا حکم ہے  جلد ازجلد مع  حوالہ قرآن وحدیث کے روشنی میں جواب عنایت فرماکر شکریہ موقع دیں
*فخرازھرچینل ⇩*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل محمد انور رضا رضوی ازہری اتردیناجپور بنگال🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمت اللّٰہ وبرکاتہ*

*الجواب :* بر صدق سائل اگر واقعی زید نے اپنی بیوی سے یہ کہا کہ "میں تجھے چھوڑ دونگا" تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی اگر چہ کتنی ہی بار کہا ہو یہاں تک کہ اگر "چھوڑ دونگا" کی بجائے "طلاق دیدونگا" کہتا جب بھی طلاق واقع نہیں ہوگی اس لئے کہ یہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے اور محض ارادہ یا وعدہ پر طلاق واقع نہیں ہوتی ہے - مگر ایسے الفاظ بولنے سے احتراز و اجتناب کرنا چاہیے - 

📑حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ علیہ الرحمۃ والرضوان فتاوی امجدیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ 
" اگر واقعی یہی لفظ کہے تھے کہ "طلاق دیدونگا" طلاق نہ ہوئی کہ یہ طلاق دینا نہیں ہے بلکہ آئندہ طلاق دینے کا اظہار ہے اور محض اس ارادہ یا وعدہ پر طلاق نہیں ہوتی *" لأن ھذا اللفظ متعین لاستقبال لا یقع بہ الطلاق کما فی الفتاوی الخیریہ وغیرھا " اھ*
*( 📚ج:2/ص:171/ کتاب الطلاق)*

*🔸واللہ تعالیٰ اعلم🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت علامہ مفتی محمد اسرار احمد نوری بریلوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*
*🗓 ۱۴ ذی القعدہ ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۶ جولائی ٠٢٠٢؁ء مطابق بروز سوموار*
*رابطہ* https://wa.me/+919756464316
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح وصواب حضرت مفتی محمد امین قادری رضوی صاحب قبلہ دیوان بازار مراداباد یوپی*
*✅الجواب صحیح و المجیب نجیح حضرت مولانا محمد جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث.وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

نوٹوں کا سہرا پہننا از روئے شرع کیسا ہے ؟

*🍃نوٹوں کا سہرا پہننا از روئے شرع کیسا ہے ؟؟*
*⌛ــــــــــــــــــــ💎🪔💎ــــــــــــــــــــ⌛*
*اسلامی معلومات گروپ کے مسئلے ویب سائٹ پر پڑھنے کے لئے نیچے لنک پر کلک کریں👇*
*http://islamimalumatgruop.blogspot.com*
 ☆ *_اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ_*☆
 *💞الـســــوال💞*
_*📜کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نوٹوں والا سہرا مرد کو شادی پہ پہننا جائز ہے یا نہیں عدم جواز ہو تو اسکی علت بھی بیان فرما دیں جزاک اللہ خیرا آمین*

_*🖍الســـاٸل:👈سائل محمد شاکر رضوی*
 ؛
*⌛ــــــــــــــــــــ💎🪔💎ــــــــــــــــــــ⌛*
*💓وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ💓*   
*📝الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب*👇 
*🔗صورت مسئولہ میں مرد و عورت دونوں کو نوٹوں کا ہار (مالا) پہننا اور پہنانا جائز نہیں؛ صرف پھولوں کا ہار پہننا پہناناجائز ہے؛جیساکہ فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے نوٹوں کا ہار ناجائز ہے کہ ہار صرف پھول ہی کا جائز ہے اور مسئلہ مسئولہ میں نوٹوں کا ہار پہنانے کی رسم ناجائز ہے اس لئے ان سے بچیں"*
" *(📕فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد دوم صفحہ 379) [فقیہ ملت اکیڈمی اوجھا گنج بستی]*
*🔗علت ناجاٸزیہ ہےکہ اس نوٹ پر کافرو وجانورں کی تصاویر ہوتی ہیں اور گلے میں ڈالنے سے ایک طرح کافر وں کی تعظیم بھی ہے اس لئیے ناجائز وحرام ہے (📗کتب فقہ وفتاوی).*

*⛺واللہ تعالی اعلم باالصواب*⛺
*⌛ــــــــــــــــــــ💎🪔💎ــــــــــــــــــــ⌛*
*( ✍ )کتبـــــــــــــــــــــــــہ( 👇 )*
*حــضـــرت عـــلامــہ و مـــولانــا محمــــــــد معصــــوم رضـــا نـــوری عـــفی عـــنہ صـاحـب قبـلـہ مـدظلــہ الـعالـی والـنـوارنــی*
*مقام: 👈منــــگلور کــــرناٹــــک انــــڈیا*
*{ رابـــــــــــطــــــــہ نـــــمـــــــبـــــــــر }👇*
. *📲 + 9 1 8 0 5 2 1 6 7 9 7 6👈* 
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧* 
*🕋اســلامی مـعـلـومات گــروپ* 
*بــتاریـخ(15) اپریل (2020 )عــیــســوی🕋*
*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*🖥المـــشـــتــــــــہر؛🖥*
*المنتظمین!!!مـــحــــمــــد شـــفــــیــــــق رضـــــا رضــــــوی جـــواہــــــر نـــــگـر قــــصــــــبہ بــــــھـــــــوا ضـلــــع فــــــــتـــح پــــــور الـــــــھــــنـــد*
*گــروپ ھٰــذا مـــیـــں ایـــڈ کــیـلـــئـــے رابـــطہ کـــریـــں:👈 7052569971 91+📲*
*•─────────────────────•*
  *🔅(اســـــــلامی مـــعــلــومات گــــروپ)🔅*
*•─────────────────────•*
*🌿ـــــــــــــــــــــ🌼🌸🌼ـــــــــــــــــــــ🌿*

Sunday, July 5, 2020

سنا ہے اِنجیل وغیرہ میں لوگوں نے کافی ردّوبدل کر ڈالا ہے کیا پھر بھی اس پر ایمان لاناہو گا ؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
+++++++++++++++++++

سُوال :  سنا ہے اِنجیل وغیرہ میں   لوگوں   نے کافی ردّوبدل کر ڈالا ہے کیا پھر بھی اس پر ایمان لاناہو گا ؟
<><><><><><><><><><><><>

📚 الجواب بعون الملک الوھاب

✍ صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  آسمانی کتابوں   کے بارے میں   اسلامی عقیدے کی وضاحت کرتے ہوئے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارِ شریعت  حصہ اوّلصَفْحَہ 29پر فرماتے ہیں    : سب آسمانی کتابیں   اور صحیفے حق ہیں   اور سب کلامُ اللہ  ہیں  ، اُن میں   جو کچھ ارشاد ہوا سب پر ایمان ضَروری ہے ، مگر یہ بات البتّہ ہوئی کہ اگلی کتابوں   کی حِفاظت اللہ  تعالیٰ نے اُمّت کے سپرد کی تھی، اُن سے اُس کا حِفظ(تحفُّظ) نہ ہوسکا، کلامِ الٰہی جیسا اُترا تھا اُن کے ہاتھوں   میں   وَیسا ہی باقی نہ رہا، بلکہ اُن کے شریروں   نے تو یہ کیا کہ اُن میں   تحریفیں   کر دیں  ، یعنی اپنی خواہش کے مطابِق گھٹا بڑھا دیا ۔  لہٰذا جب کوئی بات اُن کتابوں   کی ہمارے سامنے پیش ہو تو اگر وہ ہماری کِتاب (قراٰن مجید)کے مطابِق ہے ، ہم اُس کی تَصدیق کریں   گے اور اگر مخالِف ہے تو یقین جانیں   گے کہ یہ اُن کی تَحرِیفات (تبدیلیوں  )سے ہے اور اگرمُوافَقَت مخالَفَت کچھ معلوم نہیں   تو حکم ہے کہ ہم اس بات کی نہ تصدیق کریں   نہ تکذیب(نہ درست مانیں   نہ جُھٹلائیں  )، بلکہ یوں   کہیں   کہ :  اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ ۔  ’’ اللہ (عَزَّوَجَلَّ )اور اُس کے فرشتوں   اور اُس کی کتابوں   اور اُس کے رسولوں   پر ہمارا ایمان ہے ۔  ‘‘

📚کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب۔رسالہ ۔دعوت اسلامی

✍ کتبہ۔حضرت مولانا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری صاحب قبلہ
📞9773617995📞

🔘 المشتھر ۔فلاح دارین گروپ۔ 
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں 👇
📲9773617995📱

کچھ میمن و غیر میمن لوگ مل کر بیٹھے تھے ۔ اس میں میمن برادری کے بارے میں بات چِھڑی، اِس پر ایک شخص نے مذاقاً کہا : میمن بھائیوں کی تو بَہُت بڑی شان ہے دیکھو ان کا ذکر قراٰنِ مجید میں بھی موجود ہے ! یہ کہہ کر اُس نے لہجے کے ساتھ پارہ30 سُورۃُ الْبَلَد کی 18ویں آیت ِ کریمہ ا اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸)تلاوت کی ۔ یہ سُن کر حاضِرین میں ہنسی کافَوّارہ اُبل پڑا ۔ ان سب کیلئے کیا حکمِ شرعی ہے ؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
______________✍___________
سُوال :  کچھ میمن و غیر میمن لوگ مل کر بیٹھے تھے  ۔ اس میں   میمن برادری کے بارے میں   بات چِھڑی، اِس پر ایک شخص نے مذاقاً کہا :  میمن بھائیوں   کی تو بَہُت بڑی شان ہے دیکھو ان کا ذکر قراٰنِ مجید میں   بھی موجود ہے  ! یہ کہہ کر   اُس نے لہجے کے ساتھ پارہ30 سُورۃُ الْبَلَد کی 18ویں   آیت ِ کریمہ ا اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ(۱۸)تلاوت کی ۔ یہ سُن کر حاضِرین میں   ہنسی کافَوّارہ اُبل پڑا ۔  ان سب کیلئے کیا حکمِ شرعی ہے ؟
_____________✍_____________

الجواب بعون الملک الوھاب

✍ آیتِ قراٰنی کا مذاق اُڑانا کُفر ہے اور جو جان بوجھ کر بخوشی مُتَّفِقہو کر ہنسا اس پر بھی حکمِ کُفرہے ۔ ہاں   جو بے اختیار ہنس پڑا یا جس کو سمجھ نہ پڑی اور دوسروں   کو دیکھ کر ہنس دیا اُس پر حکمِ کفر نہیں  ۔

📚کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب۔رسالہ ۔دعوت اسلامی

✍ کتبہ۔حضرت مولانا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری صاحب قبلہ
📞9773617995📞

🔘 المشتھر ۔فلاح دارین گروپ۔ 
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں 👇
📲9773617995📱

‎قِراء ت کی کتنی قِسمیں ہیں ؟ اگر کسی نے کسی قِراء ت کا انکار کیا تو ؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
#_____________#______________#
سُوال :  قِراء ت کی کتنی قِسمیں   ہیں  ؟ اگر کسی نے کسی قِراء ت کا انکار کیا تو ؟
;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;;

الجواب بعون الملک الوھاب

✍ سات قراءتیں   مُتَواتِرہیں   ان میں   سے کسی ایک کا بھی انکار کرنا کفر ہے ۔  اسی وجہ سے عُلمائے کرام فرماتے ہیں  : جہاں   جو قِراء ت رائج ہو وہاں   وہی پڑھیں   تاکہ کوئی شخص لاعلمی میں   اس کا انکار نہ کر دے چنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃُ الْمدینہ  کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’ بہارِ شریعت ‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 33پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی  فرماتے ہیں   : قراٰنِ عظیم کی سات قِراء تیں   سب سے زیادہ مشہور اور متواتر ہیں  ، ان میں   معاذاللہ کہیں   اختِلافِ معنیٰ نہیں  ، وہ سب حق ہیں  ، اس میں   اُمّت کے لیے آسانی یہ ہے کہ جس کے لیے جو قراء ت (قِرا ۔ ء ت ) آسان ہو وہ پڑھے ، اور حکم یہ ہے کہ جس ملک میں   جو قراء ت رائج ہے عوام کے سامنے وہی پڑھی جائے ، جیسے ہمارے ملک میں   قراء تِ عاصم بروایتِ حفص، کہ لوگ ناواقفی سے انکار کریں  اور وہ معاذاللہ کلمۂ کفر ہو گا ۔  

       📚کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب۔رسالہ ۔دعوت اسلامی

✍ کتبہ۔حضرت مولانا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری صاحب قبلہ
📞9773617995📞

🔘 المشتھر ۔فلاح دارین گروپ۔ 
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں 👇
📲9773617995📱

ولید نے غلطی کی، اِس پر نوید نے اُس کی اصلاح کیلئے آیاتِ کریمہ و احادیثِ مبارَکہ سنا ئیں اِس پرولید آیات واحادیث کے بارے میں بولا : ’’ یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔ ‘‘ ولید مسلمان رہا یا نہیں ؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
<><><><><><><><><<><><>
سُوال :   ولید نے غلطی کی، اِس پر نوید نے اُس کی اصلاح کیلئے
 آیاتِ کریمہ و احادیثِ مبارَکہ سنا ئیں   اِس پرولید آیات واحادیث کے بارے میں   بولا :  ’’  یہ کوئی چیز نہیں   ہے ۔  ‘‘ ولید مسلمان رہا یا نہیں  ؟
,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

📚 الجواب بعون الملک الوھاب

 ✍  ولید مسلمان نہ رہا ۔ اِسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں   میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں   : اس کا قراٰن و حدیث کے مُتَعَلِّق  یہ کہنا کہ،  ’’  یہ کوئی چیز نہیں   ہے ،  ‘‘  یہ تو خالِص ایسا کُفر ہے جس پر مُرتَدوں   والے اَحکام جاری ہوتے ہیں  ، لہٰذا اِس پر تجدیدِ اسلام ضَروری ہے اور مسلمان ہو کر عورت کی رِضا مندی سے  دوبارہ اس سے نکاح کرے ، اگر اس سے نکاح پر راضی نہ ہو تو بیوی کو اختِیار ہے کہ وہ عدّت پوری کر کے کسی اور سے اپنی مرضی کے مطابِق نکاح کرے ۔  واللّٰہُ سبحانہٗ وتعالٰی اعلم ۔

📚 بحوالہ (فتاوٰی رضویہ ج۱۳ ص ۶۵۴)

📚کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب۔رسالہ ۔دعوت اسلامی

✍ کتبہ۔حضرت مولانا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری صاحب قبلہ
📞9773617995📞

🔘 المشتھر ۔فلاح دارین گروپ۔ 
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں 👇
📲9773617995📱

نبی کی گستاخی کرنے والے کیلئے کیا حکم ہے ؟

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>
سُوال :  نبی کی گستاخی کرنے والے کیلئے کیا حکم ہے ؟
<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<<
📚 الجواب بعون الملک الوھاب

✍ نبی کی ادنیٰ سی گستاخی کرنے والا بھی کافر و مُرتَد ہے ۔   ’’  شِفا ء شریف ‘‘   صَفْحَہ 215 پر ہے  : عُلماء کا اِجماع ہے کہ حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان میں   گستاخی  کرنے والا کافِر ہے اور اس پر عذابِ الٰہی کی وعید جاری ہے اور امّت کے نزدیک وہ واجبُ الْقَتل ہے اور جو اس کے کفر اورعذاب ہونے میں   شک کرے وہ بھی کافِر ہے ۔ 
 (اَلشِّفا ج۲ ص۲۱۵)

📚کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب۔رسالہ ۔دعوت اسلامی

✍ کتبہ۔حضرت مولانا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری صاحب قبلہ
📞9773617995📞

🔘 المشتھر ۔فلاح دارین گروپ۔ 
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں 👇
📲9773617995📱

گستاخِ رسول کے ساتھ مسلمانوں کو کیاسُلوک کرنا چاہئے ؟،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
سُوال : گستاخِ رسول کے ساتھ مسلمانوں   کو کیاسُلوک کرنا چاہئے ؟
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
📚 الجواب بعون الملک الوھاب

✍ اِس ضِمْن میں  میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی خدمت میں   کئے گئے سوال جواب کاخُلاصہ عرض کرتا ہوں   :  ۔ سُوال : ایک مُقرِّر نے جلسے میں   کہا  :  ’’  حُضُور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خیال فرمایا کہ میرے

 دانت ایسے روشن ہیں   کہ آج تک کسی کے ایسے نہ ہوئے ۔ (معاذاللہ)  اِس تکبُّر کی بِنا پرحُضُورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا دندانِ اقدس جنگِ اُحُد میں  شہید ہو گیا تھا  ۔  ‘‘  الجواب :  اس نے حُضُورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے بارے میں   مَعاذَاللّٰہ  ’’  تکبُّر  ‘‘  کا لفظ کہا، یہ صریح کفر ہے ۔  اُس کا ایمان جاتا رہا، اُس کی عورت اُس کے نِکاح سے نکل گئی ۔ اُس نے جیسے مجمع میں   یہ جُملہ کہا اِسی قسم کے مَجمع میں   توبہ کرے اور اِسلام لائے  ۔ ا گر نئے سرے سے اسلام نہ لائے تو مسلمانوں   کو اُس سے سلام و کلام حرام ، اس کے پاس بیٹھنا حرام، اس کی شادی غمی میں   شریک ہونا حرام ، بیمار پڑے ، تو اُسے پوچھنے جانا حرام ، مر جائے تو اُس کے جنازے پر جانا 

📚کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب۔رسالہ ۔دعوت اسلامی

✍ کتبہ۔حضرت مولانا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری صاحب قبلہ
📞9773617995📞

🔘 المشتھر ۔فلاح دارین گروپ۔ 
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں 👇
📲9773617995📱

Tuesday, June 30, 2020

عالِم دین کو حَقارت سے مُلّا کہنا ‏کیسا ‏ہے

سُوال :   سُنّی عالمِ دین کی طرز پر قراٰن وسنّت کے مطابِق کئے جانے والے  کسی مبلّغ کے بیان کو حَقارتاً  ’’ مولویوں   والا انداز ‘‘ کہنا کیسا ؟

جواب :  کُفْر ہے ۔  کیوں   کہ اِس میں  عُلَمائے حقّ کی توہین ہے ۔

 ’’ عالِم سارے ظالِم ‘‘ کہنے کا حکمِ شَرعی

سُوال :   ’’ عالم سارے ظالم ‘‘  یہ مَقُولہ کیساہے ؟

جواب : مُطلَقًاعُلَماء حقّہ کے بارے میں   ایسا جملہ کہنا کُفر ہے ۔  

عالِم دین کو حَقارت سے مُلّا کہنا

سُوال :  جو عُلمائے کرام کو تحقیر کی نیّت سے  ’’  مُلّا مُلّا  ‘‘  یا  ’’  مُلّا لوگ ‘‘  کہے اُس کیلئے کیا حکم ہے ؟

جواب :  اگربَسبَبِ علمِ دین علمائے کرام کی تحقیر کی نیّت سے کہا توکلِمۂ کُفْر ہے  ۔ چُنانچِہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الباری فرماتے ہیں   :  ’’ جس نے (توہین کی نیّت سے ) عالم  کو عُوَ یلِم یا عَلَوی (یعنی مولیٰ علی کَرَّمَ اللہ  ُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی اولاد)کو عُلَیْوی کہا اُس نے کفر کیا ۔  ‘‘  (مِنَحُ الرَّوض ص۴۷۲)اُردو خواں   ’’  عُوَ یلِم ‘‘  یا ’’  عُلَیوی ‘‘  نہیں   بَولتے ۔ البتّہ بعض اوقات بے باکوں   کی زَبانوں   سے مولوا، مُلَّڑ وغیرہ الفاظ سننا( سگِ ِ ِ مدینہ کو) یاد پڑتا ہے ۔  بہرحال عالمِ دین کی  بَسبَبِ علمِ دین توہین کرنا یا علوی صاحِبان یا ساداتِ کرام کیشرافتِ حَسَب نَسَب کے سبب کسی قسم کا توہین آمیز لفظ بولنا کُفر ہے ۔

   ’’ مولوی بنو گے تو بھوکے مرو گے  ‘‘  کہنا

سُوال :  ’’  دُنیوی تعلیم حاصِل کرو گے تو عیش کرو گے ، علمِ دین سیکھ کر مولوی بنو گے تو بھوکے مرو گے  ‘‘  یہ کہنا کیسا ؟

جواب :  اِس جملہ میں   علم ِدین کی توہین کا پہلو نُمایاں   ہے اس لئے کفر ہے ۔ قائل پر توبہ و تجدیدِ ایمان لازِم ہے اور اگر علم وعُلماء کی توہین ہی مقصود تھی تو قَطعی کفر ہے قائل کافر ومُرتَد ہوگیا اور اُس کا نکاح بھی ٹوٹا اور پچھلے نیک اعمال بھی ضائِع ہوئے ۔   

 توہینِ عُلَما کے مُتَعلِّق10پَیرے

{1}جتنے مولوی ہیں   سب بدمَعاش ہیں  کہنا کفر ہے جبکہ بَسبَب علمِ دین، علمائے کرام کی تحقیر کی نیّت سے کہا ہو ۔ (ماخوذازفتاوٰی امجدیہ ج ۴ ص ۴۵۴)

{2} یہ کہنا :  ’’ عالم لوگوں   نے دیس خراب کر دیا ۔  ‘‘ کلِمۂ کُفر ہے ۔  ( ماخوذازفتاوٰی رضویہ ج۱۴ ص ۶۰۵ )

{3}یہ کہنا کُفر ہے کہ ’’  مولویوں   نے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے ۔  ‘‘

 {4} جو کہے :  ’’  عِلْم دین ، کوکیا کروں   گا  ! جیب میں   روپے ہونے چاہئیں  ۔  ‘‘  کہنے والے پر حُکمِ  کفر ہے

{5} کسی نے عالِم سے کہا :  ’’  جا اور علْمِ دین کو کسی برتن میں   سنبھال کر رکھ ۔  ‘‘  یہ کُفْر ہے ۔  (فتاویٰ عالمگیری ج ۲ ص ۲۷۰ـ۲۷۱)

{6}جس نے کہا  :  ’’ عُلَماء جو بتاتے ہیں   اسے کون کرسکتا ہے  !  ‘‘  یہ قَول کفر ہے ۔  کیونکہ اِس کلام سے لازِم آتا ہے کہ شَریعت میں   ایسے اَحکام ہیں   جو طاقت سے باہَر ہیں   یاعُلَماء نے انبِیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  پر جھوٹ باندھا ہے ۔  معاذَ اللہ   ! عَزَّوَجَلَّ(مِنَحُ الرَّوض  ص۴۷۰ ۔ ۴۷۱)

{7}یہ کہنا :  ’’ ثَرِید کا پِیالہ عِلمِ دین سے بہتر ہے ۔  ‘‘  کلِمۂ کفر ہے ۔    (مِنَحُ الرَّوضِ ص۴۷۲)

{8} عالمِ دین سے اِس کے علم ِ دین کی وجہ سے بُغض رکھنا کفر ہے یعنی اس وجہ سے کہ وہ عالمِ دین ہے ۔  (ایمان کی حفاظت، ص ۱۰۳)

{9}جو کہے :  ’’  فسادکرنا عالم بننے سے بہتر ہے  ‘‘  ایسے شخص پر حکمِ کفر ہے ۔ (فتاوٰی عالمگیری ج۲ ص ۲۷۱)

{10}یاد رہے  ! صِرْف عُلَمائے اہلسنّت ہی کی تعظیم کی جائے گی ۔  رہے بد مذہب عُلماء ، تو ان کے سائے سے بھی بھاگے کہ ان کی تعظیم حرام ، اُن کابیان سننا ان کی کُتُب کامُطالَعہ کرنا اور ان کی صُحبت اختیار کرنا حرام اور ایمان کیلئے زہرِہَلاہِل ہے ۔  

📚 کفریہ کلمات کے بارے میں سوال و جواب ۔رسالہ۔دعوت اسلامی۔

📚✍ کتبہ۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📲9773617995📱