Thursday, May 19, 2022

دیوث کسے کہتے ہیں؟ دیوث قابل امامت ہے؟ دیوث کے لیے کیا وعیدیں ہیں؟🌹

*🌹دیوث کسے کہتے ہیں؟ دیوث قابل امامت ہے؟ دیوث کے لیے کیا وعیدیں ہیں؟🌹*
ا__(💚)____
*https://t.me/alhalqatulilmia*
ا__(💚)____
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ 
دیوث کسے کہتے ہیں؟؟
دیوث قابل امامت ہے یا نہیں ؟؟
اگر زید واقعی دیوث ہے تو آخرت کی وعیدیں کیا ہیں؟؟
کرم فرمائیں
ا__(💚)____
*وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ*

*بسم الله الرحمن الرحیم*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
  جو شخص اپنے اہل وعیال  اور محرم عورتوں کے بارے میں  دینی حمیت سے خالی ہو  یعنی ان کی بے حیائی عریانی فحاشی کو دیکھے اور خاموش رہے اسے دیوث کہتے ہیں ، 

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: 

 *دیّوث سخت اخبث فاسق ، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ۔ اسے امام بنانا حلال نہیں اور اس کے پیچھے  پڑھنی گناہ ،اور پڑھی تو پھیرنا واجب.*

 *(📘فتاوی رضویہ، مترجم ٦/۵۸۳)* 

اور اگر کوئی شخص واقعی دیوث ہے تو اس کے بارے میں حدیث میں ہے 

رسول الله ﷺ فرماتے ہیں:

*🖋️"ثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ أَبَدًا: الدَّيُّوثُ مِنَ الرِّجَالِ، وَالرَّجُلَةُ مِنَ النِّسَاءِ، وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ."* 
تین شخص جنت میں کبھی نہ جائیں گے دیوث اور مردانی عورت اور شراب کا عادی.
 
*(📕 مجمع الزوائد بحوالہ المعجم الکبیر کتاب النکاح باب فیمن یرضی لاہلہ بالخبث  دارالکتاب بیروت    ۴/ ۳۲۷)* 
ا__(💚)____
*واللہ    تعالیٰ    اعلم*
ا__(💚)____
*کتبــــہ؛*
*فقیر محمد معصوم رضا نوریؔ عفی عنہ ،* 
*١٦ شوال المکرم ۱۴۴۳ ھجری*
ا__(💚)____

ا__(💚)____
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎8052167976)*
ا__(💚)____
*🖌المشتــہر :,۔🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛دلشاد احمد سدھارتھ نگر یو پی*
ا__(💚)_____
1288

Wednesday, May 18, 2022

مکان کا بیعانہ دے کر اسی مکان کو آگے بیچ دینا شرعاً کیساہے

*🌹 مکان کا بیعانہ دے کر اسی مکان کو آگے بیچ دینا شرعاً کیساہے ؟ 🌹*
ا__(💚)____
*https://t.me/alhalqatulilmia*
ا__(💚)____
*السلام علیکم و رحمة اللہ و برکاتہ*

زید نے بکر سے مکان خریدا. ابھی صرف بیعانہ کی رقم دی گئی ہے۔ مکان قبضہ میں نہیں دیا گیا۔ تو کیا اس مکان کو زید بغیر قبضہ کے آگے عمر کو بیچ سکتا ہے؟
*سائل۔  ڈاکٹر ساحل ملک صاحب ، گجرات*
ا__(💚)____
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*

ایجاب و قبول کے ساتھ بیعانہ بھی جب ادا کردیا تو بیع مکمل ہوگئی

چنانچہ امام ابوالحسین احمد قدوری حنفی متوفی۴۲۸ھ فرماتے ہیں

*🖋️" وإذا حصل الإيجاب والقبول، لزم البيع "*

*(📘مختصر القدوری ، کتاب البیوع ، ص۱۶۶ ، مؤسسۃالریان بیروت ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۶ھ)*
یعنی ، جب ایجاب و قبول پالیا گیا تو بیع لازم ہوگئی ،

 اور خریدنے والا اس مکان کا مالک بن گیا اور مکان کی قیمت خریدنے والے کے ذمہ واجب الاداء ہوگئی ، 

امام عبداللہ بن محمود موصلی حنفی متوفی۶۸۳ھ فرماتے ہیں

*🖋️" وحكمه : ثبوت الملك للمشتري في المبيع وللبائع في الثمن "*

*(📕الاختیار لتعلیل المختار ، کتاب البیوع ، ۲/۶ ، دارالرسالۃ العالمیۃ ، الطبعۃالاولی:۱۴۳۰ھ)*
یعنی ، بیع کا حکم یہ ہےکہ مبیع میں مشتری کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے اور ثمن میں بائع کی ،

اب چونکہ یہ خریدار مالک بن چکاہے فلہذا مکان کو اپنے پاس رکھے یا آگے بیچ دے اس کی مرضی ،

اور چونکہ جائیداد غیرمنقولہ مثلا زمین ،گھر وغیرہ چونکہ ہلاک و برباد ہونے والی چیزیں نہیں ہیں ، اسلئے قبضہ سے قبل بھی اس کی بیع جائز ہے ،

چنانچہ امام عبداللہ بن محمود موصلی حنفی متوفی۶۸۳ھ فرماتے ہیں

*🖋️" ویجوز بیع العقار قبل القبض "*

*(📙المختارللفتوی ، کتاب البیوع ، قبیل فصل فی الاقالۃ ،ص۸۴ ، دارالبیروتی دمشق)*
یعنی،جائیداد کی بیع قبضہ سے پہلے بھی جائزہے ،

اور علامہ زین ابن نجیم مصری حنفی متوفی ۹۷۰ھ فرماتے ہیں

*🖋️" (قوله صح بیع العقارقبل قبضه) أى عندأبىحنيفة وأبي يوسف وقال محـمدلايجوز لاطلاق الحديث وهوالنهى عن بيع مالم يقبض وقياسا على المنقول وعلى الاجارة ولهما ان ركن البیع صدر من أهله في محله ولاغررفيه لان الهـلاك في العقارنادر  "*

*(📗البحر الرائق ، کتاب البیوع ، باب المرابحۃ والتولیۃ ، فصل فی بیان التصرف فی المبیع والثمن ، ۶/۱۲۶ ، مطبوعۃ مصر)*
یعنی ، ماتن کاقول : صح بیع العقار قبل القبضۃ : یعنی شیخین کے نزدیک درست ہے ، امام محمد کے نزدیک جائز نہیں حدیث کے اطلاق کی وجہ سے ، اور قبضہ سے پہلے بیع کی ممانعت والی حدیث ہے ، اور منقول و اجارہ پر قیاس کرتے ہوئے ، شیخین کی دلیل یہ ہےکہ رکن بیع اس کے اہل سے اس کی محل میں صادر ہوچکا ، اور اس میں کوئی دھوکہ بھی نہیں ہے ، اسلئے کہ جائیداد غیرمنقولہ میں ہلاکت نادر ہے ، 

اس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں

*🖋️" (صح بيع عقار لا يخشى هلاكه قبل قبضه) من بائعه لعدم الغرر لندرة هلاك العقار"*

*(📔الدرالمختار ، کتاب البیوع ، باب المرابحۃ والتولیۃ ، فصل فی التصرف فی المبیع والثمن قبل القبض ، ص۴۲۷ ، دارالکتب العلمیۃ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۳ھ)*
یعنی،جس جائیداد کی ہلاکت کا خوف نہ ہو اسے قبضہ سے پہلے بیچنا جائز ہے ، دھوکہ نہ ہونےکی وجہ سے کیونکہ جائیداد کی ہلاکت نادر ہے ،

خلاصہ یہ کہ بیع کی صورت مذکورہ جائز ہے ، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ جس سے خریدا ہے اسی کے ہاتھ نہ بیچے

فیصلہ جات شرعی کونسل میں ہے

*" جائداد غیر منقول کی بیع قبل قبضہ غیر بائع کے ہاتھ جائز ہے مگر جس سے مول لی تھی اس کے ہاتھ قبضہ سے پہلے اشیاء غیر منقولہ کی بیچ بھی جائز نہیں بلکہ قبضہ لازم ہے "*

*(📘ص۷۸ ، مطبوعہ: جامعۃالرضا بریلی شریف ، طبع:۱۴۳۶ھ)*
ا__(💚)____
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*
ا__(💚)____
*کتبــــہ؛*
*محمد شکیل اخترقادری برکاتی*
*شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت صدرصوفہ ہبلی کرناٹک الہند*
*۲۴ رمضان المبارک ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۶ اپریل ۲۰۲۲ء*
ا__(💚)____
*الجواب صحیح والمجیب نجیح٫ عبدہ محمد عطاء اللہ النعیمی عفی عنہ ٫خادم الحدیث والافتاء بجامعۃ النور٫ جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی*
ا__(💚)____
*الجواب صحیح والمجیب نجیح,عبدہ محمد جنید العطاری النعیمی عفی عنہ,دارلافتاء جامعة النور,جمعیت اشاعت اہلسنت(پاکستان) کراچی۔*
ا__(💚)____
*الجواب صحيح والمجيب نجيح*

Tuesday, May 17, 2022

کیا حفاظتی امور کے مدنظر سیکیورٹی گارڈ پنج گانہ نماز کی جماعت چھوڑ سکتاہے ؟🌹*ا__(💚)____

*🌹 کیا حفاظتی امور کے مدنظر سیکیورٹی گارڈ پنج گانہ نماز کی جماعت چھوڑ سکتاہے ؟🌹*
ا__(💚)____
*https://t.me/alhalqatulilmia*
ا__(💚)____
*السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ*
یا سیدی حفاظتی امور کے مدنظر سیکورٹی گارڈ کا جماعت کے ساتھ نماز ترک کرنا کیسا؟
جواب عنائت فرما دیجیے
جزاک اللہ خیرا
*سائل ۔ ڈاکٹر ساحل ملک صاحب ، گجرات*
ا__(💚)____
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*

*عاقل ، بالغ ، آزاد ، قادر پر نماز پنج گانہ کی جماعت واجب ہے*

چنانچہ امام ابو بکر کاسانی حنفی متوفی ۵۸۷ھ فرماتے ہیں

*🖋️" فالجماعة : إنما تجب على الرجال العاقلين الأحرار القادرين عليها من غير حرج "*

*(📘بدائع الصنائع ، کتاب الصلاۃ ، فصل فیمن تجب علیہ الجماعۃ ، ۱/۶۶۲,۶۶۳ ، مطبوعۃ دارالکتب العلمیۃ بیروت ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۴ھ)*
یعنی،جماعت عاقل ، آزاد ، قادر مردوں پر واجب ہے جب کہ حرج نہ ہو ،

*البتہ اگر حرج و عذر شرعی موجود ہو تو واجب نہیں*

چنانچہ امام شمس الدین محمد تمرتاشی حنفی متوفی ۱۰۰۴ھ فرماتے ہیں

*" فلا تجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع ید ورجل من خلاف ومفلوج وشيخ كبيرعاجز وأعمى ولا على من حال بينه و بينها مطر وطين و برد شديد وظلمة كذلك "*

*(📘تنویر الابصار ، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، ص۱۸ ، مطبعۃالترقی مصر ، الطبعۃالاولی)*
یعنی، مریض ، اپاہج ، معذور ، ہاتھ پیر کٹا ، مفلوج ، بہت بوڑھا ، عاجز ، اندھے پر جماعت واجب نہیں اور نہ ہی اس پر واجب ہے جو شدید بارش ، کیچڑ ، سخت سردی اور اندھیرے سے دو چار ہو ،

*خوف جان و مال ، ظالم و قرضخواہ بھی ترک جماعت کے اعذار میں سے ہے ،*

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ فرماتے ہیں

*🖋️" وخوف على ماله، أو من غريم أو ظالم "*

*(📙الدرالمختار ، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، ص۷۶ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۳ھ)*
یعنی ، اپنے مال کا خوف یا قرض خواہ یا ظالم کا خوف بھی عذر ترک جماعت ہے ،

*حتی کہ کھانا تلف ہونے کا خدشہ بھی اعذار میں سے ہے*

علامہ ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں

*🖋️" ومنه خوفه على تلف طعام في قدر أو خبز في تنور "*

*(📕ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، باب الامامۃ ، ۲/۲۹۳ ، دارعالم الکتب ریاض ، طبعۃخاصۃ:۱۴۲۳ھ)*
یعنی انہی اعذار میں سے ہانڈی یا تنور میں کھانے یا روٹی کے تلف ہونے کا خوف بھی ہے ،

*صرف اپنا ہی نہیں بلکہ دوسرے کے مال کا خوف بھی اعذار میں سے ہے*

علامہ ابن عابدین شامی حنفی  فرماتے ہیں

*🖋️" هل التقييد بماله للاحتراز عن مال غيره؟ والظاهر عدمه : لأن له قطع الصلاة له ولا سيما إن كان أمانة عنده كوديعة أو عارية أو رهن مما يجب عليه حفظه  "*

*(📙ایضا)*
یعنی ، خوف مال صرف خود کے مال کے ساتھ ہی مقید نہیں ہے بلکہ دوسرے کا مال بھی داخل ہے ، کیونکہ اس کیلئے اسے نماز توڑنے تک کی اجازت ہے ، خاص طور پر جبکہ اس کے پاس امانت ہو جیسے ودیعت ، عاریت ، رہن جن کی حفاظت اس پر واجب ہے ،

*سیکیورٹی گارڈ بھی بلاشبہ لوگوں کی جان و مال ، گھر بار وغیرہ کی حفاظت و صیانت کا ذمہ دار ہوتا ہے ، فلہذا اولا تو حتی المقدور حاضری جماعت کی کوشش کرے لیکن اگر کہیں تلف و نقصان کا واقعی اندیشہ ہو وہاں اس کیلئے پنج گانہ جماعت کی حاضری معاف ہوگی ،*
ا__(💚)____
*ھذا ماظھرلی والعلم الحقیقی عندربی*
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*
ا__(💚)____
*کتبــــہ؛*
*محمد شکیل اخترقادری برکاتی*
*شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت صدرصوفہ ہبلی کرناٹک الہند*
*۲۵ رمضان المبارک ۱۴۴۳ھ مطابق ۲۷ اپریل ۲۰۲۲ء*
ا__(❣️)____
*الجواب صحیح*
*مفتی ھاشم صاحب*
ا__(❣️)____
*الجواب صحیح*
*مفتی عطا محمد مشاہدی صاحب*
ا__(❣️)____
*الجواب صحیح*
*مفتی مجاہد رضا مصباحی صاحب ، دارالعلوم نورہ اندور ، ایم پی*
ا__(💚)____
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا__(💚)____
*🖌المشتــہر :,۔🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛دلشاد احمد سدھارتھ نگر یو پی*
ا__(💚)____
1286

Monday, May 16, 2022

کیا کسی شخص پر کسی ولی کی سواری آسکتی ہے...؟*❣️

*❣️کیا کسی شخص پر کسی ولی کی سواری آسکتی ہے...؟*❣️

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
علمائے کرام کی بارگاہ میں سوال عرض ہے کہ
بزرگان دین کی روح پاک کسی شخص کے جسم میں داخل ہوسکتاہے؟
میں راجستھان کا رہنے والا ہوں
اور یہاں پر ایسا ہوتا ہے۔پرمجھے یقین نہیں ہوتا
جب کہ گھر کے حالات بتاتے ہیں
صرف گھر کے حالات نہیں بلکہ جو انتقال کرگئے ہیں ان کے حالات بتاتے ہیں
کہ فلاں شخص کے لیے جو قرآن پڑھا کر بخشش کیا تھا وہ ان کو نہیں ملا ایسی اور بھی بہت کچھ علماء کی بارگاہ میں عرض ہے اس مسلہ کے بارے میں
مدلل جواب عنایت فرمائیں
*فخرازھرچینل لنک⇩*
https://t.me/fakhreazhar
*سائل محمد سلطان خان جبل پور*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*

*الجواب :-* ایسا اعتقاد رکھنا کہ کسی شخص پر کسی ولی یابزرگ کی سواری آتی ہے یہ ناجائز و حرام ہے شرع میں اس کی کوئی اصل نہیں
کسی ولی یا بزرگ کی کسی پر سواری نہیں آتی ہے

بلکہ
خبیث ہمزاد شریر جنات آتے ہیں اور وہی بکواس کرتے ہیں
*📚فتاویٰ فقیہ ملت جلد اول صفحہ ٥٩ پر ماہ محرم الحرام میں کچھ بدعات وخرافات بیان کرتے آگے تحریر ہے:*
" کس  مرد یا عورت پر بابا کی سواری کا آنا یہ باتیں خرافات و بدعات اور سخت ناجائز و حرام ہیں- شریعت میں ان کی کوئی اصل و حقیقت نہیں اور ایسا کرنے والا سخت مستحق عذاب ‌‌نار ہیں-"
*📕اور " فتاویٰ شارح بخاری جلد دوم صفحہ ١٤٨ " پر ہے:*
" یہ سب مکر و فریب ہے ، کسی پر کوئی بزرگ کسی پر نہیں آتا، اس پر اعتماد کرنا جائز نہیں- ہاں ! خبیث ہمزاد اور جنات آتے ہیں - 
اس سے معلوم ہوا کہ
 یہ سب شیاطین کی کارستانیاں ہوتی ہیں اس سے احتراز لازم ہے

*واللہ تعالیٰ اعلم*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــہ؛*
*حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جعفر علی صدیقی رضوی فیضی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی کرلوسکرواڑی سانگلی مہاراشٹر*
*۱۳ شوال المکرم ۱۴۴۳ھ بروز اتوار*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح :-*
ابوالاحسان رضوی ارشدی غفرلہ
*✅ الجواب صحیح والمجیب نجیح :-*
حضرت علامہ مولانا مفتی محمد جابر القادری رضوی صاحب قبلہ جمشید پور
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منتظمین فیضان غوث.وخواجہ گروپ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

مہمان نے احتلام کا احساس ہوتے ہی عضوتناسل کو پکڑلیا، منی نہیں نکلی ، شہوت ختم ہونے پر نکلی ، تو شرعاً کیاحکم ہے

*🌹 مہمان نے احتلام کا احساس ہوتے ہی عضوتناسل کو پکڑلیا، منی نہیں نکلی ، شہوت ختم ہونے پر نکلی ، تو شرعاً کیاحکم ہے ؟🌹*
ا__(💚)____
*https://t.me/alhalqatulilmia*
ا__(💚)____
*السلام علیکم و رحمة اللہ و بركاته*
زید مہمان بن کر گیا۔رات میں احتلام ہونا محسوس ہوا اس نے عضو تناسل کو پکڑ کر رکھا۔شہوت ختم ہونے پر منی نکلی۔کیا اس پر غسل واجب ہوگا۔حلانکہ صاحب خانہ سے اس بات کو چھپانا چاہتا ہے ۔
*سائل ۔ ڈاکٹر ساحل ملک صاحب ، گجرات*
ا__(💚)____
*الجواب بعون الملک الوھاب*
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*اس مسئلہ کی اصل یہ ہےکہ طرفین یعنی امام اعظم ابوحنیفہ اور امام محمد بن حسن شیبانی رضی اللّٰہ عنھما کے نزدیک منی کا محض اپنی جگہ سے جدا ہوتے وقت شہوت ہونا وجوب غسل کیلئے کافی ہے ، جبکہ امام ابویوسف رضی اللہ عنہ کے نزدیک عضوتناسل سے باہر نکلتے وقت بھی شہوت شرط ہے ،*

چنانچہ امام برہان الدین ابوالحسن علی بن ابی بکر مرغینانی حنفی متوفی ۵۹۳ ھ فرماتے ہیں

*🖋️" ثم المعتبر عند أبي حنيفة  ومحمد انفصاله عن مكانه على وجہ الشهوة وعند أبي يوسف  ظهوره أيضا اعتبارا للخروج بالمزايلة "*

*(📘الھدایۃ ، کتاب الطھارۃ ، فصل فی الغسل ، ۱/۱۲۳ ، مطبوعۃ : ادارۃالقرآن کراتشی ، الطبعۃالاولی:۱۴۱۷ھ)*
یعنی، امام اعظم اور امام محمد کے نزدیک منی کا اپنی جگہ سے جدا ہوتے وقت شہوت معتبرہے اور امام ابویوسف کے نزدیک ظہور کے وقت بھی شہوت کا اعتبار ہے خروج کو جدا ہونے پر قیاس کرتے ہوئے ،

*عمومی حالات میں طرفین یعنی امام اعظم اور امام محمد رضی اللّٰہ عنھما کے قول پر فتوی ہے ، اور عندالضرورت امام ابویوسف رضی اللّٰہ عنہ کے قول پر*

چنانچہ امام سراج الدین عمر ابن نجیم مصری حنفی متوفی ۱۰۰۵ھ فرماتے ہیں

*🖋️" قال في السراج : والفتوى على قول أبي يوسف في الضيف وعلى قولهما في غيره لكن لا بد أن يقيد بما إذا خاف الريبة، كما في «غاية البيان » وغيره زاد في المستصفى أو استحى "*

*(📙النھرالفائق ، کتاب الطھارۃ ، ۱/۶۶ ، دارالکتب العلمیۃ بیروت ، الطبعۃالاولی:۱۴۲۲ھ)*
یعنی، مہمان وغیرہ کے حق میں فتوی امام ابویوسف کے قول پر ہے اور دوسروں کے حق میں طرفین کے قول پر ، البتہ مہمان کیلئے تہمت و شک کی قید ہے جیساکہ غایۃالبیان وغیرہ میں ہے اور حیا و شرم بھی جیساکہ مستصفے میں ہے ،

اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ فرماتے ہیں

*🖋️" أنهم أجازوا للمسافر والضيف الذي خاف الريبة أن يأخذ بقول أبي يوسف بعدم وجوب الغسل على المحتلم الذي أمسك ذكره عند ما أحس بالاحتلام إلى أن فترت شهوته ثم أرسله، مع أن قوله هذا خلاف الراجح في المذهب، لكن أجازوا الأخذ به للضرورة "*

*(📕شرح عقود رسم المفتی ، الافتاء والعمل علی الضعیف ، ص۸۵ ، مکتبۃالبشری کراتشی ، الطبعۃالاولی:۱۴۳۰ھ)*
یعنی، فقہائے کرام نے مسافر و مہمان جس کو شک و تہمت کا خوف ہو اسے اجازت دی ہےکہ امام ابویوسف رضی اللّٰہ عنہ کے قول عدم وجوب غسل پر عمل کرے جبکہ احتلام کا احساس ہوتے ہی ذکر کو پکڑلے یہاں تک کہ شہوت ساکن ہوجائے پھر چھوڑے ، باوجودیکہ امام ابویوسف کا یہ قول راجح مذہب کے خلاف ہے ، مگر ضرورت کی وجہ سے فقہاء نے اس پر عمل کو جائز قرار دیا ہے ،

*صورت مسئولہ مذکورہ میں زید کو اجازت ہےکہ امام ابویوسف رحمہ اللّٰہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے غسل نہ کرے کہ اس خاص صورت میں اس پر غسل فرض نہیں ہے*
ا__(💚)____
*واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب*
ا__(💚)____
*کتبــــہ؛*
*محمد شکیل اخترقادری برکاتی*
*شیخ الحدیث مدرسۃالبنات مسلک اعلی حضرت صدرصوفہ ہبلی کرناٹک الہند*
*۱۳ شوال المکرم ۱۴۴۳ھ مطابق ۱۵ مئی ۲۰۲۲ء*
*مورخہ:27/08/2021)*
ا__(💚)____
*الجواب صحیح*
*محمد ھاشم رضا مصباحی غفرلہ*
ا__(💚)____
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا__(💚)____
*🖌المشتــہر :,۔🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛دلشاد احمد سدھارتھ نگر یو پی*
ا__(💚)____
1287

Monday, May 2, 2022

کیا بھتیجا اپنی چچی سے نکاح کر سکتا ہے؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
 ایک سوال عرض خدمت ہے کہ کیا بھتیجا اپنی چچی سے نکاح کر سکتا ہے؟
 حوالہ بھی ارشاد فرما دیجئے گا کرم نوازی ہوگی

 سائل محمد اویس رضا خان شاہجہاں پور یو پی انڈیا

  جواب

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 

 الجواب وباللہ التوفیق

 اگر چچا کا انتقال ہوجائے یا چچا اپنی بیوی کو طلاق دےدے تو عدت گزارنے کے بعد جس طرح دوسرے لوگ اس عورت سے نکاح کر سکتے ہیں اسی طرح بھتیجا بھی اس چچی سے نکاح کرسکتا ہے. کیوں کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے ۔ کہ لڑکی محرمات میں سے نہ ہو۔ اور چچی بھتیجے کے لئے محرمات میں سے نہیں ہے۔ 

 اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے

  حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘-فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ-وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ 

 (سورۃ النساء الآیۃ ٢٣) 

ترجمۂ کنز الایمان حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیویاں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزرا بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے

 (سورۃ النساء الآیۃ ٢٣)

 محرمات کےذکر کے بعد ارشاد فرماتا ہے وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ یعنی جو بھی ان کے علاوہ ہیں وہ تمہارے لئےحلال ہیں

 چچی ان کے علاوہ میں سے ہے لہٰذا وہ بھی حلال ہوگی۔
اور ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں حضور اعلی حضرت علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔ حرام عورتوں میں چچی کوشمار نہ فرمایا نہ شرح میں اس کی تحریم آئی تو ضرور وہ حلال عورتوں میں ہے 

 (فتاوی رضویہ ج ٥ ص ٢٣٠) 

 خلاصہ ۔ مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا۔ کہ چچی بھتیجے کے لئے محرمات میں سے نہیں لہذا اس سے نکاح درست ہوگا۔

  واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

فقیر محمد دانش شمسی غفر لہ

محمدی لکھیم پور کھیری

Wednesday, February 23, 2022

حضرت ہمارے گاؤں میں ایسا سوچتے ہیں کہ اگر سانپ کو مارکر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس انسان سے بدلہ لیتے ہیں وغیرہ۔۔۔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
حضرت ہمارے گاؤں میں ایسا سوچتے ہیں کہ اگر سانپ کو مارکر چھوڑ دیا جائے تو وہ اس انسان سے بدلہ لیتے ہیں وغیرہ۔۔۔ 

یہ بات درست ہے یا نہیں؟

💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫💫

وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ 

حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :
*مَنْ رَأَیَ حَیَّۃً فَلَمْ یَقْتُلْہَا مَخَافَۃَ طَلْبِہَا فَلَیْسَ مِنَّا*
یعنی جوسانپ دیکھے پھربدلہ کے خوف سے اسے نہ مارے وہ ہم سے نہیں۔
*(المعجم الکبیر، ۷/۷۸، حدیث:۶۴۲۵ )*

🖊️ *مُفَسِّرِ شَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔!!!*
یعنی ہماری سنت کا تارِک ہے۔پہلے جہلائِ عرب کہتے تھے اور جہلائِ ہند اب تک کہتے ہیں کہ سانپ کو مارنے والے سے اس کی ناگنی بدلہ لیتی ہے اس لئے سانپ کو مت مارو۔ اس فرمان عالی میں اسی خیال کی تردید ہے بھلا سانپنی یعنی ناگن کو کیا خبر کہ کس نے مارا ہے؟ لوگوں میں مشہور ہے کہ مارے ہوئے سانپ کی آنکھوں میں مارنے والے کا فوٹو آجاتا ہے اس فوٹو سے ناگن، قاتل کو پہچان لیتی ہے اس لئے سانپ کو مارکر اس کا سر جلا دیا جاتا ہے تاکہ آنکھوں میں فوٹو نہ رہے مگر یہ بھی غلط ہے اس کا سر جلادینا اسے مار ڈالنے کے لئے ہے، وہ لاٹھی کھاکر بیہوش ہوجاتا ہے لوگ مردہ سمجھ کرچھوڑ دیتے ہیں،وہ کچھ عرصہ بعد پھر ہوش میں آکر چلا جاتا ہے آگ میں جلانا اس لیے ہے تاکہ واقعی مر جائے۔خیال رہے کہ جب تک سانپ اُلٹا نہ پڑ جائے کہ پیٹ اوپر آجائے تب تک وہ زندہ ہے۔

*(مراٰۃ المناجیح ،حدیث ۱۰۳۰)*

*واللہ تعالی اعلم بالصواب*

*✍🏻 س ف ق ؛ ۷۴۰۸۲۵۱۶۲۱*

Sunday, February 6, 2022

نیوتا کی دو صورتیں ہیں ایک صورت میں یہ قرض ہے، اور ایک صورت میں یہ تحفہ ہے،

نیوتا  کی دو صورتیں ہیں ایک صورت میں یہ قرض ہے، اور ایک صورت میں یہ تحفہ ہے،

تو جن برادریوں میں " نیوتا " کو باقاعدہ لکھا جاتا ہے کہ کس نے کتنا دیا، اور پھر دینے والوں کی تقریب میں اتنا ہی واپس کیا جاتا ہے، واپسی نہ ہونے پر مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہاں یہ قرض شمار ہے،

لھذا واپسی میں کم یا زیادہ نہیں کر سکتے، اصل سے زیادہ دیں گے تو یہ زیادتی سود شمار ہوگی، جوکہ ناجائز و حرام ہے،،

اور جن برادریوں میں ایسا کوئی برادری کا قانون نہیں ہے، غیر برادری کے لوگ دوستی ، تعلقات ، یا عقیدت کی بنیاد پر شادی میں کچھ دے دیتے ہیں تو ہدیہ ہے،اور حدیث پاک میں ہے، کہ ایک دوسرے کو ہدیہ دو محبت بڑھے گی،، 

*((📙👈وقار الفتاوی، جلد سوم، صفحہ 116))* 

🖋️اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں کہ اب جو "نیوتا" دیا جاتا ہے وہ قرض ہے اس کا ادا کرنا لازم ہے اگر رہ گیا تو مطالبہ رہے گا اور بے اس کے معاف کئے معاف نہ ہوگالیکن اگر داعی دینے والوں سے پہلے صاف صاف کہہ دے کہ جو صاحب بطور امداد عنایت فرمائیں تو کوئی مضائقہ نہیں مجھ سے ممکن ہوا تو ان کی تقریب میں مدد کروں گا، لیکن میں قرض لینا نہیں چاہتا، اس کے بعد جو دے گا وہ قرض نہیں، ہدیہ ہے،، جس کا بدلہ ہوگیا تو فبہا، ورنہ مطالبہ نہیں،،

*((📒👈فتاوی رضویہ جلد 23 صفحہ 586 رضا فاؤنڈیشن لاہور))*

Saturday, December 11, 2021

گوبر سے گھر و آنگن لیپنا اور ایسی زمین پر نماز پڑھنا کیسا

گوبر سے گھر و آنگن لیپنا اور ایسی زمین پر نماز پڑھنا کیسا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
 
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ہٰذا میں کہ👇
  کیا گھر میں گوبر لیپنا کیسا ہے جیسا کہ گوبر نجاست غلیظہ ہے اور اگر اسے گھر سے لیپ دیا تو کیا اس گھر میں ہم تلاوت قرآن پاک کر سکتے ہیں یا نہیں جواب عطا فرمائیں عین نوازش ہوگی۔
قرآن و احادیث کی روشنی میں مفصل جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔

سائل: محمد عطا وارث رضوی

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

📝الجواب بعون الملک الوہاب ⇩
  📚✒ مذکورہ بالا صورت مستفسرہ میں جواب یہ ہے کہ 👇👇 
👈(1)گھر اور آنگن وغیرہ کو گوبر سے لیپنا شریعت مطہرہ میں ناجائز ہے اسلئے کہ وہ نجاستہ غلیظہ ہے اس سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے
💢 فتاوی ہندیہ میں ہے  
والخثاء البقر و العذر نجس نجاسۃ غلیظۃ ھکذا فتاوی قاضی خان 
📗✒الفتاوی الھندیۃ الفصل الثانی فی الاعیان النجسۃ من الباب السابع فی النجاسۃ و احکامھا ج 1 ص 46
💢تنویر الابصار میں ہے 
من مغلظۃ کعذرۃ و روث و خثی مخلصا 
📗✒تنویر الابصار باب الانجاس من کتاب الطھارۃ ج 1 ص 454/453
💢حضور صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت العلام مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ہر حلال چوپایہ کا پاخانہ جیسے گائے بھینس کا گوبر، بکری اونٹ کی مینگنی یہ سب نجاست غلیظہ ہیں  
📗✒بہار شریعت ج 1 ح 2 ص 98

👈(2) اور رہی بات گوبر سے لیپے ہوئے زمین پر نماز پڑھنے کی تو  سرکار حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ " جو زمین گوبر سے لیسی گئی اگرچہ سُوکھ گئی ہو اس پر نماز جائز نہیں ہاں اگر وہ سُوکھ گئی اور اس پر کوئی موٹا کپڑا بچھا لیا ، تو اس کپڑے پر نماز پڑھ سکتے ہیں اگرچہ کپڑے میں تری ہو مگر اتنی تری نہ ہو کہ زمین بھیگ کر اس کو تر کر دے کہ اس صورت میں یہ کپڑا نجس ہو جائے گا اور نماز نہ ہوگی " اھ
📗✒(بہار شریعت ج 1 ص 404 : نجاستوں کا بیان)

💢 الفتاوى الهندية (1/ 58):
’’تطهير النجاسة من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه واجب. هكذا في الزاهدي في باب الأنجاس‘‘.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين 
📗✒(رد المحتار) (1/ 626):
’’ومبسوط على نجس إن لم يظهر لون أو ريح.
(قوله: مبسوط على نجس إلخ) قال في المنية: وإذا أصابت الأرض نجاسة ففرشها بطين أو جص فصلى عليها جاز وليس هذا كالثوب، ولو فرشها بالتراب ولم يطين، إن كان التراب قليلاً بحيث لو استشمه يجد رائحة النجاسة لاتجوز وإلا تجوز. اهـ. قال في شرحها: وكذا الثوب إذا فرش على النجاسة اليابسة؛ فإن كان رقيقاً يشف ماتحته أو توجد منه رائحة النجاسة على تقدير أن لها رائحةً لا يجوز الصلاة عليه، وإن كان غليظاً بحيث لايكون كذلك جازت. اهـ. ثم لايخفى أن المراد إذا كانت النجاسة تحت قدمه أو موضع سجوده؛ لأنه حينئذٍ يكون قائماً أو ساجداً على النجاسة لعدم صلوح ذلك الثوب لكونه حائلاً، فليس المانع هو نفس وجود الرائحة حتى يعارض بأنه لو كان بقربه نجاسة يشم ريحها لا تفسد صلاته، فافهم 
       واللہ اعلم بالصواب

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

✍ کتبہ: جلال الدین احمد امجدی رضوی ارشدی نائےگائوں ضلع ناندیڑ مہاراشٹرا مدرس جامعہ قادریہ رضویہ ردرور منڈل ضلع نظام آباد تلنگانہ الھند۔
( موبائل نمبر 📞8390418344📱)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

🗯الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد عطاء الله النعيمي غفرله خادم الحدیث والافتاء بجامعۃالنور جمعیت اشاعت اہلسنت (پاکستان) کراچی
🗯الجواب صحيح والمجيب نجيح فقط محمد اسلام خان رضوی مصباحی صاحب قبلہ صدر المدرسین مدرسہ گلشن رضا کولمبی ضلع ناندیڑ مہاراشٹر الھند 
 🗯والله اعلم بالصواب الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط قیس محمد قادری گورکھپوری سابق پرنسپل مدرسہ کلیمیہ چشتیہ اھلسنت نقشہ بکسہ ضلع مھراج گنج شمالی یوپی الھند۔
🗯 الجواب صحیح وصواب فقیر محمد امین قادری رضوی دیوان بازار مراداباد یوپی
🗯بہت عمدہ جواب الجوابــــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح فقط محمدامجدعلی نعیمی،رائےگنج اتر دیناج پور مغربی بنگال،خطیب وامام مسجدنیم والی مرادآبا اترپردیش الھند
🗯ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ و جامع و تحقیق جواب ✅الجواب' ھوالجواب واللہ ھو المجیب المصیب المثاب فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب و امام جامع مسجد مہا سمند (چھتیس گڑھ)
🗯الجواب صحیح ابوالاحسان قادری رضوی غفرلہ
🗯ماشاءاللہ سبحان اللہ بہت عمدہ مدلل و مفصل جواب لقداصاب المجیب الفاضل
بارک اللہ تعالیٰ فی علمہ و عمرہ واللہ اعلم بالصواب غلام غوث اجملی پورنوی
خادم التدریس دارالعلوم اہلسنت غریب نواز چاپاکھور بارسوئی کٹیہار بہار انڈیا
🗯الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط *محمداسماعیل خان امجدی* رضوی دارالعلوم شہیداعظم دولھاپور پہاڑی پوسٹ انٹیاتھوک تھانہ ضلع گونڈہ یوپی الھند
🗯ماشاءاللہ جواب بہت عمدہ بہت اچھا ھے اللہﷻاپنےحبیبﷺ کےصدقےعلم وعمل میں برکتیں عطافرماۓ ۔ آمین یارب العالمین ﷻبجاہ سیدالمرسلین ﷺ الجواب صحیح والمجیب نجیح العبد محمد عتیق اللہ صدیقی فیضی یارعلوی ارشدی عفی عنہ
🗯ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب۔
الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط محمد الطاف حسین قادری خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند
🗯الجواب صحیح والمجیب نجیح فقط محــــمد معصــوم رضا نوری منگلور کرناٹک انڈیا
🗯✅الجوابـــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح اسیر حضور تاج الشریعہ محمد عامل رضـا خان المعروف ضیاء انجم قادری رضوی مقام کھمریا پوسٹ تکونیاں ضلع لکھیم پور کھیری یوپی الہنـــــــــــــــــــــــد
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

Friday, November 5, 2021

داڑھی کی حد کہاں سے کہاں تک ہے؟؟ بالخصوص ہونٹ کے نیچے کے بال داڑھی کے حکم میں ہے کہ نہیں؟؟


                 اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

داڑھی کی حد کہاں سے کہاں تک ہے؟؟ بالخصوص ہونٹ کے نیچے کے بال داڑھی کے حکم میں ہے کہ نہیں؟؟

       ساٸل؛۔ محمد غفران قادری۔ دسولی فتح پور الھند
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
                وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

                 الجوابـــــ بعون الملکـــــ الوھاب 

اس کے تعلق سے سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں، جبڑوں، ٹھوڑی، پر جمتے ہے، اور عرضاً {چوڑائی میں} اس کا بالائی حصہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے, جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں، وہ داڑھی سے خارج ہیں، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں، وہ بھی داڑھی میں داخل نہیں یہ بال قدرتی طور پر موئے ریش سے جدا ممتاز ہوتے ہیں, اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مخروطی شکل پر جانب ذقن جاتا ہے, یہ بال اس راہ سے جدا ہوتے ہیں نہ ان میں موئے محاسن کے مثل قوت نامیہ، ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پرورش باعثِ تشویہِ خلق وتقبیحِ صورت ہوتی ہے جو شرعاً ہرگز پسندیدہ نہیں (العطا یا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ 22/ 596) اور فتاوی عالمگیری میں ہے کہ (نتف الفنیکین بدعۃ وھو جنب العفقۃ وھی شعر الشفۃ السلفی)دونوں کوٹھوں کو اکھاڑنا بدعت ہے، اور وہ بچی کے دونوں جانب کے بال ہیں، اور بچی کے نچلے ہونٹ کے بال ہیں، ﴿عالمگیری 5}اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں؛- بال بداہۃً سلسلہ ریش میں واقع ہیں' کہ اس سے کسی طرح امتیاز نہیں رکھتے تو انہیں داڑھی سے جدا ٹھہرانے کی کوئی وجہ وجیہ نہیں- وسط میں جو بال ذرا سے چھوڑے جاتے ہیں، جنہیں عربی میں عنفقۃ اور ہندی میں بچی کہتے ہیں، داخل ریش ہیں، (جیساکہ امام بدر الدین عینی نے اس کی تصریح فرمائی اور ان سے سیرت شامیہ میں نقل کیا گیا ہے ) لہذا امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہوا کہ جو کوئی انہیں منڈاتا اس کی گواہی رد فرماتے ہیں، (جیساکہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے مدارج النبوۃ میں ذکر فرمایا-ت) تو بیچ میں یہ دونوں طرف کے بال جنہیں عربی میں فنیکین ہندی میں کوٹھے کہتے ہیں, کیوں کر داڑھی سے خارج ہوسکتے ہیں، داڑھی کے باب میں حکم‌ احکم حضور پرنور سید عالم ﷺ (داڑھیاں بڑھاؤ، اور زیادہ کرو,) ہے تو اس کے کسی جز کا مونڈنا جائز نہیں (صحیح البخاری کتاب اللباس باب اعفاء اللحی ) لاجرم علماء نے تصریح فرمائی کہ کوٹھوں کا نتف یعنی اکھیڑنا بدعت ہے، امیر المومنین عمر ابن عبدالعزیز رضی اللّٰہ عنہ نے ایسے شخص کی گواہی رد فرمائی (العطا یا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ 22/ 597)اور حضور صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں؛ بچی کے اغل بغل کے بال مونڈانا یا اکھیڑنا بدعت ہے،، ﴿بہار شریعت 16} لیکن ایک بات اور ہے کہ اگر بچی کے بال اتنے طویل اور کثیر ہوجائیں، کہ کھانے پینے اور کلی کرنے میں رکاوٹ بنیں، تو انہیں بقدر حاجت کاٹنا جائز ہے (یجوز قص الاشعار التی کانت من الفنیکین اذا زحمت فی المضمضۃ او الاکل او الشرب) اگر نچلے ہونٹ کے دونوں کناروں کے بال کلی کرنے اور کھانے پینے میں رکاوٹ ہوں، تو انہیں کترنا جائز ہے اور سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ہاں اگر یہاں بال اس قدر طویل وانبوہ ہوکہ کھانا کھانے، پانی پینے، کلی کرنے میں مزاحمت کریں' تو ان کا قینچی سے بقدر حاجت کم کر دینا روا ہے (العطا یا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ 22/ 599)یاد رکھیں داڑھی حد شرع سے کم کرانا اور اس پر اصرار کرنا گناہ کبیرہ ہے کہ قطع لحیہ کو فقہاء کرام ناجائز فرماتے ہیں، اور صغیرہ پر اصرار کبیرہ وفسق ہے (فتاویٰ امجدیہ جلد چہارم صفحه 174)[[ماخوذ؛ فتاویٰ غوثیہ جلد اول صفحه 294]]

                           واللہ اعلم بالصواب

              کتبہ فقیر محمد عمران رضا ساغر دہلوی 

Monday, November 1, 2021

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دیوث کیسے کہتے ہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دیوث کیسے کہتے ہیں برائے مہربانی مکمل طور پر جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی

                   سائل محمد تابش رضا رضوی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
              وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ

              الجـــــــواب بعون الملکـــــ الوھاب

جو لوگ باوُجُود ِقدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کریں وہ’’ دَیُّوث‘‘ ہیں ۔ رَحمتِ عالمیان ، سلطانِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے ، ’’تین شخص کبھی جنّت میں داخل نہ ہوں گے دَیُّوث اور مَردانی وَضْع بنانے والی عورت اور شراب نوشی کا عادی ۔ (مجمعُ الزَّوائد ج ۴ ص ۵۹۹حدیث۷۷۲۲ ) مَردوں کی طرح بال کٹوانے اور مَردانہ لباس پہننے والیاں اِس حدیثِ پاک سے عبرت حاصِل کریں ، چھوٹی بچّیوں کے لڑکوں جیسے بال بنوانے اور انہیں لڑکوں جیسے کپڑے اور ہَیٹ وغیرہ پہنانے والے بھی احتیاط کریں تا کہ بچی اسی عمر سے اپنے آپ کو مردوں سے ممتاز سمجھے اور ہوش سنبھالنے اور بالغہ ہونے کے بعد اس کو اپنی عادات و اطوار شریعت کے مطابق بنانے میں مشکلات درپیش نہ آئیں ۔ حدیثِ پاک میں یہ جو فرمایا گیا کہ ’’کبھی جنّت میں داخِل نہ ہوں گے‘ یہاں اِس سے طویل عرصے تک جنّت میں داخِلے سے محرومی مُراد ہے ۔ کیوں کہ جو بھی مسلمان اپنے گناہوں کی پاداش میں مَعاذَاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ دوزخ میں جائیں گے وہ بِالآخِر جنّت میں ضَرور داخِل ہوں گے ۔ مگر یہ یا د رہے کہ ایک لمحے کا کروڑواں حصّہ بھی جہنَّم کا عذاب کوئی برداشت نہیں کرسکتا لہٰذا ہمیں ہرگناہ سے بچنے کی ہردم کوشِش اور جنّتُ الفِردوس میں بے حساب داخِلے کی دُعاء کرتے رَہنا چاہئے ۔ ’’دَیُّوث ‘‘کے بارے میں حضرتِ علّامہ عَلاؤالدّین حَصْکَفِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْقَوِی فرماتے ہیں ، ’’ دَیُّوث‘‘ وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی مَحرم پرغَیرت نہ کھائے ۔ ‘‘ (دُرِّمُختارج۶ ص ۱۱۳)معلوم ہوا کہ باوُجُودِ قدرت اپنی زَوجہ ، ماں بہنوں اور جوان بیٹیوں وغیرہ کو گلیوں بازاروں ، شاپنگ سینٹروں اورمَخْلُوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھر نے ، اجنبی پڑوسیوں ، نامَحرم رشتے داروں غیرمَحرم ملازِموں چوکیدار وں اور ڈرائیوروں سے بے تَکلُّفی اور بے پر دَ گی سے مَنع نہ کرنے والے دَیُّوث، جنّت سے محروم اور جہنَّم کے حقدار ہیں 

                 .واللّٰہ ورسولہ اعلم بالصواب

کتبہ العبد ناچیز محمد شفیق رضا رضوی خطیب و امام سنّی مسجد حضرت منصور شاہ رحمت اللہ علیہ بس اسٹاپ کشن پور الھند

Thursday, October 28, 2021

جنتری میں سعد و نحس کے متعلق سوال و جواب📚➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

احــکامِ شــریعت     »        🕯
-----------------------------------------------------------
📚جنتری میں سعد و نحس کے متعلق سوال و جواب📚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال. جنتری میں جو تاریخ کے آگے نیک اور بد لکھا ہوتا ہے اس کی کیا حقیقت ہے اور بد والی تاریخ میں شادی کرنا کیسا ہے
جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں
سائل: محمد بلال رضا سنبھل
ـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللّٰهِ وَبَرَكاتُهُ‎
الجواب : اول یہ کہ ہمارا مذہب اسلام جو طیب و طاہر مذہب ہے  جس کو اللہ رب العزت نے پسند فرمایا مذہب اسلام میں کسی بھی تواریخ و ایام میں شادی بیاہ منع نہیں ہر تاریخ ہر دن بہتر ہے ہر دن شادی جائز ہے رہی بات جنتریوں میں سعد و نحس کی تو اس کی کوٸی اصل نہیں،

جیسا کہ امام اہلسنت فقیہ باکمال امام احمد رضا خان قدس سرہ العزیز سے سوال ہوا کہ بعض لوگ مخصوص تواریخ و ایام میں شادی بیاہ نہیں کرتے اور اعتقاد یہ رکھتے ہیں کہ سخت نقصان پہونچے گا تو اس کا کیا حکم ہے ؟ 
سیدی سرکار اعلی حضرت رحمة اللہ علیہ جوابًا ارشاد فرماتے ہیں کہ:
یہ سب باطل و بے اصل ہے۔
(📕 فتاوی رضویہ، جلد، ٢٣، صفحہ،٢٧٤، رضا فاٶنڈیشن لاہور )
اب سعد و نحس پر اعتماد، بھروسا رکھنا کیسا ؟  تو 
مزید سرکار اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: مسلمان مطیع پر کوئی چیز نحس نہیں اور کافروں کے لئے کچھ سعدنہیں،اور مسلمان عاصی کے لئے اس کا اسلام سعد ہے۔طاعت بشرط قبول سعد ہے۔معصیت بجائے خود نحس ہے اگر رحمت و شفاعت اس کی نحوست سے بچالیں بلکہ نحوست کو سعادت کر دیں،
(📓 فتاوی رضویہ، جلد،٢١، صفحہ،٢٢٩، رضا فاٶنڈیشن لاہور)

نوٹ: جنتریوں میں بھی سعد و نحس کے متعلق یہ صراحتا لکھا ہوتا ہیکہ یہ سب شیعہ کا طریقہ ہے ہمارا ہر دن اچھا و بہتر ہے اور ایسا اعتقاد رکھنا تعلیماتِ اسلام کے خلاف ہے۔

🔸واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم و علمه أتم وأحكم 🔸
ـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــہ:
حضرت مولانا محمد راشد مکی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی خطیب و امام نوری مسجد گرام منگوری پٹی پوسٹ بہار بزرگ ضلع کشی نگر اتر پردیش۔

✅الجواب صحیح والمجیب نجیح : حضرت علامہ جابرالقادری رضوی  صاحب قبلہ۔

Wednesday, October 27, 2021

*❣توشـہ قادریہ کا طریقہ اصل وزن کتنا ہونا چاہیئے❣*

*❣توشـہ قادریہ کا طریقہ اصل وزن کتنا ہونا چاہیئے❣*

فخر اعلی حضرت ٹیلیگرام https://t.me/fakhreaalahazrat

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بعد سلام عرض ہے کہ توشہ شریف کی فاتحہ اور اس وظیفہ کے بارے میں بتائیں مہربانی ہوگی
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*📝الجــــــــــــــــــــــــــوابــــــــــــــــــــ بعـــــون المــلــــك الــــــوهــــــــاب:*

توشہ قادریہ کا طریقہ یہ ہے👇🏻،
سوجی ⑵ کلو، شکر ⑹ کلو، گھی ⑹ کلو، مغز بادام ⑴ کلو ⑹ سو گرام، پستہ ⑴ کلو ⑹ سو گرام، کشمش ⑴ کلو ⑹ سو گرام، ناریل ⑴ کلو ⑹ سو گرام، لونگ دار چینی، چھوٹی الائچی ہر ایک ۱۴۰گرام،

 حضور غوث پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز دے کر صالحین کو کھلائے اور اپنے مطلب کی دعا کرائے، اصل وزن یہ ہیں بقدر قدرت ان میں کمی بیشی کا اختیار ہے نصف چوتھائ آٹھواں حصہ یا جتنا مقدور ہو کرے وہی اثر دے گا اھ،
*فتاوی رضویہ جلد ۱۲ ص ۲۶۸*
*ماخوذ ضیاء شریعت جلد دوم ص ۸۲*

*واللـــــــــہ تعالــی اعلـــم بالصـــــــــــــواب*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*فقیر محمـد محبوب عالم امجــــدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی آزاد نگر نچلول ضلع مہــراجگنج یوپی*
*بتاریخ19دسمبر2020بروز شنبہ*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*✅الجوابـــــ صحیح والمجیبـــــ نجیح اسیر حضور تاج الشریعہ محمد عامل رضـا خان المعروف ضیاء انجم قادری رضوی مقام کھمریا پوسٹ تکونیاں ضلع لکھیم پور کھیری یوپی الہنـــــــــــــــــــــــد*
ــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*◆فخر اعلیٰ حضرت فقہی گروپ؛◆*
  شــــامـــل ہـــونــے کــے لیــــے⇩⇩⇩

*https://wa.me/+919918521953*

مــزیـــد مـــعـــلـــومـــات کــے لئــے ٹیـــلیـــگــــرام جـــوائـــــــــن کـــریـں⇩⇩⇩

*https://t.me/fakhreaalahazrat*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین اعلیٰ حضرت گـــروپ*
*مـحـمـد عـامـل رضـا خــان قـادری رضـوی*
*لکھیـم پـور یـوپـی انـڈیـا؛*
اــــــــــــــــ♦⛔♦ـــــــــــــــــ