Sunday, August 16, 2020

قبل نکاح پیدا ہونے والا بچہ ثابت النسب ہوگا یا نہیں

*🔹قبل نکاح پیدا ہونے والا بچہ ثابت النسب ہوگا یا نہیں🔹*


السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ
مفتیان کرام سے عرض ہے کہ مرد و عورت نے نکاح سے پہلے قربت کرلی ۔
اب اسی سے حمل بھی ٹھر گیا اب نکاح بھی اسی عورت سے ہوا وہ بچہ حلالی ہو گا یا حرامی ؟ توبہ بھی کر چکے ۔ 
حمل ضائع کروا دیں تو گناہ ہوگا یا نہیں۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا ۔
*فخر ازھر چینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔹سائل لقمان پاکستان🔹*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب* اگر کوئی مرد نے کسی عورت سے زنا کر لے پھر وہ حاملہ ہو جائے اور اس کے بعد اس عورت سے نکاح کر لے تو اگر نکاح سے چھ ماہ بعد بچہ پیدا ہو تو اس بچہ کا نسب قضاءً ناکح سے ثابت ہوجائے گا اور دیانةً ثابت نہیں ہوگا ۔ اور اگر نکاح کی تاریخ سے چھ مہینہ سے پہلے بچہ پیدا ہو جائے ۔ اور خاوند یہ اقرار کرے کہ یہ بچہ میرا ہے تو ثبوت نسب کے لئے یہ اقرار تو معتبر نہیں ہوگا ۔ لیکن اس اقرار کی وجہ سے بچہ اس کی میراث میں وارث بنے گا 

📑جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ *" إذا زنا بامرأة ثم تزوجها فولدت منه إن جاءت به لستة عشر فصاعدا يثبت نسبه إلا ان يدعيه ولم يقل إنه من الزنا إلا ان قال أنه من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه " اھ*
*(📕 فتاوی عالمگیری ج 1 ص 540 : كتاب الطلاق ، الباب الخامس عشر )*

📄 اور اسی میں ہے کہ *" اذا تزوج الرجل امرأة فجائت بالولد لأقل من ستة أشهر منذ تزوجها لم يثبت نسبه و ان جاءت لستة أشهر فصاعداً يثبت نسبه منه اعترف به الزوج أو سكت " اھ*
*(📘 فتاوی عالمگیری ج 1 ص 536 )*

📜 اور اسی میں ہے کہ *" إذا زنى رجل بامرأة فجاءت بولد فالدعاه الزاني لم يثبت نسبه منه و اما لمراة فيثبت نسبه منها " اھ*
*(📗 فتاوی عالمگیری ج 4 ص 127 : كتاب الدعوى /  تبيين الحقائق ج 3 ص 275 : كتاب الطلاق ، باب ثبوت النسب )*

📃 اور بہار شریعت میں ہے کہ " کسی عورت سے زنا کیا پھر اُس سے نکاح کیا اور چھ مہینے یا زائد میں بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت ہے اور کم میں ہوا تو نہیں اگرچہ شوہر کہے کہ یہ زنا سے میر ا بیٹا ہے " اھ
*(📚 بہار شریعت ج 2 ص 251 : ثبوت نسب کا بیان )*

📌چار ماہ کے بعد اسقاط حمل حرام ہے اس سے قبل ضرورۃ کر سکتے ہیں

📄جیسا کہ در مختار مع رد المحتار میں ہے کہ *" و قالوا : يباح اسقاط الولد قبل أربعة أشهر " اھ*

📃 رد المحتار میں ہے کہ *" ( و قالوا الخ ) هل يباح الاسقاط بعد الحبل ؟ نعم  يباح ما لم يتخلق منه شئى ولن يکون ذلک الا بعد مائة وعشرين يوما هذا يقتضى انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح " اھ*
یعنی کیا حمل ٹھرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے ؟ ہاں جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے ۔ پھر تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے اور تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے " اھ 
*( 📚در مختار مع رد المحتار ج 4 ص 336 : کتاب النکاح ، باب نکاح الرقیق ، دار الکتب العلمیہ بیروت )*

*🌹واللہ اعلم بالصواب🌹*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی*
*🗓 ۱۷ مارچ ٠٢٠٢؁ء مطابق ۲۱ رجب المرجب ۱۴۴۱؁ھ بروز منگل*
*رابطہ* https://wa.me/+917666456313
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی شکیل اختر صاحب قبلہ کرناٹک*
ماشاءاللہ بہت عمدہ جواب
*✅الجوابـــــ صحیح فقط محمد آفتاب عالم رحمتی مصباحی دہلوی خطیب وامام جامع مسجد مہاسمند(چھتیس گڑھ)*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

Friday, July 31, 2020

عیدالاضحیٰ کے مسائل اور ان کا حل

*🌹ِعیدالاضحیٰ کے مسائل اور ان کا حل🌹*


*سوال 1:*
عیدالاضحیٰ کی نماز کی کیا شرعی حیثیت ہے ؟
*جواب:*
عیدالاضحیٰ کی نماز (اسی طرح عیدالفطر کی نماز) ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر جمعہ کی نماز فرض ہے، اِس کی ادائیگی کیلیے وہی شرائط ہیں جو جمعہ کیلیے ہیں، البتہ جمعہ اور عید کی نماز میں تین طرح سے فرق ہے :
 1- پہلا فرق یہ ہے کہ جمعہ کیلیے خطبہ شرط ہے جبکہ عید کیلیے سنت ہے. 
2- دوسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کا خطبہ نماز سے پہلے ہوتا ہے جبکہ عید کا خطبہ نماز کے بعد ہوتا ہے. 
3- تیسرا فرق یہ ہے کہ جمعہ کیلیے دو اذانیں اور ایک اقامت ہوتی ہے جبکہ عید کیلیے نہ اذان ہوتی ہے اور نہ ہی اقامت.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 51 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 150 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 2:* 
نمازِ عیدالاضحیٰ کی زائد تکبیرات کتنی ہوتی ہیں ؟
*جواب:*
فقہ حنفی میں نماز ِعیدالاضحیٰ کی (اسی طرح نمازِعیدالفطر کی) زائد تکبیرات کل چھ (6) ہیں، تین (3) پہلی رکعت میں اور تین (3) دوسری رکعت میں، اور یہ زائد تکبیرات کہنا واجب ہیں.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 150 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*نوٹ:*
ان چھ (6) زائد تکبیرات میں رفع یدین (یعنی ہاتھوں کو  کانوں تک بلند کرنا) متعدد احادیث سے ثابت ہے.
*(مصنف ابن ابی شیبہ جلد 1 صفحہ 495 دارالکتب العلمیہ بیروت، کتاب الآثار لابی یوسف جلد 1 صفحہ 59 دارالکتب العلمیہ بیروت، مصنف عبدالرزاق جلد 3 صفحہ 169 دارالکتب العلمیہ بیروت، سنن الکبری جلد 5 صفحہ 72 دارالفکر بیروت)*
*سوال 3 :*
کیا نمازِ عید مسجد میں ادا کی جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
نمازِ عید مسجد میں ادا کرنا جائز تو ہے مگر سنت نہیں بلکہ نمازِ عید کو عیدگاہ میں ادا کرنا سنت و مستحب ہے. 
*(فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 561، 576 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 4:*
کیا عید کی نماز صرف شہر میں پڑھنا درست ہے؟
*جواب:*
عید کی نماز شہر میں بھی درست ہے اور ایسے گاؤں میں بھی درست ہے جہاں کی سب سے بڑی مسجد میں اہلِ جمعہ (یعنی گاؤں کے وہ افراد جن پر جمعہ فرض ہو سکے) نہ سما سکیں اور وہ مسجد ان پر تنگ ہوجائے یہاں تک کہ انہیں نمازِجمعہ کیلیے جامع مسجد بنانی پڑے.
اور اگر گاؤں میں ایسی صورت نہ ہو تو اس گاؤں میں عید کی نماز جائز نہیں.
*(بنایہ شرح ہدایہ جلد 3 صفحہ 53 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 347 رضا فاؤنڈیشن لاہور، قربانی کے احکام صفحہ 250 والضحیٰ پبلی کیشنز، فیضان فرض علوم جلد 1 صفحہ 503، 504 مکتبہ امام اہلسنت)*
*سوال 5:* 
نمازِ عید کا طریقہ کیا ہے ؟
*جواب:*
سب سے پہلے یوں نیت کیجیے :
*"میں نیت کرتا ہوں.(نیت کی میں نے دو رکعت) دونوں طرح کہہ سکتے ہیں دو رکعت نماز عیدالاضحیٰ کی، ساتھ چھ زائد تکبیروں کے، واسطے اللہ پاک کے، منہ خانہ کعبہ شریف کی طرف، پیچھے اس امام کے"*
پھر کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر حسبِ معمول ناف کے نیچے ہاتھ باندھ کر ثناء پڑھیے، پھر کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ لٹکا دیجیے پھر دوسری مرتبہ ہاتھ کانوں تک اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ لٹکا دیجیے پھر تیسری مرتبہ ہاتھ کانوں تک اٹھا کر اللہ اکبر کہہ کر دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھ لیجیے پھر امام تَعَوُّذ اور تَسْمِیَہ  آہستہ پڑھ کر الحمد شریف اور کوئی سورۃ بلند آواز میں پڑھے گا، پھر رکوع و سجود کرے گا، دوسری رکعت میں امام پہلے آہستہ بسم اللہ پڑھ کر الحمدشریف اور کوئی سورۃ بلند آواز میں پڑھے گا پھر لگاتار تین بار کانوں تک ہاتھ اٹھا کر اللہ کبر کہہ کر، ہر بار ہاتھ لٹکا دیجیے پھر بغیر ہاتھ اٹھائے چوتھی بار رکوع کیلیے اللہ اکبر کہتے ہوئے رکوع میں جائیے اور حسبِ معمول نماز مکمل کیجیے، سلام پھیرنے کے بعد امام کھڑا ہو کر دو خطبے دے گا، جن کو توجہ سے سننا واجب ہے اور ان کے دوران سلام و کلام ناجائز و ممنوع ہے.  
*نوٹ :*
چھ زائد تکبیروں میں ہر دو تکبیروں کے درمیان تین (3) بار *"سبحٰن اللہ"* کہنے کی مقدار چپ کھڑے رہنا ہے. 
*فائدہ :*
امام کیلیے مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری میں سورہ منافقون پڑھے یا پہلی میں سَبِّحِ اسْمَ اور دوسری میں ھَلْ اَتٰکَ پڑھے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 61 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 781، 782 مکتبۃ المدینہ کراچی، قربانی کے احکام صفحہ 237، 238 والضحیٰ پبلی کیشنز)*
*سوال 6:*
نمازِ عید کا وقت کب سے لیکر کب تک ہوتا ہے ؟
*جواب:*
نمازِ عید کا وقت سورج طلوع ہونے کے 20 منٹ بعد سے لیکر ضَحْوَہءِکُبْریٰ (یعنی نِصْفُ النَّہَار شرعی جس کو عرفِ عام میں زوال کہتے ہیں) تک ہوتا ہے۔
*فائدہ :*
عیدالفطر کو دیر سے اور عیدالاضحیٰ کو جلدی پڑھنا مستحب ہے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 60 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 7:* 
اگر کوئی شخص امام کے نمازِ عید میں زائد تکبیرات کہنے کے بعد شامل ہوا تو زائد تکبیرات کب کہے گا ؟
*جواب:*
اس مسئلے کی چندصورتیں بنتی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔
1- اگر پہلی رکعت میں امام کے زائد تکبیرات کہنے کے بعد شامل ہوا تو اسی وقت تین زائد تکبیرات کہہ لے اگرچہ امام فاتحہ و سورۃ پڑھ رہا ہو.
2- اگر اس وقت شامل ہوا کہ امام رکوع میں ہے اور اس کو ظنِ غالب ہو کہ تین زائد تکبیرات کہہ کر رکوع میں امام کے ساتھ شامل ہو جائے گا تو کھڑے کھڑے تکبیریں کہہ کر رکوع میں شامل ہوجائے.
3- اگر امام کو رکوع میں پایا اور ظنِ غالب ہے کہ تین زائد تکبیرات کہنے سے امام رکوع سے سر اٹھا لے گا تو بغیر زائد
تکبیرات کہے رکوع میں شامل ہوجائے اور بغیر ہاتھ اٹھائے رکوع میں زائد تکبیرات کہہ لے. 
4- اگر رکوع میں زائد تکبیرات کہنے کے دوران امام نے رکوع سے سر اٹھا لیا تو اب یہ مقتدی بھی رکوع سے سر اٹھالے کیونکہ اب اس پر باقی تکبیرات کہنا معاف ہوگئیں.
5- اگر امام کے رکوع سے اٹھنے کے بعد شامل ہوا تو اب زائد تکبیرات نہیں کہے گا بلکہ جب اپنی فوت شدہ رکعت مکمل کرے گا، اس وقت تین زائد تکبیرات کہے گا. 
6- اگر دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کی تین زائد تکبیرات نہ کہے گا بلکہ جب پہلی رکعت پڑھے گا اس وقت کہے گا. 
7- اگر دوسری رکعت کی تین زائد تکبیرات امام کےساتھ پالے تو ٹھیک ہے ورنہ اس میں بھی وہی تفصیل ہے جو پہلی رکعت کی تین زائد تکبیرات میں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 64، 65، 66 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 782 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 8:*
اگر امام زائد تکبیرات بھول جائے تو کیا حکم ہے ؟
*جواب:*
اس مسئلے کی درج ذیل دو صورتیں ہیں :
1- اگر پہلی رکعت میں امام زائد تکبیرات بھول کر فاتحہ شریف پڑھنا شروع کر دے تو فاتحہ اور سورہ کے بعد تکبیرات کہہ لے یا رکوع میں کہہ لے اور دوبارہ فاتحہ و سورۃ نہ پڑھے.
2- اگر دوسری رکعت کی زائد تکبیرات بھول جائیں اور رکوع میں یاد آئیں تو واپس قیام کی طرف نہ لوٹے بلکہ رکوع میں ہی کہہ لے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 65 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 254 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 9:* 
اگر امام مکمل چھ (6) زائد تکبیرات بھول جائے یا چھ (6) میں سے کچھ بھول جائے یا بھول کر چھ (6) سے زیادہ کہہ لے یا غیرِمحل میں تکبیرات کہے تو کیا ان صورتوں میں سجدہ سھو واجب ہوگا ؟
*جواب:* 
ان تمام صورتوں میں سجدہ سھو واجب ہو جائے گا مگر جماعت کثیر ہو تو بوجہِ فتنہ سجدہ سھو نہ کرنا بہتر ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 128 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 675 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بحرالرائق جلد 2 صفحہ 170 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 10:*
اگر امام چھ (6) سے زائد تکبیرات کہے تو مقتدی کو کیا کرنا چاہیے ؟
*جواب:*
اگر امام بھول کر چھ (6) سے زائد تکبیرات کہے تو مقتدی بھی امام کی پیروی کرے لیکن اگر امام تیرہ (13) سے بھی زائد تکبیرات کہے تو پھر تیرہ (13) سے زائد میں مقتدی امام کی پیروی نہ کرے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 63 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارِ شریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 782 مکتبۃ المدینہ کراچی)*

*سوال 11:*  
گر امام چھ (6) زائد تکبیرات میں کانوں تک ہاتھ نہ اٹھائے تو مقتدی کو کیا کرناچاہیے ؟
*جواب:*
ایسی صورت میں مقتدی امام کی پیروی نہ کرے بلکہ چھ (6) زائد تکبیرات میں ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 12:*
اگر کسی کی نمازِعید فوت ہو جائے تو کیا اس کی قضاء کرے گا ؟
*جواب:*
اگر کسی کی نمازِ عید فوت ہو جائے اور اس کو کسی دوسری جگہ نمازِعید مل سکتی ہو تو وہیں ادا کر لے ورنہ اس کی قضاء نہیں ہے البتہ اس کیلیے بہتر یہ ہے کہ 4 رکعت نمازِ چاشت پڑھ لے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 67 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 13:*
نمازِ عید کے بعد مصافحہ کرنا اور گلے ملنا کیسا ہے ؟
*جواب:*
نمازِ عید کے بعد مصافحہ کرنا (یعنی ہاتھ ملانا) اور گلے ملنا بہتر ہے جیسا کہ عموماً مسلمانوں میں رائج ہے کیونکہ اس میں خوشی کا اظہار ہے.
*(الحدیقۃ الندیہ جلد 2 صفحہ 150، مسوّی جلد 2 صفحہ 221، فتاوی رضویہ جلد 8 صفحہ 601 رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
*سوال 14:*
عید الاضحٰی کے دن کون کون سےکام کرنا مستحب ہیں ؟
*جواب:*
عید الاضحٰی کے دن درج ذیل کام کرنا مستحب ہیں :
1- حجامت بنوانا. 
2- ناخن ترشوانا.
3- غسل کرنا. 
4- مسواک کرنا. 
5- نئے یا پرانے دھلے ہوئے اچھے کپڑے پہننا.
6- خوشبو لگانا.
7- ساڑھے چار ماشے سے کم ایک نگ والی چاندی کی ایک ایسی انگوٹھی پہننا جو زنانہ طرز پر نہ بنائی گئی ہو.
8- نمازِفجر محلے کی مسجد میں پڑھنا. 
9- نمازِعید سے پہلے کچھ نہ کھانا. 
10- عیدگاہ میں نمازِعید ادا کرنا. 
11- عیدگاہ جلدی جانا.
12- عیدگاہ پیدل جانا (واپسی سواری پر آنے میں حرج نہیں).
14- عیدگاہ ایک راستے سے جانا اور دوسرے راستے سے واپس آنا. 
15- خوشی ظاہر کرنا. 
16- آپس میں مبارک باددینا.
17- کثرت سےصَدَقَہ دینا.
18- راستے میں بلند آواز سے تکبیرِ تشریق کہنا.
19- عیدگاہ کی طرف وقار و اطمینان اور نگاہوں کو نیچی رکھ کر جانا. 
20- عید کے بعد ہاتھ ملانا اور گلے ملنا. 
*(ملخصاً نماز کے احکام صفحہ 444، 445، 446 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 15:*
اگر کسی عذر کے سبب 10 ذی الحجہ کو عید کی نماز نہ ہوسکی تو کیا دوسرے روز (یعنی 11 ذی الحجہ کو) یا تیسرے روز (یعنی 12 ذی الحجہ کو) پڑھ سکتے ہیں ؟ 
*جواب:*
اگر کسی عذر کے سبب 10 ذی الحجہ (یعنی عید کے پہلے دن) کو عید کی نماز نہ ہوسکی مثلاً سخت بارش ہوئی تو دوسرے روز عید الاضحٰی کی نماز ادا کی جائے گی اور اگر دوسرے روز بھی کسی عذر کے سبب عید کی نماز نہ ہوسکی تو تیسرے روز ادا کی جائے گی اور دوسرے یا تیسرے دن نمازِ عید کا وہی وقت ہوگا جو پہلے دن تھا.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 151 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 67 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*
*سوال 16:*
کیا ایک عید گاہ میں دو مرتبہ عید کی نماز ادا کی جا سکتی ہے ؟
*جواب:*
جی ہاں! ایک عیدگاہ میں دو مرتبہ عید کی نماز ادا کی جا سکتی ہے جبکہ دو اماموں نے پڑھائی ہو اور دونوں کو نمازِ عید قائم کرنے کی اجازت بھی دی گئی ہو. 
*(فتاویٰ رضویہ جلد صفحہ 576 رضا فاؤنڈیشن لاہور، فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 250 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 17:*
کیا نمازِ عید ادا کرنے کے بعد خطبہ سننے سے پہلے گھر جانا جائز ہے ؟
*جواب:*
نماز عید کے بعد خطبہ سننا واجب ہے، لہذا نمازِ عید کے بعد خطبہ سنے بغیر گھر نہیں جا سکتے، جو خطبہ سنے بغیر گھر چلے جائیں گے، وہ خطبہ نہ سننے کی وجہ سے گنہگار ہوں گے.
*(فتاوی فقیہ ملت جلد 1 صفحہ 249 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 18:*
عید کی نماز کے بعد والی دعا کب مانگنی چاہیے (خطبے سے پہلے یا خطبہ کے بعد) ؟ 
*جواب:*
عید کی نماز کے بعد دعا مانگنا مستحب و مستحسن اور مسنون ہے، چاہے خطبے سے پہلے مانگیں یا خطبے کے بعد مانگیں دونوں صورتوں میں جائز ہے لیکن خطبے کے بعد دعا مانگنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ اگر خطبے سے پہلے دعا مانگی جائے تو کئی لوگ خطبہ سنے بغیر، دعا ہوتے ہی چلے جائیں گے.
اور اگر خطبہ اور نماز دونوں کے بعد مانگیں تو زیادہ مناسب ہے کیونکہ دعا خطبہ کے بعد مسنون ہے یا نماز عید کے فوراً بعد مسنون ہے، اس کی تصریح نہیں ہے تو دونوں کے بعد دعا مانگنے سے یقینی طور پر سنت ادا ہوجائے گی اور مکرر (یعنی ڈبل) کا ثواب بھی مل جائے گا۔
*(فتاوی مصطفویہ صفحہ 173 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 19:*
عید کی نماز سے پہلے یا بعد میں نوافل پڑھنا کیسا ہے؟
*جواب:* 
عید کی نماز سے پہلے نوافل پڑھنا مطلقاً مکروہ ہے، عیدگاہ میں پڑھے جائیں یا گھر میں، اُس پر عید کی نماز واجب ہو یا نہ ہو، یہاں تک کہ اگر عورت چاشت کی نماز گھر میں پڑھنا چاہے تو نمازِ عید ہو جانے کے بعد پڑھے اور نمازِ عید کے بعد عیدگاہ میں نوافل پڑھنا مکروہ ہے، گھر میں پڑھ سکتے ہیں بلکہ عید کی نماز کے بعد گھر میں چار رکعتیں پڑھنا مستحب ہیں یہ احکام خواص کے لیے ہیں، جبکہ عوام الناس کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ نوافل پڑھیں اگرچہ نماز عید سے پہلے، اگرچہ عید گاہ میں، تو انہیں منع نہ کیا جائے.
*(ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 3 صفحہ 57، 58، 59، 60 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، بہارِشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 20:*
نمازِ عید کی دوسری رکعت میں رکوع میں جانے کے لیے اللہ اکبر کہنا سنت ہے یا واجب ؟
*جواب:*
نماز عید کی دوسری رکعت میں رکوع میں جانے کے لیے لفظِ *"اللہ اکبر"* کہنا واجب ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 71 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ، ردالمحتار علی الدرالمختار جلد 2 صفحہ 181 مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)*

*سوال 21:*
کیا عورتوں پر عید کی نماز واجب ہے ؟
*جواب:*
عورتوں پر عید کی نماز واجب نہیں ہے.
*(فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 424 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 22:*
کیا کوئی عورت، دیگر عورتوں کو عید الاضحٰی کی نماز پڑھا سکتی ہے ؟ 
*جواب:*
عورت دیگر عورتوں کو عید الاضحٰی کی نماز نہیں پڑھا سکتی کیونکہ عورت کی جماعت مکروہِ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے.
*(ماخوذ از فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 426 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 23:*
کیا عورتیں علیحدہ علیحدہ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کر سکتیں ہیں ؟ 
*جواب:*
عورتیں علیحدہ علیحدہ بھی عیدالاضحیٰ کی نماز ادا نہیں کر سکتیں، اگر علیحدہ علیحدہ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کریں گی تو گناہگار ہوں گی کیونکہ عیدالاضحیٰ کی نماز کے لیے جماعت شرط ہے. 
*(فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 426 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 24:*
کیا عورتیں عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے جا سکتیں ہیں ؟ 
*جواب:*
عورتیں عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے نہیں جاسکتیں کیونکہ وہاں پر مردوں کے ساتھ ان کا اختلاط (ملاپ) ہوگا جو کہ جائز نہیں ہے۔
*(فتاویٰ فیض الرسول جلد 1 صفحہ 426 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 25:*
کیا کوئی ایسی صورت ہے کہ جس میں عورتوں کے لئے مسجد یا عید گاہ میں عید کی نماز ادا کرنا جائز ہو؟ 
*جواب :*
جی ہاں! اگر عورتیں عید کی نماز ادا کرنے کے لئے درج ذیل شرائط کا لحاظ کرکے جائیں تو پھر ان کے لئے مسجد یا عیدگاہ میں ےف
جانا جائز ہوگا :
1- عیدگاہ میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا اِخْتِلاَط (ملاپ) نہ ہو. 
2- عورتوں کیلیے عید کی نماز کے لیے علیحدہ باپردہ جگہ موجود ہو. 
3- عورتوں کی جگہ پر غیر مردوں کا گزر نہ ہو.
4- عورتیں باپردہ ہو کر جائیں.
5- شادی شدہ عورتیں اپنے شوہر سے اجازت لیکر جائیں. 
6- کنواریں عورتیں اپنے والدین سے اجازت لیکر جائیں. 
7-عورتیں غیر مردوں پر اپنی زیب و زینت ظاہر نہ کریں. 
8- عورتوں پر کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو اور نہ عورتوں کی وجہ سے کسی اور پر فتنے کا اندیشہ ہو. 
9- ایسی خوشبو لگا کر نہ جائیں جو غیر مردوں تک پہنچے.
*ٹوٹ :* 
چونکہ ان شرائط کا لحاظ رکھنا بہت مشکل ہے لہٰذا عافیت اسی میں ہے کہ عورتیں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرنے کے لیے نہ جائیں.
*سوال 26:*
کیا مریض اور مسافر پر عیدالاضحیٰ کی نماز واجب ہے ؟ 
*جواب:*
مریض اور مسافر پر عیدالاضحیٰ کی نماز واجب نہیں ہے.
*(فتاوی عالمگیری جلد 1 صفحہ 159، 165 دارالکتب العلمیہ بیروت، لبنان)*
*سوال 27:*
بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا کیسا ہے ؟ 
*جواب:*
بلاوجہ عید کی نماز چھوڑنا گمراہی اور بدعت ہے. 
*(الجوھرۃ النیرۃ صفحہ 119 باب المدینہ کراچی، بہارِشریعت حصہ 4 جلد 1 صفحہ 779 مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*سوال 28:*
کیا گرمی کی وجہ سے عیدالاضحیٰ کے خطبے کے دوران دستی پنکھے کا استعمال کیا جا سکتا ہے ؟ 
*جواب:*
گرمی کی وجہ سے عیدالاضحیٰ کے خطبے کے دوران دستی پنکھے کا استعمال کرنا منع ہے.
*(ماخوذ از فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 417 شبیر برادرز لاہور)*
*سوال 29:*
عیدالاضحیٰ کا خطبہ عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان مثلاً اردو وغیرہ میں پڑھنا کیسا ہے ؟ 
*جواب:*
عیدالاضحیٰ کا خطبہ عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان مثلاً اردو وغیرہ میں پڑھنا سنتِ متوارثہ کے خلاف، مکروہ اور بدعتِ سیئہ ہے.
*(ماخوذ از فتاوی فیض رسول جلد 1 صفحہ 410 شبیر برادرز لاہور، تحقیق الخطبہ صفحہ 9 کتب خانہ اعزازیہ دیوبند، فتاویٰ دارالعلوم دیوبند جلد اول و دوم صفحہ 294، 312 وغیرہ)*
*سوال 30:*
کیا عیدالاضحیٰ کی نماز لاؤڈ اسپیکر پر پڑھانا جائز ہے ؟  
*جواب:*
جی ہاں! عیدالاضحیٰ کی نماز لاؤڈ اسپیکر پر پڑھانا بلاکراہت جائز ہے کیونکہ نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت ہوتی ہے.
*(فتاوی نوریہ جلد 1 صفحہ 369 دارالعلوم حنفیہ فریدیہ بصیرپور ضلع اوکاڑہ، دارالافتاء اہلسنت)*
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ والہ وسلم 
کتبہ
*ابواسیدعبیدرضامدنی*
31/07/2020
03068209672

🔘المشتھر۔محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📞9773617995📞

Wednesday, July 29, 2020

اگر بیوی شوہر کےحقوق ادانہ کرےتو کیانان ونفقہ روکا جائےگا؟

*💎اگر بیوی شوہر کےحقوق ادانہ کرےتو کیانان ونفقہ روکا جائےگا؟💎*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 اگر بیوی شوہر کے حقوق ادا نہ کرے تو کیااسکانان ونفقہ روکا جاسکتاہے؟
سائل ۔۔۔۔۔ عبداللہ ، ممبئی؛
ا________(🍅)__________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
اگر حقوق ادا نہ کرنے سے مراد یہ ہےکہ شوہر کو جماع کرنے نہیں دیتی مگر رہتی ہے شوہر کے گھر میں ہی ، اور شوہر اگر چاہے تو جبرا جماع کرسکتاہے تو ایسی صورت میں بلاشبہ عورت نان ونفقہ کی مستحق ہوگی ، شوہر کیلئے جائز نہیں کہ ایسی صورت حال میں عورت کا نفقہ روکے
*(🖋️علامہ علاؤالدین حصکفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” لہا النفقۃ لو مرضت۔۔۔ وفی منزلہا بقیت ولنفسہا مامنعت۔۔۔ ، لانفقۃ لخارجۃ من بیتہ بغیر حق وھی الناشزہ حتی تعود ۔۔۔ قید بالخروج لانہا لو مامنعتہ من الوطئ لم تکن ناشزة “*
*{📘الدرالمختار ص٢٥٨ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(🖍️علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” قیدہ فی السراج بمنزل الزوج وبقدرتہ علی وطیہا کرھا “*
*{📗ردالمحتار ج٣ ص٥٧٦ ، ٥٧٧ ، دارالکتب العلمیۃ}*
*(✏️سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں)*
*” عورت اگر مکان شوہر میں نہ رہے نفقہ نہ پائےگی ، اوراگر یہاں رہے اور جماع پر راضی نہ ہو مگر شوہر چاہے توجماع کرسکے پھراگرچہ نہ کرے نفقہ پائےگی ۔۔۔۔ عورت اس کےیہاں رہناچاہے اور یہ اس سے زبردستی جماع پرقادر ہوگا تو نفقہ آئےگا “*
*{📗فتاوی رضویہ ج١٣ ص٤٧٩ ، رضا فاؤنڈیشن}*
*واللہ اعلم بالصواب؛*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ24/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
813

کیااعلی حضرت علیہ الرحمہ مجدد ومجتہد تھے؟

*🔇کیااعلی حضرت علیہ الرحمہ مجدد ومجتہد تھے؟🔇*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 السلام عليكم ورحمة الله وبركاته 
کیا فرماتے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے متعلق کہ 
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فقط مجدد تھے یا مجتہد بھی اور اگر مجتہد تھے تو مجتہد کے کس طبقات میں سے آپ ہیں
 زید کا کہنا ہے کہ آپ مجدد کے ساتھ مجتہد بھی تھے جبکہ بکر کا کہنا ہے کہ مجتہد نہیں تھے ناقل مفتی تھے اور ہیں 
 بکر کا قول ۔۔۔
سیدی اعلی حضرت ۔  کے " مجتھد " ہونے کے متعلق علمائے اہلسنت میں دو آرا سامنے آئی ہے : ( 1 ) بعض علماء کے نزدیک سیدی اعلی علیہ الرحمہ مجتھد فی التمیز / ترجیح تھے -- مثلا : حضور شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ , علامہ عبدالحکیم شاہجہاں پوری وغیرہ اسی موقف کے قائل تھے -- ( 2 ) بعض علماء کے نزدیک سیدی اعلی حضرت مجتھد کے 6 طبقات میں سے کسی میں بھی شمار نہیں ہوتے - اس موقف کے قائل دور حاضر کے بہت سے مفتیان کرام ہیں 
فتاوی شارح بخاری ۔مفتی شریف الحق امجدی 
جلد 3 رضویات کا بیان۔ 
جبکہ زید کا کہنا ہے کہ بہت سارے کبار علماء فقہ حنفی نے آپ کو مجتہد فی المسائل  مانا ہے جیسے فقہ حنفی کے جید عالم شیخ ابن کمال و علامہ شامی وغیرہ ۔اور زید نے جب فتاوی شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی جلد سوم رضویات کا مطالعہ کیا تو مذکورہ بالا جملہ کہیں نہ پا یا ۔برائے کرم مع دلائل ہمیں رہنمائی فرمائیں ۔
1 مجتہد تھے یا نہیں؟ 
2 اگر نہیں تو جن علماء نے کہا ہے ۔اس کا جواب کیا ہوگا ۔؟
3 اور  بکر کا وہ قول فتاوی شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی  میں ہے یا نہیں؟ 
اگر نہیں ہے 
تو بکر پر شرعی کونسا حکم لاگو ہوگا  جبکہ وہ یہ بات دوسروں کو بتا رہیں ہیں ۔کہ فتاوی شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی  میں ہے ۔
مجیب قادری لہان 18نیپال 12/6/2020
ا__________(💌)__________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
فتاوی شارح بخاری جلدسوم باب رضویات پر ہم نے بھی طائرانہ نظر ڈالی مگر بکر کا مذکورہ قول صراحۃ ہمیں نہیں ملا
البتہ یہ ضرور ملا کہ
*” اعلیحضرت قدس سرہ اپنے عہد کے تمام علماء سے علم وفضل میں فائق تھے ، یہی نہیں بلکہ بہت سے اجلہ علماء سےبھی برتر تھے ، چنانچہ ایک بارحضرت صدرالشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ امام ابن ہمام صاحب فتح القدیر کے بعد اعلیحضرت جیسا کوئی عالم پیدا نہیں ہوا “*
*{📕فتاوی شارح بخاری ج٣ ص٣٥٦ ، دائرةالبرکات}*
یہ کلام اس طرف مشیرکہ سرکاراعلیحضرت رضی اللہ عنہ درجہ اجتہاد پر فائزتھے اور اصحاب ترجیح میں سے تھے کیونکہ امام ابن ہمام رضی اللہ عنہ بھی لائق اجتہاد و اصحاب ترجیح میں سے ہیں
*(🖊️علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” وقدمنا غیرمرة ان الکمال من اھل الترجیح کماافادہ فی قضاءالبحر بل صرح بعض معاصریہ بانہ من اھل الاجتہاد “*
*{📘ردالمحتار ج٣ ص ٦٨٨ ، دارالکتب العلمیۃ}*
لیکن نظرانصاف کریں تو ظاہرہوگاکہ سرکاراعلیحضرت مجتہد فی المسائل میں سے تھے
*(🖊️علامہ شرف قادری علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” علامہ ابن کمال باشا نے فقہاء کےسات طبقات بیان کئےہیں جن میں سے تیسرا طبقہ مجتہدین فی المسائل کاہے یہ وہ فقہاء ہیں جو اصول وفروع میں اپنے امام کے پابند ہیں اور امام کے غیر منصوص احکام کا استنباط کرنےکی قدرت رکھتےہیں ، امام احمدرضا بریلوی کے فتاوی اور تحقیقات جلیلہ کا مطالعہ کرنےکےبعد یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہےکہ وہ مجتہدین کے اسی طبقے میں شامل ہیں “*

*{📘مقدمہ فتاوی رضویہ مترجم ج١ ص٢١، رضا فاؤنڈیشن}*
علامہ شرف قادری علیہ الرحمہ کی یہ بات نہ تو بےبنیاد ہے نہ محض مبالغہ آرائی بلکہ جوبھی فتاوی رضویہ کا مطالعہ کرےگا اس پر واضح ہوجائےگا ، کرنسی نوٹ کا مسئلہ ہو یا روسر کےشکر کا ، جنس زمین کے اقسام ہوں یا اقسام ماء وغیرہ، اس بات پر دلیل بین ہیں
*(🖍️سرکاراعلیحضرت خود ارشاد فرماتےہیں))*
*” بظاہر اس(جلداول قدیم) میں صرف ١١٤ فتوے اور ٢٨ رسالےہیں مگربحمداللہ تعالی ہزارہا مسائل پر مشتمل ہے جن میں صدہا وہ ہیں کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے “*
*{📕فتاوی رضویہ قدیم ج١ ص٨٥٠ ، رضااکیڈمی}*
سرکاراعلیحضرت کو مجتہد ماننا یا نہ ماننا نہ تو ضروریات دین میں سے ہے نہ ہی ضروریات اہلسنت میں سے ، لہذا اس پر کوئی حکم نہیں ، البتہ اس نے جس قول کی نسبت شارح بخاری علیہ الرحمہ کی طرف کی ہے اس پر دلیل پیش کرے ورنہ غلط نسبت پر توبہ کرے
ہاں ! اگر سرکاراعلیحضرت رضی اللہ عنہ سے حسد کی وجہ سے ایساہے تو حسد کرنا وہ بھی ایک ایسے مرجع عالم مقتدی سے جو اپنے وقت کا مجدد ہو حرام وگناہ ہی نہیں دین کی بربادی کاسبب بن سکتاہے ، اور اگر بربنائے وہابیت ہے تو وہابیت خود کفرہے
*{📗فتاوی شارح بخاری ج٣ ص٣٧٦ ، ٣٩٤ ملخصا}*
*واللہ اعلم بالصواب*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان

کاتبین وحی کتنے صحابہ کرام تھے؟

*❤️کاتبین وحی کتنے صحابہ کرام تھے؟❤️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ جامع القرآن سرکار عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو کہا گیا ہے تو کاتب القرآن کسے کہا گیا ہے اور کون تھے ؟ 
سائل محمد عارف, پیاگ پور بہرائچ شریف یوپی الہند؛
ا________(💌)__________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب* قرآن پاک کی آیتوں اوردوسری خاص خاص تحریروں کوحضورعلیہ الصلوة والسلام کےحکم کےمطابق لکھاکرتےتھے  ان معتمدکاتبوں میں مندرجہ ذیل صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھم کےاسماقابل ذکرہیں 
حضرت ابوبکرصدیق،حضرت عمرفاروق،حضرت عثمان غنی،حضرت مولی علی،حضرت طلحہ بن عبیداللہ،حضرت سعدبن ابی وقاص،حضرت زبیربن العوام ،حضرت عامربن فہیرہ،حضرت ثابت بن قیس،حضرت حنظلہ بن ربیع،حضرت زیدبن ثابت،حضرت ابی بن کعب،حضرت امیرمعاویہ،حضرت ابوسفیان،رضی اللہ تعالی عنھم
*(📗مدارج النبوہ،ج٢ص٥٢٩تاص٥٤٠،)*
*(📘سیرت مصطفی،ص٧٠٦،)*
*واللہ تعالی اعلم؛*
٢٤شوال المکرم ١٤٤١ھ
 ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛2م16/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
811

کسی کو روپے دیکر اس سے منافع حاصل کرنے کی جائز صورت کیاہے؟

*🔇کسی کو روپے دیکر اس سے منافع حاصل کرنے کی جائز صورت کیاہے؟🔇*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 کیافرماتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ
کسی کو روپےدیکر اس سے منافع حاصل کرنےکی جائز صورت کیاہوسکتی ہے !؟؟؟؟؟
سائل ۔۔۔۔۔ ابومحمد شمسی؛
ا_________(🔇)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
اس کی کئی صورتیں فقہائے کرام تحریر نے فرمائی ہیں ، تفصیل کفل الفقیہ الفاہم میں ہے
یہاں دو صورتیں جو آسان ہیں بیان کی جاتی ہیں
اول ۔۔۔۔ دینے والا بطور قرض نہ دے بلکہ لینے والے کے ہاتھ نوٹ بیچ دے ، مثلا لینے والا ایک ہزار روپے لیناچاہتاہے تو ایک ہزار کے نوٹ کو سال بھر یا چھ مہینے کیلئے بارہ سو روپے میں بیچ دے ، اسی طرح کوئی چیز بازار بھاؤ کے حساب سے سو روپے میں بکتی ہے تو یہ اسی چیز کو لینے والے کے ہاتھ مثلا بارہ سو روپے میں بیچ دے ، مگریہ خیال رہےکہ اگر سال بھر کاوعدہ ہے اور لینےوالا چھ مہینے کےاندر ہی روپیہ ادا کررہاہے تو وہ سال بھرکے حساب سے بارہ سو نہیں لے سکتا بلکہ چھ مہینے کے حساب سے گیارہ سو ہی لےسکتاہے اس سے زیادہ لینا حرام ہوگا
دوم ۔۔۔۔ ایک ہزار روپے قرض دے اور لینے والا دینے والے کےپاس اپنی کوئی چیز مثلا چاقو پلیٹ چمچہ وغیرہ امانت رکھے اور دینے والے سے کہےکہ میری اس چیز کی حفاظت کرو میں اس حفاظت پر ماہانہ مثلا پچاس روپے دوں گا ، لیکن شرط یہ ہے جس چیز کو بطور امانت رکھ رہاہے ماہانہ مقرر کردہ رقم سے قیمت میں زیادہ ہو
*{📕فتاوی رضویہ ج١٧ ص٣٨٤ ، ٣٨٥ ، رضا فاؤنڈیشن}*
ان صورتوں میں منافع بھی مل جائےگا اور سود کا تحقق بھی نہیں ہوگا
*واللہ اعلم بالصواب*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ15/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
810

سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرناکیسا؟🔇

*🔇سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرناکیسا؟🔇*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم 
سوال دو بہنیں ہیں انکی نکاح دو ایسے مردوں سے ہورہی ہے ایک باپ تو دوسرا اسکا سگا بیٹا ہے 
یہ نکاح جائز ہے کہ نہیں؟ 
رہنمائی فرمائیں 
سائل محمد حسین نعمانی؛
ا_______(🧫 )_________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب؛* ان دونوں میں سےہرایک کانکاح جاٸزہےجبکہ اورکوٸی وجہ حرمت نہ ہو
*(📕قرآن کریم میں ہے”)*
*واحل لکم ماورإٓذلکم“اوران کےسواجورہیں وہ تمہیں حلال ہیں،نسإٓ/٢٤)*
*(📗ایساہی فتاوی فیض الرسول ج١ص٥٧٧پرہے؛*
*واللہ تعالی اعلم*
٢٢شوال المکرم ١٤٤١ھ
 ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛2م15/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________

809

اللہ جی کہناکیسا؟

*🖊️اللہ جی کہناکیسا؟🖊️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia
    ﷽
السلام وعلیکم ورحمۃاللہ
میرا سوال یہ ہیں کہ اللہﷻکو اللہ جی کہنا , اللہ فرماتے ہیں  کہنا, یہ کیسا ہے مفتیان کرام کیا فرماتے؟ 
جواب عنایت فرمائیں-
سائلہ ۔۔۔۔ بنت عبداللہ ، ہبلی؛
ا________(🧫)__________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
(١)لغت میں لفظ ” جی “ کے مندرجہ ذیل معانی بیان کئے گئےہیں
*” ہاں ، بلے ، جناب ، صاحب ، حضرت ، درست ، بجا ، کسی کےنام کےبعد بطور تعظیم یا اظہار قربت ومحبت ، طنزا بیشک ایساہی ہے “*

*{📗جامع فیروزاللغات ص٥٠١ ، فیروزسنز لاہور}*
فلہذا جب اسم جلالت کےبعد جب لفظ ” جی “ لگایا جائے تو تعظیم کیلئے متعین ہوجائےگا ، اسلئے بظاہر ” اللہ جی “ کہنے میں کوئی حرج نہیں ۔
 واللہ اعلم
(٢)اللہ تعالی کیلئے ” فرماتےہیں “ کے استعمال کے متعلق شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ رقمطرازہیں

*” بہ نیت تعظیم درست ہے لیکن احتیاط اس میں ہےکہ بہ ہمہ وجوہ اس کی شان یکتائی ظاہر کرنےکیلئے واحد کا صیغہ استعمال کیاجائے ، یہی مسلمانوں میں رائج ہے ، مسلمانوں میں جو طریقہ رائج ہو اور اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو اس کے خلاف کرنا شورش پھیلاناہے ، اسلئے ” اللہ عزوجل فرماتےہیں “ کہنےسے احتراز چاہئے ، دیوبندی اکابر واحد کاصیغہ استعمال کرتےتھے ، اصاغرنے مسلمانوں میں شورش پھیلانےکیلئے جمع کاصیغہ استعمال کرنا شروع کردیاہے ، اہلسنت کواس سے احتراز چاہئے “*
*{📕فتاوی شارح بخاری ج١ ص١٣٤ ، دائرةالبرکات}*
*واللہ اعلم بالصواب*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ15/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
808

آزاد مدخولہ غیر حاملہ حائضہ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض یے؛

*🖌️آزاد مدخولہ غیر حاملہ حائضہ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض یے؛🖌️*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia


 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سوال۔زید جو شرابی ہے اس  نے اپنی بیوی ہندہ کو تین  طلاق دی تھی ہندہ کے عدت گزارنے کے بعد زید کے بھائی بکر سے حلالہ کے طور پر  ہندہ کا نکاح کردیا اور بکر نےہندہ کو تین طلاق دے دی اور ہندہ عدت گزارنے لگی کہ عدت پوری نہ ہوءی تھی اور صرف  دوحیض گزرے تھے کہ شوہر اول یعنی زید ہندہ کو اپنے گھر لے گیا اور اس کے ساتھ رہنے لگا اور عدت کا وقت گزرنے  بعد بھی زید نے ہندہ سے نکاح نہیں کیا اور بغیر نکاح کے ابھی تک اپنے ساتھ رکھے ہیں ایسی صورت میں زید پر شریعت کا کیا حکم ہے اور زید  کا نکاح ہندہ سے پڑھا سکتے ہیں یا نہیں۔ المستفتی ۔ محمد جاوید رضا ایم پی
ا_________(🔘)___________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ؛*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
 آزاد مدخولہ غیرحاملہ حائضہ مطلقہ عورت کی عدت تین حیض ہے
*قال اللہ تعالی*
*” والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلث قروء “*
*{📕البقرة ٢٢٨}*
کہ طلاق والیاں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں “
*(🖌️امام مرغینانی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
*” اذا طلق الرجل امراتہ طلاقا بائنا او رجعیا او وقعت الفرقۃ بینہما بغیر طلاق وھی حرة ممن تحیض فعدتہا ثلثۃ اقراء لقولہ تعالی : والمطلقت یتربصن بانفسہن ثلثۃ قروء “*
*{✏️ھدایۃ ج٣ ص٣٣٠ ، ادارةالقرآن کراچی}*
*(🖍️سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں)*
*” اور مطلقہ اگر حیض والی ہے تو بعد طلاق تین حیض شروع ہوکر ختم ہوجائیں “*
*{✒️فتاوی رضویہ ج١٣ ص٢٩٥ ، رضافاؤنڈیشن}*
برصدق مستفتی جب شوہرثانی سے طلاق کےبعد ابھی صرف دو ہی حیض گزرےہیں تو عورت یقینی طور پر عدت ہی میں ہے ، اور عدت میں تو نکاح بھی حرام قطعی ہے
*(🖋️سرکاراعلیحضرت فرماتےہیں)*
*” عدت کےاندر نکاح حرام قطعی ہے “*
*{📙ایضا ص٣١٩}*
چہ جائیکہ عدت کےاندر عورت کو بلانکاح رکھ لینا ، والعیاذ باللہ تعالی ، زید وہندہ پر فرض ہے فورا ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اورسچی توبہ کریں بصورت دیگر مسلمان ان کا معاشرتی بائیکاٹ کردیں
*(🖊️بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی علیہ الرحمہ فرماتےہیں)*
 *” ایسےشخص کا یہی حکم ہےکہ مسلمان اس کا معاشرتی بائیکاٹ کریں تاآنکہ وہ توبہ صادقہ نہ کرے “*
*{📙فتاوی بحرالعلوم ج٣ ص٤٢٨}*
*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ15/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
807

طلاق مغلظہ کے بعد بلاحلالہ شوہر اول نکاح نہیں کرسکتا؛

*🔇طلاق مغلظہ کے بعد بلاحلالہ شوہر اول نکاح نہیں کرسکتا؛🔇*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
 کیافرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل میں کہ زید نےاپنی بیوی سےکہاکہ میں نےتم کو جواب دیامیں نےتم کوجواب یہ الفاظ دومرتبہ کہا پھرتیسری چوتھی اورپانچوی  مرتبہ کہاکہ ایک دوتین میں نےتم کوجواب دیا یہ الفاظ تین مرتبہ کہا توبتایا جائےکہ کون سےطلاق واقع ہوئےاب دوبارہ دونوں میاں بیوی کس طریقےسےزندگی گزارینگے؛
المستفتی محمد اسرافیل
ا________(🧡)__________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ* 
*الجواب بتوفیق اللہ التواب* صورت متذکرہ میں زیدکی اہلیہ پرطلاق مغلظہ واقع ہوگٸی اب بلاحلالہ نکاح درست نہیں عدت گزارکرکسی درست عقیدہ والےسےنکاح کرےپھراس کی موت یاطلاق کےبعدعدت گزارکرزیدسےنکاح جاٸزہوگا
*(📗قرآن کریم میں ہے”)*
*فان طلقھافلاتحل لہ من بعدحتی تنکح زوجاغیرہ“بقرہ /٢٣٠،)*
*واللہ تعالی اعلم*
٢٠شوال المکرم ١٤٤١ھ
 ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛2م14/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
806

کیااسقاط حمل سے عدت پوری ہوجاتی جبکہ اعضاءبن گئے ہوں؟

*🎶کیااسقاط حمل سے عدت پوری ہوجاتی جبکہ اعضاءبن گئے ہوں؟🎶*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

ایک سوال جلدی حل کریں 
زید نے ہندہ کو مارا اس وقت وہ چار ماہ سے زائدحمل سے تھی پیٹ پہ چھوٹ لگنے کی وجہ سے بچہ نقصان ہوگیا مارتے وقت زیدنے تین طلاق بھی دیا  اوو بچہ کی صفائی بھی ہوگئی تو اب عورت عدت کتنے دن گزارے گی؟
ا________(🍅)___________
*الجواب بتوفیق اللہ التواب؛*
 ایک سوبیس دن یعنی چارماہ پراعضابن چکےہوتےہیں لہذاصورت مسٶلہ میں اسقاط حمل سےعدت پوری ہوچکی ہےاب حلالہ کےلیےنکاح کرنادرست ہوگا
*(📘جوھرہ نیرہ میں ہے”)*
*وان اسقطت سقطاان کان مستبین الخلق اوبعضہ انقضت بہ العدةوالافلا“ج ٢ص٩٦کتاب العدة)*
*(📙ایساہی بہارشریعت ح٨ص٢٣٨عدت کےبیان میں ہے)*
*واللہ تعالی اعلم*
٢٠شوال المکرم ١٤٤١ھ
 ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛2م14/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
805

ٹخنے کے نیچے کپڑا لٹکاکر پہنناکیسا؟

*💚ٹخنے کے نیچے کپڑا لٹکاکر پہنناکیسا؟💚*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 السلام علیکم ورحمۃاللہ
میرا سوال یہ ہے کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکا کر پہننے کا کیا حکم ہے ؟
سائلہ ۔۔۔۔۔ بنت جعفر ، ہبلی
ا_________(🍅)__________
*وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
مردوں کیلئے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا اگر براہ تکبر ہوتو حرام ہے اور ایسی صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہے ، ورنہ صرف مکروہ تنزیہی
*(📘فتاوی عالمگیری میں ہے)*
*” اسبال الرجل ازارہ اسفل من الکعبین ان لم یکن للخیلاء ففیہ کراھۃ تنزیہ کذا فی الغرائب “*
*{📙ج٥ ص٣٣٣ ، مطبوعۃ بولاق ، مصر}*
*(📗وھکذا فی المجلدالسابع من الفتاوی الرضویۃ الجدیدة ص٣٨٩ رضافاؤنڈیشن)*
اورعورتوں کیلئے ٹخنوں سے نیچے پہننا ہی مطلوب بلکہ فرض ہے ، کہ عورت کیلئے دونوں پاؤں کے ٹخنے بھی ستر میں داخل ہیں
*(📔ہندیہ میں ہے)*
*” واماالنساء فیرخین ازارھن اسفل من ازارالرجال لیستر ظہر قدمہن “*
*{📕المرجع السابق}*
*(📙سرکاراعلیحضرت محقق بریلوی رضی اللہ فرماتےہیں)*
*” اس تقدیر پر صرف پانچ ٹکڑے مستثنی ہوئے ، منہ کی ٹکلی ، دونوں ہتھیلیاں ، دونوں پشت پا ، ان کے سوا سارا بدن عورت ہے “*
*{📕فتاوی رضویہ قدیم ج٣ ص٦ ، الامام احمدرضااکیدیمی}*
عورت کے اعضائے ستر شمار کرتےہوئے فرماتےہیں
*” دونوں پبڈلیاں یعنی زیر زانو سے ٹخنوں کے نیچے تک “*
*{📘المرجع السابق}*
*واللہ تعالی اعلم بالصواب؛*
 ا________(💚)__________
*کتبــــہ؛*
*محمد  شکیل  اختر  قادری برکاتی  شیخ الحدیث  بمدرسةالبنات  مسلک اعلی حضرت  قربان  شاہ  ولی  نگر صدر صوفہ ھبلی کرناٹک؛*
*مورخہ14/6/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7795812191)*
ا________(💚)_________
*🖌المشتــہر فضل کبیر🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیــل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(💚)___________
804

ماں؛ باپ؛ بیوی؛ بیٹا؛ بیٹی جے درمیان ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؛

*💚ماں؛ باپ؛ بیوی؛ بیٹا؛ بیٹی جے درمیان ترکہ کیسے تقسیم ہوگا؛💚*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
کیافرماتے ہیں مفتیان دین وملت درجہ ذیل کے مسئلے میں 
زید بعد از مرگ باپ روزن انصاری ۔ماں شبنم ۔بیوی ہندہ ۔ایک بیٹا خالد ۔اور ایک بیٹی لیلیٰ کو چھوڑا سوال یہ ہے کہ زید کے مال متروکہ سے کسکو کتنا حصہ ملیگا ؟قرآن وحدیث کی روشنی میں مع حوالہ مفصل جواب عنایت فرماں کر شکریہ کا موقع دیں 
المستفتی ۔محمد الیاس القادری
کولکاتا؛
ا________(💚)_________
وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم 
الجواب بتوفیق اللہ التواب برصدق ساٸل وانحصارورثہ فی المذکورین وبعدتقدیم ماتقدم زیدکی کل جاٸیدادکوبہتر(٧٢)حصوں میں تقسیم کرکےبارہ حصےاس کےوالدروزن انصاری کودیں اسی طرح بارہ حصےاس کی ماں شبنم کودیاجاٸے
*(📘قرآن کریم میں ہے)*
*ولابویہ لکل واحدمنھماالسدس مماترک ان کان لہ ولد“نسإٓ/١١)*

اورنوحصےزیدکی زوجہ ھندہ کوسپردکریں قرآن مجیدمیں ہے”فان کان لہ ولدفلھن الثمن مماترکتم “نسإٓ/١٢
اوربیٹاخالدکوچھبیس حصےدیاجاٸےاوربیٹی لیلی کےلیےتیرہ حصےہونگے
للذکرمثل حظ الانثیین کےتحت یہی ان دونوں کےسہام ہیں 
زیدمیت مسٸلہ ٢٤×٣=٧٢ت
باپ۔۔۔١٢ماں۔۔۔١٢۔۔بیوی ٩۔۔۔بیٹا٢٦۔۔۔بیٹی١٣۔۔
*واللہ تعالی اعلم*
١٨شوال المکرم ١٤٤١ھ مطابق ١١جون ٢٠٢٠ٕ
[ ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*محمد عثمان غنی مصباحی خادم التدریس والافتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛2م12/6/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________
803