Monday, August 9, 2021

ماہِ محرم اور اعلیٰحضرت

ماہِ محرم اور اعلیٰحضرت

اہلسنت و جماعت کے نزدیک : تعزیہ بنانا ، تعزیہ کا تماشہ دیکھنا ، اس پر چڑھاوے چڑھانا وغیرہ کی شرعی حیثیت ۔ ( امام اہلسنت امام احمد رضا محدث بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتب کی روشنی میں )
محرم الحرام میں کیئے جانے والے غلط کام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
1)- تعزیہ بنانا کیسا ؟

. . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ بنانا بدعت و ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

 *2)- تعزیہ داری میں تماشا دیکھنا کیسا؟*

. . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چونکہ تعزیہ بنانا ناجائز ہے، لہذا ناجائز بات کا تماشا دیکھنا بھی ناجائز ہے (ملفوظات شریف، ص 286)
 
*3)- تعزیہ پر منت ماننا کیسا؟*
. . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر منت ماننا باطل اور ناجائز ہے (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
 *3)- تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا اور اس کا کھانا کیسا؟*

. . . . . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ تعزیہ پر چڑھاوا چڑھانا ناجائز ہے اور پھر اس چڑھاوے کو کھانا بھی ناجائز ہے۔
. (فتاویٰ رضویہ، جلد 21، ص 246، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
*4)- محرم الحرام میں ناجائز رسومات* 
. . . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام کے ابتدائی 10 دنوں میں روٹی نہ پکانا، گھر میں جھاڑو نہ دینا، پرانے کپڑے نہ اتارنا (یعنی صاف ستھرے کپڑے نہ پہننا) سوائے امام حسن و حسین رضی اﷲ عنہما کے کسی اور کی فاتحہ نہ دینا اور مہندی نکالنا، یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں
(فتاویٰ رضویہ جدید، ص 488، جلد 24، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
*5)- محرم الحرام میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں*

. . . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ محرم الحرام میں (خصوصاً یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں، سبز رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے۔ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے نہ پہنے جائیں کہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے، لہذا مسلمانوںکو اس سے بچنا چاہئے (احکام شریعت)
*6)- عاشورہ کا میلہ*
. . . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ عاشورہ کا میلہ لغو و لہو و ممنوع ہے۔ یونہی تعزیوں کا دفن جس طور پر ہوتاہے، نیت باطلہ پر مبنی اور تعظیم بدعت ہے اور تعزیہ پر جہل و حمق و بے معنیٰ ہے۔
. (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 24، ص 501، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) 
*6)- دشمنانِ صحابہ کی مجالس میں جانا*

. . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ رافضیوں (دشمنانِ صحابہ) کی مجلس میں مسلمانوں کا جانا اور مرثیہ (نوحہ) سننا حرام ہے۔ ان کی نیاز کی چیز نہ لی جائے، ان کی نیاز، نیاز نہیں اور وہ غالباً نجاست سے خالی نہیں ہوتی۔ کم از کم ان کے ناپاک قلتین کا پانی ضرور ہوتا ہے اور وہ حاضری سخت ملعون ہے اور اس میں شرکت موجب لعنت۔ محرم الحرام میں سبز اور سیاہ کپڑے علامتِ سوگ ہیں اور سوگ حرام ہے۔ خصوصاً سیاہ (لباس) کا شعار رافضیاں لیام ہے۔ (فتویٰ رضویہ جدید، 756/23، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)
*7)-کڑے، چھلے اور ایک سے زائد انگوٹھیاں پہننا*
. . . . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چاندی کی ایک انگوٹھی ایک نگ کی ساڑھے چار ماشہ سے کم وزن کی مرد کو پہننا جائز ہے اور دو انگوٹھیاں یا کئی نگ کی ایک انگوٹھی یا ساڑھے چار ماشہ خواہ زائد چاندی کی (پہننا ناجائز ہے) اور سونے، کانسی، پیتل، لوہے اور تانبے (کی انگوٹھی، چھلے، کڑے) مطلقاً ناجائز ہیں۔ (احکامِ شریعت حصہ دوم، ص 80)
 *8)-یزید کو ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ کہنا ناصبی ہونے کی علامت ہے*
. . . . اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ یزید بے شک پلید تھا۔ اسے پلید کہنا اور لکھنا جائز ہے اور اسے ’’رحمۃ اﷲ علیہ‘‘ نہ کہے گا مگر ناصبی کہ اہلبیت رسالت کا دشمن ہے۔ (فتاویٰ رضویہ جدید، جلد 14، ص 603، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

 *مسلمانوں کو چاہئے کہ محرام الحرام میں خرافات سے بچیں۔* . . . 9 اور 10 محرم الحرام کا روزہ رکھیں۔ شہدائے کربلا کی یاد میں سبیلیں لگائیں۔ شربت پلائیں اور نذر و نیاز کا اہتمام کریں۔ چنانچہ شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی معرکۃ الآراء کتاب’’تحفۂ اثناء عشری‘‘ میں فرماتے ہیں کہ مولیٰ علی رضی اﷲ عنہ اور اولادِ علی میں ولایت روحانی طور پر موجود ہے۔ اس لئے میں ہر سال 10 محرم کو حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ اور شہدائے کربلا کی نیاز دلاتا ہوں اور کھڑے ہوکر ان پر سلام پیش کرتا ہوں۔
. (سبیلوں اور دکانوں پر نوحہ اور مرثیہ کی کیسٹیں ہرگز نہ بجائیں)
 *عاشورہ کے دن اچھے کام*
. . . . . عاشورہ کے دن اچھی طرح غسل کریں، اچھے کپڑے پہنیں، خوشبو لگائیں، تیل لگائیں، سرمہ لگائیں، ناخن ترشوائیں، روزہ رکھیں، بیمار کی عیادت کریں، صدقہ و خیرات کریں اور مرحومین کو ایصالِ ثواب کریں۔
 *شبِ عاشورہ کی نفل نماز*
. . . . . عاشورہ کی رات میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد آیۃ الکرسی ایک بار اور سورۂ اخلاص تین مرتبہ پڑھے اور نماز سے فارغ ہوکر ایک سو مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھے، ایسا کرنے والا گناہوں سے پاک ہوگا اور جنت میں بے انتہا نعمتیں ملیں گی ۔ 
(جنتی زیور، ص 157)
. *محرم الحرام* اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے۔ اسلام دنیاکا واحد مذہب ہے جس کا اسلامی سال محرم الحرام میں حضرت فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ‘ حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور ان کے رفقاء کی بے مثال قربانی سے شروع ہوکر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ محرم الحرام شروع ہوتے ہی تعزیہ داروں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ دلوں میں شادیانے بجنے لگتے ہیں‘ مال جمع کرنے کا سیزن آجاتا ہے۔ فورا پرانے تعزیئے ازسر نو بننے شروع ہوجاتے ہیں جبکہ جنہوں نے اپنے پرانے تعزیئے ڈبو دیئے ہوتے ہیں‘ وہ دوبارہ تعزیئے بنانے میں مصروف عمل ہوجاتے ہیں۔

اسٹیل‘ پیتل اور چاندی سے تیار کردہ مصنوعی ہاتھ‘ پائوں‘ آنکھوں اور بازو کی تیاری شروع ہوجاتی ہیں۔ ان کا کاروبار عروج پر پہنچ جاتا ہے۔ ہرے کپڑے اور نیلے پیلے دھاگے فروخت کرنے والوں کی چاندی ہوجاتی ہے۔ بعض عورتیں اپنے بچوں کو شہدائے کربلا رضوان اﷲ علیہم اجمعین کا فقیر بناتی ہیں جوکہ ان بچوں کو مانگ کر کھلاتی ہیں۔ بعض بدنصیب سنی حضرات اپنے گھروں‘ دکانوں‘ سبیلوں‘ موٹر کاروں اور موٹر سائیکلوں میں زور زور سے ماتم کی کیسٹیں بجاتے ہیں اور کالے کپڑے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔
. . . . . نو محرم الحرام کا سورج غروب ہوتے ہی سڑکوں اور گلی کوچوں میں طوفان بدتمیزی مچایا جاتا ہے۔ شہر کے آوارہ‘ بدتمیز اور جاہل نوجوان سروں پر ہری پٹیاں باندھے منظر عام پر آجاتے ہیں۔ تعزیئے نکالے جاتے ہیں‘ اس کے ساتھ زور زور سے ڈھول پیٹا جاتا ہے‘ تاشے بجائے جاتے ہیں‘ کپڑے کا درہ بنا کر نوجوان ایک دوسرے کو پیٹتے ہیں‘ بے پردہ خواتین کا ہجوم بھی سڑکوں پر نکل آتا ہے جن کے ہاتھ میں بچے اور ناریل ہوتے ہیں۔ وہ بے پردہ عورتیں فخر کے ساتھ تعزیئے پر ناریل کا چڑھاوا چڑھاتی ہیں۔ مرد حضرات بھی اپنے بچوں کو ساتھ لاتے ہیں تاکہ جاہلوں کا تماشا اپنے چھوٹے بچوں کو دکھا کران کا گناہ بھی اپنے سر لیں۔ نذرونیاز جیسی بابرکت چیز کو بے دردی سے پھینکا جاتا ہے‘ رزق کی بے حرمتی ہوتی ہے۔ تعزیئے بنا کر امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نام پر کمائی کا دھندہ کھل جاتا ہے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ جب میری عمر تیرہ سال کی تھی‘ اس وقت مجھے ایک صاحب ملے وہ مجھ سے مذاقاً کہنے لگے کہ ہم دونوں پانچ ہزار روپے جمع کرکے ایک تعزیہ بناتے ہیں پھر اسے شہر کی کسی بھی شاہراہ پر کھڑا کردیں گے بالکل آرام سے پانچ ہزار روپے نذرانہ مل جائے گا۔ اس کے علاوہ لوگ ناریل اور کھانا وغیرہ چڑھاوے میں چڑھائیں گے اور وہ الگ کئی دنوں کا راشن جمع ہوجائے گا۔ اس طرح ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہوگا پھر ہم اس تعزیئے کو دفن نہیں کریں گے بلکہ محفوظ کرکے رکھ دیں گے لہٰذا یہ ایک مرتبہ کا خرچ ہے پھر کمائی ہی کمائی ہے۔ ان کی یہ بات سن کر مجھے بہت ہنسی آئی اور ان کی بالکل بالکل سچی تھی اس لئے میں خاموش رہا۔
. . . . . میں نے اس چیز کا باقاعدہ مشاہدہ کیا ہے کہ لوگوں نے تعزیہ داری کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہے۔ جتنے ساتھی تعزیہ بنانے میں شامل ہوتے ہیں‘ تعزیہ دفن کرنے کے بعد وہ تمام چڑھاوا اپنے گھر لے کر باقاعدہ آپس میں تقسیم کرتے ہیں اور تعزیئے والے اب تو بہت چالاک ہوگئے ہیں۔ صرف تعزیئے کی لکڑیاں اور پتیاں ہی سمندر میں ڈبوتے ہیں۔
بعض لوگ جو بہت احمق ہیں‘ ان کا حال ایسا ہے کہ جو تعزیہ دس دنوں تک متبرک تھا‘ جن پر چڑھاوے چڑھاتے تھے‘ ناریل توڑے جاتے تھے‘ منتیں مانی جاتی تھی‘ اب اس بے چارے تعزیئے کو دس محرم الحرام کی رات بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ڈھول اور تاشوں کی گونج میں سمندر میں بہا دیا جاتا ہے۔
. . . . *تعزیہ داروں کو ان مقدس دنوں میں نہ عبادت کی فکر ہوتی ہے‘ نہ نمازوںکی فکر ہوتی ہے بلکہ دوسروں کی عبادتوں میں بھی خلل ڈالتے ہیں۔ یہ اپنے زہم ِفاسد میں سمجھتے ہیں کہ ہم نیکی کا کام کررہے ہیں حالانکہ ان کے افعال کا اسلام سے دور تک بھی کوئی تعلق نہیں ھوتا اور نہ ہی مسلک اہل سنت سے اس کا تعلق ہے۔*
. . . . . ان تمام خرافات کے بارے میں اپنے امام اعلیٰ حضرت امام اہل سنت مجدد دین و ملت مولانا الشاہ احمد رضا خان صاحب فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کی مشہور زمانہ تصنیف فتاویٰ رضویہ سے مدد لیتے ہوئے ان خرافات کی حقیقت عوام اہل سنت کے سامنے واضح کرتے ہیں۔

. . . . . *تعزیئے بنانا کیسا؟*
. . . تعزیہ داری کا آغاز کے سلسلے میں یوں سنا گیا ہے کہ سلطان تیمور کے دور حکومت میں اس کا آغاز ہوا۔ تعزیہ داری بدعت حرام اور ناجائز ہے 
. . (از: فتاویٰ رضویہ)

*تعزیئے پر چڑھاوا چڑھانا کیسا؟*
. . . . تعزیہ بنانا (جو عوام میں رائج ہے) ناجائز و بدعت ہے۔ اس کا بنانا گناہ و معصیت اور اس کے اوپر شیرنی وغیرہ (کھانے پینے کی اشیائ‘ گڑ اور ناریل وغیرہ) چڑھانا محض جہالت ہے اور تعزیئے کی تعظیم بدعت‘ جہالت اور ناجائز ہے 
(از: فتاویٰ رضویہ جلد دہم نصف آخر ص 63)

*تعزیئے کا چڑھاوا کھانا کیسا؟*
. . . . . . تعزیہ کا چڑھاوا نہیں کھانا چاہئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تعزیئے کا چڑھاوا اس نیت سے نہیں کھاتے کہ وہ تعزیئے کاچڑھا ہوا ہے بلکہ اس نیت سے کھاتے ہیں کہ وہ امام عالی مقام امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نیاز ہے تو یہ قول بھی غلط اور بے ہودہ ہے کیونکہ تعزیئے پر چڑھاوا چڑھانے سے حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی نیاز نہیں ہوجاتی۔

. *کیا تعزیہ داری کفر ہے؟*
. . . . . تعزیہ جس طرح رائج ہے نہ صرف بدعت بلکہ بدعت کا مجموعہ ہے۔ تعزیہ نہ روضہ امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا نقشہ ہے اور اگر نقشہ ہو تو بھی ڈھول‘ تاشے اور باجوں کے ساتھ گشت کرتے ہوئے نکلنا کیا یہ روضہ امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شان ہے (بلکہ توہین ہے) کیا امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی توہین (ان کے یوم شہادت کی توہین) قابل تعظیم ہوسکتی ہے؟ کعبہ معظمہ میں زمانہ جاہلیت میں مشرکین نے حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہم السلام کی تصویریں بنائیں اور ہاتھ میں پانسے دیئے تھے جن پر اﷲ تعالیٰ نے لعنت فرمائی اور ان تصویروں کو محو فرمادیا۔
. . . . . . . . تعزیہ بنانا ضرور ناجائز اور بدعت ہے مگر کفر نہیں ہے تعزیہ دار گناہ گار اور فعل حرام کے مرتکب ضرور ہیں مگر ان کو کافر کہنا وہابیہ کا طریقہ ہے۔ تعزیہ دار کو کافر کہنے والا خود کافر ہوجائے گا (از : فتاویٰ رضویہ جلد دہم)

 *تعزیہ داری میں امداد*
. . . تعزیہ داری میں کسی قسم کی امداد جائز نہیں (امداد کرنے والا بھی گناہ گار ہوگا)کیونکہ یہ رافضیوں کا طریقہ ہے ۔ تعزیہ کو جائز سمجھ کر بنانا یہ فاسقوں کا طریقہ ہے۔
 (از: فتاویٰ رضویہ جلد دہم ص 472/471)

 *محرم الحرام میں جائز کام*
. . . . . . محرم الحرام کے دس دنوں میں بعض لوگ پرانے کپڑے نہیں اتارتے (صاف ستھرے کپڑے نہیں پہنتے) سوائے امام حسن و حسین علیہم الرضوان کے کسی اور کی فاتحہ نہیں دلاتے‘ دس محرم الحرام کو گھر میں جھاڑو نہیں دیتے اور نہ ہی دن بھر روٹی پکاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تعزیہ کو دفن کرنے کے بعد روٹی پکائی جائے گی (گوشت وغیرہ بھی نہیں پکاتے۔ یہ تمام باتیں جہالت پر مبنی ہیں۔ اس سے مسلمانوں کو بچنا چاہئے
(از: فتاویٰ رضویہ جلد 10ص 536)

 *محرم الحرام میں ممنوعہ کام*
. . . . . . تعزیئے بنانا‘ اس سے مرادیں مانگنا‘ علم (جھنڈا) چڑھانا‘ مہندی چڑھانا (جو سات محرم الحرام کو حضرت امام قاسم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی یاد میں مہندی لگائی اور چڑھائی جاتی ہے) بچوں کو سبز کپڑے پہنانا اور ان کے گلوں میں ڈوریاں (بازو پر ڈوریاں باندھنا) باندھ کر ان کو امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا فقیر بنانا (جو گھر کا کھانا نہ کھائے صرف دوسروں سے مانگ کر فقیر کی طرح کھائے) دس روز تک سوگوار رہنا (سوگ اسلام میں صرف تین دن ہے جو واقعہ کربلا کے بعد مسلمانوں نے منالیا۔ اب کوئی سوگ نہیں‘ امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا غم ایک الگ چیز ہے جو شریعت کے دائرے میں رہ کر دل میں رکھا جاسکتا ہے اور کون سا ایسا مسلمان ہوگا جو شہادت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر غمگین نہ ہو)
. . . . . *شہدائے کربلا کے سوئم اور چہلم کا انعقاد کرنا (سوئم اور چہلم وصال کے بعد صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے‘ اب صرف یوم شہادت منایا جاتا ہے اور عوام اکثر یہ کہتے ہیں کہ آج امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا سوئم ہے پھر چہلم ہے۔ ایسا کہنا بھی درست نہیں) ماتمی مرثیوں کا پڑھنا یہ تمام رسمیں ممنوع اور ناجائز ہیں۔* . . . یزید کی آڑ میں حضرت سیدنا کاتب وحی امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ دارضاہ یا کسی بھی صحابی رسولﷺ کو برا کہنا منع ہے  
(از: فتاویٰ رضویہ جلد 10ص 537)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب علیہ الرحمہ اپنی معرکتہ الاراء کتاب احکام شریعت میں فرماتے ہیں۔

محرم الحرام میں (خصوصا یکم تا دس محرم الحرام) میں تین رنگ کے لباس نہ پہنے جائیں ۔ ہرا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ تعزیہ داروں کا طریقہ ہے‘ لال رنگ کا لباس نہ پہنا جائے کہ یہ اہلبیت سے عداوت رکھنے والوں کا طریقہ ہے اور کالے کپڑے پہننا یہ رافضیوں کا طریقہ ہے لہذا مسلمانوں کو اس سے بچا جائے (از کتاب: احکام شریعت)

 *ایصال ثواب کا احسن طریقہ*
. . . . . حضرت امام حسین اور شہدائے کربلا رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی یاد میں سبیل قائم کرکے لوگوں کوپانی پلا کر ایصال ثواب کیا جائے۔ لوگوں کو کھانا کھلایا جائے‘ نذر ونیاز کا اہتمام کیا جائے اور یہ بزرگان دین کا طریقہ بھی ہے چنانچہ حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی علیہ الرحمہ کے صاحبزادے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ اپنی معرکتہ الآراء کتاب تحفہ اثنا عشری میںفرماتے ہیں (یہ وہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ہیں جن کا نام اگر کسی عالم دین کی سند (سرٹیفکیٹ) میں نہ ہو تو وہ عالم دین نہیں کہلاتا) کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور اولاد علی میں ولایت روحانی طور پر موجود ہے اس لئے میں ہر سال دس محرم کو حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور شہدائے کربلا کی نیاز دلاتا ہوں اور کھڑے ہوکر ان پر سلام پیش کرتا ہوں

Monday, July 19, 2021

تکبیر تشریق کیا ہے



👈 *تکبیر تشریق کیا ہے ؟*   

*الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب* 

    ✍تکبیر تشریق نویں ذی الحجہ کی فجر سے تیرہویں کی عصر تک پانچوں وقت کی ہر فرض نماز کے بعد جو جماعت مستحبہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو،  ایک بار بلند آواز سے تکبیر کہنا واجب  ہے اور تین بار کہنا افضل ہے،  اِسے تکبیر تشریق کہتے ہیں اور وہ یہ ہیں : *اَللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَر لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَراَللّٰہُ اَکْبَروَلِلّٰہِ الْحَمْد*۔ 📚(تنویر الابصار و بہار وغیرہ)📚

👈مسئلہ:  تکبیر تشریق سلام پھیرنے کے بعد فوراً واجب ہے یعنی جب تک کوئی ایسا فعل نہ کیا ہو کہ اس نماز پر بنا نہ کرسکے اگرمسجد سے باہر ہوگیا یا قصداً وضو توڑ دیا یا کلام کیا اگرچہ سہواً تو تکبیر ساقط ہوگئی اور بلا قصد وضو ٹوٹ گیا،  کہہ لے۔  📚(ردالمحتار ودرمختار وبہار)📚

*تکبیر تشریق کس پر واجب ہے اور کب واجب ہے ؟* 

👈مسئلہ:  تکبیر تشریق اس پر واجب ہے جو شہر میں مقیم ہو یا جس نے مقیم کی اِقتداء کی اگرچہ وہ اِقتداء کرنے والا عورت یا مسافر یا گاؤں کا رہنے والا ہو اوریہ لوگ اگر مقیم کی اِقتداء نہ کریں تو اُن پر واجب نہیں ۔ 📚(درمختار و بہار)📚

👈مسئلہ:   تکبیر تشریق ان اَیام میں جمعہ کے بعد بھی واجب ہے اور نفل و سنت ووتر کے بعد نہیں البتہ نماز عید کے بعد بھی کہہ لے۔ 📚(درمختار)📚

*تکبیر تشریق کے الفاظ کن کے ہیں؟ واقعہ تکبیر تشریق کا*

ترجمہ:حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب جنتی دنبہ ذبح فرمایا ،اس وقت حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا: اَللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰهُ اَکْبَرْ-

حضرت سیدنا اسمعیل علیہ السلام نے کہا: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اللّٰهُ اَکْبَرْ-

حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اَللّٰهُ اَکْبَرْ وَ لِلّٰهِ الْحَمْد۔

📚(روح البیان،ج:7،ص:475)

👈تکبیر تشریق واجب ہونے کے لئے آدمی کا مقیم ہونا‘ شہر میں ہونا‘ فرض عین (پنجگانہ) نماز کا جماعت مستحبہ سے پڑھنا شرط ہے –

👈لہذا مسافروں پر‘ گاؤں والوں پر‘ فرض کفایہ (نماز جنازہ) کے بعد‘ تنہا نماز پڑھنے والے پر‘ *عورتوں پر تکبیر واجب نہیں‘* البتہ مسافر‘ گاؤں والے اور عورتیں اگر کسی ایسے شخص کے مقتدی ہوں‘ جس پر تکبیر واجب ہے تو پھر اتباعاً ان پر بھی تکبیر واجب ہوگی‘ لیکن عورتیں آہستہ تکبیر کہیں‘ یہ حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے مگر بقول حضرات صاحبین (امام ابویوسف ،امام محمد) رحمۃ اللہ علیہما مطلقاً فرض عین نماز کے بعد تکبیر واجب ہے‘ خواہ مسافر ہو یا گاؤں والے‘ منفرد ہو یا عورت اور فتویٰ صاحبین رحمۃ اللہ علیہم کے قول پر ہے-

👈نماز جمعہ کے بعد بھی تکبیر واجب ہے اور نماز عید الاضحی کے بعد بھی تکبیر کہہ لیں- نماز وتر‘ سنت‘ نفل کے بعد تکبیر کہنا واجب نہیں-

👈تکبیر کا سلام کے بعد فوراً کہنا واجب ہے‘ اگر سلام کے بعد کوئی ایسا فعل سرزد ہو جو بناء نماز کا مانع ہو (مثلاً کلام کرے یا مسجد سے چلا جائے یا عمداً وضو توڑ ڈالے) تو تکبیر ساقط ہوجائے گی اور اگر بلاقصد وضو ٹوٹ جائے تو تکبیر کہہ لے-

👈تکبیر کا جہر (بلند آواز) سے کہنا واجب ہے-

👈تکبیر کا ایک مرتبہ کہنا واجب ہے اور تین مرتبہ کہنا افضل ہے-

👈اگر امام کسی وجہ سے تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدی اس کی متابعت نہ کریں بلکہ وہ فوراً تکبیرکہہ لیں-

👈اگر فرض نماز کی قضاء پڑھی جائے تو اس میں تکبیر کے واجب ہونے اور نہ ہونے کی چار صورتیں ہوسکتی ہیں:

(1) غیر ایام تشریق کی قضاء نماز ایام تشریق میں پڑھیں-

(2) ایام تشریق کی قضاء غیر ایام تشریق میں پڑھیں-

(3) ایک سال کے ایام تشریق کی قضاء دوسرے سال کے ایام تشریق میں پڑھیں-

(4) اسی سال کے ایام تشریق کی قضاء اسی سال کے ایام تشریق میں پڑھیں –

👆👈مذکورہ چار صورتوں میں تکبیر صرف اخیر صورت میں واجب ہے ،یعنی اسی سال کے ایام تشریق کی قضاء اسی سال کے ایام تشریق میں میں ادا کرنے کی صورت میں تکبیر کہنا واجب ہے۔

*وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ-*

👈ترجمہ:اور اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تم کو ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزار ی کیا کرو-(سورۃ البقرہ:185)

📚معجم کبیر طبرانی ،جامع الاحادیث والمراسیل ،مجمع الزوائد اور کنز العمال میں حدیث مبارک ہے:📚

📚 *عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:"زَيِّنُوا أَعْيَادَكُمْ بِالتَّكْبِيرِ*"-

*اَللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰهُ اَکْبَرْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰهُ اَکْبَرْ وَ لِلّٰهِ الْحَمْد*-

👈تکبیر تشریق دراصل حضرت سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کے وقت ،حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام ، حضرت سیدنا اسمعیل علیہ السلام اور حضرت جبریل امین علیہ السلام کی زبان سے نکلنے والے مبارک کلمات ہیں، اللہ تعالی نے ان کلمات کو اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعہ آپ کی امت میں بطور یاد شامل فرمادیا-

تفسیر روح البیان میں روایت مذکور ہے:

وروی انه لما ذبحه قال جبريل : اَللّٰهُ اَکْبَرْ اَللّٰهُ اَکْبَرْ-فقال الذبيح: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اللّٰهُ اَکْبَرْ-فقال ابراهيم :اَللّٰهُ اَکْبَرْ وَ لِلّٰهِ الْحَمْد۔فبقی سنة-

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

*محمدرضا مرکزی*
خادم التدریس والافتا
*الجامعۃ القادریہ نجم العلوم* مالیگاؤں

Tuesday, July 13, 2021

عورتیں کون کون سے زیورات، اور چوڑیاں، پہن کر نماز پڑھ سکتی ہیں جواب مفصل عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

 سوال 

السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ

 کیا فرماتے علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں عورتیں کون کون سے زیورات، اور چوڑیاں، پہن کر نماز پڑھ سکتی ہیں جواب مفصل عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی


سائل محمد جنید رضوی، گونڈہ


جواب 

وعليكم السلام ورحمۃ اللہ وبركاتہ

   حضورصدرالشریعہ فرماتے ہیں انگوٹھی صرف چاندی ہی کی پہنی جاسکتی ہے دوسری دھات کی انگوٹھی پہننا حرام ہے، مثلاً لوہا، پیتل، تانبا، جست وغیرہا ان دھاتوں کی انگوٹھیاں مرد و عورت دونوں کے لیے ناجائز ہیں فرق اتنا ہے کہ عورت سونا بھی پہن سکتی ہے اور مرد نہیں پہن سکتا


 حدیث میں ہے کہ ایک شخص حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں پیتل کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم سے بُت کی بُو آتی ہے؟انھوں نے وہ انگوٹھی پھینک دی پھر دوسرے دن لوہے کی انگوٹھی پہن کر حاضر ہوئے، فرمایا: کیا بات ہے کہ تم پر جہنمیوں کا زیور دیکھتا ہوں ؟ انھوں نے اس کو بھی اتار دیا اور عرض کی، یارسول ﷲ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایاکہ ’’چاندی کی اور اس کو ایک مثقال پورا نہ کرنا


الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،ج۹،ص۵۹۲


  نماز کے علاوہ عام حالات میں بھی عورت کو لوہا پیتل تانبا جست وغیرہ ان دھاتوں کا پہنا ناجائز ہے


 بہار شریعت جلد 3 حصہ 16 صفحہ 427 


 اوراسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضور اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں" کانچ کی چوڑیاں پہننا جائز ہے


 فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 115    


عائشة رضى الله تعالى عنها كرهت ان تصلي المرأة عطلا ولوان 

تعلق في عنقها خيطا


یعنی حضرت عائشہ رضی الله تعالٰی عنہا ناپسند فرماتیں تھیں کہ عورت بغیر زیور کے نماز پڑھے، اور فرمایا کرتیں اگر کچھ نہ ہو تو ایک ہی ڈورا گلے میں لٹکا لے


 مجمع بحار انوار جلد 3صفحه222  



 عورتوں کو کانچ اور پلاسٹک کی چوڑیاں پہننا درست ہیں اور ان چوڑیوں کو پہن کر نماز پڑھنا بھی جائز ہے اور سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں مثلاََ: تانبا، پیتل، لوہا وغیرہ پہننا ناجائز اور انھیں پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔


 فتاویٰ فقیہ ملت جلد1صفحہ177  


  لہذا مذکورہ بالا گفتگو سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو کانچ کی چوڑیاں پہن کر نماز پڑھنا جائز ہے اور دیگر دھاتوں سے بنے ہوئے زیور جیسے لوہا، تانبا، پیتل اور رولڈگوڈ وغیرہ کے زیور پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور سونے چاندی کے زیورات پہن کر نماز پڑھنا بلا کراہت جائزہے




واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

انعام الحق رضا قادرى

Monday, May 17, 2021

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔



کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

اگر امام اُن رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے(اور وُہ ہمارے امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مذہب میں ایك آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلا عذرِشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصدًا بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے،اور اگر اس مقدار سے کم مثلًا ایك آدھ کلمہ بآوازِ  بلند  نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ 

📚فتاوی رضویہ ج 6 مطبوعہ دعوت اسلامی

✏از قلم محمد عمران علی نعمانی رضوی

Monday, April 19, 2021

کیا اذان میں فرض و سنت ہیں؟

*کیا اذان میں فرض و سنت ہیں؟*

*مزید معلومات کے لئے ٹیلی گرام پر قادری فقہی گروپ میں شامل ہونے کے لیے لنک پر کلک کریں*
*https://t.me/joinchat/AAAAAFjqHuwUzJVKK7a6-Q*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*السلام علیکم ورحمتہ اللہْ وبرکاتہ*
*ســــــوال ــــــــ* اذان میں کتنی فرض اور کتنی سنتیں ہیں حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرماٸں
*🌹ساٸل محمد نورالزماں🌹*
*🌱سائل :-🌱*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*مزید معلومات کے لئے ہمارے چینل رضا اینڈ ازہری نیٹورک کو ابھی سبسکرائب کریں*

*سوال کے جواب کو تلاش کرنے کا آسان طریقہ ہے؟*
*https://youtu.be/eQet4MT67QE*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوہاب*

آذان میں دو فرض ہیں

*(١) اوّل حٙیّٙ علی الصلوٰة*

(٢) *دوسرا حٙیّٙ عٙلیٙ الْفلاح*

اور دس سنتیں ہیں : 
اوّل باوضو ہونا؛ دوسرے اونچائی پر کھڑے ہونا؛ تیسرے مسجد میں دائیں جانب کھڑا ہونا؛چوتھے دائیں بائیں گردن گمانا؛ پانچویں انگلیاں کانوں میں ڈالنا؛ چھٹے قبلے کی طرف منہ ہونا؛  ساتویں صحیح اذان کہنا؛ آٹھویں سارے کلمات اذان کے الگ الگ ادا کرنا ؛نویں انگلیاں کانوں میں ہلانا اور دسویں باہر صحن میں کھڑے رہنا۔
* 📙تفسیر نعیمی*

*📚کیا آپ جانتے ہیں صفحہ نمبر 576 *

*🕋واللہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم🕋*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*✍🏻ازقلم حافظ وقاری محمد امتیاز عالم منشی ٹولہ تارا باڑی بائسی پورنیہ بہار*
*رابطہ؛📞............⇩⇩*
*https://wa.me/+918922921676*
*۳ذی القعدہ ١۴۴٠ ھ بمطابق ۷جولائی ٢٠١٩ بروز اتوار*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت حافظ و قاری محمد انور رضا صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی پیاگ پور بہرائچ شریف یوپی الھند 8355972177*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت علامہ مولانا مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی گونڈہ یوپی 9918562794*

*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح :-حضرت مولانا محمد عالمگیر صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی ضلع امروہا یوپی*
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح :-حضرت مولانا محمد ریحان رضا رضوی صاحب قبلہ  مدظلہ العالی والنورانی*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
 *🔹قـــادری فــقــھــی گـــروپ؛🔹*
*رابطہ؛📞............⇩⇩*
*https://wa.me/+918922921676*
*المشتـــہر؛*
*منجانب؛منتظمین قــادری فقہــی گروپ؛محمد امتـــیاز عالــم تـارابـاڑی پورنیہ بہــار  انڈیا؛*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

Monday, March 22, 2021

‎نعت خواں جب نعت پڑھتے ہیں تو ان پر روپیہ اُڑانا کیسا ہے؟ نیز ان کو نذرانہ دینا کیسا ہے

السلام عليكم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام کہ نعت  خواں جب نعت پڑھتے ہیں تو ان پر روپیہ اُڑانا کیسا ہے؟ نیز ان کو نذرانہ دینا کیسا ہے 
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں سائل مولانا یوسف اکبری انجھار کچھ گجرات 
======== *وعلیکم السلام و رحمۃاللہ و برکاتہ*=========
*الجواب بـــــــــــِـاِسْمِـــــــــــــٖہ تـَعـــالٰـــــــــــــــی وباللہ توفیق*
سرکار اعلی حضرت محدث بریلوی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں  نعت خواں کو نعت پڑھنے کا روپیہ دینا حرام ہے اور دینے والا اور لینے والا دونوں گنہگار ہے 📙فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 726 رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور 📕 اب نعت خواں اور عوام دونوں کے حالات ایسے ہیں کہ نہ تو بغیر مال کے نعت خواں ملتے ہیں اور نہ ہی عوام سمجھنے کو تیار ہے کہ نعت شریف پڑھنا عبادت ہے اور عبادت کی اجرت لینا حرام ہے اور دینا بھی حرام ہے مگر افسوس ہے ایسے مسلمانوں پر جو نعت خواں پر اپنا مال برباد کر رہے ہیں لیکن ان کو جب مسجد کے امام کو دینا پڑے تو منہ پھول جاتا حالانکہ یہ ہی امام ہے جو مسلمانوں کی پیدائش سے لے کر قبر تک ان کے لیے دعا کرتا رہتا ہے اس امام کے لیے یہ ہی مسلمان غریب بن جاتے جاتے ہیں نعت رسول مقبول بیشک سنے مگر صرف ان سے سنے جو بغیر اجرت کے سناتے ہیں اور یہ صرف امام ہی وہ شخصیت ہے بغیر اجرت کے تقریر بھی کرتا ہے نعت رسول مقبول بھی سناتا ہے لہٰذا نعت شریف کے لیے ان جاہل نعت خواں کے بجائے اہل علم کو بلائے تاکہ عبادت کا ثواب ملے گا مگر ہر مسلمان کو شائد یہ بات سمجھ میں نہ آئے اس لیے اب حکم شرع یہ ہے کہ کسی بھی نعت خواں کو یہ کہے کہ آپ تین یا چار گھنٹے کے لیے ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت کی اجرت اتنی اتنی ہم آپ کو دیں  گے اب ان لوگوں کواس وقت مقرر کے پیسے لینا جائز ہوگا اور عوام کو دینا بھی جائز ہوگا *واللہ اعلم و رسولہ*
*فقیر ابو احمد ایم جے اکبری قادری حنفی عطاری*
*دارالافتاء فیضان مدینہ*
*تاریخ 19 مارچ 2021*  ✍🏻

Friday, March 12, 2021

کیا عورتیں آپس میں مصافحہ اور معانقہ مردوں کے طرح کر سکتی ہیں یا نہیں

*کیا عورتیں آپس میں مصافحہ اور معانقہ مردوں کے طرح کر سکتی ہیں یا نہیں ؟؟؟حوالہ کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں*

الجواب  ✍🏻بعون الملک الوہاب صورت مسئولہ میں عورتوں کا آپس میں مصافحہ اور معانقہ کرنا جائز و درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا :ما من مسلمین یلتقیان فیصافحان الا غفر لھما قبل ان یفترقا (ابو داؤد) 

دو مسلمان جب بھی ملتے ہیں اور مصافحہ بھی کرتے ہیں تو الگ ہونے سے پہلے ان کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں 

فقہ حنفی کی مشہور کتاب فتاوی عالمگیری میں ہے :تجوز المصافحۃ والسنۃ فیھا ان یضع یدیہ علی یدیہ من غیر حائل من ثوب او غیرہ 
مصافحہ کرنا جائز ہے اور سنت یہ ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو (الھندیہ ٥/٣٦٩)

ایسا ہی رد المحتار میں ہے 
اور معانقہ کا جواز بھی حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے معانقہ کیا اور اس کا جواز اس وقت ہی جبکہ خوف فتنہ اور اندیشہ شہوت نہ ہو جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے :فان کانت المعانقۃ فوق قمیص او جبۃ......... جاز عند الکل کذا فی فتاوی قاضی خاں (حوالہ سابق) 

کتب احادیث اور کتب فقہ میں مردوں اور عورتوں کی کوئی تفریق نہیں ہے تو جس طرح آپس میں ایک مرد دوسرے مرد سے مصافحہ و معانقہ کر سکتا ہے اسی طرح عورتوں کا آپس میں مصافحہ و معانقہ کرنا مسنون ہے 

ھذا ما ظھر لی واللہ اعلم بالصواب 

Thursday, March 4, 2021

کیا سوالات قبر امت محمدیہ صلـی اللہ علیـــہ وسلم کے ساتھ خاص ہے؟ نیز اگلی امتوں کس نبـــی کـــــے بارے میــــں ســـــــوال ہـــوتا تھا

*     _◆ـــــــــ    ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*کیا سوالات قبر امت محمدیہ صلـی اللہ علیـــہ وسلم کے ساتھ خاص ہے؟ نیز اگلی امتوں کس نبـــی کـــــے بارے میــــں ســـــــوال ہـــوتا تھا؟*
*     _◆ـــــــــ    ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*_پیغــــام مســــــلک اعلـی حضــــرت چینـــــــل_*
*_https://t.me/joinchat/AAAAAE9tEmBQwHPlzWwyPg_*
*_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*🌹 _اَلسَـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ_ 🌹‎*
*_★★ــــــــــــ♥🌸🌸🌸♥ــــــــــــ★★_*
 *_📜کیا فـرماتــے ہیں علمائـــے دین ومفتیــان شرع متین مسئلــہ ذیل کـــے بارے میـــــں کــہ کیا صحابہ کرام سے سوالات قبر ہوتے تھے؟ اور حضرت آدم کے زمانے میں جو لوگ مرتے تھے کیا ان سے سوالات قبر ہوتے تھے اور ایسے ہی دیگر انبیاء کرام کی امت کے متعلق ذرا تفصیــــل ســے جـــــواب درکار ہـــــے_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_☘ســائل:محمــد انصــار رضــا رضــوی☘_* *_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
*🌹وَعَلَیْڪُمْ اَلسَّــلَامْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہ🌹*   
*📝الجـــــوابــــــــــــ: بعون الملک الوہاب*👇

*🎗اگلی امتوں سے سوال قبر کے سلسلے میں صحیح وراجح قول یہی ہے کہ اگلی امتوں سے سوال قبر نہیں ہوتا تھا بلکہ یہ اسی امت محمدیہ کے ساتھ خاص ہے ۔*

*🎗جیساکہ فتــاوی حدیثیہ میـــں ہــــے👇*

*_📖وکان اختصاصھم بالسوال فی القبر من التخفیفات التی اختصوابھا عن غیرھم لماتقرر فتامل ذلک ومقتضی احادیث سوال الملکین ان المومن ولو فاسقا یجیبھما کالعدم ولکن بشارتہ تحتمل ان تکون بحسب حالہ ویوافقہ قول ابن یونس اسمھما علی المذنب منکر ۔ اھ (ص۱۱)_*
 *🎗اور اس کی ترجیح علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں ۔👇*
*_📖نقل العلقمی فی شرحہ علی الجامع الصغیر ان الراجح ایضا اختصاص السوال بھذہ الامۃ خلافا لما استظھرہ ابن القیم ونقل ایضا عن الحافظ ابن حجر العسقلانی ان الذی یظھر اختصاص السوال بالمکلف وقال تبعہ علیہ شیخنا یعنی الحافظ السیوطی ۔ اھ_*

*_📕ردالمختار جلد دوم صفحہ ۱۹۲_*

*🎗اصح قول یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام سے سوال نہیں ہوتا ۔*
*_📓درمختار میں ہے ۔👈🏽والا صح ان الا نبیاء لایسالون ۔ اھ_*
*_📗ردالمختار میں ہے ۔👈🏽واشار الشارح الی ان یزاد الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لانھم اولی من الصدیقین ۔ اھ " جلد دوم صفحہ ۱۹۲ مطلب ثمانیۃ لایسالون فی قبورھم_*

*_📕ماخوذ فتاوی مرکز ترتیب افتاء جلد اول صفحہ ۳۴۰/ ۳۴۱_*
       *🌹 _واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب_ 🌹*
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
         *📝 _شــــــــرف قلـــــــم_ 📝*
*_محمـــــــدمشــــــاہد رضــــاقــــادری رضـــــــوی خـــــادم التــدریس دارالعـــلوم شہیــد اعظـــم دولھـــــاپـــور پہــــاڑی انٹیــــاتھـــــــوک بـازار ضلــــــع گــــــونڈہ یــوپی ـ الھنـــــــــــــــــــــــــد_*
*☎https://wa.me/+917311172696*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_✅قداجاب المجیب جــوابا صحیحا ومافیـــہ لغوا والمجیب اعطاہ اللہ تعالیٰ ثوابا کثیـــــــرا محمد عمر رضا خان المسعـــودی والنیفالی دار العلوم ظفـــــــر الاســـــــــلام لوکاہــــــی بازار_*
_*✧✧✧ـــــــــــــــــــــــ💫ـــــــــــــــــــــ✧✧✧*_
*_۳/جمادی الاولی،۲۴۴۱؁بمطابق ۱۹/دسمبـر،٠٢٠٢؁_* *_✧ا◉➻══════════➻◉ا✧_*
                 *🖥 _المشتہــــــر_ 🖥*
*_بـانـئ پیغــام مســلک اعلٰــی حضــرت گــــروپ محمــد نــوشــاد عـالـم کٹیہــاربہــار الھنــــــــد شامل ہونے کے لیے رابطہ کریں رابطہ نمبـر👇_*
*☎https://wa.me/+919934959535*
*•─────────────────────•*
 *💙 _(پیغـام مسلک اعلٰی حضرت گـروپ)_ 💙*
*•─────────────────────•*
🚤🚤🚤🚤☘☘☘🚤🚤🚤🚤

Wednesday, December 30, 2020

زنا اگر ثابت ہوجائے تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے🌹*


*🌹زنا اگر ثابت ہوجائے تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے🌹*



السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ  ہمارے گاؤں میں ایک امام صاحب  ہے جو علاج کرتے ہیں  علاج کے ذریعے ایک لڑکی سے زنا کرتے ہیں ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا کیسا اور جو لوگ یہ بات جانتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہےاور جو نماز پڑھی گئی ہے اس کے بارے میں کیا ہے  برائے کرم جواب حوالے کے ساتھ عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی

*🔸سائل عبداللہ 🔸*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*📝الجواب بعون الملک الوھاب*

*امام پر اگر صرف زنا کی تہمت ہے مگر ثابت نہیں تو اس پر تہمت لگانے والے سخت گہنگار حق العبد میں گرفتار اور مستحق عذاب نار ہیں ان پر توبہ واستغفار اور امام مذکور سے معافی طلب کرنا لازم ہے اگر حکمومت اسلامیہ ہوتی تو زنا کی تہمت لگانے والے اگر چار گواہوں سے زنا ثابت نہ کر پاتے تو اسی ۸۰ کوڑے مارے جاتے جیساکہ خداے تعالی کا ارشاد ہے*

والذین یرمون المحصنت ثم لم یاتوا باربعة شھداء فاجلدوھم ثمنین جلدہ
(📖پ ۱۸ سورہ نور آیت ۴) 

*📜اور امام مذکور کا زنا کرنا یا اس کا کسی اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی میں رہنا اگر ثابت ہو اور اس نے توبہ کرلی تو ان دونوں صورتوں میں اس سے بیزار رہنے والے غلطی پر ہیں ان کی اور ان سب کی نماز اس کے پیچھے ہوجاے گی بشرطیکہ اور کوئی مانع امامت نہ ہو*

🏷اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی رضی عنہ ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل توبہ قبول فرماتا ہے
ھو الذی یقبل التوبة من عبادہ
اور سچی توبہ کے بعد گناہ بلکل باقی نہیں رہتے حدیث شریف میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں


♦التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ
گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کے مثل ہے توبہ کے بعد اس کی امامت میں اصلا حرج نہیں بعد توبہ اس پر گناہ کا اعتراض جائز نہیں حدیث میں ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

*"" "" عیر اخاہ بذنب لم یمت حتی یعملہ وفی روایة بذنب تاب منہ وبہ فسر ابن منیع"“"* 

🗒جو کسی اپنے بھائی کو ایسے گناہ سے عیب لگاے جس سے توبہ کرچکا ہے تو یہ عیب لگانے والا نہ مرے گا جب تک خود اس گناہ میں مبتلا نہ ہوجائے 

رواہ الترمذی وحسنہ عن معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ

*(📓فتاوی رضویہ جلد سوم ص225)*

*🗞اور اگر امام نے جرم ثابت ہونے کے بعد اگر توبہ نہیں کی ہے تو جو لوگ یہ جانتے ہوے اس کے پیچھے جتنی نمازیں پڑھے ہوں سب دوبارہ پڑھیں اور توبہ کریں امام پر اس صورت میں لازم ہے کہ اب توبہ کرلے پھر سب لوگ اس کے پیچھے نماز پڑھیں اور توبہ کے بعد بھی جو لوگ الگ نماز پڑھیں گے وہ تفریق المسلمین کے مجرم ہوں گے*

📿اگر بیزار شدہ لوگ مسجد اور اس کی جماعت چھوڑ کر بلاوجہ شرعی گھر پر نماز پڑھتے ہیں اگر چہ ان کی نماز ہوجاتی ہے مگر وہ گنہگار ہوتے ہیں رہی جمعہ کی نماز تو اسے قائم کرنے کے لئے سلطان اسلام یا اس کا نائب یا اس کا ماذون شرط ہے اور جہاں سلطان اسلام نہ ہو وہاں ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم کے اذان سے امام جمعہ و عیدین مقرر ہوسکتا ہے اور جہاں یہ بھی نہ ہو تو بمجبوری جسے وہاں کے عامہ مسلمین انتخاب کرلیں وہ جمعہ قائم کرکے اس کی امامت کرسکتا ہے ہر شخص کو اختیار نہیں کہ وہ بطور خود یا دس بیس یاسو پچاس آدمی کے کہنے سے جمعہ کا امام بن جاے گا ایساشخص اگر چہ اس کا عقیدہ صحیح ہو اور عمل میں بھی فسق وفجور نہ ہو جب بھی جمعہ کی امامت نہیں کرسکتا اگر کرے گا نماز اس کے پیچھے باطل محض ہوگی

*(📘فتاوی رضویہ جلد سوم ص275)*

*اگر بیزار شدہ لوگ اگر نئی مسجد اس لئے بنانا چاہتے ہیں کہ پرانی مسجد میں آنے سے فتنہ کا اندیشہ ہے تو ان کا یہ اقدام درست ہوگا*

🍁اور اگر ان کا مقصود پرانی مسجد کو ضرر دینا ہے اور جماعت مسلمین میں تفرقہ ڈالنا ہے تو ہر گز درست نہیں

(📕 فتاوی رضویہ جلد ششم ص425) 

*(📙فتاوی فقیہ ملت جلد اول ص237)*

*🔹واللہ اعلم ورسولہ🔹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*✍کتبــــــــــــــہ :-*
*حضرت علامہ و مولانا محمداسماعیل خاں امجدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی دولہا پور گونڈہ یوپی*
*🗳آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ 🗳*
رابطــہ ؛📞9918562794
*تاریخ؛ 25/جولائی 2019 ء*

Sunday, December 27, 2020

کــــــوئــی شخـــــص گھــــر ســــے 92 کلــــومیٹـــــر کـــــے ارادے ســــے گھــــر ســــے نکـــــلا تو کیــــا وہ مسافـــــر ہـــــے ‏

🛤️کــــــوئــی شخـــــص گھــــر ســــے 92 کلــــومیٹـــــر کـــــے ارادے ســــے گھــــر ســــے نکـــــلا تو کیــــا وہ مسافـــــر ہـــــے 🛸
🎆🎆🎆🎆🏕️🛣️🏕️🎆🎆🎆🎆
🔖الســـلام علیکــم ورحمـــتہ اللہ وبـــرکاتــــہ🔖
 
🪜،:،کیا فرماتے ہیں علماۓ دین و ملت مسٔلۂ ذیل کے بارے میں
(1️⃣) کہ کوئ شخص سفر کرے
جو کہ 92 کلومیٹر سے کم  ہو
 یعنی تین دن کی مسافت سے کم ہو تو کیا وہ مسافر کے حکم میں ہے 

 (2️⃣)رستے میں کسی مہمان کے ہاں رکنا پڑے تو اب سفر گھر سے مسافر  ہوگا یا وہاں سے آگے جہاں رکا تھا 
(3️⃣) اور قصر نماز‌پڑھے گے یا مکمل‌نماز؟
(4️⃣) اور اگر گھر سے ہی نیت تھی کہ کسی مقام پر رکنا ھے تو پھر کیا مسافر نہیں رہے گا؟
جواب عنائیت فرما دیجے

ســـــــائـــل؛ بیــــــرون ملـــــــک
🟧🟨🟧🟨🟧🟨🟧🟨🟧🟨🟧
《☆============♡=============☆》
🟩وعلیکــــــم الســـــلام ورحمـــــۃ اللہ وبــــــرکاتـــــــہ 🟢
💚بســـــم اللہ الرحمـــــن الرحیــــــم🤎 
💠الجــــوابـــــــ بعــــون الملـــــک الوھـــــابـــــــــــــــــــ💠
(1️⃣)نہیں یہ شخص مسافر کے حکم میں نہیں ہے ⚜️
جیسا کہ، 
📗(فتـــاوی رضــویــــہ جلد 8صفحہ نمبر 270،📓
پر ہے،
🏹: شیــــــخ الاســــلام المسلمیــــن اشّـــــاہ امـــــام احمــــد رضــــا خـــان علیـــہ الرحمــــۃ والرضـــــوان،🏆
 نے ساڑھے ستّاون ،میٖل لکھا ہے 
⭕جو نۓ حساب سے تقریباً ،92،کلومیٹر ہے،
 تخریج کردہ قاضی محمودالحسن ڈومریا گنج ضلع بستی،⭕
(2️⃣) (4️⃣) سفر کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جہاں سے چلا وہاں سے تین دن کی راہ کا ارادہ ہو اور اگر دو دن کی راہ کے ارادے سے نکلا وہاں پہنچ کر دوسری جگہ کا ارادہ ہوا کہ وہ بھی تین دن سے کم کا راستہ ہے یوں ہی ساری دنیا گھوم ہے مسافر نہیں
📚: (الــــدرالمختــــــار )"کتاب الصلوۃ "باب صلاۃ المسافر، جلد نمبر، ۲،صفحہ نمبر، ۷۲۳،۷۲۴،📚
اسی طرح،
📚: (فتـــاوی رضـــویـــہ) جلد ۸،صفحہ نمبر، ۲۷۰،📚
پر ہے کہ 
🎐: یہ بھی شرط ہے کہ تین دن کا ارادہ متّصل سفر کا ہو،
 اگر یوں ارادہ کیا کہ مثلاً دو دن کی راہ پر پہنچ کر کچھ کام کرنا ہے وہ کر کے پھر  ایک دن کی راہ جاؤں گا  تو یہ تین دن کی راہ کا متّصل ارادہ نہ ہوا مسافر نہ ہوا،

(3️⃣)یہ شخص مکمل نماز پڑھے اس لۓ کہ یہ مسافر کے حکم میں نہیں ہے، 

اب آئیے اسی طرح کے ایک سوال کا جواب، 
📚: فتاوی مرکز تربیت افتاء،📚
 میں ہے ،
زید اگرچہ 92 کلومیٹر سے زائد مسافت کے ارادے سے چلتا ہے مگر دوران راہ چند گھنٹے ٹھہرتا  اور قریبی بستیوں میں قیام پذیر ہو کر کچھ کام کرتا ہے،
 تو ایسی صورت میں وہ مسافر نہیں اور اس پر سفر کے احکام جاری نہ ہوں گے
 اور وہ اپنی نماز پوری پڑھے گا

📚(فتــــاوٰی مــــرکـــز تــــربــــیت افتـــــاء) جلد اول صفحہ نمبر 296،📚

🔎: تمام حوالہ جات سے یہ ظاھر و باہر ہو گیا کہ یہ مسافر کے حکم میں نہیں ہے اپنی نمازیں پوری پڑھے ؛⚜️
 
❄️: وھو سبحانہ تعالی اعلم بالصواب :❄️
🟨🔳◾◼️▪️🟣▪️◼️◾🔳🟨

♡!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!¡¡¡¡¡¡¡!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!♡
➡️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️〰️⬅️
کتبـــــــــــــــــــــــہ:🟦🔵🔷🔹 
خلیفــــــۂ مجـــــاز العبـــد ابــو الفیضـــان محمــــد عتیــــق اللہ فیـــــضی صدیـــــقی یــار علـوی اویـــسی ارشـــدی دامــــت بــرکـــاتہـــــم القدسیـــــہ 
دارالعلــــوم اھلسنتـــــــ مـــــحی الاســلام بتھـــــریا کــــلاں ڈومــریــا گنــج سدھـــارتھ نگـــر(یــــوپـــی)
 رابطـــــــہ نمبــــــر ☎️
🪀🎴7081618182🎴🪀
؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞؞
؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀؀
⬛🔳◾◼️▪️⚫▪️◼️◾🔳⬛
فیضــــــان تـــــاج الشریعــــہ رحمــــۃ اللہ علیـــــہ گــــروپــــــــــ 
گــــروپـــــــ میــــں شــــامل ہــــو نــــے کــــے لیـــے
 رابطــــــہ کریـــــــں☎️ 
🪀🎴8938992801🎴
🪀🎴9690363948🎴
🪀🎴7081618182🎴
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
المرتبـــــــــــــــ : 🖨️🖥️ 
گــــــداۓ حضــــور تــــاج الشریعــــہ رحمـــــۃ اللہ علیـــــہ 
قـــاری محمـــــد معـــــراج رضــــــوی سنبھـــــــلی مدرســــہ نعمانیـــــہ اصــــلاح المسلمیــــن مرادآبــــاد سنبھــــــل بــــراہــــی شــــریفـــــــ 
رابطــــــہ نمبـــــر☎️ 
🎴9690363948🎴
%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%%
نـــوٹـــــــ : اس پوسٹ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بالکل نہیں کریں بلکہ ثواب کی نیت سے شیئر کریں

Saturday, December 26, 2020

*سال نو کی مبارک باد دینا کیسا ہے

*سال نو کی مبارک باد دینا کیسا ہے*
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
💌 *مسئلہ نئےسال 2021کا مبارک باد دے سکتے ہیں یا نہیں؟*
🇿🇲 *سائل:سلیمان انصاری*
🏠 *گڑولہا رامکولہ کشی نگر* 
🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶🔶
     *بسم اللہ الرحمن الرحیم*
📋 *الجواب سراج الفقہاء محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی پرنسپل جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گرھ یوپی فرماتے ہیں "نئے سال کی مبارک باد دینے کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ سال آپ کے لئے مبارک رہے،خیرسےگذرے،یہ جائز ہے کہ دعاے خیر ہے-ہاں اگرکوئی انگریزوں کے بناےہوے ماہ وسال کی تعظیم کے لئے کہے تومکروہ ہے مگرعام طورپرمسلمان یہ نیت نہیں رکھتے بلکہ ان کامقصد دعاے خیر ہوتا ہے اوراس میں کوئی مضایقہ نہیں "اھ(📚 ملفوظات سراج الفقہاء ص ١٤٤)-*
   *فخر ازہر قاضی القضاة فی الھند تاج الشریعہ حضور مفتی اختررضا خان ازہری بریلوی فرماتے ہیں "نیاسال مبارک ہو بذریعہ دعا کہنے میں حرج نہیں ہے جب کہ تشبہ نہ ہوغیروں سے اور نہ تشبہ مقصود ہو "اھ*
       *خیرالاذکیاء محمد احمدمصباحی* 
 *ناظم تعلیمات جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ یوپی فرماتے ہیں" بلاضرورت مبارک باد دینے سے بچا جاے"اھ*
         *مفتی عقیل خان قادری مصباحی* 
*جامعہ اسلامیہ روناھی فیض آباد یوپی فرماتے ہیں "سال نو کی آمد یقینا نعمت الہی ہے،اس اعتبار سے تبریک وتہنیت پیش کرنا باعث فرحت وانبساط ہے جو بلاشبہہ جائز ہے،مگر بزرگان دین اس طرح کے تکلفات عرفیہ سے ہمیشہ دور رہے ہیں اسی وجہ سے دور ماضی میں اس طرح کی کوئی مثال علم میں نہیں آئی "اھ  -واللہ تعالی اعلم*
📝 *کتبہ محمد ابراھیم المصباحی*
             *کوشی نغر یوبی الھند*
🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷🔷          
💻     *طالب دعا : نشتر مصباحی* 
       *امیراعلی شرعی عدالت کشی نگریوپی*
            *رابطہ نمبر09984902633*
🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵🔵
🖨 *المشتھر شرعی عدالت گروپ*
*رابطہ نمبر 08400848675*
=========================

Friday, December 18, 2020

اسلام میں قبرستان کی اھمیت کیا ہے اور قبرستان کا اداب واحترام کس طرح کرناچاییئے؟

*🖌️اسلام میں قبرستان کی اھمیت کیا ہے اور قبرستان کا اداب واحترام کس طرح کرناچاییئے؟🖌️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ۔کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ قبرستان کی اسلام میں کیا اہمیت ہے نیز قبرستان کا ادب واحترام کس طرح کرنا چاہیے۔قبرستان کے کسی حصے میں بطور سیر و تفریح آگ جلا کر کھانا یا دیگر اشیاء  وغیرہ بنانا کیسا ہے؟تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔المستفتی شکیل احمد خان قادری رضوی بنارس
ا________(🍅)___________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
اسلام میں قبور ومقابر مسلمین کی بڑی اہمیت ہے فلہذا ان کا ادب واحترام بھی مسلمانوں لازم قرار دیاگیاہے
ہمارے فقہائےاحناف علیہم الرضوان فرماتےہیں کہ قبرپر رہنےکومکان بنانا ، یاقبرپر بیٹھنا یا سونا ، یااس پر یا اس کےنزدیک بول وبراز کرنا یہ سب اموراشدمکروہ قریب بہ حرام ہیں
*(📙فتاوی ہندیہ میں ہے)*
*” ویکرہ ان یبنی علی القبر او یقعد او ینام علیہ او یؤطا علیہ او یقضی حاجۃالانسان من بول او غائط “*
*{📗ج١ ص١٦٦ ، بولاق مصر}*
*(🖍️علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ مکروہات استنجاء بیان کرتےہوئے فرماتےہیں)*
*” وبجنب مسجد ومصلی عید و فی مقابر الخ “*
*{📕الدرالمختار ص٤٩ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(📕علامہ شامی علیہ الرحمہ اس کی وجہ بیان کرتےہوئے رقمطرازہیں)*
*” لان المیت یتاذی بمایتاذی بہ الحیی والظاھر انہا تحریمیۃ “*
*{📘ردالمحتار ج١ ص٣٤٣ ، دارالکتب العلمیۃ}*
سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ سےسوال ہواکہ قبرستان میں یا اس کےمتعلقہ زمین میں بول براز گندگی وغیرہ پھینکنا یاقبرستان کو گندگی کا مخزن بنانا کیسا نیز مسلمانوں پر قبرستان کی حرمت کس حدتک واجب ہے ؟ توجوابا آپ نےارشاد فرمایا
*” حرام حرام سخت حرام ہے اوراس کامرتکب مستحق نار وغضب جبار ہے ، قبورمسلمین پرچلناجائزنہیں ، بیٹھنا جائزنہیں ، ان پرپاؤں رکھناجائزنہیں ، یہانتک کہ ائمہ نے تصریح فرمائی ہےکہ قبرستان میں جونیا راستہ پیداہوا اس میں چلناحرام ہے ، اورجن کے اقرباء ایسی جگہ دفن ہوں کہ ان کےگرد اور قبریں ہوگئیں اوراسےان قبورتک اورقبروں پر پاؤں رکھےبغیرجانا ممکن نہ ہو دور ہی سے فاتحہ اورپاس نہ جائے “*
*{🖌️فتاوی رضویہ مترجم ج٩ ص٤٨١ ، رضا فاؤنڈیشن}*
*(🖍️صدرالشریعہ علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” مسلمانوں پر لازم ہےکہ مقابرمسلمین کو نجاست سےپاک کریں اورجس طرح ممکن ہوہندؤں کوباز رکھیں قبرستان میں جوتا پہن کر جاناتک تو حدیث میں منع فرمایا نہ کہ وہاں کفارکاجانا اور نجاست کاڈھیر قبروں پرلگانا یہانتک کہ قبرستان میں جونیا راستہ نکالاہو اس پر چلنامنع ہے یونہی وہاں جانوروں کو باندھنا بلکہ لےجانابھی ممنوع ہے “*
*{📗فتاوی امجدیہ ج١ ص٣٣٨ ، مکتبہ رضویہ کراچی}*
*(🖊️دوسری جگہ ارشاد فرماتےہیں)*
*” قبرستان میں کھانا پینا سگریٹ حقہ پینا مکروہ ہے اوربظاہریہ کراہت تنزیہی ہے مگر دونوں میں پچھلی بہ نسبت پہلی کےسخت ہے کہ آگ قبرستان میں نہ لےجانا چاہئیے یونہی قبرستان میں آگ جلانا بھی مکروہ تنزیہی ہے جبکہ قبرپرنہ ہو “*
*{📘ایضا ص٣٦٢}*
سوال میں مذکورہ امور جو بغرض سیروتفریح کئےجاتےہیں سخت قیبح وشنیع ہیں ، جن سےاحتراز واجب ہے اورقبرستان کمیٹی پربھی لازم ہے کہ لوگوں کو حتی المقدور ان امور سے باز رکھیں

*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛*
ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ29/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
*الجواب صحیح والمجیب نجیح محمد شہباز عالم نعیمی عفی عنہ)*
ا_________(💚)___________
819

Saturday, December 12, 2020

موبائل سے قرآن ڈلیٹ کرنا

*موبائل سے قرآن ڈلیٹ کرنا*
📱📱📱📱📱📱📱📱جو لوگ موبائل یا کمپیوٹر میں قرآن پاک رکھتے ہیں اور کبھی کسی خرابی کی وجہ سے ڈلیٹ بھی ہو جاتا ہے تو کیا یہ اس حدیث کے حکم میں‌ شامل ہے جس میں‌ قیامت کی ایک علامت یہ ہے کہ مسلمان قرآن کو اپنے ہاتھوں سے مٹائیں گے؟ مدلل جواب مطلوب ہے؟ ۔
👏اور کیا ایسی کوئی حدیث ہے بھی یا نہیں؟ 
سائل: *حافظ احمد رضا نوری* پونہ مہاراشٹر 


الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

هَـذَا بَلاَغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُواْ بِهِ وَلِيَعْلَمُواْ أَنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ.

یہ (قرآن) لوگوں کے لئے کاملاً پیغام کا پہنچا دینا ہے، تاکہ انہیں اس کے ذریعہ ڈرایا جائے اور یہ کہ وہ خوب جان لیں کہ بس وہی (اللہ) معبودِ یکتا ہے اور یہ کہ دانش مند لوگ نصیحت حاصل کریں۔

إِبْرَاهِيْم، 14: 52

سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ، رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

خيرکم من تعلم القرآن وعلمة.

تم میں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآنِ مجید کو خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔

بخاری، الصحيح، 4: 1919، رقم: 4739، دار ابنِ کثير اليمامة، بيروت، لبنان

دوسرے مقام پر آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

بلغوا عنی و لو آية.

میری طرف سے اگر ایک آیت بھی (تمہارے پاس) ہو تو وہ لوگوں تک پہنچاؤ۔

بخاری، الصحيح، 3: 1245، رقم: 3272، دار ابنِ کثير اليمامة، بيروت، لبنان

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ قرآن و حدیث کی تعلیمات خود سیکھنا اور دوسروں کو سکھانا بھلائی اور خیر کا کام ہے۔

اچھے معلم کی خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ تعلیم و تعلم کے لیے جدید طریقوں کو بروئے کار لاتا ہے۔ اسی طرح اچھے داعی اور مبلغ کی ضرورت بھی ایسے جدید طریقِ ابلاغ ہیں جن سے پیغام جلد اور سہل انداز میں پہنچایا جاسکے۔ تاکہ اہلِ اسلام، اسلام کی تعلیمات کو سمجھ سکیں اور غیرمسلم، اسلام کا مطالعہ کرسکیں جس سے ان کی اسلام کی طرف رغبت ہو۔

لہٰذا حذف (Delete) ہونے کے خوف سے قرآن و حدیث کو جدید ذرائع ابلاغ سے دور رکھنا ان کی ترویج و اشاعت کو روکنے کے مترادف ہے۔ تمام جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے تعلیماتِ اسلام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔

🎤 *اپنے سوال میں آپ نے جس حدیث کا تذکرہ کیا ہے، ایسی کوئی حدیث ہمارے علم میں نہیں۔*

*مزید وضاحت*

📱موبائل میں قرآن  کریم کی آیات موصول ہوں  تو ان کو پڑھنے کے بعد یا ان سے نصیحت حاصل کرنے کے بعد  اگر ان کومٹانے (ڈیلیٹ) کرنے کی ضرورت درپیش ہو  تو اس کو مٹانے  میں شرعاً حرج نہیں ہے ؛ اس لیے کہ فقہاءِ کرام نے  ضرورت کی صورت میں  کاغذ  وغیرہ سے قرآنی آیات اور احادیث  کو مٹانے کی اجازت دی ہے؛ لہذا موبائل سے قرآن کریم کی آیات  مٹانے کی گنجائش ہے۔

''فتاوی عالمگیری'' میں ہے:

''ولو محا لوحاً كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز''. (5 / 322، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، 

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

*محمدرضا مرکزی*
خادم التدریس والافتا
*الجامعۃ القادریہ نجم العلوم* مالیگاؤں

*شرعی عدالت واٹس ایپ گروپ*

https://chat.whatsapp.com/GhLibedpn1kG2LdZdYTTKj

ایڈمن: *اسلامک معاشرہ یوٹیوب چینل* 

👍Plzzzz 🔀 subscribe 

*islamic muashra* 

🛑 youtube channel 🛑

*شرعی عدالت یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کریں*..

https://www.youtube.com/channel/UCvWcXNmBFucLXlArnrloz1w