Sunday, September 1, 2024

ناپاک فوم پاک کرنے کا طریقہ

ناپاک فوم پاک کرنے کا طریقہ 

مجیب: مولانا کفیل مدنی

فتوی نمبر:Web-305

تاریخ اجراء: 03ذیقعدۃالحرام1443 ھ/03جون 2022ء

دارالافتاء اہلسنت

(دعوت اسلامی)

سوال

   بچہ اگر بیڈ کے فوم پر پیشاب کردے ،تو اسے پاک کیسے کیا جائے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

   بچہ اگر فوم پر پیشاب کر دے توفوم پاک کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ تین مرتبہ دھوئیں اور ہر مرتبہ اتنی دیر کےلیے چھوڑدیں کہ قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں، تیسری مرتبہ دھونے کے بعد جب قطرے ٹپکنا بند  ہوجائیں تو فوم پاک ہوجائےگا۔ ان چیزوں کا دھوتے وقت نچوڑنا اور دوسری یا تیسری مرتبہ دھونے سے پہلے خشک ہونا ضروری نہیں۔ اور  دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بہتے پانی میں فوم کو چھوڑ دیں ،جب نجاست زائل ہونے کایقین ہو جائے  تو فوم پاک ہو جائے گا ۔یہ یادرہےکہ صرف چھینٹے یا گیلا کپڑا مار دینے سے فوم پاک نہ ہو گا۔

   البتہ نجاست کے خشک ہو جانے کے بعد اگر اس پر کوئی پاک کپڑا یا بیڈ شیٹ وغیرہ بچھا دی جائے ،تو اس کپڑے پر بیٹھ کر تلاوت و اذکار وغیرہ کر سکتے ہیں،اس صورت میں اگرچہ فوم ناپاک ہی ہوگا، مگر جب اس کی اوپری سطح پر کوئی پاک چیز بچھادی، تو اس پر بیٹھ کر تلاوت یا ذکر و اذکار کرنے میں حرج نہ ہوگا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

Friday, May 31, 2024

❶ بے نمازی، داڑھی منڈا، فاسق و فاجر کو حضرت، حضور کہنا کیسا ؟ 👇 ❷ فاسقِ معلن کو امام بنانا کیسا ہے ؟ 👇 ❸ فاسقِ معلن کو سلام کرنا کیسا ہے ؟

❶ بے نمازی، داڑھی منڈا، فاسق و فاجر کو حضرت، حضور کہنا کیسا ؟ 👇 
❷ فاسقِ معلن کو امام بنانا کیسا ہے ؟  👇 
❸ فاسقِ معلن کو سلام کرنا کیسا ہے ؟  👇 


سوال: 

کیا فرماتےہیں علمائے دین و مفتیان شرعِ متین مسئلۂ ذیل میں کہ آج کل لوگوں نے یہ عادت بنالی ہے کہ کسی کو بھی حضرت حضور کہہ دیتےہیں، یہ بھی نہیں دیکھتے کہ عالم ہے یا جاہل، نیک صالح ہے یا فاسق و فاجر، بےنمازی، داڑھی منڈا ، اس کے متعلق حکمِ شرع بیان فرمائیں ۔ بینوا توجروا

الجواب بعونِ الملک الوھاب: 

حضرت، حضور، حضورِ والا، قبلہ یہ سب الفاظ کلماتِ تعظیم میں سے ہیں، یہ الفاظ باعتبار مراتب انہیں کےلیے بولنا جائز ہے جو لائقِ تعظیم ہوں، بے نمازی، داڑھی منڈا یا ایک مشت سے کم رکھنے والا، فاسق و فاجر و کافر مرتد کےلیے ان کلمات کا استعمال جائز نہیں، فاسق کی توہین شرعا واجب ہے، اور اس طرح کے تعظیم و تکریم والے الفاظ کافر کی تعظیم کےلیے بولنا کفر ہے ۔

فاسق کی اہانت واجب ہے اسی لیے اسے امام بنانا جائز نہیں ۔ 

فتاویٰ رضویہ شریف میں بحوالۂ ردُّ المحتار ہے: 👇 


'' ان فی تقدیمیہ للامامۃ تعظیمہ وقد وجب علینا اھتانتہ ''

فقہائے کِرام فرماتے ہیں کہ فاسق کوامام بنانے میں فاسق کی تعظیم ہوتی ہے حالانکہ ہم پراس کی اہانت لازم ہے ۔ 

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم، ہفتم ، ص 125 ✅

اسی فتاویٰ رضویہ شریف میں بحوالۂ مراقی الفلاح وفتح اللہ المعین وطحطاوی علی الدرالمختار ہے: 

'' قد وجب علیہم اھانتہ شرعا '' 

یعنی از روئے شرع فاسق کی توہین ضروری ہوتی ہے۔

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم،22 ، ص 212✅

اسی فتاویٰ رضویہ شریف میں بحوالۂ تبیین الحقائق ہے: 

'' لان فی تقدیمہ تعظیمہ وقد وجب علیھم اھانتہ شرعًا ''

اس لئے کہ اس کو آگے کرنے میں اس کی تعظیم ہے حالانکہ شریعت میں لوگوں پر اس کی توہین واجب ہے ۔ 

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم،24 ، ص 363✅


اسی میں ہے: 👇 

فاسق کی مدح شرعاً حرام ہے،حدیث میں رسول ﷲ صلی ﷲ تعالٰی  علیہ وسلم فرماتے ہیں:

''اذا مدح الفاسق غضب الرب واھتزلہ العرش ''

 رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ وابویعلی فی مسندہ و البیھقی فی شعب الایمان عن انس بن مالک وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ رضی اﷲتعالٰی عنہما۔

جب فاسق کی مدح کی جاتی ہے رب عزوجل غضب فرماتا ہے اور اس کے سبب عرشِ الہٰی  ہل جاتا ہے، 
 اسے امام ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ، ابویعلی نے مسند اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس بن مالک رضی ﷲ تعالٰی  عنہ سے اور ابن عدی نے الکامل میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی  عنہ سے روایت کیا ہے۔

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم، 8 ، ص 424 ✅
فتاویٰ رضویہ شریف مترجم، 8 ، ص 568 ✅


اسی میں ہے: 👇
 
'' لاتقولو اللمنافق یا سید! فانہ ان یکن سید کم فقد اسخطتم ربکم عزوجل ''

منافق کو اے سردار!  نہ کہو بیشک اگر وہ تمہارا سردار ہے، تو تم نے اپنے رب عزوجل کا غضب لیا۔

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم، 9 ، ص 409 ✅

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ  (متوفیٰ 1439 ھ) اسی طرح کا ایک سوال (حضرت کہنے سے متعلق) کا جواب دیتے ہوئےفرماتےہیں: 👇

اگر وہ شخص شرعا مستحقِ تعظیم وتکریم تھا تو اسے (حضرت) کہنا جائز ہے، مستحقِ تعظیم کی تعظیم ہی چاہئے،  اور اگر وہ شخص فاسق یا کافر تھا تو اسے ایسا (حضرت)کہنا جائز نہ تھا بلکہ کافر کو بہ نیتِ تعظیم کوئی لفظ تعظیمی کہنا کفر ہے۔ 

فتاویٰ تاج الشریعہ، دہم ، ص 242 ✅ 

💚 فاسق کی اہانت واجب ہے، 
جس طرح اسے امام بنانا جائز نہیں یوں ہی فاسقِ معلن کو بلا مصلحتِ شرعیہ سلام کرنا بھی جائز نہیں، کیوں کہ سلام تعظیم ہے ۔

فتاویٰ رضویہ شریف میں بحوالۂ درِّ مختار ہے: 👇 

'' یکرہ السلام علی الفاسق لومعلنا ''

 فاسق کوسلام کرنا مکروہ ہے بشرطیکہ وہ اعلانیہ فسق کرتا ہو ۔ 

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم،11، ص 420 ✅ 

اسی میں ہے: 👇 

بدمذہب کو سلام کرنا حرام ہے۔ فاسق کو سلام کرنا ناجائزہے۔

فتاویٰ رضویہ شریف مترجم،22 ، ص 378 ✅

شہزادۂ اعلیٰ حضرت،  تاجدارِ اہلِ سنت، حضور مفتیِ اعظمِ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہ (متوفیٰ 1402 ھ) فرماتےہیں: 👇 

'' معلن فاسق جو کسی کبیرہ کا مرتکب یا صغیرہ پر مصر ہو اس سے ابتدا بسلام نہ کی جائے مگر جب کہ اس سے ضرر کا اندیشہ ہو ۔ 

فتاویٰ مفتیِ اعظم، پنجم، ص 120 ✅ 

اور فرماتےہیں: 👇 

'' فاسقِ معلن سے ابتدا بالسلام مکروہ ہے ۔ 

فتاویٰ مفتیِ اعظم، پنجم، ص 168 ✅ 

حضور تاج الشریعہ علیہ الرحمہ  (متوفیٰ 1439 ھ) فرماتےہیں: 👇

'' فاسق کو سلام کرنا مکروہِ تحریمی ہے اور ان کی تعظیم و تکریم بھی شرعا ناجائز ہے ۔ 

فتاویٰ تاج الشریعہ، دوم، ص 536✅ 

اور فرماتےہیں: 👇 

سلام تعظیم ہے، تو کسی فاسقِ معلن کو سلام جائز نہیں کہ شرعا اس کی تعظیم منع ہے ۔ 

فتاویٰ تاج الشریعہ، دوم، ص 603 ✅

والله تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبہ: محمد عمار رضا قادری رضوی  
۲۲ شوال المکرم ۱۴۴۵ ھ ،  بروز پنجشنبہ 💚

Tuesday, April 9, 2024

نمازوں اور روزوں کا فدیہ کیسے ادا کریں

فتوی نمبر:19656
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
شاہ صاحب عرض یہ کرنی تھی کہ ایک اسلامی بھائی جس کے پاس تقریبا 40 سے 50 ہزار اماؤنٹ ہے اوروہ اپنے والد صاحب کے لیے نمازوں اور روزوں کا فدیہ انہی پیسوں میں دینا چاہتا ہے تو اس کے لیے کیا ترکیب استعمال کی جائے گی کہ پیسے بھی اتنے اور روزے و نمازوں کا فدیہ بھی ہو جائے کیا ایسا کوئی طریقہ ہے ارشاد فرما دیجیے اللہ پاک اپ کو جزائے خیر عطا فرمائے امین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
وہ اپنےوالد صاحب کے وقت بلوغت سے وقت وفات تک کی نمازوں کا حساب لگائیں اوراگر وقت بلوغت معلوم نہ ہو تو ان کی عمرسے بارہ برس کم کریں اورباقی تمام ان کی زندگی کی نمازوں و روزوں کاحساب کرکے ہرفرض و وتر(وترکو بقیہ سےالگ شمارکرنا ہے)اورروزہ کےبدلہ ایک ایک صدقہ فطر مسکین/ شرعی فقیرپرتصدق کرکےاس کے قبضہ میں دیں اور مسکین اپنی طرف سےاسےواپس ہبہ کردےاوریہ قبضہ بھی کرلے پھريہ مسکین کو دے،يوہيں لوٹ پھیرکرتے رہیں یہاں تک کہ سب نمازوں و روزوں کا فدیہ ادا ہو جائے۔
اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:اگروقتِ بلوغ معلوم نہ ہو تو مرد کے لئے اس عمرسے بارہ برس اور عورت کے لئے 9برس کم کریں،اورباقی تمام برسوں کے دن کرکےہردن کی نمازکےلئےآٹھ سو دس تولےگیہوں کہ سو روپے بھرکے سیرسےکچھ کم نوسیرہوئےیا سولہ سو بیس تولہ جو یاان کی قیمت ادا کریں کل کے ادا کی طاقت نہ ہو توجس قدرپرقدرت ہو محتاج کو دے کر قابض کردیں،محتاج اپنی طرف سے پھران کو ہبہ کردے یہ قبضہ کرکے پھرکفارہ میں محتاج کودیں وہ بعد قبضہ پھران کو ہبہ کردے،یہ پھرقبضہ کرکے کفارہ میں دیں یونہی دورکرتے رہیں یہاں تک کہ اداہوجائے۔(فتاوی رضویہ،جلد 08،صفحہ 154،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،مختصر کر کے،اپنے نام کے ساتھ شئیرکرنے کی ہرگز ہرگز اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/E0CNImQY4HrFjJHp11wIkg
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

Sunday, March 10, 2024

امام کا جماعت کے ساتھ دعا میں آیت کریمہ پڑھنا کیوں منع ہے

سوال نمبر:19190
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسٔلہ کے بارے میں 
امام کا جماعت کے ساتھ دعا میں آیت کریمہ پڑھنا کیوں منع ہے، اس کی وجہ کیا ہے ؟
جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی
سائل ، واحد جمال قادری یو پی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
 آیت کریمہ کے آخر میں اني كنت من الظالمين کے الفاظ ہیں جس کا معنی ہے "بے شک میں ظالموں میں سے ہوں"
اجتماعی دعا میں عموماً مقتدی حضرات آمین کہتے ہیں،اورآمین کا ایک معنی یہ ہے کہ "مالک! ایسا ہی کر دے"
اس اعتبار سے منع کیا جاتا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

ہمارے گاؤں میں مولانا نہیں ہے اور ہمیں فاتحہ کرنا ہے تو کیا ہم موبائیل فون کے مدد سے فاتحہ کرسکتے ہیں؟

سوال نمبر:19186
اسلام علیکم ورحمۃ اللہ
ہمارے گاؤں میں مولانا نہیں ہے اور ہمیں فاتحہ کرنا ہے تو کیا ہم موبائیل فون کے مدد سے فاتحہ کرسکتے ہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
جی ہاں،موبائل فون کے ذریعہ بھی ختم شریف یا فاتحہ کروائی جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

✍️کیا ایک ہی شب دو جگہ تراویح کی امامت درست ہے؟✍️

✍️کیا ایک ہی شب دو جگہ تراویح کی امامت درست ہے؟✍️

✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️

السلام علیکم و رحمۃ اللّه
 کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیان شرع متین اس مسںٔلہ میں کہ زید ایک مسجد کا امام ہے وہ اپنی مسجد میں تراویح پڑھانے کے بعد اسی دن محلے کے کسی فلیٹ میں صرف تراویح پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟ جبکہ دونوں جگہ مکمل قرآن کا ارادہ ہو۔ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
محمد احمد رضا صدیقی کولکاتہ۔

✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️

➖➖➖➖ *الجواب* ➖➖➖➖
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
ایک شخص مکمل تراویح کی امامت ایک ہی رات دو مسجدوں (دو جگہوں) میں نہیں کر سکتا کہ صحیح مذہب پر یہ جاںٔز نہیں۔ 
فتاویٰ عالمگیری میں ہے!
*الامام یصلی التراویح فی مسجدین کل مسجد علی وجه الكمال لا يجوز کذا فی محیط السرخسی والفتوی علی ذالک کذا فی المضمرات*-
*ترجمہ*- ایک امام دو مسجدوں میں مکمل طور پر(پوری) تراویح پڑھاۓ یہ جاںٔز نہیں۔ ایسا ہی محیط سرخسی میں ہے، اور اسی پر فتویٰ ہے، ایسا ہی مضمرات میں ہے۔
((📙فتاویٰ عالمگیری ج ١ ص ١١٦))
اور جوہرہ نیرہ میں ہے!
*لو صلی امام التراویح فی مسجدین فی کل مسجد علی وجه الكمال قال ابو بكر الاسكاف لا يجوز و قال ابو نصر يجوز لأهل المسجدين و اختار ابوالليث قول الاسكاف و هو الصحيح*-
*ترجمہ*- اگر کوئی امام دو مسجدوں میں مکمل طور پر(پوری) تراویح پڑھاۓ تو شیخ ابو بکر اسکاف نے فرمایا یہ جاںٔز نہیں، اور شیخ ابو نصر نے فرمایا دونوں مسجد والوں کے لئے جاںٔز ہے، شیخ ابواللیث نے اسکاف کے قول کو اختیار کیا اور یہی صحیح ہے۔
(📙جوہرہ نیرہ ج ١ ص ١١٨))
نیز فتاوی ہندیہ میں یہ بھی مرقوم ہے!
*لو صلی التراویح مقتدیا بمن یصلی مکتوبة أو وترا و نافلة الاصح أنه لا يصح الاقتداء به لانه مكروه و مخالف لعمل السلف*-
*ترجمہ*- اگر کسی نے نماز تراویح ایسے شخص کی اقتدا میں ادا کی جو فرض یا وتر یا نفل پڑھا رہا تھا تو یہ اقتدا درست نہیں کیونکہ یہ مکروہ اور طریقۂ اسلاف کے مخالف ہے۔
((📙فتاویٰ عالمگیری ج ١ ص ١١٧))
اور مجدد دین و ملت حضور سرکار اعلی حضرت علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ!
*اگر بالفرض کوئی شخص آج اپنی تراویح پڑھ کر آج ہی رات اور لوگوں کی امامت تراویح میں کرے اور قرآن عظیم سناۓ تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس قرآن سننے کا ثواب نہ ہو گا۔ روایت مختارہ امام قاضی خان پر تو ظاہر ہے کہ وہ متنفل محض کے پیچھے تراویح کی اقتدا بلا کراہت جائز مانتے ہیں ، صرف امام کے حق میں کراہت کہتے ہیں اگر نیت امامت کرے ورنہ اس پر بھی کراہت نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور روایت مختارہ امام شمس الائمہ سرخسی پر اگرچہ یہ ناجائز ہے اور ان لوگوں کی تراویح نہ ہوں گی ،،لان التراویح سنة مستقلة شرعت بوجه مخصوص فلا تتأدى إلا به،، یعنی کیونکہ نماز تراویح مستقل سنت ہے جو وجہ مخصوص پر مشروع ہے تو یہ اسی وجہ مخصوص کے ساتھ ہی اد ہو گی اور یہی اصح ہے اھ ملخصا*-
((📙فتاویٰ رضویہ مترجم ج ١٠ ص ٦٠٦))
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب۔

✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️✒️

کتبہ۔ رضوان احمد مصباحی رامگڑھ
📱9576545941=
منجانب ـ رضوی دارالافتاء۔و تربیت افتاء کورس۔

Saturday, March 9, 2024

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا کیسا ہے

سوال نمبر:19177
السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
عرض یہ ہے کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا احادیث مبارکہ سے ثابت ہے یا پھر یہ حکم فقھاء کرام کا ہے؟؟
اگر احادیث سے ثابت ہو تو حضور حوالہ بھی ارشاد فرما دیجیے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
مرد کے لیے نمازمیں قیام کی حالت میں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنا سنت ہے،اس طرح کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کے جوڑ پرہو اورانگوٹھا اورچھنگلیا کلائی کے دائیں،بائیں اورباقی انگلیاں کلائی کی پشت پربچھی ہوئی ہوں۔
ناف کے نیچے ہاتھ باندھنا حدیث سے ثابت ہے،چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ کی حدیث پاک میں ہے:"حدثنا وكيع،عن موسى بن عمير،عن علقمة بن وائل بن حجر،عن أبيه قال:«رأيت النبي صلى الله عليه وسلم وضع يمينه على شماله في الصلاة (تحت السرة)»"
ترجمہ:میں نے دورانِِ نمازنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پرناف کے نیچے باندھے دیکھا ہے۔(مصنف ابن أبي شيبة،جلد 1،صفحہ 343)
نوٹ:اس حدیث والے مصنف ابن ابی شیبہ کے موجودہ نسخوں میں تحت السرۃ کے الفاظ نہیں ہیں،لیکن پہلے کے نسخوں میں یہ موجود تھے،جسے امام علامہ قاسم بن قطلو بغاحنفی رحمہ اللہ تعالی اختیار شرح مختار کی احادیث کی تخریج کرتے ہوئے نقل کیا،اورکچھ عرصہ قبل شیخ عوامہ کی تحقیق کے ساتھ دار القلبۃ الاسلامیہ علوم القرآن سے شائع ہوا،جس میں شیخ عوامہ نے جلد 03 صفحہ 320 میں اس نسخہ کی نشاندہی کی،اس کی تفصیل دلائل احناف اور"الدرۃ فی عقد الایدی تحت السرۃ"میں دیکھیں۔
دوسری حدیث سنن ابی داؤد وغیرہ کتب احادیث میں ہے:‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ،‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ "
ترجمہ:حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پرناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔(سنن ابی داؤد،حدیث نمبر،756)
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

Tuesday, March 5, 2024

آدمی تین قسم کے ہیں

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ اِمام اَحمد رضاخان رحمتہ اللہ علیہ سے جب خلوت نشینی کے متعلق سوال ہوا تو آ پ نے ارشاد فرمایا:

آدمی تین قسم کے ہیں :

 (۱) مُفِیْد
 (۲) مُسْتَفِیْد
 (۳) مُنْفَرِد۔

■مفید وہ کہ دوسروں کو فائدہ پہنچائے،
■مستفید وہ کہ خود دوسرے سے فائدہ حاصل کرے،  
■منفرد وہ کہ دوسرے سے فائدہ لینے کی اسے حاجت نہ ہو اور نہ دوسرے کو فائدہ پہنچاسکتا ہو۔۔۔۔۔۔

☆مفید اور‏مستفید کو خلوت حرام ہے اور منفرد کو جائز بلکہ واجب۔۔۔۔

اِمام اِبن سیرین علیہ الرحمہ کا واقعہ بیان فرما کر ارشاد فرمایا:  وہ لوگ جو پہاڑ پر گوشہ نشین ہو کر بیٹھ گئے تھے وہ خود فائدہ حاصل کیے ہوئے تھے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی اُن میں قابلیت نہ تھی اُن کو گوشہ نشینی جائز تھی اور امام اِبن سیرین علیہ الرحمہ پر یعنی خلوت حرام تھی۔۔۔۔۔✨

Friday, March 1, 2024

مولا علی نےایک فقیرکےہاتھ پردرود شریف پڑھ کردم کیاتو ہاتھ میں سکےآگئےاس واقعہ کا حوالہ مل سکتاہےکسی حدیث کی کتاب سےیااس کو روایت کرنےوالے راوی کے بارے میں ارشاد فرما دیں جزاک اللہ خیرا

سوال نمبر:19115
السلام علیکم
مولا علی نےایک فقیرکےہاتھ پردرود شریف پڑھ کردم کیاتو ہاتھ میں سکےآگئےاس واقعہ کا حوالہ مل سکتاہےکسی حدیث کی کتاب سےیااس کو روایت کرنےوالے راوی کے بارے میں ارشاد فرما دیں 
جزاک اللہ خیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
یہ روایت راحت القلوب کےحوالےسےملتی ہےاورراحت القلوب بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ کےملفوظات پرمشتمل کتاب 656ھ میں لکھی گئی،جسےآپ کےخلیفہ محبوب الہٰی حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیاءنےلکھاہے،اس کتاب میں بابا فرید الدین گنج شکررحمۃ اللہ علیہ کےحوالےسےاس روایت کو بیان کرتےہوئےآپ لکھتے ہیں:"ایک بارکسی بھکاری نےکفارسےسوال کیا،اُنہوں نےمذاقا امیرالمومنین حضرت سیدنا علی مولی مشکل کشا کرم اللہ وجہہ الکریم کےپاس بھیج دیاجوکہ سامنےتشریف فرماتھے۔اُس نےحاضرہوکردست سوال درازکیا،آپ کرم اللہ وجہہ الکریم نے10 باردرود شریف پڑھ کراس کی ہتھیلی پردم کردیااورفرمایا:’’مٹھی بندکرلواورجن لوگوں نےبھیجاہےاُن کے سامنےجاکرکھول دو۔‘‘(کفارہنس رہےتھےکہ خالی پھونک مارنےسےکیاہوتاہے!)مگرجب سائل نےان کےسامنےجاکرمٹھی کھولی تواس میں ایک دینارتھا!یہ کرامت دیکھ کرکئی کافرمسلمان ہوگئے۔(راحت القلوب(مترجم)،صفحہ 142،مطبوعہ لاہور)
چونکہ یہ حدیث فضائل کےباب میں ہےاوراسےنقل کرنےوالےمعتمد اولیاء اللہ ہیں تواس کےثبوت وبیان کواتنابھی کافی ہے،کیونکہ جس حدیث کومعتمد علماءیااولیاء بصیغہ جزم نقل کریں توبلحاظ فضائل اس کےثبوت کےلیےاتنابھی کافی ہوتاہےاوربارہاایساہوتاہےکہ کئی احادیث کواولیاء کرام بروجہ کشف پہچان لیتےہیں اوراس کوآگےبیان کرتےہیں تو جس طرح محدثین کےثبوت حدیث کےلیےروات کا ذریعہ ہےایسے ہی اولیاء اللہ اپنے کشف کےذریعےبھی احادیث کےثبوت کو لاتےوبیان کرتےہیں،توباب فضائل میں کشفی احادیث پرعمل میں کوئی حرج نہیں،کثیرمحدثین بشمول امام جلال الدین سیوطی وملاعلی قاری وغیرہ بھی کشف کےذریعےتصحیح وثبوت احادیث کےقائل ہیں،جنہیں متفرق مقامات پردیکھاجاسکتاہے،لہذا یہ روایت بھی معتمد اورمعتبرکتب میں اولیا اللہ سےمنقول وثابت ہے،لہذا اس کا خاص کسی سندکےساتھ کسی حدیث کی کتاب میں نہ ملنااس کے بیان کومضرنہیں۔
چنانچہ،اعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:یہی وجہ ہےکہ بہت احادیث جنہیں محدثین کرام اپنےطورپرضعیف ونامعتبرٹھہراچکے علمائےقلب،عرفائے رب،ائمہ عارفین،سادات مکاشفین قدسنا اللہ تعالٰی باسرارہم الجلیلہ ونورقلوبنا بانوارہم الجمیلہ انہیں مقبول ومعتمد بناتےاوربصیغ جزم وقطع حضورپرنورسید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت فرماتےاوران کےعلاوہ بہت وہ احادیث تازہ لاتےجنہیں علما اپنےزبرودفاترمیں کہیں نہ پاتے،اُن کےیہ علوم الٰہیہ بہت ظاہر بینوں کونفع دینا درکناراُلٹےباعث طعن ووقعیت وجرح واہانت ہوجاتے،(حالانکہ وہ ان طعن کرنےوالوں سےزیادہ اللہ تعالٰی سےخوف رکھنےوالے،اللہ تعالٰی کےبارےمیں زیادہ علم رکھنےوالے،سرورِدوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف کسی قول کی نسبت کرنے میں بہت احتیاط کرنےوالےتھے۔)تھے۔
بالجملہ اولیاکےلئےسوا اس سند ظاہری کےدوسرا طریقہ ارفع وعلٰی ہے ولہذا حضرت سیدی ابویزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ وقدس سرہ السامی اپنے زمانہ کےمنکرین سےفرماتے:قد اخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت۔نقلہ سیدی الامام الشعرانی فی کتابہ المبارک الفاخرالیواقیت والجواھراٰخرالمبحث السابع والاربعین۔ ترجمہ:تم نےاپناعلم سلسلہ اموات سےحاصل کیا ہےاورہم نےاپنا علم حی لایموت سےلیا ہے۔اسےسیدی امام شعرانی نےاپنی مبارک اورعظیم کتاب الیواقیت والجواہرکی سینتالیس بحث کےآخرمیں ذکرکیاہے۔
(الیواقیت والجواہر،باب الثالث والسابع والاربعین،جلد 2،صفحہ91، مطبوعہ مصر)
حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبرابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ نےکچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طورعلم پرضعیف مانی گئی تھیں،کماذکرہ فی باب الثالث والسبعین من الفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالھٰیۃ الملکیۃ ونقلہ فی الیواقیت ھنا۔ترجمہ:جیساکہ انہوں نےفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالہٰیۃ الملکیۃ کےتیرھویں باب میں ذکر کیااورالیواقیت میں اس مقام پراسےنقل کیاہے۔
(الیواقیت والجواہر،باب الثالث والسابع والاربعین،جلد 2، صفحہ88،مصر)
(ملتقط من فتاوی رضویہ،جلد 5،صفحہ 491،92،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

حضرت سید صاحب قبلہ میں نے شرح حدائق بخشش میں ایک جگہ روح البیان کے حوالہ سے پڑھا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے وصال کے بعد اللہ تعالٰی نے آپ کو تیس سال کھڑے رکھا ک آپ نے ایک بدعتی کو محبت کی نگاہ سے دیکھا تھا

سوال نمبر:19114
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
حضرت سید صاحب قبلہ میں نے شرح حدائق بخشش میں ایک جگہ روح البیان کے حوالہ سے پڑھا کہ حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کے وصال کے بعد اللہ تعالٰی نے آپ کو تیس سال کھڑے رکھا ک آپ نے ایک بدعتی کو محبت کی نگاہ سے دیکھا تھا
براہ کرم اس واقعے کی حوالہ کے ساتھ تفصیل ارشاد فرمادیں
محمد فیضان رضا بریلی شریف بھارت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
وہ واقعہ یوں ہےکہ عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ان کی وفات کےبعدخواب میں دیکھا گیاتوان سےپوچھاکہ اللہ تعالیٰ نےآپ کےساتھ کیا معاملہ فرمایاہے؟توآپ نے کہاکہ مجھےتیس سال تک اس سبب سےروکےرکھا گیا کہ میں نے ایک بدعتی شخص کو محبت کی نظرسےدیکھاتھا۔ 
چنانچہ،روح البیان میں ہے:"وروى ان ابن المبارك رؤى في المنام فقيل له ما فعل ربك بك فقال عاتبنى وأوقفنى ثلاثين سنة بسبب انى نظرت باللطف يوما الى مبتدع."
(روح البيان،سورة البقرة،تحت الآيات121 إلى 123، 1/220،دارالفکر،بیروت)
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

چار اماموں کی تقلید لوگوں پرواجب ہیں اورچاروں برحق ہیں ایسا کیسےہوسکتاہےتوجواب عنایت کریں کہ چاروں مسلک برحق ہیں اس کی وضاحت کرنی ہے؟

سوال نمبر:19111
السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالی وبرکاتہ میرا سوال یہ ہے کہ چار اماموں کی تقلید لوگوں پرواجب ہیں اورچاروں برحق ہیں ایسا کیسےہوسکتاہےتوجواب عنایت کریں کہ چاروں مسلک برحق ہیں اس کی وضاحت کرنی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
بخاری شریف میں ہےکہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سےفارغ ہوئے (ابوسفیان واپس آئے)توہم سےآپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کوئی شخص بنوقریظہ کےمحلہ میں پہنچنےسےپہلےنمازعصرنہ پڑھےلیکن جب عصرکاوقت آیا توبعض صحابہ نےراستہ ہی میں نمازپڑھ لی اوربعض صحابہ رضی اللہ عنہم نےکہاکہ ہم بنو قریظہ کےمحلہ میں پہنچنےپرنمازعصرپڑھیں گےاورکچھ حضرات کا خیال یہ ہوا کہ ہمیں نمازپڑھ لینی چاہیےکیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصد یہ نہیں تھا کہ نمازقضاء کرلیں۔پھرجب آپ سےاس کا ذکرکیاگیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکسی پر بھی ملامت نہیں فرمائی۔
چنانچہ،بخاری شریف کی حدیث میں ہے:"عن ابن عمر،قال:قال النبي صلى الله عليه وسلم لنا لمارجع من الاحزاب:"لايصلين احد العصرإلا في بني قريظة"،فادرك بعضهم العصرفي الطريق،فقال بعضهم:لانصلي حتى ناتيها،وقال بعضهم:بل نصلي لم يرد منا ذلك، فذكر للنبي صلى الله عليه وسلم فلم يعنف واحدا منهم."(بخاری شریف،حدیث نمبر:946)
توجیسےیہاں دونوں گروہ درست ہیں توایسےہی مذاہبِ اربعہ بھی برحق ہیں۔ 
مزیداعلی حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"مذاہب اربعہ اہلسنت سب رشد وہدایت ہیں جو ان میں سےجس کی پیروی کرےاورعمربھراس کا پیرو رہے،کبھی کسی مسئلہ میں اس کےخلاف نہ چلے،وہ ضرورصراط مسقیم پرہے، اس پرشرعاً الزام نہیں،ان میں سےہرمذہب انسان کےلیےنجات کوکافی ہے،تقلید شخصی کوشرک یاحرام ماننےوالےگمراہ ضالین متبع غیرسبیل المومنین ہیں۔"
(فتاوی رضویہ،جلد 11،صفحہ 406،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
دوسرے مقام پرلکھتےہیں:"غیرمقلد شافعی نہیں بلکہ اہل بدعت واہوا واہل نار ہیں،طحطاوی علی الدرالمختارمیں ہے:"فمن کان خارجا من ھٰؤلاء الاربعۃ فی ھذہ الزمان فھو من اھل البدعۃ والنار"
ترجمہ:جوان چاروں مذاہب سےخارج ہےاس دورمیں تو وہ بدعتی اورجہنمی ہے۔
 (حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار،کتاب الذبائح،دارالمعرفۃ بیروت،2/153)
(فتاوی رضویہ،جلد 11،صفحہ 289،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

جو کوئی مجنون پاگل پراسم مبارکہ ائمہ اہل بیت پڑھ کردم کردیں جنون پاگل پن دور ہوجائے

سوال نمبر:19110
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت محدثین نےکوئی ایسی روایات نقل ہےجو کوئی مجنون پاگل پراسم مبارکہ ائمہ اہل بیت پڑھ کردم کردیں جنون پاگل پن دور ہوجائے وہ کیا سند ہے مکمل کون کون سے کتب حدیث میں وہ سند دی گئی ہے جس میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم سے لیکربارہ اماموں کے نام کی سند ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته
جی ہاں،ایسی سند موجود ہےاوروہ یہ ہے:"حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفرالصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنھم."یہ اہل بیت اطہارکی اپنےآباء واجدادسےروایت ہےاورہمارےآئمہ کرام میں سےبعض جب یہ سند بیان کرتےتو فرماتے:اگریہ سند مجنون پرپڑھی جائےتو اسےافاقہ ہوجائے۔اوربعض نےیہ پڑھی تواس سےفی الواقع افاقہ بھی ہوا۔
ویسےتویہ سند کئی کتب میں موجود ہےمگریہ صحاح ستہ میں سےبھی ایک کتاب میں موجود ہے،چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے:حدثنا سهل بن أبي سهل ومحمد بن إسمعيل قالا حدثنا عبد السلام بن صالح أبو الصلت الهروي حدثنا علي بن موسى الرضا عن أبيه عن جعفربن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال «قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الإيمان معرفة بالقلب وقول باللسان وعمل بالأركان» قال أبو الصلت لو قرئ ‌هذا ‌الإسناد على ‌مجنون لبرأ(حدیث نمبر:65، سنن ابن ماجہ)
اورتاريخ أصبهان میں أبو نعيم أحمد بن عبد الله بن أحمد بن إسحاق بن موسى بن مهران الأصبهاني (ت 430هـ))لکھتےہیں:"وقال أبو علي: قال لي أحمد بن حنبل: إن ‌قرأت ‌هذا ‌الإسناد على ‌مجنون برئ من جنونه،وماعيب هذا الحديث إلاجودة إسناده"(1/174، العلمیۃ)
اسی طرح"التدوين في أخبار قزوين"میں أبو القاسم عبد الكريم بن محمد بن عبد الكريم الرافعي القزويني (ت ٦٢٣هـ) لکھتے ہیں:قال أبو الصلت عبد السلام بن صالح الهروي لو قرىء هذا الاسناد على ‌مجنون لأفاق وعن عبد الرحمن بن أبي حاتم الرازي قال كنت مع أبي بالشام فرأيت رجلا مصروعا فذكرت هذا الاسناذ فقلت أجرب بهذا فقرأت عليه ‌هذا ‌الإسناد فقام الرجل فنفض ثيابه ومر۔"(3/482، دار الکتب العلمیۃ)
اس سند پرتین اہم اشکالات کئےجاتےہیں کہ ابو الصلت الہروی ضعیف ہیں بلکہ بعض نے کذاب کی جرح کی ہے اورتشیع بھی کہا ہےاوردوسرا یہ کہ ابو علی مجہول ہےاور تیسرا یہ کہ یہ کوئی ذکریادعا نہیں جس سے شفاء ملےاس لیے مذکورہ بالا قول موضوع ہے۔
اقول:ابو الصلت الہروی جمہورکےنزدیک کذاب نہیں بلکہ ضعیف ہیں اورضعیف کی روایت بھی فضائل میں قبول ہوتی ہے چہ جائیکہ خود سند ہو اوراس میں بھی نیک لوگوں کےناموں کی برکت کا حصول مطلوب ہے۔اورابوعلی کا مجہول ہونا بھی وضع کو مستلزم نہیں کہ اس سے بھی یہ روایت محض ضعیف ہو گی نہ کہ موضوع۔اوررہی تیسری بات تو یہ البانی اوراس کی اصول وفروع کےاشکالات ہیں جو ویسے ہی بزرگان دین کے فیض سےمحروم ہیں تو مبارک لوگوں کا نام لینا اوران کا ذکرکرنا باعث برکت و رحمت ہوتا ہےاوررحمت و برکت سے شفاء کا حصول کسی ثبوت کا محتاج نہیں کہ جیسے رب ذکرودعا پررحمت وبرکت دیکرشفاء عطا فرماتا ہےتو اس میں کوئی استحالہ نہیں کہ وہ بزرگوں و اہل بیت کےناموں کی برکت سےشفاء دیدے۔مزید یہ کہ جیسےاصحاب کہف کے ناموں کی برکت سے شفاء ملتی ہے ایسے ہی اولیاء امت محمدیہ و اسمائے اہل بیت کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین بھی باعث شفاء ہیں۔
چنانچہ سنن ابن ماجہ کی حدیث کےتحت علامہ سندھی اپنےحاشیۃ سندی علی ابن ماجہ میں لکھتے ہیں:"وفي الزوائد إسناد هذا الحديث ضعيف لاتفاقهم على ضعف أبي الصلت الراوي قال السيوطي والحق أنه ليس بموضوع وأبو الصلت وثقه ابن معين وقال: ليس ممن يكذب وقال في الميزان رجل صالح إلاأنه شيعي تابعه علي بن غراب وقد روى له النسائي وابن ماجه ووثقه ابن معين والدارقطني قال أحمد أراه صادقا وقال الخطيب كان غاليا في التشيع وأما في روايته فقد وصفوه بالصدق ثم ذكرله بعض المتابعات قوله:(لبرأ من جنونه)لما في الإسناد من خيارالعباد وهم خلاصة أهل بيت النبوة رضي الله تعالى عنهم وهو من برئ المريض من الداء لامن برئت من الأمربكسرالراء أي تبرأت فإن أبا الصلت هو القائل لهذا القول ولا يستقيم عنه أن يقول هذا القول بهذا المعنى لابالنظرإلى نفسه ولابالنظرإلى من بعده"
(1/35، دارالجیل،بیروت)
اورسیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فتاوی رضویہ میں الصواعق المحرقہ کےحوالےسےلکھتےہیں:جب امام علی رضا رضی اللہ تعالٰی عنہ نیشاپورمیں تشریف لائے،چہرہ مبارک کےسامنےایک پردہ تھا،حافظانِ حدیث امام ابوذراعہ رازی و امام محمد بن اسلم طوسی اوران کےساتھ بیشمارطالبانِ علمِ حدیث حاضرِخدمتِ انورہوئےاورگڑگڑا کرعرض کیا اپناجمالِ مبارک ہمیں دکھائیےاوراپنےآبائے کرام سےایک حدیث ہمارےسامنےروایت فرمائیے،امام نےسواری روکی اورغلاموں کو حکم فرمایا پردہ ہٹالیں خلقِ خدا کی آنکھیں جمال مبارک کےدیدارسےٹھنڈی ہوئیں۔دوگیسو شانہ مبارک پرلٹک رہے تھے۔پردہ ہٹتےہی خلق خدا کی وہ حالت ہوئی کہ کوئی چلّاتاہے، کوئی روتا ہے،کوئی خاک پرلوٹتاہے،کوئی سواری مقدس کا سُم چومتا ہے۔اتنےمیں علماء نےآوازدی:خاموش سب لوگ خاموش ہورہے۔دونوں امام مذکورنےحضورسےکوئی حدیث روایت کرنےکوعرض کی حضورنےفرمایا:حدثنی ابوموسی الکاظم عن ابیہ جعفرالصادق عن ابیہ محمدن الباقرعن ابیہ زین العابدین عن ابیہ الحسین عن ابیہ علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنھم قال حدثنی حبیبی وقرۃ عینی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم قال حدثنی جبریل قال سمعت رب العزۃ یقول لاالٰہ الااللہ حصنی فمن قال دخل حصنی امن من عذابی۔یعنی امام علی رضا امام موسٰی کاظم وہ امام جعفرصادق وہ امام محمدباقروہ امام زین العابدین وہ امام حسین وہ علی المرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہم سےروایت فرماتےہیں کہ میرے پیارے میری آنکھوں کی ٹھنڈک رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نےمجھ سےحدیث بیان فرمائی کہ ان سےجبریل نےعرض کی کہ میں نےاللہ عزوجل کوفرماتے سناکہ لا الٰہ الااللہ میراقلعہ ہے تو جس نے اسے کہا وہ میرے قلعہ میں داخل ہوا، میرے عذاب سے امان میں رہا۔
یہ حدیث روایت فرماکرحضوررواں ہوئےاورپردہ چھوڑدیاگیا،دواتوں والےجوارشاد مبارک لکھ رہےتھےشمارکئےگئے، بیس 20ہزارسےزائد تھے۔(الصواعق المحرقہ،الفصل الثالث،صفحہ 205،ملتان)
امام احمد بن حنبل رضی اللہ تعالٰی عنہ نےفرمایا:لو قرأت ھذاالاسناد علی مجنون لبرئ من جننہ۔یہ مبارک سند اگرمجنون پرپڑھوں تو ضروراسےجنون سےشفاہو۔
(الصواعق المحرقہ،الفصل الثالث،صفحہ 205،ملتان)
اقول فی الواقع جب اسمائےاصحابِ کہف قدست اسرارہم میں وہ برکات ہیں،حالانکہ وہ اولیائےعیسویین میں سےہیں تو اولیاء محمدیین صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین کا کیا کہنا،اُن کےاسمائےکرام کی برکت کیا شمار میں آسکے۔
(فتاوی رضویہ،جلد 9،صفحہ 135،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
فلہذا اس سند کو باعث برکت و حصول شفاء کےلیے پڑھنے میں حرج نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526

عورت کو قرآن حفظ نہیں کرنا چاہیے یہ صحیح ہے؟

سوال نمبر:19060
حضرت سوال یہ ہے کہ جو یہ کہا جاتا ہے کہ عورت کو قرآن حفظ نہیں کرنا چاہیے یہ صحیح ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت کاحفظِ قرآن کرنا جائزاورباعثِ ثواب ہے،البتہ علماء اگرمنع کرتےہیں تو وہ یوں نہیں کہ ان کا کرنا درست نہیں بلکہ یوں بیان کیاجاتاہےکہ عورتوں کو عام طورپرگھریلو معاملات کی وجہ سےقرآن پاک کو یاد رکھنا بہت مشکل ہوتا ہےاوراگریہ قرآنِ پاک بھلا دیں گی تو انہیں گناہ ہوگا،تولہذاایسی صورت میں بہتریہ ہےکہ عورتیں حفظِ قرآن کی بجائےقران پاک کی تفسیراورقرآن پاک کےدیگرعلوم حاصل کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
(یہ فتویٰ مکمل یعنی پورے کا پورا مع لنکس شئیرکرسکتے ہیں،آدھا کاٹ کر،آدھا کاپی کرکے،یا آدھا سکرین شاٹ لے کر،شئیرکرنے کی اجازت نہیں)
اپنے سوالات لکھ کر(آڈیو وائس میسج میں نہیں،آڈیو وائس میسج بغیرسنے ہی ڈلیٹ کر دیے جاتے ہیں)اس نمبرپروٹس اپ کریں۔مصروفیت کی وجہ سے آپ کے سوال کا جواب تقریبا 12 گھنٹوں سے 24 گھنٹوں کے اندردینےکی کوشش کی جائے گی۔
http://wa.me/+923169168614
Whats App Num
+923169168614
فیس بک اکاؤنٹ لنک
https://www.facebook.com/SyedKamran786
وٹس اپ گروپ لنک
https://chat.whatsapp.com/HjhutGtP9Q084HkNB8gUHA
وٹس اپ چینل لنک
https://whatsapp.com/channel/0029Va88jvD8kyyNPQOHay31
ٹیلی گرام گروپ لنک:
https://t.me/FiqhiMasail2526