Wednesday, January 25, 2023

*مصلی اگرتیسری رکعت میں الحمدکےبعدبسم اللہ پڑھےتوکیاحکم ہے*

*مصلی اگرتیسری رکعت میں الحمدکےبعدبسم اللہ پڑھےتوکیاحکم ہے*

👏سوال: فرض کی چار رکعت والی نماز میں تیسری رکعت میں الحمد کے بعد ﷽ پڑھ لی تو سجدہ سہو کرناپڑے گا ؟؟؟

👏سائل : *طارق انجم* اسلامپورہ مالیگاؤں 

 *الجواب اللھم ھدایۃ الحق والصواب* 
✍️ مصلی اگرمنفردہےتوکچھ مضائقہ نہیں۔۔۔یہاں تک کہ اگروہ سورہ فاتحہ کےبعدکوئی سورت پڑھتاتوکچھ مضائقہ نہ تھابلکہ بعض ائمہ کےنزدیک مستحب ہے،فتاوی رضویہ میں ہے:

"بلکہ اگر قصداً بھی فرض کی پچھلی رکعتوں میں سورت ملائی تو کچھ مضائقہ نہیں صرف خلاف اولٰی ہے، بلکہ بعض ائمہ نے اس کے مستحب ہونے کی تصریح فرمائی۔
فقیر کے نزدیک ظاہراً یہ استحباب تنہا پڑھنے والے کے حق میں ہے۔۔۔۔ امام کے لئے ضرور مکروہ ہے بلکہ مقتدیوں پر گراں گذرےتو حرام.. 

📚درمختار میں ہے:
ضم سورۃ فی الاولیین من الفرض وھل یکرہ فی الاخر یین المختارلا۱؎۔ملخصاً.... فرض کی پہلی دو رکعات میں سورت کا ملانا، کیا آخری دو رکعتوں میں سورۃ ملانا مکروہ ہے؟؟ مختار قول کے مطابق مکروہ نہیں ۔ 

ملخصاً (ت)📚 (۱؎ درمختار    باب صضۃ الصلوٰۃ مطبوعہ مطبع مجتبائی دہلی ۱۷۱)📚

📚ردالمحتار میں ہے؛
ای لایکرہ تحریما بل تنزیھا لا نہ خلاف السنۃ قال فی المنیۃ وشرحھا فان ضم السورۃ الی الفاتحۃ ساھیا یجب علیہ سجدتا السھو فی قولک ابی یوسف لتاخیر الرکوع عن محلہ وفی اظھر الروایات لایجب لان القرأۃفیھا مشروعۃ من غیر تقدیر والاقتصار علی الفاتحۃ مسنو ن لا واجب اھ 

✍یعنی مکروہ تحریمی نہیں بلکہ تنزیہی ہے کیونکہ  سنت ہے۔ منیہ اوراس کی شرح میں ہے اگر بھول کر فاتحہ کے ساتھ سورۃ ملائی تو امام ابویوسف کے قول کے مطابق اس پر سجدہ سہو ہوگا کیونکہ رکوع اپنے مقام سے مؤخر ہوگیا ہے۔۔۔۔۔۔ اوراظہر روایات کے مطابق اس پر سجدہ سہو لازم نہیں کیونکہ ان آخری رکعتوں میں بغیر مقرر کرنے کے قرأت مشروع ہے اور فاتحہ پر اکتفا سنت ہے واجب نہیں اھ "(34/8)
انتہی کلامہ

*لہذامنفردنےجب "بسم اللہ۔۔۔" پڑھی توکوئی مضائقہ نہیں،نمازہوگئی اورسجدہ سہوکی ضرورت نہیں خواہ قصداپڑھےیاسہوا۔*
اب جب مصلی(منفرد) بسم اللہ اورسورت دونوں پڑھےتوجائزہے،جیساکہ اوپرمعلوم ہوا۔اور اس وقت بسم اللہ سورت کےتابع ہوگا،چناں چہ 📚بہار شریعت میں ہے:

"الحمدوسورت کےدرمیان کسی اجنبی کافاصل نہ ہونا،آمین تابع الحمدہےاوربسم اللہ تابع سورت ،یہ اجنبی نہیں۔" (518/1) 

✍️اوراگرصرف بسم اللہ پڑھاتوچونکہ بسم اللہ کلام اللہ کاجزہے؛فلہذااس نےکلام اللہ پڑھا(جس کاجوازاوپربیان ہوا)نہ کہ کوئی کلام ناس کہ نمازمیں فساد آئے۔لہذانمازنہ فاسدہوئی اورنہ سجدہ سہوکی ضرورت۔

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالی علیہ وسلم

*محمدرضا مرکزی*
خادم التدریس والافتا
*الجامعۃ القادریہ نجم العلوم* مالیگاؤں


Sunday, January 22, 2023

*📑خلع کسے کہتے ہیں نیز عدت کتنے دن کی ہوتی ہے📑*

*📑خلع کسے کہتے ہیں نیز عدت کتنے دن کی ہوتی ہے📑*

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں "کہ
خلع کسے کہتے ہیں اور خلع ہونے کے بعد عورت عدت کتنے دن گزارے گی 
بالتفصیل جواب عنایت فرمائیں
سائل عطاء الرحمٰن قادری کلہوارہ شریف تیگھرا برونی بیگوسرائے بہار  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
*الجواب بعون الملک الوھاب* 
مال کے عوض میں عورت کو نکاح سے جدا کرنے کو خلع کہتے ہیں اور خلع کرنے کے بعد عورت اگر حیض والی ہے تو اس پر عدت تین حیض ہے اور اگر حمل والی ہو تو اس کی عدت وضعِ حمل (بچہ جن دینا) ہے اور اگر نابالغہ یا آئسہ(حیض آنے سے مایوسی کی عمر والی) ہے تو ان کی عدت تین ماہ مکمل ہے! اگر چاند کی پہلی تاریخ سے عدت کا آغاز ہو ورنہ درمیانِ ماہ سے شروع ہو تو پورے 90 دن عدت کے ہوں گے!

جیسا کہ سیدی اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ " خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضائے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے " تنہا زوجہ کیلئے نہیں ہو سکتا " اھ 

(فتاویٰ رضویہ شریف ج 13 ص 264 رضا فاؤنڈیشن )

 اور حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ والرضوان تحریر فرماتے ہیں کہ "مال کے بدلے نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں عورت کا قبول کرنا شرط ہے بغیر اسکے قبول کئے خلع نہیں ہوسکتا اور اسکے الفاظ معین ہیں ان کے علاوہ اور لفظوں سے نہیں ہوگا "اھ 

(بہار شریعت ج 2 ح 8 خلع کا بیان ص 194  مسئلہ 1 مکتبہ دعوت اسلامی )
 
جیسا کہ  مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ " عدت کی تین قسم ہے " وفات کی عدت چار ماہ دس دن ہے  طلاق وغیرہ کی عدت حاملہ کے لئے حمل جن دینا " غیر حاملہ بالغہ کے لئے تین حیض" اور غیر حاملہ نابالغہ اور بہت بوڑھی کے لئے تین ماہ, طلاق کے علاوہ فسخ نکاح میں بھی عدت واجب ہے خواہ فسخ خاوند کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے عدت بہر حال ہوگی "اھ 

(مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح ج 5 ص 164 مکتبہ نعیمی کتب خانہ گجرات)
واللہ اعلم بالصواب 

*(کتبہ)*
محمد ریحان رضا رضوی 
فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج 
ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487

جمادی الاٰخر 29/6/1444"ہجری 
جنوری 22/1/ 2023 عیسوی
بروز اتوار 

✅الجواب صحیح
حضرت علامہ مفتی سید محمد شمس الحق برکاتی مصباحی صاحب قبلہ قاضئ شہر گوا

✅الجواب صحیح
 صاحب فتاویٰ شرف ملت حضرت علامہ مفتی محمد شرف الدین رضوی صاحب قبلہ کلکتہ بنگال

Friday, January 20, 2023

*📝دیوبندی وہابی کی مسجد میں نماز پڑھنا کیسا📝*

*📝دیوبندی وہابی کی مسجد میں نماز پڑھنا کیسا📝*

*الســـــــــلام علیــــــــکم ورحمة الله وبرکاتہ*..     *کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان عظام کہ وہابیوں کی مسجد میں بغیر جماعت کے نماز پڑھنا کیسا ہے یعنی اکیلا جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی*"""".              *سائل*: *محمد عرفان خان مشاہدی*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
*الجواب بعون الملک الوہاب*
تنہا(اکیلا) نماز پڑھ سکتے ہیں مگر مسجد کا ثواب نہیں ملے گا کیوں کہ ان کی مسجد " مسجد نہیں ہوتی عام گھر کی طرح

وہابی دیوبندی قادیانی رافضی کی بنائ ہوئ مسجد شرعاً مسجد نہیں  وہ عام جگہوں کے حکم میں ہے اس میں تنہا نماز پڑھ سکتے ہیں  البتہ اس میں نماز پڑھنے سے مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب نہیں ملے گا

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے انما یعمر مسجد اللہ من اٰمن باللہ والیوم الاٰخر" یعنی مسجد وہی بناتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے ہیں "اھ( پارہ 10 سورہ توبہ آیت نمبر 18 )

جیسا کہ حضور  صدرالشریعہ بدرالطریقہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں " وہ گمراہ فرقے جن کی گمراہی حد کفر تک پہنچ چکی ہو جیسے قادیانی وہابی روافض ان کی بنائ ہوئ مسجد :مسجد نہیں "اھ 
(فتاویٰ امجدیہ ج 1 ص 256 احکام مسجد کا بیان )
(فتاویٰ فقیہ ملت ج 1 ص 147 امامت کا بیان )
واللہ اعلم بالصواب 

*(کتبہ)*
محمد ریحان رضا رضوی 
فرحاباڑی ٹیڑھاگاچھ وایہ بہادر گنج 
ضلع کشن گنج بہار انڈیا موبائل نمبر 6287118487

 جنوری /20/ 1/ 2023 عیسوی
جمادی الاٰخر/27/ 6/ 1444 ہجری
بروز جمعہ 

✅الجواب صحیح 
حضرت مفتی محمد اسماعیل خان امجدی صاحب قبلہ گونڈہ یوپی

Friday, January 13, 2023

💐نماز ہوٸ ہی نہیں تو اعادہ فرض ہے💐

💐نماز ہوٸ ہی نہیں تو اعادہ فرض ہے💐


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام و مفتیان عظام اس مسٸلہ ذیل میں کہ
امام کی نیت چار فرضوں کی تھی پہلی دورکعات ختم کرچکے تھے بیچ میں التحیات بھول گۓ اور اللہ اکبر کہ کر کھڑا ہوگیا بعد کو مقتدی نے بتایا وہ بیٹھ گۓ التحیات پڑھی اور آخر میں سجدہ سہوکیا۔آیا مقتدی کی۔امام کی نماز ہوٸ یانہیں
حوالے کے ساتھ جواب عنایت فرماٸیں
🔍المستفتی:محمد اکرم رضا رضوی
=============================
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
الجواب بعون الملک الوہاب
✍🏻اگر امام ابھی پوراسیدھا کھڑا نہ ہونے پایا تھا کہ مقتدی نے بتایا اور وہ (یعنی امام )بیٹھ گیا تو سب کی نماز ہوگٸ اور سجدہ سہو کی حاجت نہ تھی اور اگر امام پورا کھڑا ہوگیا تھا اس کے  بعد مقتدی نے بتایا تو مقتدی کی نماز اسی وقت جاتی رہی اور جب اس کے کہنے سے امام لوٹا تو اس کی بھی گٸ اور سب کی گٸ اور اگر مقتدی نے اس وقت بتایا تھا کہ امام ابھی پورا سیدھا نہ کھڑا ہواتھا کہ اتنے میں پورا سیدھا ہوگیا اس کے بعد لوٹا تو مذھب اصح میں نماز ہوتو سب کی گٸ مگر مخالفت حکم کے سبب مکروہ ہوٸ کہ سیدھا کھڑا ہونے کے بعدقعدہ اولی کیلۓ  لوٹنا جاٸز نہیں۔نماز کا اعادہ کریں خصوصا ایک مذھب قوی پر نماز ہوٸ ہی نہیں تو اعادہ فرض ہے۔

(واللہ تعالی اعلم بالصواب)

📚لقمہ کے مساٸل ص 28 )(بحوالہ فتاوی رضویہ ج 8 ص 214 رضا فاٶنڈیشن لاھور.کذا فی الھندیہ بقولہ۔ولایسبغ اذاقام الی اخریین ج1 ص99 مکتبہ حقانیہ پشاور )


(کتبہ)
محمد عمران علی نعمانی رضوی
ماگورجان۔تھانہ گوالپوکھر۔ضلع اتردیناجپور ویسٹ بنگال انڈیا
موباٸل نمبر 9773617995

Saturday, January 7, 2023

زید نے مکان مالک کو ہائی ڈپازٹ دے کے مکان لے لیا ۔ پھر زید نے بکر کو کرایے پہ مکان دے دیا اور بکر سے کرایہ خود لے رہا ہے

*🕯 « احــکامِ شــریعت » 🕯*
-----------------------------------------------------------
*📚ہائی ڈپازٹ پر لئے ہوئے مکان کا شرعی حکم کیا ہے؟📚*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

*السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ*
*زید نے مکان مالک کو ہائی ڈپازٹ دے کے مکان لے لیا ۔ پھر زید نے بکر کو کرایے پہ مکان دے دیا اور بکر سے کرایہ خود لے رہا ہے . زید کے بارے میں قانون مصطفی میں سے کون سا قانون نافذ ہوگا .*
*مدلل و متحقق جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں . فقط والسلام*

*المستفتی: شیخ غلام معین الدین چشتی ضیائی* ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*وعلیکم السلام و رحمة اللہ و برکاتہ*
 *👇📝الـــجـــــوابـــــــــ👇: ہائی ڈپازٹ پر مکان یا دوکان لے کر دوسرے کو کرایہ پر دینے کے سلسلے میں فقہائے کرام نے چند شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے*
 *( 1 ) کرایہ کی جگہ دوسرے شخص کو کرایہ پر دینا ایسی صورت میں جائز ہے جبکہ کرایہ دار کی جانب سے مقرر کردہ کرایہ مالکِ جائداد کے مقررہ کرایہ کے برابر ہو یا اس سے کم ہو ۔*
 *( 2 ) اگر کرایہ دار اُس سے زائد کرایہ لیتا ہو تو اضافی کرایہ صدقہ کرنا از روئے شریعت واجب ہوگا ۔*
*( 3 ) اگر کرایہ دار کرایہ پر لئے گئے مکان یا دکان وغیرہ کی مرمت کرواتا ہے یا کھلی زمین پر باؤنڈری ڈلواتا ہے یا دروازے لگواتا ہے یا کوئی اور مستقل کام کرواتا ہے تو اُسے زائد کرایہ لینے کا اختیار حاصل ہے ، نیز مالکِ جائداد کو جو کرنسی دیتا ہے اُس کے علاوہ دوسری کرنسی بطور زائد کرایہ لیتا ہے تو شرعًا گنجائش ہے ۔*
 *( 4 ) ہاں ایسے کام کے لئے کرایہ پر نہیں دے سکتا جس سے عمارت کو نقصان پہنچتا ہو*

*🏷جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے "*
*و إذا استأجر داراً و قبضها ثم آجرها فإنه یجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل ، و إن آجرها بأکثر مما استأجرها فهی جائزۃ أیضا إلا إنه إن کانت الأجرۃ الثانیة من جنس الأجرۃ الأولی فإن الزیادۃ لا تطیب له و یتصدق بها ، وإن کانت من خلاف جنسها طابت له الزیادۃ و لو زاد فی الدار زیادۃ کما لو وتد فیها وتدا أو حفر فیها بئرا أو طینا أو أصلح أبوابها أو شیئا من حوائطها طابت له الزیادۃ ، وأما الکنس فإنه لا یکون زیادۃ و له أن یؤاجرها من شاء إلا الحداد و القصار و الطحان و ما أشبه ذلک مما یضر بالبناء و یوهنه هکذا فی السراج الوهاج " اھ*

*📕( فتاوی عالمگیری ، کتاب الاجارۃ ، الباب السابع فی اجارۃ المستاجر )*

*واللہ اعلم بالصواب* ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــــ◆

*✍شرف قلم: حضرت علامہ و مولانا کریم اللہ رضوی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی خادم التدریس دار العلوم مخدومیہ اوشیورہ برج جوگیشوری ممبئی۔*
  *📞+917666456313* ◆ــــــــــــــــــــ۩۞۩ـــــــــــــــــــ

Friday, December 9, 2022

ایک دیہات گاؤں میں جمعہ ہوتا ہے اور جمعہ نماز کے دو فرض کے بعد ظہر کی چار رکعت فرض نماز نہیں ادا کی جاتی ہے جماعت کے ساتھ۔ تو پھر مقتدیوں کے لئے کیا ضروری ہے کہ وہ ظہر کی چار رکعت فرض نماز پڑھیں یا پھر جمعہ کی چار رکعت سنت مؤکدہ ادا کریں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
سوال یہ ہے کہ ایک دیہات گاؤں میں جمعہ ہوتا ہے اور جمعہ نماز کے دو فرض کے بعد ظہر کی چار رکعت فرض نماز نہیں ادا کی جاتی ہے جماعت کے ساتھ۔ 
تو پھر مقتدیوں کے لئے کیا ضروری ہے کہ وہ ظہر کی چار رکعت فرض نماز پڑھیں یا پھر جمعہ کی چار رکعت سنت مؤکدہ ادا کریں تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں
 السائل> احمد حسین رضوی گھوسی 

 وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 
الجواب بعون الملک الوھاب 
 صورت مستفسرہ میں جواب یہ ہے کہ گاؤں میں جمعہ کی نماز درست نہیں ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں حضور فقیہ ملت تحریر فرماتے ہیں کہ؛ گاؤں میں جمعہ کی نماز درست نہیں لیکن عوام اگر پڑھتے ہوں تو انہیں منع نہ کیا جائے کہ وہ جس طرح بھی اللہ ورسول کا نام لیں غنیمت ہے
 ایسا ہی فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ نمبر {714} 
میں ہے گاؤں میں اگر جمعہ کے نام پر نماز پڑھی گئی تو اس سے ظہر کی نماز ساقط نہیں ہوگی لہٰذا گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز پڑھنا فرض ہے اور جماعت کے ساتھ پڑھنا واجب ہے اس کے لئے تکبیر بھی کہی جائے گی۔حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ گاؤں میں جمعہ کے دن بھی ظہر کی نماز اذان و اقامت کے ساتھ پڑھیں 
(بہار شریعت حصہ چہارم صفحہ نمبر 102) 
 گاؤں میں بنام جمعہ دورکعت پڑھنے کے لئے چاہے فرض کی نیت کریں یا نفل کی بہرحال وہ نماز نفل ہی ہوگی چار رکعت سنت ظہر اور فرض نماز ظہر باجماعت کے درمیان دورکعت بنام جمعہ کے سبب وقفہ سے کوئی خرابی نہیں گاؤں میں اگرچہ جمعہ نہیں ہے صرف ظہر فرض ہے لیکن جس گاؤں میں جمعہ قائم ہے اسے بند نہ کیا جائے گا کہ عام طور پر لوگ جو پنج وقتہ نماز نہیں پڑھتے وہ جمعہ کے نام سے آٹھ دن پر مسجد میں حاضر ہوجاتے ہیں اور اللّٰہ ورسول کا نام لے لیتے ہیں 
{فتاوی فقیہ ملت جلد اول صفحہ نمبر 241} 
 الحاصل کلام یہی ھے کہ گاؤں میں جمعہ کی نماز جائز نہیں ہے، خلاصہ کلام یہ ھے کہ دو رکعت جمعہ کے بعد چار فرض، دو سنت، دو نفل ادا کریں اور واجب ھے کہ امام صاحب دو رکعت جمعہ کے بعد ظہر کی چار رکعت جماعت سے پڑھائیں
 واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ 

کتبہ؛ محمد الطاف حسین قادری 
خادم التدریس دارالعلوم غوث الورٰی ڈانگا لکھیم پور کھیری یوپی الھند 

منجانب؛ محفل غلامان مصطفیٰﷺ گروپ

Friday, November 4, 2022

الیکشن میں مسلمان سے روپیہ دیکر ووٹ خریدا جاتا ہے اور مسلمان بھی شوق سے روپیہ لیکر ووٹ دیتے ہیں واضح رہے لینے والا اور دینے والا دونوں سنی بریلوی ہیں دونوں پر کیا حکم نافذ ہوگا؟

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 
 کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ الیکشن میں مسلمان سے روپیہ دیکر ووٹ خریدا جاتا ہے اور مسلمان بھی شوق سے روپیہ لیکر ووٹ دیتے ہیں واضح رہے لینے والا اور دینے والا دونوں سنی بریلوی ہیں دونوں پر کیا حکم نافذ ہوگا؟ 
حوالہ کے ساتھ فتویٰ کی شکل میں جواب عنایت فرمائیں

 سائل محمد ساجد رضا انڈین ضلع بلرامپور

  جواب

الجواب بعون الملك الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

 وعليكم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ 
 الیکشن کے ایام میں امیدوار سے ووٹ کے عوض روپیہ پیسہ یا دیگر اشیاء لینا دینا رشوت ہے اور رشوت لینا، دینا دونوں سخت ناجاٸز و حرام ہے، کیونکہ شریعت مطہرہ میں رشوت وہ مال ہے جسے ایک شخص کسی حاکم وغیرہ کو اس لیے دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا اسے وہ ذمہ داری یا عہدہ دے دے جسے وہ چاہتا ہے

  قال العلامة إبن عابدین: الرشوۃ بالکسر ما یعطیه الشخص الحاکم وغیرہ لیحکم له أو یحمله علی ما یرید

(ردالمحتار جلد ٤ صفحہ ٣٣٧)

 اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں رشوت لینا مطلقا حرام ہے جو پرایا حق دبانے کے لئے دیا جائے رشوت ہے یوں ہی جو اپنا کام بنانے کے لئے حاکم کو دیا جائے رشوت ہے

 (فتاوی رضویہ جلد ۲۳ صفحہ ۵۹۷) 

 محقق مساٸل جدیدہ مفتی نظام الدین صاحب فرماتے ہیں کہ عام طور پر یہ جو امیدواروں سے لین دین ہوتی ہے یہ لین دین رشوت کی لین دین ہوتی ہے جو حرام و گناہ ہے

 (سوالات جوابات صفحہ١٧٠) 

 البتہ الیکشن جیت جانے کے بعد امیدوار بطور خود نیاز مندانہ طور پر کچھ دے تو اس کا لینا دینا جاٸز و درست ہے

  واللہ ورسولہ اعلم بالصواب 

فقیر محمد عمران خان قادری غفر لہ

نہروسہ ،پیلی بھیت یوپی انڈیا

 ٢٨/رجب المرجب ١٤٤٢ھ

Sunday, September 4, 2022

ساتذہ (ٹیچر ڈے) منانا کیسا ہے

‎یوم اساتذہ (ٹیچر ڈے) منانا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: یوم اساتذہ منانا کیسا ہے۔قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں مہربانی ہوگی ۔

المستفتی: محمد انتخاب عالم سراجی اتر دیناج پور بنگال۔



وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب حامداومصلیاومسلما:

 یوم اساتذہ منانا جائز ہے۔

فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ العزیز ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ: یوم اساتذہ منانا جائز ہے خواہ وہ کسی بھی تاریخ میں ہو کہ اس میں اساتذہ کی تعظیم اور ان کے شکر و احسان کی بجا آوری ہے اور اپنے استاد کی تعظیم جس طرح بھی کی جائے درست اور جائز ہے 

اعلی حضرت  امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ  ربہ القوی تحریر فرماتے ہیں کہ: استاد علم دین کا مرتبہ ماں باپ سے زیادہ ہے وہ مربی بدن ہیں یہ مربی روح جو نسبت روح کو بدن سے ہے وہی نسبت استاد سے ماں باپ کو ہے "کما نص علیہ العلامتہ الشر نبلالی فی غنیتہ ذوی الاحکام و قل فیہ ذا ابو الروح لا ابو النطف" 

(فتاویٰ رضویہ  جلد نہم،نصف آخر صفحہ  ١٤١)

لیکن نابالغ بچے اپنا روپیہ چندہ میں نہیں دے سکتے البتہ گھر والے جو چندہ دے اسے پہنچا سکتے ہیں 

جیسا کہ درالمختار مع شامی جلد ٥، ص ٦٨٧ پر ہے کہ: "لا تصح ھبتہ الصغیرۃ اھ" 

(بحوالہ فتاوی فقیہ ملت، ج ٢،ص ٢٨٠/٢٨١،شبیربرادرز)



تنبیہ: بالغ بچیاں تحفہ وتحاٸف وغیرہ اساتذہ کو پیش نہ کریں کیونکہ دورحاضر میں فتنہ میں پڑنے کا بسیار اندیشہ ہے۔

اور مزید یہ کہ یوم اساتذہ منانے میں اس بات کا بھی خاص خیال رکھے کہ  شریعت مطہرہ کے خلاف کوٸی فعل صادر نہ ہو ورنہ فعل قبیح پرگناہ وعتاب وعذاب  ہوگا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب۔



کتبہ: ابو کوثر محمد ارمان علی قادری جامعی

 ،سیتامڑھی۔۔

٢٦/محرم الحرام ١٤٤٣ھ۔

٥/ستمبر٢٠٢١ ٕ  ۔

بروز اتوار۔

Thursday, September 1, 2022

فون پر طلاق دینے سے طلاق پڑ جاتی ہے/ثبوت طلاق کی صورتیں/طلاق دیکر انکار کرنے کا حکم

فون پر طلاق دینے سے طلاق پڑ جاتی ہے/ثبوت طلاق کی صورتیں/طلاق دیکر انکار کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید نے ہندہ کو فون پر تین طلاق دیا اسکی خبر زید کے باپ کو بھی ہے اس کے بعد ہندہ اپنے میکے چلی آئی  اس کے بعد زید اپنی بیوی ہندہ کو لینے کیلئے آیا تو زید کی ساس نے پوچھا کیا یہ بات صحیح ہے کہ تم طلاق دے دئے ہو تو اس نے اس بات کا اقرار کیا کہ یہ بات صحیح ہے جس وقت اقرار کیا تھا اس وقت ایک مرد اور ایک عورت موجود تھی لیکن اب زید اور اس کا باپ صاف انکار کر رہا ہے ایسی صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں قرآن و حدیث کی روشنی میں حکم شرع بیان فرمائیں کرم ہوگا۔ 

الجواب۔ زید کے والد کے علم سے طلاق ثابت نہیں ہو سکتی اسی طرح ایک مرد اور ایک عورت کی گواہی سے بھی کیونکہ ثبوت طلاق کیلئے شوہر کا اقرار یا دو مرد یا ایک مرد اور دو عادل ثقہ عورتوں کی گواہی ضروری ہے۔
قال الله تعالی فی کتابه الکریم: وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ۔ لہذا اگر شوہر اقرار کر لے تو شرعا طلاق واقع ہو جائے گی کہ اس کا اقرار کرنا ہی طلاق ہے لیکن شوہر اقرار نہ کرے اور عورت دعوی پیش کرے تو شوہر کو سمجھایا جائے کہ واقعی اگر طلاق دی ہے تو پھر بہت گناہ ہوگا اور زندگی بھر زنا کا ارتکاب ہوگا اگر پھر بھی نہ مانے تو کسی ولی الله کے مزار پر لے جاکر اس طرح قسم کھلوائیں کہ بخدا میں نے اپنی بیوی کو طلاق نہیں دی اگر میں اپنے قول میں جھوٹا ہوں تو کوڑھی اندھا ہو جاؤں اسی طرح تین بار قسم لیں اگر قسم کھانے سے انکار کر دے تو ظاہر ہے کہ جھوٹ بول رہا ہے 
لہذا کسی طرح اس سے طلاق کا اقرار کرا لیں اگر اقرار کر لے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر قسم کھا لے تو شوہر کے قول کو معتبر مانا جائے گا اور طلاق واقع نہ ہوگی کہ طلاق شوہر کے اقرار یا دو مرد یا ایک مرد اور دو عادل ثقہ عورتوں کی گواہی سے ثابت ہو سکتی ہے اور یہاں تینوں صورتیں مفقود ہیں اور جھوٹی قسم کھانے کاوبال اسی کے سر ہوگا صحیح مسلم میں عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "و ان الکذب فجور وان الفجور یھدی الی النار"(ج٤، ص٢٠١٣،ش)-

والله تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
١١ جولائی ٢٠١٩

Wednesday, August 31, 2022

مسلک اعلی حضرت کیا ہے؟

مسلک اعلی حضرت کیا ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں۔

(1)مسلک اعلی حضرت کیا ہے ہے؟

(2)کیا سنی ہونے کے لئے مسلک اعلی حضرت کو ماننا ضروری ہے؟

(3) مسلک اعلیحضرت لگانا کیسا ہے ہے؟

(4)کیا نعرہ مسلک اعلی حضرت لگانا شدت پسندی ہے ؟

(5)کیا مسلک اعلی حضرت کا نعرہ آج سے پہلے بزرگوں نے لگایا ہے ؟

(6) اگر کوئی مسلک اعلی حضرت کو نہ مانیں تو وہ سنی رہے گا یا نہیں؟

مذکورہ تمام سوالوں کے جواب حوالے اور دلائل کے ساتھ عنایت فرمائیں ۔اور مسلک اعلی حضرت کی وضاحت میں قرآن و حدیث اقوال سلف و خلف کی مثالیں بھی عنایت فرمائیں۔

( نوٹ )حالات کے پیش نظر کثیر علماء اہلسنت کی دستخط کی ضرورت درپیش ہے۔ اس لئے برائے کرم ادارے کے علماء کے دستخط کے ساتھ جواب ارسال فرمائیں ،بہت نوازش ہوگی ۔

جواب:
عرف ناس شاہد ہے کہ اعلی حضرت کا لفظ اس زمانے میں” اہل سنت و جماعت” سے کنایہ ہوتا ہے ،جیسے حاتم کا لفظ سخاوت سے ،موسی کا لفظ حق، اور فرعون کا لفظ مبطل سے کنایہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ لفظ اہل سنت و جماعت کی شناخت اور پہچان بن چکا ہے ۔کسی بھی مقام پر کوئ شخص اگر لفظ “اعلی حضرت بول دیتا ہے تو سننے والے بلاتامل یقین کر لیتے ہیں اور ہر شخص سمجھ جاتا ہے یہ اہل سنت و جماعت سے ہے۔

اجل علمائے مکہ معظمہ حضرت مولانا سید محمد مغربی رحمۃ اللہ علیہ شیخ الحدیث حرم مکہ فرماتے ہیں:جب ہندوستان سے کوئی آتا ہے تو ہم اس سے مولانا شاہ احمد رضا خان صاحب کے بارے میں پوچھتے ہیں اگر وہ ان کی تعریف کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ اہل سنت سے ہے اور اگر ان کی برائی کرتا ہے تو ہم جان لیتے ہیں کہ بدمذہب ہے ۔یہی ہماری قسوٹی ہے پہچاننے کا۔

حضرت علامہ سید محمد علوی مالکی رحمتہ اللہ علیہ قاضی القضاۃمکہ معظمہ اعلی حضرت کی شان میں فرماتے ہیں :کہ ہم اعلی حضرت مولانا احمد رضا خان صاحب کو ان کی تصنیفات و تالیفات سے پہچانتے ہیں ان کی محبت سنیت کی علامت ہے اور بغض رکھنا بد مذہبی کی پہچان ہے۔

الحاصل اعلی حضرت کا لفظ سنیت کی شناخت اور پہچان ہے۔ عرف عام میں اہلسنت کا مترادف ہے اس لئے مسلک اعلی حضرت کا معنی ہے مسلک اہل سنت جس کا اطلاق بلاشبہ جائز ہے۔

ممکن ہے کسی کے دل میں یہ شبہ گزرے کہ جب اس کا معنی مسلک اہل سنت ہے تو پھر لفظ اعلی حضرت کے ذکر سے کیا فائدہ ہے؟

اس کا جواب کسی ذی ہوش سےپوشیدہ نہیں آج حالت یہ ہے کہ سنی کا لفظ شیعہ کے مقابلے میں بولا جاتا ہے۔ اس لیے سنی کا لفظ آج وہابیوں دیوبندیوں ،ندویوں وغیرہ سے امتیاز کے لیے کافی نہ رہا، یہی حال آج لفظ اہل سنت کا بھی ہے۔ وہابی اپنےکو وہابی اور دیوبندی اپنے کو دیوبندی نہیں کہتے بلکہ وہ بھی اپنے آپ کو اہل سنت ہی کہتے ہیں اور اپنے علماء کو حامی سنت اور امام اہل سنت کا خطاب دیتے ہیں ۔اس لیے یہ لفظ بھی آج اہل سنت اور اہل بدعات وہابیہ و دیابنہ غیروں کے درمیان امتیاز کے لیے کافی نہ رہا ۔

اب ہمارے جو بھائی کسی ذاتی رنجش اور باہمی چپقلش کی وجہ سے اعلی حضرت کی شان گھٹانے میں لگے ہوئے ہیں تھوڑی دیر کے لئے خالی الذہن ہوکر ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ بدمذہبوں سے امتیاز کے لیے کونسا جامع مختصر لفظ انتخاب کیا جائے، ہمیں یقین ہے کہ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ مسلک اعلی حضرت کے لفظ سے زیادہ موضوع کوئی لفظ نہیں ،کیونکہ سنیت کاشعار یہی لفظ ہے۔ اہل سنت کی شناخت یہی کلمہ ہے ،بدمذہبوں سے امتیاز اسی کا خاصہ ہے ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ باہمی اختلاف کے نتیجے میں کچھ کرم فرماؤں نے اسے سوالیہ نشان بنانے کی کوشش کی جو بے دلیل ہونے کی وجہ سے سابقہ اتفاق میں رخنہ انداز نہیں ہو سکتا۔

حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جسے مسلمان اچھا جانے وہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ مسند احمد بن حنبل ۔

صحابی رسول حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :کہ قبر میں دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر یہ سوال کرتے ہیں کہ مادینک یعنی تیرا دین کیا ہے؟ تو وہ کہتا ہے دینی الاسلام یعنی میرا دین اسلام ہے۔

مشکوۃ شریف صفحہ 25 بروایت ابو داود

اس حدیث میں ایک فردخاص کی طرف دین کی نسبت ہے تو اعلی حضرت کی طرف مسلک کی نسبت میں کیا قباحت ہے ،جبکہ لفظ اعلی حضرت معیار حق ہے۔

اس تمہید کو ذہن میں رکھنے کے بعد ترتیب وار ہر سوال کا جواب ملاحظہ فرمائیے۔

(1) مسلک اعلی حضرت ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ کا انعام ھوا ۔قرآن شریف کی پہلی سورہ ،سورہ فاتحہ میں ہے صراط الذین انعمت علیہم” ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ تبارک و تعالی نے انعام فرمایا ۔

صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: صراط مستقیم طریقہ اہل سنت ہے جو اہل بیت و اصحاب اور سنت و قرآن و سواد اعظم سب کو مانتے ہیں۔

یہ وہ مسلک ہے جس پر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کرام ر ہے۔ حدیث میں ہے صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملت ناجیہ کون ہے؟ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں ۔بعض روایتوں میں ہے یعنی جماعت اہلسنت ہے ۔

مشکوۃشریف صفحہ30

یہ مسلک سواد اعظم ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سواد اعظم کی پیروی کرو۔

مبلغ اسلام حضرت علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقی میرٹھی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے آخری وقت مدینہ منورہ میں یہ وصیت تحریر فرمائی تھی۔” الحمدللہ میں مسلک اہل سنت پر زندہ رہا اور مسلک حق اہلسنت وہی ہے جو اعلی حضرت کی کتابوں میں مرقوم ہیں، اور الحمداللہ آخری وقت اسی مسلک پر حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک میں خاتمہ بالخیر ہو رہا ہے۔

ماہنامہ رضائے مصطفی گوجرانوالہ شمارہ صفر 1416ھجری صفحہ 10 بحوالہ ماہنامہ ترجمان اہلسنت کراچی شمارہ ذی الحجہ 1397 ہجر ی

مسلک اعلی حضرت کا ابھی جو تعارف کرایا گیا اس کے ثبوت کے لئے کھلے ذہن سے آپ کی تصانیف مبارکہ جیسے

حسام الحرمین ،فتاوی الحرمین الدولۃ المکيہ، الکوکبۃالشہابيۃ، سبحان الصبوح، النہی الاکيد ،ازالۃ الاثار،اطائب الصیب، رسالہ في علم العقائد والکلام ،تمہيدايمان، الامن والعلا ،تجلی اليقين ،الصمصام ،رد الرفضہ ،جزاء الله يعجبه ،خالص الاعتقاء، انباء المصطفى، الزبده الزكيه،شمائم العنبر، دوام العيش، انفس الفكر،الفضل الموہبی ۔ ان ساری کتابوں کا مطالعہ کرنا کافی ہے۔

(2۔3۔4۔5۔6)
جب یہ حقیقت بخوبی واضح اور عیاں ہوگئی کہ مسلک اعلی حضرت کا معنی مسلک حق اہلسنت و جماعت ہے، تو ان امور میں جو موقف اور جوحکم اہل سنت کے نزدیک لفظ” اہل سنت و جماعت کا ہے وہی حکم مسلک اعلی حضرت کا بھی ہے۔اب ہر شخص اپنے طور پر انصاف اور دیانت کے ساتھ خود فیصلہ کرے اورعنادسے باز رہے۔

دارالافتاء میں بارہا اس طرح کے سوالات آتے ہیں اور سب ایک مخصوص علاقے سے ہی آتے ہیں، ہم اپنے بھائیوں سے گزارش کرتے ہیں وہ ذرا یہ بھی سوچیں کہ وہ کسروش پرچل رہے ہیں؟ کیا ٹھیک اسی طرح کے سوالات ایک بدبودار غیر مقلد نہیں کرتا ہے ،کہ مسلمانوں کا مذہب تو صرف ایک اسلام ہے یہ چار مذاہب کہاں سے پیدا کیے گئے ۔کیا حنفی، مالکی ،شافعی، حنبلی مذاہب اسلامف کے زمانے میں تھے وغیرہ وغیرہ ۔

ٹھیک اسی طرح کی باتیں کیا تصوف کے دشمن مشرب قادری ،چشتی ،نقشبندی ،سہروردی پھر ان کے گوناگوں شاخوںکے بارے میں نہیں کرتے ؟ذرا اور قریب آئیے کیا رضوی اور اشرفی کہنا شدت پسندی ہے؟ کیا اسلاف نےاپنے اآپ کورضوی کہا ہے ؟یہ سب عامیانہ باتیں ہیں جو جاہل عوام کو فقہا،صوفیا،علماسے برگشتہ کرنے کے لئے ان کے معاند کہا کرتے ہیں ۔تو ہمارے بھائیوں کو تو کم از کم ان کی روش پر نہ چلنا چاہیے جو لوگ عرف و عادت اور حالت زمانہ سے اآنکھیں بند رکھتے ہیں،انھیں یہی سب سوجھتا رہتا ہے ۔فقہا فرماتے ہیں : جو زمانہ کے حالات سے واقف نہیں ہے تو وہ جاہل ہے ۔

واللہ تعالی اعلم

محقق مسائل جدیدہ حضرت علامہ مفتی نظام الدین رضوی ۔جامعہ اشرفیہ مبارکپور

Tuesday, August 30, 2022

ماہ صفر میں شادی بیاہ اور صفر کے آخری بدھ کی حقیت ]

*صفر کا مہینہ منحوس یا مسعود۔۔۔۔۔؟؟؟*

[ ماہ صفر میں شادی بیاہ اور صفر کے آخری بدھ کی حقیت ]

    صفر المظفر سنہ ہجری کا دوسرا بابرکت مہینہ ہے۔ محقق علی الاطلاق مولوی عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، "ابن کثیر نے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے: عرب کے نزدیک "صفر" پیٹ کے اندر کے سانپ کے ہیں، جو انسان کو بھوک کی حالت میں ڈستا رہتا ہے ۔
   اس ماہ کے تعلق سے پھیلی ہوئی منحوس روایات و توہمات آج کی پیداوار نہیں ہیں، بلکہ اس کا تعلق زمانہ جاہلیت ہی سے ہے۔ دورجاہلیت میں لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے تھے اور صفر میں شادی بیاہ ،لین دین اور کسی بھی طرح کا مہتم بالشان کام کرنے سے گریز کرتے تھے۔ امام قاضی عیاض علیہ الرحمہ مشارق الانوار میں لکھتے ہیں, “لوگ ماہ صفر کو بڑھا کر ماہ محرم کو بھی اس میں شامل کرلیتے تھے“۔

یہ تو بنی نوع آدم پر اسلام کا احسان عظیم ہے کہ بے شمار خرافات و توہمات کی بیخ کنی کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام نے اس ماہ کے تعلق سے پھیلی کئی بے سرو پا باتوں کا قلع قمع کیا اور اس منحوس سمجھے جانے والے صفر کو “مظفر“ کا حسین ترین لبادہ پہنادیا۔

کتنی افسوس کی بات ہے!  آج بھی کچھ حلقوں میں اس مہینہ کو بالخصوص اس کے آخری بدھ کو منحوس سمجھا جاتاہے۔ خطبات الناصحین نامی کتاب میں ایک لمبی من گڑھت حدیث مرقوم ہے۔ جس کا آخری حصہ ہے کہ “حضرت جبرئیل امین نے آپ صلّی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ حضور ! (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) اللہ تعالی نےتمام بلائیں دس حصوں میں تقسیم کی ہے ان میں سے نو حصے صرف ماہ صفر میں نازل ہوتی ہیں“ (ص، 547) اسی طرح یہ قول بھی حضرت شیخ فرید الدین عطار علیہ الرحمہ کی جانب منسوب کی جاتی ہے کہ ہر سال دو لاکھ اسی ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں اور صرف ماہ صفر میں تین لاکھ اسی ہزار بلائیں “ (ایضا) لطف کی بات یہ ہے کہ مرزا غالب کے دور میں صفر کی نحوست اتنی مشہور تھی کہ غالب نے صفر کے آخری چہار شنبہ (بدھ) کے استعارے میں ایک مکمل کلام ہی لکھ ڈالا ہے۔ پہلا شعر ہے، ؎

ہے چہار شنبہ آخر ماہ صفر چلو
رکھ دیں چمن میں بھر کےمے مشک و بو کی ناند

    ماضی قریب میں حضور بحر العلوم علامہ مفتی عبد المنان اعظمی صاحب علیہ الرحمہ کے پاس ایک استفتا آیا، جس میں سائل نے پوچھا تھا، ”کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین، صفر کے آخری چہار شنبہ کی کیا حقیقت ہے؟ کئی جگہ لوگ بڑے اہتمام سے وضو کرتے ہیں،پرانے برتنوں کو توڑدیتے ہیں ،نئے برتنوں میں کھانا پکا کر حضور اقدس علیہ الصلٰوة والسلام کو نیاز کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی دن حضور کو صحت حاصل ہوئی تھی، اور کہتے ہیں کہ صفر کے آخری بدھ کو حضور اقدس کو مرض وصال شروع ہوا تھا“. (فتاوی بحر العلوم 5، ص، 266)
اس طرح کی تمام روایات موضوع ،من گھڑت، خودساختہ اور نوپیدہ ہیں جن کو حقیقت سے دور کا بھی رشتہ نہیں۔ مولانا تطہیر احمد رضوی بریلوی صاحب فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے لکھتے ہیں، ”بعض جگہ کچھ لوگ اس دن (مذکورہ بالا) کو منحوس خیال کرکے برتنوں وغیرہ کو توڑتے ہیں یہ بھی فضول خرچی اور گناہ ہے۔ صفر کے مہینے کے آخری بدھ کی اسلام میں کوئی خصوصیت نہیں“۔ (غلط فہمیاں اور ان کی اصلاح )

*چند احادیث گوش گزار کریں!*
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”تعدّی اور صَفَر کی کوئی حقیقت نہیں “۔ (بخاری ، 5717/مسلم، 5919) حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ شگون، تکلیف، ایذا اور چھوت کسی پر اثر انداز نہیں ہوتی نیز کوئی مہینہ کبھی ساٹھ دن کا نہیں ہوتا۔ (ما ثَبَتَ بالسنّة بحواله طبرانی) اس ماہ مبارک کے تعلق سے پھیلی واہمات کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ بظاہرصفر کے مہینہ میں کوئی خاص اسلامی تہوار نہیں ہے۔
لیکن اگر تھوڑا غور کیا جائے تو ماہ صفر ایک حیثیت سے دیگر کئی مہینوں سے ممتاز نظر آتا ہے۔ سال کے گیارہ مہینوں میں جتنے بزرگان دین کےاعراس ہوتے ہیں، کم و بیش اتنے ہی اعراس تنہا ماہ صفر میں آتے ہیں۔ اور صحیح حدیث میں آیا ہے ”عندَ ذكرِ الصالِحينَ تنزّل الرّحمة“ یعنی صالحین کے ذکر کی جگہ / وقت خدا کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ان مردان خدا کے اعراس کے وقت ان کا ذکر خیر ہی ہوتاہے. (فی زماننا جو برائیاں بعض مشائخ کے اعراس میں رائج ہوگئی ہیں راقم ان سے بیزار ہے) شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے فرماتے ہیں، ”اعراس سے ارواح اولیاء سے عشق ومحبت پیدا ہوتا ہے، اسی سے فنا فی الشیخ کا مرتبہ حاصل ہوتا ہے ، اسی راز کے تحت اعراس مشائخ کی حفاظت کی جاتی ہے اور انکے مزارت کی زیارت پر مداومت اور ان کے لیے فاتحہ خوانی ہوتی ہے“ ( تحفئہ محمدیہ، ص، 24) شاہ اسماعیل دہلوی قتیل نے بھی اپنی کتاب صراط مستقیم میں لکھا ہے ، “پس امور مروجہ یعنی اموات کے فاتحوں، عرسوں اور نذر و نیاز کی خوبی میں شک و شبہ نہیں“. (صراط مستقیم، 76 )
آئیے اس ماہ میں ہونے والے اعراس پر سر سری نظر ڈالتے ہیں۔
پہلی تاریخ کو مارہرہ مقدسہ میں عرس قاسمی شریعت مطہرہ کے دائرہ میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ منایا جاتا ہے نیز عرس وارث پاک،
دوسری تاریخ کو محدث پیلی بھیتی، تین کو حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی، چار کو قطب الدین جونپوری، چھ کو شارح بخاری مفتی شریف الحق صاحب امجدی کے اعراس ہیں۔ رضوان اللہ تعالی علیھم۔
اسی طرح ۷/ کو شیخ بہاء الدین ذکریا ملتانی، 
۹/ کو ,حضرت امام موسی کاظم، ۱۱/ کو مفسر قرآن علامہ ابراہیم رضا خان بریلوی ، ۱۳ /کو حضرت امام نسأی، ۱۴/ کو حضرت مالک بن دینار، ۱۵/ کو سید الطائفہ حضرت بایزید بسطامی، ۱۶/ عاشق رسول سید احمد کبیر رفاعی / رئیس القلم حضرت علامہ ارشدالقادری ، ۱۸/کو سلطان المشائخ داتا گنج بخش ہجویری  لاہوری، ۲۲/ کو شاہ مینا لکھنوی، ۲۳/ صفر کو حضرت امام باقر، ۲۴/کو علامہ شمس الدین سیالوی، ۲۵/ کو مجدد اعظم اعلی حضرت شاہ امام احمد رضا خان بریلوی، ۲۶/کو علامہ عینی، ۲۸/کو حضرت امام حسن ابن علی (رضی اللہ تعالیٰ عنھما کی شہادت) ۲۹/ کو پیر مہر علی شاہ گولڑوی، اور ۳۰/ صفر المظفر کو امام حاکم نیشاپوری وصال فرمائے۔ (رضوان اللہ تعالی علیھم اجمعین)
جن میں سے اکثر  کے دربار میں ان کے اعراس کے وقت ارادت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔ اور ان کے اعراس ان کے محبین کے لیے عید جیسے ہوتے ہیں۔
گویا ان بزرگان دین کی اس مہینہ میں وفات نے اس منحوس (بزعم بعضے) ماہ کو مسعود بنادیا ہے۔  ؎
بجھی شفق تو ستاروں نے ضیاء پائی
کسی کی موت کسی کی حیات بنتی ہے


از: (مفتی) *انصار احمد مصباحی،*
دار العلوم رضاے مصطفیٰ، اورنگ آباد، مہاراشٹر۔ 9860664476

Wednesday, August 24, 2022

نام رسالت پر انگوٹھے نہ چومنے والا دیوبندی نہیں

نام رسالت پر انگوٹھے نہ چومنے والا دیوبندی نہیں 

کیا تقبیل ابھام نہ کرنے سے کوئی گناہ ہے مع حوالہ وضاحت فرمائیں؟
المستفتی: مولانا محمد نوشاد عالم تلوار جراری فرخ آباد یوپی

الجواب۔اذان میں حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک سن کر انگوٹھے چومنا اور آنکھوں سے لگانا جائز و مستحب اور باعث خیر و برکت ہے
ردالمحتار میں ہے "ﻳﺴﺘﺤﺐ ﺃﻥ ﻳﻘﺎﻝ ﻋﻨﺪ ﺳﻤﺎﻉ اﻷﻭﻟﻰ ﻣﻦ اﻟﺸﻬﺎﺩﺓ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻚ ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻭﻋﻨﺪ اﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻣﻨﻬﺎ ﻗﺮﺕ ﻋﻴﻨﻲ ﺑﻚ ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺛﻢ ﻳﻘﻮﻝ اﻟﻠﻬﻢ ﻣﺘﻌﻨﻲ ﺑﺎﻟﺴﻤﻊ ﻭاﻟﺒﺼﺮ ﺑﻌﺪ ﻭﺿﻊ ﻇﻔﺮﻱ اﻹﺑﻬﺎﻣﻴﻦ ﻋﻠﻰ اﻟﻌﻴﻨﻴﻦ ﻓﺈﻧﻪ ﻋﻠﻴﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﻳﻜﻮﻥ ﻗﺎﺋﺪا ﻟﻪ ﺇﻟﻰ اﻟﺠﻨﺔ ﻛﺬا ﻓﻲ ﻛﻨﺰ اﻟﻌﺒﺎد اﻩ۔ ﻗﻬﺴﺘﺎﻧﻲ ﻭﻧﺤﻮﻩ ﻓﻲ اﻟﻔﺘﺎﻭﻯ اﻟﺼﻮﻓﻴﺔ ﻭﻓﻲ ﻛﺘﺎﺏ اﻟﻔﺮﺩﻭﺱ ﻣﻦ ﻗﺒﻞ ﻇﻔﺮﻱ ﺇﺑﻬﺎﻣﻪ ﻋﻨﺪ ﺳﻤﺎﻉ ﺃﺷﻬﺪ ﺃﻥ ﻣﺤﻤﺪا ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻓﻲ اﻷﺫاﻥ ﺃﻧﺎ ﻗﺎﺋﺪﻩ ﻭﻣﺪﺧﻠﻪ ﻓﻲ ﺻﻔﻮﻑ اﻟﺠﻨﺔ ﻭﺗﻤﺎﻣﻪ ﻓﻲ ﺣﻮاﺷﻲ اﻟﺒﺤﺮ ﻟﻠﺮﻣﻠﻲ ﻋﻦ اﻟﻤﻘﺎﺻﺪ اﻟﺤﺴﻨﺔ ﻟﻠﺴﺨﺎﻭﻱ"(ج١،ص٣٦٧)۔
بہار شریعت میں ہے" جب مؤذن اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہِ کہے تو سُننے والا درود شریف پڑھے اور مستحب ہے کہ انگوٹھوں کو بوسہ دے کر آنکھوں سے لگا لے اور کہے قُرَّۃُ عَیْنِیْ بِکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ مَتِّعْنِیْ بِالسَّمْعِ وَالْبَصَرِ" (ح٣،ص٤٧٤)۔
لہذا اگر کوئی شخص نام پاک سن کر انگوٹھے نہیں چومتا مگر جائز و مستحب سمجھتا ہے اور چومنے والوں پر ملامت روا نہیں جانتا نیز چومنے والوں پر ملامت کرنے والوں کو برا جانتا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اگر اسلئے نہیں چومتا کہ ناجائز سمجھتا ہے تو شبہ وہابیت و دیوبندیت ہے کہ وہی اسے ناجائز و بدعت گردانتے۔
فتاوی رضویہ میں ہے" جبکہ مستحب جانتا ہے اور فاعلون پر اصلا ملامت روا نہیں جانتا فاعلون پر ملامت کرنے والوں کو بُرا جاننا ہے تو خود اگر احیانا کرے احیانا نہ کرے ہرگز قابلِ ملامت نہیں فان المستحب ھذا شانہ"(ج٥، ص٤١٥)۔
بہار شریعت میں ہے "مُستَحب وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگر ترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو خواہ خود حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کِرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنے پر مطلقاً کچھ نہیں" (ح٢، ص٢٨٣)۔
اسی طرح اذان و تکبیر کے علاوہ نام پاک مصطفی علیہ الصلاۃ والتسلیم سن کر انگوٹھا چومنا جائز و مستحن ہے کہ اس میں بھی حضور علیہ السلام کی تعظیم ہے اور حضور نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کی تعظیم جیسے بھی کی جاے باعث ثواب ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے"جائز بلکہ مستحب ہے جبکہ کوئی ممانعت شرعی نہ ہو مثلاً حالت خطبہ میں یا جس وقت قرآن مجید سُن رہاہے یا نماز پڑھ رہا ہے ایسی حالتوں میں اجازت نہیں باقی سب اوقات میں جائز بلکہ مستحب ہے جبکہ بہ نیتِ محبت وتعظیم ہو اور تفصیل ہمارے رسالہ منیر العین میں ہے" (ج٥،ص٤١٦)۔

واللہ تعالی اعلم
شان محمد المصباحی القادری
١٦ربیع الأول ١٤٤٣

Wednesday, August 17, 2022

فوت شدہ بیوی کا چہرہ دیکھنا ، جنازے کو کندھا دینا اور قبر میں اتارنا کیسا؟*

🛑🛑 *فوت شدہ بیوی کا چہرہ دیکھنا ، جنازے کو کندھا دینا اور قبر میں اتارنا کیسا؟*

👈سوال :  *بیوی کے انتقال کے بعد شوہر اس کا چہرہ دیکھ سکتا ہے یا نہیں ؟نیز کیا اس کے جنازے کو کندھا بھی دے سکتا ہے  اور قبر میں بھی اتار سکتا ہے ؟*

👏سائل: *محمد اسید نوری* ممبی

*اَلْجَوَابُ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ*

    ✍عورت کے انتقال کے بعداس کےشوہر کا عورت کے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانا منع ہے۔بقیہ  اس کے چہرے کودیکھنا یا اس کے جنازہ کو کندھا دینا اور قبر میں اُتارنا  یہ سب جائز ہے ، اس میں شریعت ِ  مطہرہ کی طرف سے کوئی ممانعت نہیں ۔

 ✍   اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہوا: اگر عورت مر جائے تو شوہر اس کے جنازے کو ہاتھ لگائے یا نہیں؟اس کے جواب میں آپ فرماتے ہیں: ” جنازے کو محض اجنبی ہاتھ لگاتے، کندھوں پر اُٹھاتے، قبر تک لے جاتے ہیں، شوہر نے کیا قصور کیا ہے۔یہ مسئلہ جاہلوں میں محض غلط مشہور ہے۔ہاں شوہر کو اپنی زنِ مردہ کا بدن چھونا ، جائز نہیں، دیکھنے کی اجازت ہے۔کمانص علیہ فی التنویر والدر و غیرھما ۔اجنبی کو دیکھنے کی بھی اجازت نہیں۔محارم کو پیٹ، پیٹھ اور ناف سے زانوتک کے سوا چھونے کی بھی اجازت ہے۔“

    اسی سے متصل ایک اور سوال ہوا : زوجہ کا جنازہ شوہر کو چھونا کیسا ہے؟ چھونا چاہئے یا نہیں؟ شوہر کا اپنی زوجہ کا منہ قبر میں رکھنے کے بعددیکھنا کیسا ہے ،چاہئے یا نہیں؟اس کے جواب میں آپ علیہ الرحمۃ تحریرفرماتے ہیں:” شوہر کو بعدِ انتقالِ زوجہ قبر میں خواہ بیرونِ قبر اس کا منہ یا بدن دیکھنا جائز ہے، قبر میں اتارنا ، جائز ہے اور جنازہ تو محض اجنبی تک اٹھاتے ہیں، ہاں بغیر حائل کے اس کے بدن کو ہاتھ لگانا شوہر کو ناجائز ہوتا ہے۔

    زوجہ کو جب تک عدت میں رہے شوہر مردہ کا بدن چھونا بلکہ اسے غسل دینا بھی جائز رہتا ہے۔یہ مسئلہ درمختار وغیرہ میں ہے۔“

📚(فتاویٰ رضویہ جلد9،صفحہ138 )📚

   ✍ صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمہ اللہ تحریرفرماتے ہیں: ”عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔“

 📚(بہارِ شریعت ، جلد1،صفحہ 813)📚

وَاللہُ اَعْلَمُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَم عَزَّوَجَ