Friday, December 27, 2019

غوث پاک۔اور بادشاہ رنجیت سنگھ کے دور کا واقعہ

*✍🏻غوث پاک علیہ الرحمہ کے وصال شریف کے طویل عرصے کے بعد ہندوستان میں رونما ہونے والا ایک ایمان افروز واقعہ پڑھئے اور جھومئے*

*✍🏻رنجیت سنگھ کے دور حکومت کا واقعہ ہے،ایک نام نہاد مسلمان جوکر کرامات اولیاء کا منکر تھا شومئی قسمت سے ایک شادی شدہ ہندوانی کو دل سے بیٹھا۔ ایک بار ہندو اپنی بیوی کو میکے پہنچانے کے لئے گھر سے باہر نکلا ادھر سے بدبخت عاشق پر شہوت نے غلبہ کیا۔ چنانچہ اس نے ان کا پیچھا کیا اور ایک سنسان مقام پر اس نے دونوں کو گھیر لیا، وہ دونوں پیدل تھے اور یہ گھوڑے پر سوار تھے۔ اس نے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سواری کی پیشکش کی مگر ہندو نے انکار کیا، وہ اصرار کرنے لگا کہ اچھا عورت ہی کو پیچھے بیٹھنے کی اجازت دے دو کہ یہ بے چاری تھک جائے گی۔ ہندو کو اس کی نیت پر شبہ ہو چلا تھا، لٰہذا اس نے کہا، تم ضمانت دو کہ کسی قسم کی خیانت کئے بغیر میری بیوی کو منزل پر پہنچا دو گے۔ اس نے کہا کہ یہاں جنگل میں ضامن کہاں سے لاؤں ؟ عورت بول اٹھی، “مسلمان گیارہوں والے بڑے پیرصاحب کو بہت مانتے ہیں تم انہیں کی ضمانت دے دو۔“ وہ اگرچہ غوث الاعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کے تصرفات کا قائل نہیں تھا مگر یہ سوچ کر کہ ہاں کہہ دینے میں کیا جاتا ہے اس نے ہاں کہہ دی۔ جوں ہی عورت گھوڑے پر سوار ہوئی اس ظالم نے تلوار سے اس کے شوہر کی گردن اڑا دی اور گھوڑے کو ایڑھ لگادی۔ عورت غم سے نڈھال اور سہمی ہوئی بار بار مڑ کر پیچھے دیکھے جارہی تھی۔ اس نے کہا کہ بار بار پیچھے دیکھنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، تمھارا شوہر اب واپس نہیں آسکتا۔ اس نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا، میں تو بڑے پیرصاحب کو دیکھ رہی ہوں۔ اس پر اس نے ایک قہقہہ لگاکر کہا کہ بڑے پیرصاحب کو تو فوت ہوئے سو سال گزر چکے ہیں اب بھلا سو سال گزر چکے ہیں اب بھلا وہ کہاں سے آسکتے ہیں ! اتنا کہنا تھا کہ اچانک دو بزرگ نمودار ہوئے ان میں سے ایک نے بڑھ کر تلوار سے اس بدعقیدہ عاشق کا سر اڑا دیا۔ پھر عورت کو بمع گھوڑا اس جگہ لائے جہاں وہ ہندو کٹا ہوا پڑا تھا۔ دونوں میں سے ایک بزرگ نے کٹا ہوا سر دھڑ سے ملاکر کہا، “قم باذن اللہ“ یعنی اٹھ اللہ (عزوجل) کے حکم سے۔ وہ ہندو اسی وقت زندہ ہوگیا۔ وہ دونوں بزرگ غائب ہوگئے۔ یہ دونوں میاں بیوی گھوڑے پر سوار ہوکر بخیریت گھر لوٹ آئے۔ مقتول کے وارثوں نے گھوڑا پہچان کر رنجیت سنگھ کی کورٹ میں دونوں میاں بیوی پر کیس کردیا کہ ہمارا آدمی غائب ہے اور گھوڑا ان کے پاس ہے شاید ان لوگوں نے ہمارے آدمی کو قتل کر دیا ہے۔ پیشی ہوئی، ان میاں بیوی نے جنگل کا سارا واقعہ کہہ سنایا اور کہا کہ ان دونوں بزرگوں میں سے ایک بزرگ یہاں کے مشہور مجذوب گل محمد شاہ صاحب کے ہمشکل تھے۔*
*✍🏻چنانچہ ان مجذوب بزرگ کو بلوایا گیا۔ وہ تشریف لے آئے اور انھوں نے آتے ہی اول تا آخر سارا واقعہ لفظ بہ لفظ بیان کردیا۔ لوگ حضور غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم کی یہ زندہ کرامت سنکر عش عش کر اٹھے۔ رنجیت سنگھ نے مقدمہ خارج کرتے ہوئے ان دونوں میاں بیوی کو انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔ (الحقائق فی الحدائق)*

Saturday, December 7, 2019

بڑے پیر غوث اعظم کے تاریخ وصال کیا ہے


السلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ
علماء کرام و مفتیان عظام کیا فرماتے ہیں مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ بڑے پیر روشن ضمیر سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کا وصال کی تاریخ کیا ہے۔
ابھی تک میں نے یہی پڑھا تھا کہ تاریخ وصال 11ربیع الاخر 561ہجری ہے
لیکن جمعہ کے دن دوران تقریر امام صاحب نے فرمایا کہ ان کی وصال کی تاریخ نہیں ہے بلکہ غوث پاک رضی اللہ عنہ وجہ تخلیق کائنات جناب احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا فاتحہ اس تاریخ کو دلایا کرتے تھے اسی سبب سے اس تاریخ کو فاتحہ خوانی مشہور ہو گئی
حضرت کی بارگاہ میں گذارش ہے کہ مع حوالہ وضاحت فرمائیں ۔


سائل محمد ریاض گریڈیہ جھارکھنڈ


وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

📝الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ میں عرض ہے کہ سن و ماہ میں کوئی اختلاف نہیں البتہ تاریخ میں اختلاف ہے-

📖جیساکہ " سیرت غوثیہ صفحہ ٢٤١ " پر ہے کہ :
"تاریخ وصال و بروایات بسطہ ابن جوزی ابن رجب حنبلی ، حافظ ابن نجار ، حافظ ذہبی و علی القادری وغیرہم، تاریخ ١٠ ماہ ربیع الثانی سن ٥٦١ ہجری اور بعضوں نے ٩ ربیع الثانی لکھی ہے -
جن لوگوں نے ٣٠ کا چاند دیکھا انھوں نے ٩ فرمایا اور جن حضرات نے ٢٩ کا چاند دیکھا ١٠ تحریر فرمایا -
دو چار لوگوں نے ١١ بھی تحریر فرمایا ہے ، جو آپ کے دفن کی تاریخ تھی -
مگر محدثین کی کثرت ١٠ ربیع الثانی سن ٥٦١ پر ہے -
 یوم وصال لیلتہ السبت یعنی وہ رات جس کی صبح ہونے پرشنبہ تھا - سن وصال ٥٦١ روز  دفن لیلتہ الاحد یعنی وہ رات جس کی صبح یکشنبہ تھا اور ربیع الثانی کی ١١ تاریخ تھی -
سال وصال با الاتفاق سن ٥٦١ ھ ہے - امام حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ علیہ نے " البدایہ والنہایہ" میں اور امام یافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے " مراتہ الجنان " میں حضور سرکار غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وصال صرف سال تحریر فرمایا ہے جو ٥٦١ ھ ہے - دن اور مہینہ کا ذکر نہیں کیاہے -
حضرت علامہ جامی علیہ الرحمہ نے بھی " نفحات الانس " میں حضور ٥٦١ ھ کا ذکر کیا ہے - اور "کمال عشق " کے اعداد سے ٥٦١ ہی نکلتا ہے -
بقول ابن نجار شنبہ کی شپ بعد نماز عشاء بتاریخ ١٠ ربیع الثانی اور بروایت شب شنبہ ٩ ربیع الثانی کو حضرت واصل بحق ہوئے -
البتہ ! آگے چل کرامات کے بیان
میں حضور سرکار غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ارجمند حضرت شیخ عبدالوہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول لکھا ہے کہ "ماہ ربیع الثانی میں آپ نے وصال فرمایا - "
بظاہر مولانا جامی علیہ الرحمہ کے اس طرح مہینہ کا تعین کرنے )سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں کسی متفق علیہ روایت کا آپ کو علم نہیں ہؤا ہے -
بہر کیف ! سال وصال بالاتفاق ٥٦١ھ ہی ہے عمر شریف ٩٠ سال ٧ ماہ کی ہوءی - ماہ ربیع الثانی بھی سب کو مسلم ہے - البتہ تاریخ میں تاریخ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے -
تاریخ کے سلسلہ میں ٨ ، ١٠ ، ١١ ، ١٣ اور ١٧ ربیع الثانی مختلف روایات منقول ہیں -
دارا شکوہ کی تحقیق میں قول اصح ٩ ربیع الثانی ٥٦١ ھ ہے -
بعض روایتوں میں آپ کی تاریخ وصال٨ یا ٩ ربیع الثانی بیان کی گئی ہے - اور بعض میں ١١ یا ١٣ اور ١٧ بیان کی گئی ہے -
پاکستان میں آپ کا عرس اور فاتحہ ١١ ربیع الثانی کو ہی خصوصیت کے ساتھ منایا جاتا ہے - جبکہ بغداد شریف میں ١٧ ربیع الثانی کو عرس ہوتا ہے -
بعض علماء و مؤرخین ٩ ربیع الثانی کو حضور سرکار بغداد کی صحیح تاریخ وصال بتاتے ہیں -
سید ابوالمعالی خیر الدین  المتوفی  علیہ الرحمہ سن ١٠٢٤

📄اپنی کتاب " تحفہ قادریہ " میں لکھتے ہیں ١٧ ربیع الثانی ٥٦١ ھ میں آپ نے رحلت فرمائی -
بعض رسالوں میں ١٣ اور ١١ ربیع الثانی بھی لکھی ہے - لیکن پہلا قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے -
بغداد شریف کے بعض معتبر اشخاص کا بیان ہے کہ :
" وہاں آپ کا عرس شریف ١٧ ربیع الثانی کو ہی ہوتا ہے - "
حضور سرکار بغداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ وصال کی تحقیق کے سلسلے میں بعض اور کتابیں بھی پیش نظر ہیں -
مثلاً عبدالرحمن چشتی علیہ الرحمہ کی کتاب" مراتہ الاسرار" اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ کی کتاب " اخبارالاخیار "
میں ، لیکن ان کی موجودگی سے بھی صحیح تاریخ کے حتمی یقین میں کوئی خاص مدد نہیں ملتی -
البتہ ہندوستان میں بھی ہر سال ربیع الثانی کے مبارک مہینہ میں حضور غوث پاک کا عرس گیارہویں شریف کے نام بڑی شان و شوکت اور ادب و احترام سے منایا جاتا ہے اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری وساری رہے گا - ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔۔۔!!!
کیونکہ ایک روایت کے مطابق یہ گیارہویں شریف حضور سرکار مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا حضور غوث پاک کو دیا ہواعطیہ و انمول  تحفہ ہے - جیسا کہ آپ حضرات نے بارہا جاء الحق بحوالہ کتاب " یازدہ مجلس" پڑھا اور سنا بھی ہوگا-

واللہ اعلم بالصواب

‭‮‭‮◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

✍🏻
شرف قلم حضرت علامہ و مولانا و مفتی محمد جعفر علی صدیقی رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی
کرلوسکرواڑی سانگلی مہاراشٹر
۱۷ دسمبر بروز سوموار ۲۰۱۸ عیسوی

رابطہ
+9185305 87825

‭‮‭‮◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

فـخر ازھــر گــروپ میں ایـڈ کے لـئے

+917800878771

‭‮‭‮◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆
🖥المـرتـب گـدائےاولیـائے کـرام محمــــــد ایــوب رضـا خان علوی

Wednesday, December 4, 2019

فلم دیکھنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے

*🔸فلم دیکھنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ہے ؟🔸*


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
مسٸلہ۔۔زید پڑھا لکھا ہوشیار ہے اور مدرس کی حیثیت سے علم دین کی تعلیم بھی دیتا ہے اور اس نے ایک مرتبہ فلم دیکھا اور دوسرے مرتبہ پھر دیکھنے کے لئے گیا مگر اس مرتبہ ٹکٹ نہ پانے کی وجہ سے مایوس ہوکر واپس چلا آیا اور وہی امامت بھی کرتا ہے آیا اس کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں۔
*🔸ساٸل محمد مصدق رضا قادری🔸*
ا__________❣⚜❣___________
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب اللھم ہدایة الحق والصواب ⇩*
صورت مسئولہ میں جواب یہ ہےکہ
اسی طرح کے ایک سوال کے بارے میں حضور فقیہہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
ایسا شخص فاسق معلن ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی

🚿لہذا !
فلم دیکھنے کے بعد جتنی نمازیں اس کے پیچھے پڑھی گئیں ہیں ان کو دوبارہ پڑھیں
اور آئندہ تاوقتیکہ !   وہ توبہ نہ کرلے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں
*(📚فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ نمبر 326)*

*🌹واللہ تعالی ورسولہ اعلم🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*✍🏻کــــــتـــــــبـــــہ*
*حضرت علامہ مفتی ابو الاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی میرج شریف مہاراشٹر*
*🗓 ۱۹ نومبر بروز منگل ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* https://wa.me/+919838501782
ا___________❣⚜❣__________
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________❣⚜❣__________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
ا__________❣⚜❣___________

Tuesday, November 5, 2019

جلوس محمدیہ کی ایجاد سب سے پہلے کس نے کی اور کہاں کی

*🌹جلوس محمد کی ایجادسب سے پہلے  کس نےکی اورکہاں کی ؟🌹*


السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال جلوس محمدی سب سے پہلے کس نے نکالا ہے اور کب سے جلوس محمدی نکل رہی ہے جواب عنایت فرمائیں آپ کا کرم ہوگا عین نوازش ہوگی
*❣سائل محمد حسنین اختر لکھیم پوری❣*
ا__________❣⚜❣___________
*و علیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*📝الجواب بعون الملک الوہاب ⇩*
جلوس محمدی کی جوشکل وہیت ہے اس کی ابتداء کہاں سے ہوئی ؛ اس تعلق سے رسائل تاج الشریعہ میں ہے کہ؛؛
مورخین نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے شیخ  المشائخ حضرت امام عمر بن محمد موصلی قدس سرہ نے اپنے شہر موصل(عراق) میں؛ ٦٠٤ھ ؛ کو ایجاد کیا ؛اور آپ کی پیروی واتباع کافخر سلاطین اسلام میں سب سے پہلے سلطان ظفر الدین شاہ اربل کو حاصل ہوا؛ بادشاہ نے اس وقت کے مشہور زمانہ علماء فقہا اور محدثین کومدعوکیا؛ اور ان کے مشورہ سے جلوس محمدی کے عمل خیر کو نہایت ہی عظیم الشان طریقے سے کرتے رہے ؛؛ باد شاہ ظفر الدین شاہ کے دور میں تمام اجماع کے ساتھ جلوس کی شاندار تقریبات ہوتی رہیں ؛ اور یہ سلسلہ ان کے انتقال؛ ٦٣٦ھ ؛ تک یعنی (٣٢) بتیس سال تک بلا انکار چلتا رہا اس اجماع علمائے امت کے پچاس سال بعد عظمت نبی کے منکرین وحاسدین  کا امام ؛٦٥٤ھ؛ میں پیدا ہوا؛ اس نے جمہور علمائےکرام وامت کے خلاف ایک کتاب بنام؛ردعمل المولد؛ لکھی؛جس کی اشاعت کے بعد تمام علماء وفقہا نے رد بلیغ  فرمایا ؛ اور بدستورتمام ممالک اسلامیہ جمہوریہ میں جلوس واجلاس ہوتے رہے؛؛

*( 📚رسائل تاج الشریعہ ثبوت جلوس محمدی ؛؛ حرف آغاز؛؛؛ صفحہ 5تا6؛؛ ناشر اسلامک ریسرچ سینٹر 58؛کسگران ؛سوداگران بریلی شریف (یوپی)*

*🌹واللہ تعالیٰ اعلم🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*✍🏻کـــــــــتـــــبـــــہ*
*✍🏻حضرت مولانا محمد اختر رضاقادری رضوی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نیپال گنجوی ناظم اعلی مدر سہ فیض العلوم خطیب وامام نیپالی سنی جامع مسجد سر کھیت (نیپال)*
*🗓 ۲۹ اکتوبر بروز منگل ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* https://wa.me/+9779815598240
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح خلیفئہ حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی سید شمش الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ*
ماشاء اللہ الجواب
*✅صحیح والمجیب نجیح اسرار احمد نوری بریلوی خادم التدریس والافتاء مدرسہ عربیہ اہل سنت فیض العلوم کالا ڈھونگی ضلع نینی تال اتراکھنڈ*
*✅الجواب صحیح والجیب نجیح حضرت مفتی محمد جعفر علی صدیقی رضوی صاحب قبلہ کرلوسکرواڑی سانگلی مہاراشٹر*
*ماشاللہ بہتر ہے*
*✅الجواب صحیح و صواب محمد رضا امجدی، دار العلوم چشتیہ رضویہ، کشن گڑھ،  اجمیر شریف ، المتوطن ، ہرپوروا ،  باجپٹی، سیتا مڑھی بھار*
ا__________❣⚜❣___________
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا__________❣⚜❣___________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
ا__________❣⚜❣___________

Tuesday, October 29, 2019

پان کھانے کے متعلق شریعت کا کیا حکم ۔جاٸز ہے یا حرام

سوال: پان کھانے کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے؟ جائز ہے حرام ہے یا مکروہ؟
جواب: جواب کو سمجھنے سے پہلے یہ سمجھیں کہ پان کیسے بنتا ہے؟
 معلوم ہونا چاہیے کہ پان کا پتہ ایک بیل سے لیا جاتا ہے جسے تنبول بیل یا ناگ بیل کہتے ہیں۔ پھر پان بنانے کے لئے پان کی پتی پر چُونا اور کتّھا لگا کر اِس میں چھالی ڈال کر چبایا جاتا ہے۔ پان کا ذائقہ بڑھانے کے لئے اِس میں کچھ اَور بھی چیزیں ڈالی جاتی ہیں، جیسے مصالحے، گل‌قند، سونف، الائچی، تمباکو وغیرہ۔
پان کی اس تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے علماء نے دو اعتبار سے پان کا حکم بیان فرمایا ہے،
(١) پان کا حکم چُونے کے اعتبار سے
(٢٢) پان کا حکم تمباکو کے اعتبار سے
اوّل کی تفصیل یہ ہے کہ: چونہ مٹی سے بنتا ہے، اور مٹی کا کھانا مکروہ ہے، اسلئے کہ وہ صحت کیلئے نقصان دہ ہے، البتہ اتنی کم مقدار جس سے نقصان نہ ہو کھانے کی گنجائش ہے،
"وان کان یتناول منہ قلیلا او کان یفعل ذالک احیاناً لا باْس بہ" (ھندیہ٥/ ٣٤٠٠)
اور مولانا عبدالحی لکھنوی فرنگی محلی نے "نصاب الاحتساب" میں واضح طور پر پان میں چونہ کھانے کی اجازت نقل فرمائی ہے، فرماتے ہیں: ہندوستان میں کھائے جانے والے پتّے (پان) کے ساتھ چونا کھانا مباح (جائز) ہے، اسلئے کہ وہ کم مقدار میں ہے اور مفید ہے، اور مذکورہ پتّے کا مقصد اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتا، پس پان میں چونا کھانا جائز اور درست ہے.
 "یباح اکل النورۃ مع الورق الماکول فی دیار الہند، لانہ قلیل نافع فان الغرض المطلوب من الورق المذکور لا یحصل بدونھا"
(فتاوی عبدالحی ص:٤١٣)
(ملخص از: کتاب الفتاوی ٦/ ١٨٣٣)
خلاصہ کلام: یہ ہے کہ پان میں چونا کھانا یا چُونے والا پان کھانا جائز ہے،
(٢) تمباکو کے اعتبار سے پان کا حکم
 اسکی تفصیل یہ ہے کہ: پان میں کھانے کا جو تمباکو / یا زردہ ہوتا ہے اس میں سُکر (نشہ) نہیں ہوتا ہے بلکہ حِدَّت (تیزی) ہوتی ہے۔ جس سے کبھی کبھی چکر بھی آجاتا ہے،
اسکا حکم یہ ہے کہ: اسکے کھانے کی بھی گنجائش ہے، (امداد الفتاوی ٤/ ١١٦٦)
لیکن چونکہ یہ صحت کیلئے نقصان دہ ہے، اور اسمیں سے بدبو بھی آتی ہے، اسلئے اس سے بچنا بہتر ہے، اور اگر کھائے تو منھ سے بدبو کو دور کرنا ضروری ہے، خاص طور پر مسجد میں جانے سے پہلے، کیوں کہ حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بدبودار چیز کھاکر مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے،
(صحیح بخاری ٢/ ٨٢٠) (شامی زکریا٢/ ٤٣٥)
(مستفاد از: کتاب النوازل ١٦/ ٤٩-١٤٨٨)
فائدہ: یہی حکم تمباکو والے حُقّے، بیڑی، سگریٹ، گٹکا، نِسوار وغیرہ کا ہے، یعنی جائز تو ہے، مگر بچنا زیادہ بہتر ہے، قرآن میں ہے "وکلوا مما رزقکم اللہ حلالاً طیبا" اور اللہ تعالٰی نے تمہیں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائی ہیں ان کو کھاؤ! یعنی جن سے نفرت اور کراہیت پیدا ہو ان کو نہ کھاؤ! (سورۃ المائدہ، آیت ٨٨)
(کتاب النوازل ١٦ / ١٤٨٨)
لیکن اگر یہ سب چیزیں نشہ آور اشیاء کے ساتھ استعمال کی جائیں جیسے چَرسْ، گانجہ، اَفِیم وغیرہ تو پھر ان سب کا استعمال ناجائز ہوگا،
نیز= ان اشیاء کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے، یعنی جن میں نشہ نہ ہو.
 واللہ تعالٰی اعلم

Saturday, October 26, 2019

ڈاکٹر اقبال گستاخ و بے ادب نہیں تھے

*❣ڈاکٹر اقبال گستاخ وبے ادب نہیں تھے❣*


کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ڈاکٹر اقبال سنی صحیح العقیدہ مسلمان تھے یا نہیں اعلی حضرت کا انکے بارے میں کیا فتوی ہے
👆
اس کا جواب عنایت فرمائیں ؟
🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴🌴
*🌹سائل محمد صلاح الدین موڑا بسنو ضلع کھیری🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*و علیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ*

*📝الجواب اللھم ہدایة الحق والصواب ⇩*
صورت مسئولہ میں جواب یہ ہےکہ
حضور بدرملت علامہ مفتی بدرالدین احمد قادری رضوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال صاحب لاہوری کے چند اشعار کے بابت حضور سیدی سرکار مفتی اعظم ہند رحمت اللہ علیہ سے استفسار کیا گیا
چونکہ وہ اشعار شرعاً قابل گرفت تھے
حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ نے فرمایا
بے شک اقبال سے خلاف شرع امورکا صدور ہوا ہے کفریات تک اس سے صادرہوئے ہیں
مگر وہ اللہ تعالیٰ کے محبوب سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخ وبے ادب نہیں تھا
بے شک اس سے اس کی جہالت کی بنا پر کفرتک پہونچا نے والی غلطیاں ہوئی ہیں
مگر آخر وقت میں مرنے سے پہلے اس کی توبہ بھی مشہور ہے اور حضرت نے فرمایا جو اللہ تعالیٰ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخ نہیں ہوتا اس کو " توبہ کی توفیق ملتی ہے " 
اس کے بعد حضرت نے اقبال کا یہ شعر پڑھا
بمصطفے برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
گر باؤ نہ رسیدی تمام بولہبی ست
(یعنی اے مسلمانو ! تو قدم مصطفے سے چمٹ جاکہ ذات مصطفے'ہی سراپا دین ہے (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آگر ذات مصطفے'علیہ التحیۃ والثناء سے وابستہ نہ ہوا تو تو مکمل ابو لہب ہے

👌🏻حاصل شعر کا ترجمہ)
حضرت یہ شعر پڑھ کر آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے کہ اس شعر سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقبال کی سچی محبت ظاہر ہے اس کے بعد فرمایا اقبال کے بارے میں توقف چاہئے
*(📕نورانی گلدستہ صفحہ نمبر 63/64)*

🚿سرکار مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کے فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ
شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال صاحب کے تعلق سے ہمیں توقف کرنا چاہیئے !

*🌹واللہ تعالی ورسولہ اعلم🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*✍🏻کــــــتـــــــبـــــہ*
*حضرت علامہ مفتی ابو الاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی میرج شریف مہاراشٹر*
*🗓 ۲۲ اکتوبر بروز منگل ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* https://wa.me/+919838501782
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مولانا محمد معصوم رضا صاحب قبلہ کرناٹکا منگلور*
ا___________❣⚜❣__________
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________❣⚜❣__________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
ا__________❣⚜❣___________

Thursday, October 24, 2019

تقدیر کی اقسام و احکام

*❣تقدیر کی اقسام و احکام❣*

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*

سوال کیا تقدیر کا فیصلہ اٹل ہوتا ہے یا بدل بھی سکتا ہے بحوالہ قرآن واحادیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں آپ سب کی مہربانی ہوگی
*فـخـر ازھـر چینل لنک ⇩*
https://t.me/fakhreazhar
*🌹سائل محمد تعلیم رضا🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*وَ عَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎*

*📝الجواب بعون الملک الوہاب ⇩*
تقدیر میں تبدیلیاں رد وبدل بدلاٶ ہوتا ضرور ہے لیکن ہر لکھی ہوٸی ہر تقدیر نہیں بدلتی بلکہ بعض تقدیر دعائيں اور اعمال صالحہ کی بنا بدل جاتی ہے تو اس سے معلوم ہوا تقدیر کی بھی قسمیں ہیں جو ایک میں تبدیلی ہو سکتی ہے اور ایک میں نہیں
اب تقدیر کی قسمیں جو ہمارے اسلاف و اکابرین نے فرمائی وہ تین قسمیں ہیں

📃جیسا کہ صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
قضا (تقدیر ) تین قسم کی ہے
(۱) مُبرَمِ حقیقی، کہ علمِ الٰہی میں کسی شے پر معلّق نہیں۔  (۲) معلّقِ محض، کہ صُحفِ ملائکہ میں کسی شے پر اُس کا معلّق ہونا ظاہر فرما دیا گیا ہے۔
(۳) معلّقِ شبیہ بہ مُبرَم، کہ صُحف ِملائکہ میں اُس کی تعلیق مذکور نہیں اور علمِ الٰہی میں تعلیق ہے
  وہ جو مُبرَمِ حقیقی ہے اُس کی تبدیل نا ممکن ہے، اکابر محبوبانِ خدا اگر اتفاقاً اس بارے میں کچھ عرض کرتے ہیں تو اُنھیں اس خیال سے واپس فرما دیا جاتا ہے جیسے  ملائکہ قومِ لوط پر عذاب لے کر آئے، سیّدنا ابراہیم خلیل ﷲ عَلٰی نَبِیِّنَا الْکَرِیْم وَعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃ وَالتَّسْلِیْم کہ رحمتِ محضہ تھے،  اور ایسا کیوں نہ ہو کہ اُن کا نامِ پاک ہی ابراہیم ہے،
یعنی ابِ رحیم، مہربان باپ، اُن کافروں کے بارے میں اتنے ساعی ہوئے کہ اپنے رب سے جھگڑنے لگے، اُن کا رب فرماتا ہے۔
*" یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍ "*
*(📙پ۱۲، ھود:۷۴)*
🚿 ہم سے جھگڑنے لگا قومِ لوط کے بارے میں
*( ترجمہ کنزالایمان*
قومِ لوط پر عذاب قضائے مُبرَمِ حقیقی تھا، خلیل ﷲعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام اس میں جھگڑے تو اُنھیں ارشاد ہوا:  ’’اے ابراہیم! اس خیال میں نہ پڑو،بیشک اُن پر وہ عذاب آنے والاہے جو پھرنے کا نہیں۔
*(📘بہارِ شریعت ،جلد ۱  حصہ ۱ ص ٧ مکتبہ فاروقیہ بکڈپو)*
اور وہ جو ظاہر قضائے معلّق ہے، اس تک اکثر اولیا کی رسائی ہوتی ہے، اُن کی دُعا سے، اُن کی ہمّت سے ٹل جاتی ہے اور وہ جو متوسّط حالت میں ہے، جسے صُحف ِملائکہ کے اعتبار سے مُبرَم بھی کہہ سکتے ہیں ، اُس تک خواص اکابر کی رسائی ہوتی ہے
جیسے کہ  حضور سیّدنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوٸے فرماتے ہیں :’’میں قضائے مُبرَم کو رد کر دیتا ہوں ‘‘
اور اسی کی نسبت حدیث میں ارشاد ہوا :’
*’اِنَّ الدُّعَاء َ یَرُدُّ القَضَاء َ بَعْدَ مَا اُبْرِمَ‘‘*
(بیشک دُعا قضائے مُبرم کو ٹال دیتی ہے)
*(📕بہارِ شریعت ، جلد ۱ حصہ ١ ص ٨ مکتبہ فاروقیہ بکڈپو )*

📜اور حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی تقدیر کے متعلق فرماتے ہیں کہ
تقدیر کے لغوی معنی اندازہ لگانا ہے اور اصطلاح میں اس اندازے اور فیصلہ کا نام تقدیر ہے جو رب کی طرف سے اپنی مخلوق کے متعلق تحریر میں آچکا
تقدیر تین قسم کی ہیں
 ( ١ ) مبرم ( ٢) مشابیہ مبرم ( ٣ ) معلق
پہلی قسم میں تبدیلی ناممکن ہے دوسری خاص محبوبوں کی دعا سے بدل جاتی ہے اور تیسری عام دعاٶں اور نیک اعمال سے بدلتی رہتی ہے
*(📓 مراة المناجیح جلد ١ ص ٧٧ )*

👌🏻مذکورہ بالا حوالاجات سے واضح ہوا کہ مبرم میں تبدیلی ناممکن اور مشابیہ مبرم و معلق میں تبدیلی ہوتی ہے جو اکثر کرامات اولیإ میں دیکھنے کو ملتی ہے

*🌹واللہ اعلم ورسولہ🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*✍🏻ازقلم حضرت علامہ مولانا محمد جابر القادری رضوی صاحب قبلہ مدظہ العالی والنورانی مسـجد نور جاجپور اڑیسہ*
*🗓 ۲۳ اکتوبر بروز منگل ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* https://wa.me/+918369465176
ا___________❣⚜❣__________
*🔸فخر ازھر گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917542079555
https://wa.me/+917800878771
ا___________❣⚜❣__________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فـــخـــر ازھـــر گــروپ*
*محمدایوب خان یارعلوی بہرائچ*
ا__________❣⚜❣___________

Tuesday, October 22, 2019

نماز میں لاٶڈ اسپیکر کا استعمال اور علماۓ کرام کی آرا

*نماز میں لاوڈ اسپیکر کا استعمال اور علماء کی آرا*
---------------------🌎-----------------------
*مسئلہ لاوڈ اسپیکر پر نماز کے باب میں علماے اہلسنت کا کیا موقف ہے؟*
----🌸🍥🌸---
     *بسم اللہ الرحمن الرحیم*
📋 *الجواب لاوڈ اسپیکر پر نماز کے سلسلے میں علماے اہلسنت کے موقف یہ ہیں*
(1) *پہلا موقف :بعض علماے کرام فرماتے ہیں کہ اس کا استعمال بحالت نماز درست نہیں مقتدیوں کی نماز فاسد ہوجاتی ہے جن میں سے چند یہ ہیں* *حضرت مفتی اعظم ہند مصطفی رضا خان رحمةاللہ*
*حضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ*
*اور نائب مفتی اعظم ہند حضور شارح بخاری رحمةاللہ علیہ وغیرہ-📕فتاوی مصطفویہ ص 10-*
(2) *دوسراموقف:بعض علماے کرام کہتے ہیں درست ہے نماز فاسد نہیں ہوتی، *جیسے مفتی اعظم پاکستان*
*مفتی اگرہ حضرت مولانا عبد الحفیظ صاحب علیہ الرحمہ*
*اور مبلغ اسلام عبد العلیم میرٹھی علیھم الرحمة-📘فتاوی نوریہ*
(3) *تیسرا موقف :درست ہے نہ استعمال کرنا بہتر ہےجیسے *حضور حافظ ملت*،
*مفتی بحرالعلوم*،
*صدرالافاضل حضرت علامہ نعیم الدینی علیھم الرحمة*،
*اور حضور سراج الفقہا مفتی محمد نظام الدین صاحب قبلہ صدرالمدرسین جامعہ اشرفیہ مبارک پور📙ملفوظات حافظ ملت ص 44،📘لاوڈ اسپیکر کا شرعی حکم-*
(4) *چوتھا موقف : مکروہ یہ موقف *حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمةکا ہے-📕فتاوی نعیمیہ*
(5) *پانچواں موقف:ناجائز ہے لیکن  مکبر کے ساتھ لاوڈ اسپیکر کا استعمال کیا جاسکتا ہے-*
      📚  *لاوڈ اسپیکر کا شرعی حکم*
  *بہر حال لاوڈ اسپیکر پر نماز پڑھانا بہتر نہیں* -
*واللہ تعالی اعلم*

========🌸🍥🌸=========
📄 *تصدیق وتصحیح*
   *محقق مسائل جدیدہ سراج الفقہاء*
*مفتی محمد نظام الدین رضوی برکاتی*
*پرنسپل جامعہ اشرفیہ مبارک پور*
            *اعظم گڑھ یوپی*
----------------🌸🍥🌸------------------

کسی جاندار کی تصویر پر سبحان الله ماشاءاللہ لکھنا کیسا ہے

*🌹 کسی جاندار کی تصویر پر سبحان اللہ ماشاءاللہ لکھنا کیسا🌹*

اسلام علیکم
حضرت مفتی صاحب جواب عنایت فرمایں,
کسی جاندار فوٹو کی تعریف میں سبحان اللہ کہنا یا لکھنا کیسا ہے,
جیسے آجکل فیسبک اور واٹسپ پہ لکھتے ہیں؟؟؟
. سائل:عبد القادر رضوی. بریلی
 شریف.
🍀🍀🍀🍀🍀🍀
     بسم اللہ الرحمن الرحیم
جواب:اس بارے میں علمائے کرام کے موقف میں اختلاف ہے. لہذا اسی اعتبار سے حکم بھی جداگانہ ہوگا.ہم یہاں ہندوستان کے دو معتبر عالم دین کی تحقیق اور حکم پیش کر رہے ہیں.
🍀تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خاں ازہری بریلوی مدظلہ العالی کی تحقیق یہ ہے کہ  جاندار کی تصویر چاہے دستی ہو کہ عکسی ہاتھ سے بنائی جائے یا موبائل-فون کی ساکت تصویر ہو. یا پھر ویڈیو سازی کی گئی ہو. ہر طرح کی جاندار کی تصویر بلا شبہ ناجائز وحرام ہے. لہذا ان کے نزدیک جاندار کی ہرطرح کی تصویر دیکھ کر سبحان اللہ اور ماشاءاللہ کے کمنٹس بولنا. یا تصویر کی تعریف کرنا ناجائز وحرام ہوگا.
🍀دوسری تحقیق اس مسئلے میں شیخ الاسلام مفتی محمد مدنی اشرفی مصباحی مدظلہ العالی کی ہے.ان کےنزدیک موبائل سے لی جانے والی تصویریں یا دوسرے جدید ذرائع ابلاغ سے کھینچی جانے والی ڈیجیٹل تصویریں جب تک برقی شعاع کی صورت میں محفوظ ہیں.باہر اس کی پرنٹ نہیں نکالی گئی ہے.تصویر کے حکم میں نہیں. لہذا اب ان کی تحقیق کے مطابق کسی ڈیجیٹل تصویر پر سبحان اللہ. ماشاء اللہ  کے کمنٹس لکھنے اور بولنے میں کوئی حرج نہیں. بلا شبہ جائز ہے.
چوں کہ یہ ایک فرعی مسئلہ ہے. لہذا جس عالم دین کی تحقیق پر دل جم جائے. شوق سے عمل کریں. ساتھ ہی اس کے برعکس عمل کرنے والوں پر طعن و تشنیع سے کام نہ لیں. کہ یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے.

ھذا ماسنح لی والحق عند ربی.

✍🏻فیضان سرورمصباحی
      جامعہ اشرفیہ مبارکپور
       3/صفر المظفر 1439ھ

Monday, October 21, 2019

امام صاحب کے گلے کا بٹن کھلا رہا تو نماز ہوگی یا نہیں

*🌹امام صاحب کے گلے کا بٹن کھلا رہا تو نماز ہوگی یا نہیں ؟؟؟🌹*


السلام علیکم
 ایک امام صاحب جب نماز پڑھاتے ہیں تو گلے کا بٹن کھلا رہتا ہے اگرچہ گلے کی ہڈی نظر نہیں آتی ہے بہتر تو یہ ہو کہ بٹن لگا لیں تاکہ مقتدیوں میں بٹن بند کرنے کا ایک رجحان پیدا ہو لیکن امام صاحب ماننے کو تیار نہیں ہیں آپ حضرات رہنمائی فرمائیں
*🌹سائل عقیل خان ممبئ🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*و علیکم السلام ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ*

*📝الجواب اللھم ہدایة الحق والصواب ⇩*
صورت مستفسرہ میں جواب یہ ہے کہ
حضور فقیہہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ
قمیص یا کرتے کے بٹن لگالئے کہ
سینہ ڈھک گیا اور اوپر کا بٹن نہ لگانے کے سبب گلے کے پاس کا خفیف (ہلکا سا) حصہ کھلا رہا تو حرج نہیں
*(📙فتاویٰ رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر 447)*

🚿اور اگر سینہ کھلا رہا تو مکروہ اور ظاہر کراہت تحریمی
*(📗بہار شریعت حصہ سوم صفحہ نمبر 166)*

🎁اور اس صورت میں امام ومقتدی اور منفرد سب پر نماز کا اعادہ واجب
*" لان کل صلاہ ادیت مع کرھیتہ التحریم تجب اعادتھا "*
*(درمختار)*

*(📚بحوالہ فتاویٰ فیض الرسول جلد اول صفحہ نمبر 273)*

👌🏻لہذا ! معلوم ہوا کہ اگر قمیص یا کرتے کےاوپر کا بٹن نہ لگانے کے سبب گلے کے پاس کا ہلکا سا حصہ کھلا رہا تو حرج نہیں
اور اگر سینہ کھلا رہا تو مکروہ تحریمی ہے
تواس صورت میں
امام و مقتدی اور منفرد سب پر نماز کا اعادہ واجب
امام صاحب مذکور احتیاط رکھیں قبل تکبیر تحریمہ قمیص آستین اور پائجامہ شلوار کی مہڑی وغیرہ ٹھیک ٹھاک کرلیا کریں
تاکہ مقتدیوں کے درمیان کسی قسم کی بدگمانی پیدا نہ ہو  اور مقتدی حضرات بھی اپنے امام پر کسی قسم کی ریشہ دوانی نہ کریں علمائے کرام ائمہ کرام کا ادب واحترام کیا کریں


*🌹واللہ تعالی ورسولہ اعلم🌹*
ا__________❣⚜❣___________
*✍🏻کــــــتـــــــبـــــہ*
*حضرت علامہ مفتی ابو الاحسان محمد مشتاق احمد قادری رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی میرج شریف مہاراشٹر*
*🗓 ۱۸ اکتوبر بروز جمعہ ۲۰۱۹ عیسوی*
*رابطہ* https://wa.me/+919838501782
ا___________❣⚜❣__________
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
ا___________❣⚜❣__________
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غـوث وخـواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی*
ا__________❣⚜❣___________

Wednesday, October 9, 2019

تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھنا کیسا ہے

تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھنا کیسا

ســـــــــوال
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھا خطرہ ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر نہ ہو
اور جس نے ایک سال تک قطع تعلق رکھا اس نے اپنے بھائ کا قتل کیا
       کون سی کتاب اور اس کے راوی کون ہیں
مکمل حدیث کیا ہے
تحقیق کے ساتھ عنایت فرمائیں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

الجواب بعون الملک الوہاب
صورت مستفسرہ میں مذکورہ بالا حدیث ابوداؤد شریف جلد سوم  کتاب آداب و اخلاق میں حدیث نمبر 4915 کی ہے
ابوخراش سلمٰی کہتے ہیں کہ ؛ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے سنا ؛ جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا تو یہ اس کے خون بہانے کی طرح ہے ؛

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ؛ کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے جس آدمی نے تین دن سے زیادہ تعلق منقطع رکھا اور وہ اس دوران فوت ہوگیا تو دوزخ میں داخل ہوگا؛  واللہ اعلم بالصواب؛
 ابوداؤد شریف جلد سوم  کتاب آداب و اخلاق حدیث نمبر 4915


کتبہ؛
ابوالصدف محمد صادق رضا
مقام؛  سنگھیا   پورنیہ
خادم؛  شاہی جامع مسجد
پٹنہ  بہار  الھند

الجواب صحیح محمد شبیر احمد صدیقی جامع مسجد احمد آباد گجرات

Tuesday, October 8, 2019

سجدہ میں دونوں پاٶں کے تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پرنہ لگا کیسا ہے

۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
 _*☘سجـدہ میـں دونــوں پاؤں کے تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پرنہ لگاناکیساھے،؟☘*_ 
*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*🌹 _اَلسَـلامُ عَلَيیکم وَرَحمَةُاللہِ وَبَرَکَاتُه_ 🌹‎*
*_★★ــــــــــــ♥🌸🌸🌸♥ــــــــــــ★★_*
 _📜کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ نماز میں سجدےکی حالت تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگناواجب ہے اب اگر کوئ شخص جان کریابھول کرتین انگلی کےبجائےایک انگلی یا دو انگلی لگا ئے توکیانماز ہو جائے گی برائےکرم مفصل و مدلل جواب عنایت فرمادیں بہت مہربانی ہوگی_ 
*_🍀سائل:محمد زین العابدین بارہ بنکی_🍀*
 _◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆_ 
*🌹 _وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ_ 🌹*

  _*📝الجــــــواب بعون الملک الوھاب*_ 

     _*بشــــــط صحة الســـــــوال:👇*_ 

*_🎗صرت مسئولہ میں امام ہو یا عام نمازی سجدہ میں دونوں پاؤں کی دس انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگنا فرض ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے اور دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا اور ان کا قبلہ رو ہونا سنت ہے۔ اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے یا پاؤں کا صرف ظاہری حصہ زمین پر لگایا یا صرف انگلیوں کی نوک لگائی اور ایک بھی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ لگا تو نماز نہیں ہوگی، اس نماز کو دوبارہ درست طریقہ کے ساتھ پڑھنا فرض ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک انگلی کا پیٹ تو زمین پر لگایا مگر دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر نہ لگایا تو ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ بھی ہوگا اور نماز واجبُ الاِعادہ ہوگی یعنی اس نماز کو دہرانا (دوبارہ پڑھنا)واجب ہے۔ نیز امام چونکہ مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہوتا ہے تو جس صورت میں امام کی نماز نہیں ہوگی اور اعادہ فرض ہوگا اس صورت میں مقتدیوں کی نماز بھی نہیں ہوگی، ان پر بھی اعادہ فرض ہوگا، یونہی جس صورت میں امام کی نماز واجبُ الاِعادہ ہوگی، مقتدیوں کی نماز بھی واجبُ الاِعادہ ہوگی۔_*

*_📚ماخوذ از : بہار شریعت و فتاویٰ تاج الشریعہ، کتاب الصلوۃ، ص ۱۹۹_*

🌹 _*واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*_ 🌹
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
 _🗓(8)اکتــوبر بروز،منگل(2019)عیســوی_
 _🗓(8) صفــــــرالمظفـــر (1441)ھجــــری_
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
         *📝 _شــــــــرف قلـــــــم_ 📝*
_*اسیــــــر حضـــور اشـــرف العــلــمـاء،ابـــو حنـــیـــفـــہ محمــــــــــد اکـبــــر اشــــــرفــی رضــــــــوی، مانخـــــــورد مـــمـــبـــئــــــــی*_ 
 *_رابطــــہ نمبــــر📞 919167698708_ +☎*
 _◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆_
               *🖥المشتہــــــر🖥*
*_منجــانب،منتظمیـن،پیغــام مسلک آعلحضـرت گـروپ محمــد نــوشــاد عـالـم کٹیہــاربہــار الھنـــــد شامل ہونے کیلئے رابطــہ کریـــں_*
*_رابطــــــہ نمبـــــر : +919934959535_ ☎*
*•─────────────────────•*
 *💙 _(پیغــام مسلک آعلحضرت گــــروپ)_ 💙*
*•─────────────────────•*

Wednesday, October 2, 2019

طلاق رجعی کا مسٸلہ


طلاق رجعی کا مسئلہ

*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
 _*☘،،،،،،،طلاق رجعـــــــی کامسئلہ،،،،،،؟☘*_ 
*‭‮‭‮ _◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــــــــــــ◆_*
*🌹 _اَلسَـلامُ عَلَيیکم وَرَحمَةُاللہِ وَبَرَکَاتُه_ 🌹‎*
*_★★ــــــــــــ♥🌸🌸🌸♥ــــــــــــ★★_*
 _📜کیافرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین مسٸلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے اپنی بیوی کو طلاق رجعی دی اور عدت کے اندر زید نے رجعت نہیں کی تو اب کونسی طلاق واقع ہو گی مع حوالہ جواب عنایت فرمائیں_ 
*_🍀سائل:محمــد منظرالقادری کاٹ گاؤں_🍀*
 _◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆_ 
*🌹 _وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ_ 🌹*

  _*📝الجــــــواب بعون الملک الوھاب*_ 

*صورت مستفسرہ میں اگر زید کا غصہ اس حد تک تھا کہ عقل جاتی رہے تو طلاق واقع نہیں ہوئی*

*اگر ایسا نہیں ہے، عام طور پر لوگ جس طرح غصہ کرتے ہیں, ایسی صورت میں دو طلاق رجعی پڑجائے گی، عدت کے اندر رجوع کریں اور رجوع نہیں کیا عدت گزر گئی تو اسے اپنی زوجیت میں رکھنے کے لیے نئے مہر سے نکاح کریں،* 

*حیض والی ہے تو عدت تین حیض، اور اگر حیض اب تک آئی نہیں یا آنا بند ہو گیا تو عدت تین مہینے اور اگر حاملہ ہو تو عدت وضع حمل ہیں*

*نوٹ: بالفرض اگر عورت عدت سے باہر ہو گئی اور رجوع نہیں کیا اب اس کو نکاح میں لانا چاہتا ہے تو دو مسلمان مرد یا ایک مسلمان مرد دو عورت کے موجوگی میں زینب سے کہے* *"میں نے تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہر پر اپنی زوجیت میں لیا، کیا تم اس بات رضا مند ہو ؟"*

*زینب کہے: جی میری رضا مندی ہیں, / مجھے قبول ہے*
*نکاح منعقد ہوگیا اب ہنسی خوشی ساتھ ساتھ رہیں،*

*📚ماخوذ از :::: قانون شریعت،و بہار شریعت، شریعت جلد دوم، حصہ ہشتم، طلاق کا بیان*

🌹 _*واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب*_ 🌹
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
 *🕋 _پیغــام مسلک آعلحضــرت گــــروپ_🕋*
*🕋 _(۲)اکتــوبر بروز،بــدھ(۲۰۱۹)عیسوی_🕋*
*🕋 _(۲) صفــر المظفــر (۱۴۴۱)ھجـــــری_🕋*
*_★★★ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ★★★_*
         *📝 _شــــــــرف قلـــــــم_ 📝*
_*اسیــــــر حضـــور اشـــرف العــلــمـاء،ابـــو حنـــیـــفـــہ محمــــــــــد اکـبــــر اشــــــرفــی رضــــــــوی، مانخـــــــورد مـــمـــبـــئــــــــی*_ 
 *_رابطــــہ نمبــــر📞 919167698708_ +☎*
 _◆ــــــــــــــــــ▪☘▪ـــــــــــــــــــ◆_
               *🖥المشتہــــــر🖥*
*_منجــانب،منتظمیـن،پیغــام مسلک آعلحضـرت گـروپ محمــد نــوشــاد عـالـم کٹیہــاربہــار الھنـــــد شامل ہونے کیلئے رابطــہ کریـــں_*
*_رابطــــــہ نمبـــــر : +919934959535_ ☎*
*•─────────────────────•*
 *💙 _(پیغــام مسلک آعلحضرت گــــروپ)_ 💙*
*•─────────────────────•*