Saturday, May 9, 2020

قبر ‏پر ‏اذان ‏دینا ‏کیسا ‏ہے

السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ                            کیافرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلے میں کیا قبر پر اذان دینا کوئی معتبر حدیث سے ثابت ہے یا نہیں جواب عنایت فرمائیں                       المستفی محمداختررضا
👇☝🏻
الجواب بعون الملک الوھاب۔
    میت کو دفن کرنے کے بعد قبر کے سر کی جانب قبلہ کی طرف منہ کر کے اذان کہناجیسا کہ اہل سنت وجماعت کا معمول ہے،قطعاجائز،بلکہ مستحسن عمل ہے۔اِس کے دلائل درج ذیل ہیں:
     (1)جب میت کو دفن کر دیا جاتا ہے،تو سوالاتِ قبر کے وقت شیطان  قبر میں مردے کو درست جوابات سے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔جیسا کہ حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمۃ سے مروی ہے:’’اذا سئل المیت من ربک تراءی لہ الشیطان فی صورۃ فیشیر الی نفسہ ای انا ربک فھذہ فتنۃ عظیمۃ‘‘ترجمہ:جب میت سے قبر میں سوال کیا جاتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟تو اُسےشیطان ایک صورت میں دکھائی دیتا ہے اور وہ اپنی طرف اشارہ کرتا ہے یعنی میں تیرا رب ہوں،پس یہ بڑی آزمائش ہے۔(نوادر الاصول،ج3،ص227،بیروت)
     اِس کے بعد حکیم ترمذی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’فلو لم یکن ھناک سبیل ماکان لیدعو لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم بان یجیرہ من الشیطان‘‘ترجمہ:اگر مسلمان مردے کو دفن کرنے کے بعدبہکانے کے لیے شیطان کے قبر میں آنے کی کوئی راہ نہ ہوتی،تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میت (جو قبرمیں ہے،اُس)کےحق  میں شیطان سے حفاظت کی دعا نہ فرماتے۔(نوادر الاصول،ج3،ص227،بیروت)
     اور صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ اذا ن شیطان کو دفع کرتی ہے۔چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اذا اذن المؤذن ادبر الشیطان ولہ حصاص‘‘ترجمہ:جب مؤذن اذان دیتا ہے،توشیطان پیٹھ پھیر کر،گوز لگا کر بھاگتا ہے۔(الصحیح لمسلم،ج1،ص291،دار احیاء التراث،بیروت)
     لہٰذا اہلِ سنت وجماعت اپنے مسلمان بھائی کی بھلائی کے لیے اُس کی قبر پر اذان دیتے ہیں تا کہ سوالاتِ قبر کے جوابات کے وقت شیطان  وہاں سے بھاگ جائے اور وہ مسلمان شیطان کے فتنے سے بچ کر درست جوابات دینے میں کامیاب ہو کر آخرت میں سُرخرو ہوجائے ۔

     (2)حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے  ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کرنے کے بعد اونچی آواز سے تکبیر(اللہ اکبر)کا تکرار فرمایا۔چنانچہ المعجم الکبیر اور مسند احمد وغیرہ کتب ِحدیث میں ہے کہ حضرت سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں(الفاظ مسند احمد کے ہیں):’’فلما صلی علیہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ووضع فی قبرہ وسوی علیہ  سبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فسبحنا طویلا ثم کبر فکبرنا۔فقیل:یارسول اللہ !لم سبحت ثم کبرت ؟قال:لقد تضایق علی ھذالعبد الصالح قبرہ حتی فرجہ اللہ عنہ‘‘ترجمہ:جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ ادا فرمائی اور اُنہیں قبر میں رکھا اور اوپرسے مٹی برابر کر دی،تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سبحان اللہ فرمایا،تو ہم نے بھی کافی دیر سبحان اللہ کہا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ اکبر فرمایا،تو ہم نے بھی اللہ اکبر کہا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبحان اللہ اور اللہ اکبر کیوں فرمایا؟فرمایا:اِس نیک بندے پر قبر تنگ ہوئی،تو اللہ تعالیٰ نے اِس تسبیح و تکبیر  کی وجہ سے قبر کو کشادہ فرما دیا۔(مسند امام احمد بن حنبل،ج23،ص158،مؤسسۃ الرسالۃ،بیروت)

     علامہ طیبی علیہ الرحمۃ اِس حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں:’’ای مازلت اکبر واسبح ویکبرون ویسبحون ویکبرون حتی فرجہ اللہ عنہ‘‘ترجمہ:یعنی میں اورمیرےصحابہ سبحان اللہ اور اللہ اکبر کہتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اِس کی قبر کو کشادہ کر دیا۔(شرح طیبی،ج1،ص265،ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ،کراچی)

     قبر پر تکبیر(اللہ اکبر )کا تکرار کرنا حدیث پاک سے ثابت ہوا اوراذان میں بھی تکبیر کے الفاظ کا تکرار ہوتا ہے۔

     (3)غضبِ الہٰی کو بجھانے کے لیے  تکبیرکہنا بہت فائدہ مند ہے۔اذان میں بھی تکبیر کے الفاظ ہیں،لہٰذا قبر پر اذان دیتے ہیں تا کہ اللہ تعالیٰ مردے پر غضب نہ فرمائے ،بلکہ رحمت فرمائے اور اِسی طرح ظاہری طور پر آگ لگی ہو ،تب بھی تکبیر کہنے کا حکم ہے کہ اِس سے آگ بُجھ جائے گی،تو اذانِ قبر میں یہ بھی حکمت ہے کہ اگر اُس قبر میں خدا نخوستہ آگ کا عذاب ہوا،تو ختم ہو جائے گا۔چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اطفؤ الحریق بالتکبیر‘‘ترجمہ:آگ کو تکبیر کہہ کر بجھاؤ۔(المعجم الاوسط،ج8،ص258،دارالحرمین،قاھرہ)

     علامہ ملا علی قاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’التکبیر علی ھذا لاطفاء الغضب الالٰھی ولھذا ورد استحباب التکبیر عند رؤیۃ الحریق‘‘ترجمہ:قبر پر تکبیر(اللہ اکبر)کہنا،غضبِ الہٰی کو بجھاتا ہے،اِسی لیے آگ کو دیکھ کر تکبیر کہنا مستحب قرار دیا گیا۔(مرقاۃ المفاتیح،ج1،ص330،مطبوعہ کوئٹہ)

     (4)اذان کے بعد کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے،لہٰذا اذان ِقبر کے بعد میت کے لیے بخشش کی دعا کرنے پر زیادہ امید ہے کہ اُس کی بخشش ہو جائے۔چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’اذا نا دی المنادی فتحت ابواب السماءواستجیب الدعاء‘‘ترجمہ:جب مؤذن اذان کہتا ہے،تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول ہوتی ہے۔(المستدرک علی الصحیحین،ج1،ص731،دار الکتب العلمیہ،بیروت)

     (5)اذان ذکرِ الٰہی ہے اور ذکرِ  الہٰی عذاب دفع کرتا ہے۔چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ما من شئی انجی من عذاب اللہ من ذکر اللہ‘‘ترجمہ:ذکرِ الہٰی سے بڑھ کر کوئی چیز بھی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات دینے والی نہیں ہے ۔(شعب الایمان،ج2،ص62،مطبوعہ ریاض)

     (6)اگر یہ دلائل اور اِس کے علاوہ دیگر دلائل نہ بھی ہوں،تواذانِ قبر کے جواز کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن و حدیث میں اِس سے منع نہیں کیا گیا،جو منع کرتا ہے،اُسے چاہیے کہ قرآن و حدیث سے اِس کی ممانعت ثابت کرے۔

     اب سوال میں مذکور شامی کی عبارت اور اُس کا جواب ملاحظہ کیجیے۔علامہ شامی علیہ الرحمۃ  فرماتے ہیں:’’فی الاقتصار علی ماذکر من الوارد اشارۃ الی انہ لا یسن الاذان عند ادخال المیت فی قبرہ کما ھو المعتاد الآن وقد صرح فی فتاویہ بانہ بدعۃ‘‘ترجمہ:اقتصار میں ہے کہ میت کو قبر میں دفن کرتے وقت اذان کہنا سنت نہیں جیسا کہ آجکل رائج ہے اور علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ نے اپنے فتاوی میں اِس کے بدعت ہونے کی صراحت فرمائی ہے۔ (ردالمحتار،ج3،ص166،مطبوعہ پشاور)

     علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے اِس عبارت میں اذانِ قبر کو ناجائز نہیں فرمایا،بلکہ صرف  یہ بات بیان فرمائی ہے کہ اذانِ قبر سنت نہیں،چونکہ بعض علماء شافعیہ اذانِ قبر کو سنت قرار دیتے تھے،تو آپ علیہ الرحمۃ نے شافعی عالم  علامہ ابن حجر مکی علیہ الرحمۃ کے قول  سے اپنے مذہب کی تائید میں یہ عبارت ذکر کی کہ یہ امر سنت نہیں ۔نیز ایک اور جگہ اِس مسئلے کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’(لایسن لغیرھا)ای من الصلوات والا فیندب للمولود وفی حاشیۃ البحر للخیر الرملی:رأیت فی کتب الشافعیۃ انہ قد یسن الاذان لغیر الصلاۃ کما فی اذان المولود والمھموم والمصروع والغضبان ومن ساء خلقہ من انسان او بھیمۃ وعند مزدحم الجیش وعند الحریق قیل:وعند انزال المیت القبر قیاسا علی اول خروجہ للدنیا لکن ردہ ابن حجر فی شرح العباب ‘‘ترجمہ:نمازوں کے علاوہ اذان دینا سنت نہیں،مگر بچے کے کان میں اذان دینا مستحب ہے۔علامہ خیر الدین رملی علیہ الرحمۃ کے حاشیہ بحر  میں ہے:میں نے بعض کتبِ شافعیہ میں لکھا ہوا دیکھا کہ نماز کے علاوہ اذان دینا چند مقامات پر سنت ہے جیسے بچے،غمگین اورمرگی والے کے کان میں،حالتِ غصہ میں،جب آدمی بد مزاج ہو،جانور بدک جائے اور اسلامی لشکرکے پسپا ہونے کے وقت،آگ لگنے کے وقت اور میت کو قبر میں رکھتے وقت، اِس  پر قیاس کرتے ہوئے کہ جب وہ دنیا میں آیا،تو اُس کے کان میں اذان دی گئی،لیکن علامہ ابن حجر علیہ الرحمۃ نے اِس کے سنت ہونے کا رد فرمایا ہے۔ (ردالمحتار،ج2،ص62،63،مطبوعہ پشاور)

     اِن عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ اذانِ قبر کو علامہ شامی اور علامہ ابنِ حجر مکی علیہما الرحمۃ  میں سے کسی نے بھی ناجائز نہیں فرمایا،بلکہ فقط یہ فرمایا کہ یہ سنت نہیں(ہم بھی یہ ہی کہتے ہیں کہ سنت نہیں ،مگر جائز ،بلکہ مستحسن ضرور ہے) اور ایک چیز کے سنت نہ ہونے سے ہر گز یہ لازم نہیں آتا کہ وہ ناجائز ہو،کیونکہ کئی امور ایسے ہیں ، جو سنت نہیں، لیکن پھر بھی جائز، بلکہ مستحب ہیں جیسے کسی صحابی یا بزرگ کےنام کے ساتھ رضی اللہ عنہ یارحمۃ اللہ علیہ لگانا سنت نہیں،لیکن ناجائز بھی نہیں،بلکہ علماء نے اِسے مستحب قرار دیاہے۔چنانچہ تنویر الابصار میں ہے:’’یستحب الترضی للصحابۃ والترحم للتابعین ومن بعدھم من العلماء والعباد وسائر الاخیار‘‘ترجمہ:صحابہ کرام کے اسماء کے ساتھ ’’رضی اللہ عنہ‘‘اور تابعین اور اُن کے بعد کے علماء و صالحین کے لیے ’’رحمۃ اللہ علیہ‘‘کا استعمال مستحب ہے۔ ( تنویر الابصار،ج9،ص520،مطبوعہ پشاور)

     اورعلامہ ابنِ حجر  مکی علیہ الرحمۃ کا اِسے بدعت قرار دینا بھی اِس کے ناجائز ہونے کی دلیل نہیں،کیونکہ آپ علیہ الرحمۃ کے نزدیک کسی کام کا بدعت ہونا ،اُس کے ناجائز ہونے کی دلیل  نہیں،بلکہ وہ کام بدعت ہونے کے باوجود واجب و مستحب بھی ہو سکتا ہے۔چنانچہ آپ علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’ تنقسم الی خمسۃ احکام یعنی الوجوب والندب الخ وطریق معرفۃ ذالک ان تعرض البدعۃ علی قواعد الشرع فای حکم دخلت فیہ فھی منہ فمن البدع الواجبۃ تعلم النحو الذی یفھم بہ القرآن والسنۃ ومن البدع المحرمۃ مذھب نحو القدریۃ ومن البدع المندوبۃ احداث نحو المدارس والاجتماع لصلاۃ التراویح ومن البدع المباحۃ المصافحۃ بعد الصلاۃ الخ‘‘ترجمہ:بدعت کی پانچ اقسام ہیں:بدعت واجبہ ومستحبہ وغیرہ اِ سکی پہچان کا طریقہ یہ ہے کہ اُس بدعت کو قواعدِ شرع پر پیش کیا جائے،تو جس حکم کے تحت وہ داخل ہو گی، اُس پر بھی وہ ہی حکم لگے گا ۔ مثلا :بعض بدعتیں واجب ہیں جیسے قرآن و حدیث سمجھنے کے لیے علمِ نحو سیکھنا؛بعض حرام ہیں جیسے قدریہ وغیرہ گمراہوں کا مذہب؛بعض مستحب ہوتی ہیں جیسے مدارس کا قیام اور تراویح کے لیے جمع ہونا؛بعض مباح ہیں جیسے نماز کے بعد مصافحہ کرنا۔(فتاوی حدیثیہ،ص150،مطبوعہ کراچی)

     پتا چلا کہ علامہ ابنِ حجر مکی علیہ الرحمۃ  کی تشریح کے مطابق اذانِ قبر کو مطلقابدعتِ محرّمہ( حرام بدعت) نہیں کہہ سکتے ،بلکہ قوانینِ شرع پر پیش کرنا ضروری ہے اور قوانین و دلائلِ شرعیہ(جیسا کہ اوپر بیان کیے گئے)کی روشنی میں اِس کا جواز بالکل واضح ہے۔

     اسی طرح علامہ شامی علیہ الرحمۃ کے نزدیک بھی ہر بدعت ناجائز نہیں  ۔چنانچہ نماز کے لیے زبان سے نیت کرنا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت نہیں،لہٰذا بدعت ہے،لیکن بدعتِ حسنہ ہے ۔چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمۃاِس بارے میں  فرماتے ہیں:’’(اذلم ینقل۔۔ الخ)فی الفتح عن بعض الحفاظ لم یثبت عنہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم من طریق صحیح ولا ضعیف انہ کان یقول عند الافتتاح اصلی کذا ولا عن احد من الصحابۃ والتابعین۔۔(بل قیل :بدعۃ)نقلہ فی الفتح وقال فی الحلیۃ:ولعل الاشبہ انہ بدعۃ حسنۃ ‘‘ترجمہ:فتح القدیر  میں بعض حفاظ سے منقول ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سندِ صحیح ،بلکہ سندِ ضعیف سے بھی ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں نیت کی ہو کہ میں فلاں نماز پڑھتا ہوں۔۔۔کہا گیا کہ نماز کے لیےزبان سے نیت کرنا بدعت ہے، اِسے علامہ ابن ہمام علیہ الرحمۃ نے ’’فتح القدیر‘‘میں نقل کیا اور صاحب ِحلیہ نے ’’حلیہ‘‘میں فرمایا:یہ بدعتِ حسنہ ہے۔(ردالمحتار،ج2،ص114،مطبوعہ پشاور)

     لہٰذا ثابت ہوا کہ سنت نہ ہونا،ناجائز ہونے کی دلیل نہیں  ،یوں ہی بدعت ہونا بھی اِس کے بدعتِ محرّمہ(حرام بدعت)ہونے کے لیے کافی نہیں جیسا کہ اوپر واضح ہوا اور علامہ شامی اور علامہ ابن حجرمکی علیہما الرحمۃ کی اِن واضح عبارات کو ملاحظہ کرنے سے پتاچلتا ہے کہ آپ علیہما الرحمۃ میں سے کسی نے بھی اذانِ قبر کو  ناجائز نہیں فرمایا اور نہ ہی  دیگر فقہاء کرام میں سے کسی نے اِسے ناجائز قرار دیا،کیونکہ کسی کام کو مکروہ وناجائز کہنے کے لیےاُس کےعدمِ جواز کی خاص دلیل ہوناضروری ہے۔چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:’’ثبوت الکراھۃ اذلا بد لھا من دلیل خاص‘‘ترجمہ: کسی چیز کو مکروہ کہنے کے لیےاُس کے مکروہ ہونے پر خاص دلیل کا ہونا ضروری ہے۔ (ردالمحتار،ج1،ص267،مطبوعہ پشاور)

     اور اذانِ قبر کے عدمِ جواز پر کوئی دلیل بھی نہیں،بلکہ متعدد دلائل سے اِس کا جواز ثابت ہے۔اھ۔
     *نوٹ* اذان قبر کے جواز پر تفصیلی دلائل کے لیے فتاوی رضویہ ،ج5 میں موجودامامِ اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ کا رسالہ مبارکہ’’ایذان الاجر فی اذان القبر‘‘کا مطالعہ کریں۔اھ۔
واللہ تعالی اعلم۔
کتبہ ۔احمدرضا قادری منظری مدرس۔المرکزالاسلامی دارالفکر بہراٸچ شریف۔۔١٦\رمضان المبارک۔١٤٤١ھ

حالت ‏روزہ ‏میں ‏دانتوں ‏سے ‏خون ‏نکلا ‏تو ‏روزہ ‏کا ‏کیا ‏حکم ‏ہے

*🔸حالت روزہ میں دانتوں سے خون نکلا تو روزہ کا کیا حکم؟🔸*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
بحالت روزہ میں مسواک یا اور خون نکل آیا خون حلق سے نیچے اتر گیا تو کیا روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟
 *فـخـرازھـرچینل لنک ⇩*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل محمد سجاد رضا🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب اللّٰھم ہدایت الحق بالصواب*
دانتوں سے خون نکل کر حلق سے نیچے اترا اور خون تھوک سے زیادہ تھا یا کم تھا مگر اس کا مزہ حلق میں محسوس ہوا تو ان سب صورتوں میں روزہ ٹوٹ گیا اور اگر کم تھا اور مزہ بھی محسوس نہ ہوا تو روزہ نہیں ٹوٹا 
یہی حکم پائریا کی بیماری میں مسوڑوں سے نکلنے والے خون اور پیپ کا ہے 
*(📕درمختار ج2 ص367 کتاب الصوم )*
*(📚روزہ کے ضروری مسائل ص 46)*

*🔸واللہ تعالیٰ اعلم🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــہ*
*حضرت قاری محمد انور رضا صاحب قبلہ مد ظلّہ العالی و النورانی پیاگ پور بہرائچ شریف یوپی الھند*
*🗓 ۱۶ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ مطابق ۱۰ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز اتوار* https://wa.me/+918355972177
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح والمجیب نجیح حضرت مفتی محمد احمد نعیمی  صاحب قبلہ چترویدی نئی دہلی*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث.وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ

ہم ‏اصلاح ‏کیسے ‏کریں ‏

*⚠ہم اصــــــــلاح کیسے کـــــــریں🌹*

*🔆اگـــــــر ہم کسی کو غلطی پر پائیں تو اس سے بحث کرنے کے بجائے اس انداز میں بات کریں کہ وہ ہمارے الفاظ سے نفرت نہ محسوس کرے بلکہ ہمارے نرم لہجے اور اچھے اخلاق سے متاثر ہو کر ہماری بات کو سنے اور سمجـــــــھے-*

*🌷جـــــــو لـــــوگ غلطی پر ہوں اگر ہم ان سے نفرت کا اظہار کریں گے انکو برا بھلا کہیں گے ان پر طنز کریں گے تو ہماری بات وہ ہرگز نہیں سنیں گے*

 *🔆نبی کـــــریم ﷺ کا اخلاق ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ کفار کے ساتھ بھی انکا اخلاق اچھا تھا-*

*🔅اور اللہ جل شانہ نے بھی نبی کـــــریم ﷺسے قـــــرآن پاک میں ارشاد فـــــرمایاکہ*

*🔆"لـــــوگوں کو اپنے رب کی راہ کی طرف حـــــکمت اور بہترین نـــــصیـحت کے ســـــاتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجیۓ یقینا آپ کا رب اپنی راہ سے بہکنے والوں کو بھی بـــــخوبی جانتا ہے اور راہ راست پرچلنے والوں سے بھی پـــــوری طـــــرح واقف ہے "* النـــــحل ( 125 ) ۔

*🌺ایک دوسری جـــــگہ قـــــرآن پاک میں نبـــــی کـــــریم ﷺ سے ارشاد فرمایا کہ*

*🌸" اللہ تـــــعالی کی رحمت کے باعث آپ نـــــرم دل ہیں اور اگر آپ بدزبان سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے دور بھاگ جاتے آپ ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے استغفار کریں*...الخ - آل عمران ( 159)


 *☄نبی کـــــریم ﷺ کو جتنی بھی تکلیفیں پہچائی گئیں اس کے جواب میں انہوں نے دعـــــا ہی دی بد دعا نہیں دی اچھے اخلاق سے پیش آئے جسکی وجہ سے انکے دشمـــــن بھی انکے دوست بن گئے-*

*🌷اســـــی طـــــرح سے اگر ہم لوگوں کو آگاہـــــی دینا چاھتے ہیں کہ فلاں کا عمـــــل غلط ہے تو یہ ضـــــروری نہیں کہ ہم ان پر طنز کر کے یا انہیں برا بھلا بول کر ہی لوگوں کی اصـــــلاح کریں-*

 *💫ہم کســـــی کو برا بـــــھلا کہے بغیر بھی حکمت عملی کے ساتھ حق بات لـــــوگوں تک پہنچاسکتے ہیں-*
 *🥀اسی طرح ہمیں برے عمل سے نفرت کرنی چاہئے نہ کہ جس انسان سے برا عمل سرزد ہوا اس سے-*

*💐اور ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ نبـــــی کـــــریم ﷺ کو اپنی امت سے بے تحاشہ محبت تھی*

*🌿اور نبـــــی کـــــریم ﷺ  سے مـــــحبت کا تقاضہ یہ ہے کہ انکے کسی گناہگار امتی کو سیدھے راستے پر لایا جائے اور جھنم سے بچایا جائے اور یہ کام ہم نرم لہجے اور شیـــــریں گفتار سے ہی کـــــر سکتے ہیں-*
 *🌺شاید کہ ہمارے اچـــــھے اخلاق سے متاثر ہو کر کوئی راہ حق پہ آجائے اور جہنم میں جانے سے بچ جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ہماری نفـــــرت کے اظہار سے کوئی اپنی برائی پر مزید پختہ ہوجائے-*

*💥آخـــــر میں ایک بات اور کہ اچھے اخـــــلاق سے ہم دشمن کو بھی دوست بنا سکتے ہیں اور برے اخلاق سے دوست کو بھی دشمن بنا سکتے ہیں-*

 *🌷اللہ مجـــــھے اور آپ سب کو بھی صحیح طور پر دین کی سمجھ عطا فـــــرمـــــائـــــے-*

*🌻آمـــــین یا رب العٰلـــــمین-🌻*
🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲

روزے ‏کی ‏حالت ‏میں ‏مشت ‏زنی ‏کی ‏اگر ‏انزال ‏ہوگیا ‏تو ‏روزہ ‏فاسد ‏ہوگا ‏یا ‏نہیں

*🍃 روزہ کی حالت میں  مشت زنی کی اگر انزال ہوگیا، تو روزہ فاسد ہو گیا 🍃*

☆🕋☆▬▬▬ஜ۩🏵۩ஜ▬▬▬☆🕋☆

*السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ*
 
*کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں،،*
*روزہ کی حالت میں گندی تصاویر یا ویڈیوز دیکھیں اور اس حالت میں مشت زنی کی*
*۲۔ یہ کہ مشت زنی تو نہیں کی لیکن پھر بھی کسی اور صورت سے احتلام کر لیا کیا حکم شرع ہوگا۔۔*

*🍃سائل:-*
 *📩 محــمد فــــیروز عـــالم رضــوی امـــروہــا یــوپــی الہــــند* 

*ٹیـــــلی گـــرام پــر تـــاج الــشريعـــه قــــادرى چینـــل مـــیں شــــامـــل هـــونــے کیــلئـے اس لــــنك پــر كلــــك کــــریــں ⇩⇩⇩* 

*https://t.me/joinchat/QLP0lhmoHcJXXdu8Lvqb-g*
*https://t.me/Tajusshariya29871*

☆🕋☆▬▬▬ஜ۩🏵۩ஜ▬▬▬☆🕋☆

*وعـــلَیـــکمُ السَّــــلام ورحمـــة اللّٰــــهِ وَبـَرَكاتــــه*
  *📝الجوابــــــــــــــــــــــــــــــــ  بعوان الملک الوھاب👇🏻* 

*🚫 گندی فلمیں دیکھنا حرام اشد حرام  بد انجام اور روزہ کی حالت میں زیادہ بد کام  روزہ کی حالت میں  مشت زنی کی اگر انزال ہوگیا تو روزہ فاسد ہو گیا،*
 *اس صورت میں روزہ کی قضاء ضروری ہے، کفارہ نہیں،،،*

*📝 چنانچہ علامہ علاٶ الدین حصکفی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں ۔👇*
 *وکذالاستمنا ٕ و ان کرہ تحریما لحدیث ناکح الید ملعون*

*📓 الدر المختار کتاب الصوم الباب الاول باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ المجلد الثالث الصفحة 331 مطبوعہ دار الکتب د )*

*✒📑 فقیہ امت علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں،،،👇* 
 *قولہ و کذا الاستمنا ٕ بالکف ای فی کونہ لا یفسد لیکن ھذا اذا لم ینزل اما اذا انزل فعلیہ قضا ٕ* 

*📕 (الرد المحتار کتاب الصوم مطلب فی حکم الاستمنا ٕ بالکف المجلد الثالث الصفحة 331 مطبوعہ دار الکتب د )*

*✏📃 شیخ الاسلام ابوبکر بن علی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں،،،*
*وان استمنی بکفہ افطر* 

*📘 (الجوھرة النیرة کتاب الصوم المجلد الاول الصفحة 167 مطبوعہ دار الکتب د )*
 
*🚨 الحاصل مشت زنی کرنے والا ملعون ہے اگر ہاتھ سے منی نکال انزال ہو گیا تو روزہ ٹوٹ گیا اس کی قضا لازم صدق دل سے توبہ استغفار کرے* 

*🚫 (2) یہ عمل مطلقاً ناجائز ہے، اور روزے کا اجر وثواب ختم کرنے کا سبب  ہے، اس لیے اگر کسی شخص سے واقعۃً مذکورہ فعل سرزد ہوا ہے تو اسے سچی توبہ و استغفار کرے رہا  روزے کے فساد وعدمِ فساد کا سوال تو  اگر انزال ہونے کا  اپنے عمل کا دخل نہیں تھا صرف دیکھنے سے ہی انزال ہوگیا تو روزہ برقرار رہا فاسد نہیں ہوا۔*

*📖 در مختار میں ہے👇* 

*او قبل ولم ینزل او احتلم او انزل بنظر ولو الی فرجھا مرارا*

*📘 (کتاب الصوم الباب الاول ما یفسد الصوم وما لا یفسد المجلد الاول الصفحة 327 مطبوعہ دار الکتب د)*

*📖 الجوھرة النیرة ۔۔میں ۔۔۔ہے👇* 

*و ان  نظر إلى فرج امرأة فانزل لم یفطر*

*📙 (کتاب الصوم المجلد الاول الصفحة 167 مطبوعہ دار الکتب)*
*🚨 الحاصل اگر انزال صرف دیکھنے سے ہوا ہے اور اسمیں عمل کا بالکل دخل نہ ہو تو روزہ فاسد نہ ہوا اگر اس کے بر عکس ہے تو فاسد ہوگیا* 
 
*وَاللّٰـــهُ تَعـَــالـٰى اَعـــلَمُ بـــالصــــواب*
  
☆🕋☆▬▬▬ஜ۩🏵۩ஜ▬▬▬☆🕋☆
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــــہ؛*
*حضــــــرت مــولانــا محــــــمد ذيشـــان رضـــا القــادرى الــرضــوى صـــاحــب قبلــہ مــدظــلہ الـعــالـــی والــنــــورانــــی*
*شـــاه پــوری ضــلع مــرادآبــاد یـــــوپــــی [انــــڈیـــــا]*

*🗓 مؤرخہ 14/ رمضـــــان المبــــــارك ١٤٤١؁ھ*
*🗓 08/ مئـــی ٠٢٠٢؁ء  بــــروز جمعــــه*
*📡 +919756629871*
*رابطہ؛📞............⇧¸⇧*

*✅ الجوابــــــــ صحیــــح* *والمجیبــــــــ نجیــــــــح* 
*حضرت علامہ ومولانا محمد نعیــم خـان القـادری صـاحـب قبلـہ مـدظلہ العـالـی والنـورانـی خطیـب و امـام کـولھـا پـور مہاراشٹـر*

*✅ الجوابــــــــ صحیــــح* *والمجیبــــــــ نجیــــــــح* 
*حضرت عــلامــہ ومــولانــا مفتــی  محمـــد اصـغــــر علی القـادری رضــوی  صـاحـب قبلـہ مـدظلہ العـالـی والنـورانــــی*

☆🕋☆▬▬▬ஜ۩🏵۩ஜ▬▬▬☆🕋☆
           ┌━──✥─۞─❖─✰─❖─۞─✥─━┐
     *📚 تـــاج الــشريعـــه فــــقهى گــــروپ📚*
 ▒ ─━✧ ❖ ▣┄━ ☆ ━┄▣ ❖ ✧━─ ▒

*گــــروپ هــــذا مـــیں شــــامــــل ھـــونــے کیــــلئـے رابــــطه نمــــبر📞............⇩⇩*
*📡 +919756629871*
*📡 +919149057348*
☆🕋☆▬▬▬ஜ۩🏵۩ஜ▬▬▬☆🕋☆
*🖥 الـمــــــــرتـــــــب ؛*
*عبـــــداللطیفــــــ قــــادری بَڑا رَھُــــــوَّا بــــائسی پـــورنــیہ بہـــــــار انــــڈیــا* 
*رابــطــہ نمـــبـر📞⇩⇩⇩ 8294938262*  
📼💳📼💳📼💳📼💳📼💳📼

ہندوستان ‏کے ‏بینکوں ‏سے ‏ملنے ‏والا ‏نفع ‏جاٸز ‏ہے ‏یا ‏نہیں

*🕳️ہندوستان کے بینکوں سے ملنے والا نفع جائز ہے؟؟🕳️* 
*‭‮‭‮◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــ🩸🔮🩸ـــــــــــــــــــــــــ◆*
_*🌼اَلسَّــلَامْ عَلَیْڪُمْ وَرَحْمَةُ اللہِ وَبَرَڪَاتُہْ🌼*_
*💜الـســــوال💜*
_*📜👈ایک شخص کا بینک میں خاتا ہے اس میں جو پیسے ہیں جما ہیں ان پیسے پر جو بیاز ملتا ہے اس پیسے کو کیا کرے اور مجھے ایک بنیے کے وہاں بیاز بھی دینا ہے تو کیا کرے اس پیسے کو بنیے کو دے سکتے ہیں کم سے کم کتنے روپے میں زکوٰۃ نکال نا چاہیے کتنے روپے میں کتنی زکوٰۃ دیتے ہیں*_
_*✍️الســـاٸل:👈عبداللطیف کانپور*_   
*📞ٹیلیـــــگرام پر سنــی مسائل شـرعیـہ گـــروپ میں شـــــامل ہونے کے لــــئے👇نیــــچے دئے گــــئے لنـــک پر کلــــک کریں*
*https://t.me/Groupsr*
*‭‮‭‮◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــ🩸🔮🩸ـــــــــــــــــــــــــ◆*
_*🌼وعلیکم السلام ورحمتہ الله وبرکاتہ🌼*_
*📝الجــــــــواب: بعون الملک الوھاب👇*
*_✒️ہندوستان کے بینکوں سے ملنے والا نفع جائز ہے، سود نہیں ہے کیونکہ یہاں کے بینک کفار کے ہیں اور کافر حربی کا مال غیر محفوظ ہے ،سود کے لئے مال محفوظ ہونا شرط ہے، رہا بنئے کو سود دینا تو یہ جائز نہیں ہے - (احل الله البيع وحرم الربوا. اور جیسا کہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ نفع ہندوستان جیسے سیکولر اسٹیٹ اور دوسری غیر مسلم سلطنتوں میں ایک قسم کا مال مباح ہے جو اس کے مالک کی رضا سے بغیر کسی بد عہدی کے ملتا ہے وہ سود یا انٹرسٹ ہر گز نہیں لہذا اسے حاصل کرکے اپنے استعمال میں لانا جائز ودرست ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ اسے لیکر مسلم فقراء پر تصدیق کردیں. بات رہی ذکوۃ کی تو ساڑے باون تولہ چاندی یا ساڑے سات تولہ سونا یا اس کی قیمت (جو حوائج اصلیہ اور دیون سے فارغ ہوں) کا اگر کوئی مالک ہے تو اس پر ذکوۃ واجب ہے ....._*

*📓((جدید بینک کاری، صفحہ ٥٥))*

*🌀والله تعالیٰ اعلم بالصواب🌀*  
*‭‮‭‮◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــ🩸🔮🩸ـــــــــــــــــــــــــ◆*
*((✍️کتبـــــــــــــــــــــہ👇))* 
_*حضـــرت علامـــہ ومـــولانا محمـــد عبـــدالمصطفـــیٰ الضـــوی مصبـــاحـــی صـــاحـــب قبلـــہ مدظلـــہ العالـــی والنـــورانـــی۔:ســاکن لچھمـی پـور ضلع بدایوں شریف*_
*((گروپ ھٰذا میں ایڈ ہونے کے لیے رابطہ کریں👇))*
*📲+91 6397 942 877*
*‭‮‭‮◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــ🩸🔮🩸ـــــــــــــــــــــــــ◆*
*🖥️المشتـــــہروبانئی گروپ👇*
*مـحـمّـد رضـــا بـرکاتــی(نیپـــال)*
*مــدرسـہ الجــامـعتہ الـرضــویـہ مــناظــر الـعــلــوم  کانــپور اتــرپـردیــش (یوپی)*
*📞رابطہ نمبر 👇*
*📲+91 7237805032*
*‭‮‭‮◆ـــــــــ‭‮‭‮ــــــــــــــ🩸🔮🩸ـــــــــــــــــــــــــ◆*
 *🗓 (۱۴)👈رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ مطابق (۹)👈مئی ٠٢٠٢؁ء بروز👈 سنیچر*
*📔سنــی حنفـی فقہـی گـــروپــــــ📔*
*میں شامل ہونے کے لئے رابـــــطہ کریـــــں👇*
*📲+91 7237805032🪀*
*📲+91 97490 12752🪀*
*••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••*
        *📔سـنی حنفـی فقہـی گـروپ📔*
*••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••*

شیواجی یا ساٸ بابا کے پتلے پر ہار ڈالتے ہیں تو اس مسلمان کیلۓ کیا حکم ہے

*سوال ایسے مسلمانوں کے لیے کیا حکم ہیں جو شیواجی یا سائی بابا کے پتلے پر پھولوں کا ہار ڈالتے ہیں اور اس مسلمان کے لیے کیا حکم ہے جو اس میں صرف شامل ہوا اور لوگوں کے ساتھ فوٹو کھچوایا  مدلل جواب سے زیادہ عنایت فرمائیں*
*♦ســائـل:☜ محمد ہاشم رضا رضوی♦*

*◆◆ــــــــــــــــــــــــ★★★ــــــــــــــــــــــــــ◆◆*

*🌹الـجــــواب بعــــون المــــلک الـــوھــــاب🌹*
*مہاراج کے گلے میں ہار ڈالنا اور پاوں چھو کر سلام کرنا سخت حرام وگناہ ہے*
*سلام تو یوں ہی کسی کافر کو جائز نہیں مزید یہ کہ اس کا پاوں چھونا اور قبیح ہے یہ حکم اس صورت میں ہے کہ مہاراج سے مراد مندر کا پجاری یا کوئی زندہ انسان ہو*
*اور اگر مہاراج سے مراد بت ہو جو مندر میں پوجا کے لئے رکھا گیا ہے تو زید اسلام سے خارج ہوکر کافر و مرتد ہوگیا مشرک ہوگیا یہ حقیقت میں مورتی کی پوجا ہے*
*زید پر فرض ہے کہ فورا اس کفر سے توبہ کرے کلمہ پڑھکر پھر سے مسلمان ہو اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہو تو اس سے دوبارہ نکاح کرے*
*اور اگر زید توبہ تجدید ایمان ونکاح نہ کرے تو مسلمان زید سے میل جول سلام کلام بالکلیہ بند کردیں*
*مسجد میں گھسنے نہ دیں اور اسی حال میں مرجاے تو اس کی مردار لاش کےقریب نہ جائیں کفن دفن میں ہر گز شریک نہ ہوں اس کی نماز جنازہ ہرگز نہ پڑھیں*
*📚فتاوی شارح بخاری جلد دوم ص626*

*غیر مسلموں کے مذہبی میلوں جلوسوں میں شریک ہونا سخت حرام وگناہ ہے*
*بلکہ بعض صورتوں میں کفر ہے مثلا ان کا جتھا بڑھانے کی نیت سے شریک ہوایا ان کے کفری کاموں کو اچھا جانا تو کفر ہے اور اگر صرف تماشہ دیکھنے یا لہو ولعب کی نیت سے شریک ہواتو حرام وگناہ ہے*
*📚فتاوی شارح بخاری جلد دوم ص536*

*🌹واللہ تعــــالـــٰی اعـــلم بــالـصـــــواب🌹*
*✧✧✧ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*
*🕋اعـــلیٰ حـضـــرت زنــدہ بــاد گــــروپ🕋*
*🕋بتاریخ:(17)اپریل: بروز بدھ(2019)🕋*
*✧✧✧ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ✧✧✧*

*📝شــــــرف قلــــــم📝*
*حضرت علامہ مولانا محمد اسماعیل خان امجدی رضوی گونڈوی صاحب قبلہ مدظلہ والنورانی*
*دارالعلوم الجامعة القریش نوری نگر نزدخالدبن ولید مسجد شانتی نگر بھیونڈی ممبئ*
*رابطہ:👈🏻https://wa.me/+919918562794*

*🖥المشتہــــــر🖥*
*حضرت حافظ محمدعارف رضوی قادری انٹیاتھوک بازار ضلع گونڈہ یوپی الھنـــــد*
*رابطہ:👈🏻https://wa.me/+918795487820*

ولادت حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ تعالی عنہ

*15 رمضان المبارک، یوم ولادت حضرت امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ*


کریم ابن کریم ، سید ابن سید ، مولی ابن مولی ، شبیہہ مصطفے  ، راکب دوش مصطفے ، سیدالسادات، امیر المومنین حضور پر نور سرکار *سیدنا امام حسن مجتبی* علی جدہ الکریم وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔
◇ جنتی جوانوں کے سردار۔
◇ عکس جمال مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم-
◇ صبر و رضا کے پیکر۔
◇ شہید حق-
◇ قمر بنی ہاشم-
◇ سخاوت جن پہ ناز کرتی ہے-
◇ شجاعت ان کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔
زیادہ سے زیادہ ایصال ثواب کی ترکیب کیجئے۔
*15/رمضان المبارک یوم ولادت حضرت امام حسن مجتبی رضی اللہ عنہ*
*************************
*نام ونسب* اسمِ گرامی:حسن
*کنیت* ابو محمد۔القاب:تقی،نقی، زکی، سید شباب اہل الجنۃ، سبطِ رسول، مجتبیٰ،جواد،کریم،شبیہ الرسول،ریحانۃ النبی۔
*سلسلہ نسب*
 امام حسن مجتبیٰ بن علی المرتضیٰ بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدِ مناف الیٰ آخرہ
*والد* سیدالاولیاء، رضی اللہ عنہ۔
*والدہ* سیدۃ النساء،سلام اللہ علیہا۔
*نانا* سیدالانبیاءﷺہیں۔ تاریخِ ولادت: بروز منگل 15/رمضان المبارک 3ھ،مطابق فروری/625ءکو مدینۃ المنورہ میں پیداہوئے۔سرورِ کونین ﷺ کو خوشخبری دی گئی۔آپ فواً تشریف لائے داہنے کان میں آذان،اور بائیں کان میں اقامت،گھٹی میں لعابِ دہن عطا ء کیا۔یہی وجہ  ہے کہ شہزادہ  جنت کاسردارہوا۔
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما فرمایا کرتے تھے:"واللہ ماقامت النساء عن مثلِ الحسن بن علی"۔اللہ کی قسم کسی عورت  نے حسن بن علی کی مثل بچہ نہیں جنا۔(البدایہ والنہایہ)


*سیرت وخصائص*
سیدالاسخیاء، امام الاولیاء، صاحبِ جودو سخا، نورِ نظر سیدۃ النساء،جگرگوشۂ علی المرتضی،راکب دوشِ مصطفیٰﷺ ،امام المسلمین حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ۔آپ بڑےحلیم،سلیم، رحیم،کریم، متواضع، منکسر، صابر،متوکل اور با وقار تھے،زہد و مجاہدۂِ نفس میں مشغول رہتےتھے۔ آپ سرورِ عالمﷺ کے فرمان کےمطابق آخری خلیفۂِ راشد ہیں۔حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سر سے سینہ تک رسول اللہ ﷺ کے بہت زیاد مشابہ تھے،اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سینے سے نیچے تک بہت زیادہ مشابہ تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدہ فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا اور امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ سے کوئی بھی مشابہ نہ تھا۔آپ نے پچیس حج پیدل کیے حالانکہ اعلیٰ نسل کے اونٹ اور گھوڑے  دروازےپرموجودہوتے تھے۔بہت سخی تھے۔کئی مرتبہ اپنے گھر کاسارا سامان اللہ  راہ میں تصدق کردیا۔یتیموں،مسکینوں ،اور بیواؤں کی کفالت نصب العین تھا۔


*سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی امام حسن رضی اللہ عنہ سے محبت*
حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ آپ نے امام حسن کو اٹھایا ہواہے۔وھویقول بابی،شبیہ بالنبی لیس شبیہ بعلی۔وعلی یضحک۔ترجمہ:آپ فرمارہے تھے۔میرےماں باپ قربان۔(اے حسن!)تم رسولِ خدا کے مشابہ ہو ،اور علی کے مشابہ نہیں،اور یہ (سن کر )حضرت علی رضی اللہ عنہ  ہنس پڑے۔(صحیح البخاری،فی مناقب ِ حسن وحسین:187) عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:ارْقُبُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ۔ ترجمہ: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ سرورِ عالمﷺکی خوشنودی آپ کی اہلِ بیت کی محبت میں ہے۔(ایضاً)


*سیدنا فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کی امام حسن سے محبت*
حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضرات حسنین کریمین کا بے حد احترام کرتے تھے۔ان کاوظیفہ  تمام صحابہ ٔ کرام کے فرزندوں سے زیادہ  مقررکیاتھا۔بدری صحابہ کے فرزندوں کاوظیفہ دوہزارتھا۔مگر حسنین کریمین کا وظیفہ پانچ ہزارتھا۔(مناقبِ اہلِ بیت:406)


ایک مرتبہ سیدۃ النساء حضرات حسنین کریمین کو سرورِ عالم ﷺکے پاس  لے کر آئیں،اور عرض کیایارسول اللہﷺ!میرے ان دونوں بچوں کو کچھ عطا فرمائیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اما الحسین فلہ ھیبتی وسوددی ،واماالحسین فلہ جرأ تی وجودی۔یعنی حسن کوہیبت اور سرداری عطا کی ہے،اور حسین کو  شجاعت اور فیاضی عطا کی ہے۔(مناقبِ اہلِ بیت:404)
 رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:من احبنی فلیحبہ ،فلیبلغ الشاہد منکم الغائب۔(ذخائرالعقبیٰ :123) رسول اللہ
ﷺ نے ارشاد فرمایا: من سرہ ان ینظر الیٰ سید شباب اہل الجنۃ  ،فلینظر الی الحسن۔(الصواعق المحرقہ:192)


*حضرت امام حسن کی خلافت*
حضرت مولا علی کی شہادت کے بعد رمضان المبارک 40ھ میں مسلمانوں نے حضرت امام حسن کے دستِ حق پرست پر بیعت کی ۔جب یہ خبر والیِ شام تک پہنچی انھوں نے لشکر کشی کا ارادہ اور ساٹھ ہزار افراد کا لشکر لے کر عراق فتح کرنے کے لئے نکلے،اور ادھر حضرت امام حسن کو جب یہ خبر پہنچی کہ شام سے ایک لشکر آرہا ہے،تو آپ دفاع کے لئے ایک لشکر لے کر روانہ ہوئے ،اور مقامِ مسقف،مدائن میں لشکر ٹھہر گیا،فوج نے یہ گمان کرلیا تھا کہ آپ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے ۔جب آپ سے اس امر میں تصدیق کی گئی تو آپ نے فرمایا!"مجھے مسلمانوں کا اتحاد،اور ان کی خوشحالی،اور ان کی جان واموال،اور ان اکی آپس میں صلح پسندی  بہت محبوب ہے"۔آپ کے ان ارشادات سے آپ کی فوج میں اختلاف ہوگئے۔آپ بہت باوقار اور نہایت ہی بردبار شخصیت کے مالک تھے۔جذباتیت وانانیت نام کی کوئی چیز آپ کےپاس بھٹکی بھی نہ تھی۔ آپ نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی اور خلافت سے دستبردار ہوگئے۔ہزاروں مسلمانوں کی قیمتی جانیں بچالیں،اور اپنے نانا جان کے فرمانِ عالیشان کے مصدق ہوئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انّ ابنی ھٰذا سیّد ولعلّ اللہ ان یصلح بہٖ بین فئتین عظیمتین من المسلمین۔ (بخاری۔حدیث:2704)
ترجمہ: یہ میرافرزند سید ہےجس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کےدوبڑے گروہوں کے مابین صلح کرادے گا۔
جب آپ خلافت سے دستبردار ہوگئےتو آپ کے بعض (جذباتی)ساتھی کہنے لگے۔"یاعارالمسلمین" آپ  نے برجستہ  جواب دیا!"العارخیرمن النار"۔ ان جملوں میں آج امتِ مسلمہ کے قائدین کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔اقتدار کی جنگ میں لاکھوں مسلمانوں  کاخون ضائع ہورہا ہے۔عدمِ اتفاق کی وجہ سے آج امتِ مسلمہ زبوں حالی کاشکار ہے۔شاطر دشمن انتشار کے ذریعے امتِ مسلمہ کو تباہ وبرباد کررہاہے،اور مسلم حکمران عیاشیوں میں مصروف ہیں۔کاش!یہ حکمران حضرت امام حسن کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اتحادوامن کے داعی بن جائیں،اور ہمیشہ کے لئے امر ہوجائیں۔


*تاریخِ شہادت*
شہادت کے سن اور تاریخ میں بڑا  اختلاف ہے۔صحیح قول کے مطابق 28/صفرالمظفر49ھ ،ہے۔آپ کی شہادت زہرخورانی سے ہوئی۔زہر کس نے دیا تاریخ اس بارے میں خاموش ہے۔باقی سب قیاس آرائیاں اور روافض کی ملمع سازیاں ہیں۔آپ کی قبرِانور جنت البقیع میں ہے۔

Thursday, May 7, 2020

اعتکاف کی روحانی برکتیں او لاک ڈاٶن

اعتکاف کی روحانی برکتیں اور لاک ڈاؤن

تحریر: مفتی عبدالمبین نعمانی قادری
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ گزرنے والا ہے۔اس کے بعد تیسرا عشرہ  جو عشرہ اعتکاف کے نام سے بھی جانا جاتاہے،آنے والا ہے۔ اس عشرے میں ہمارے بہت سے خوش نصیب بھائی اعتکاف کی نیت سے اپنے کو اللہ کے گھر میں  قید کر لیتے ہیں۔ وہیں رہنا، وہیں سونا،وہیں کھانا،وہیں پینا اور ضروریات کے علا وہ سارا وقت اللہ کی عبادت میں گزارنا ان کا مقصود ہوتا ہے۔ اور ان سب میں ان کا مطلوب اللہ کی رضا و خوشنودی ہی ہوتی ہے۔
  افسوس ہے ان بستیوں پر  جہاں کوئی ایک فرد بھی اللہ کے لیے صرف دس روز کے اعتکاف کا وقت نہیں نکالتا۔ جس سے کہیے وہ یہی کہتا ہے ہمیں فرصت نہیں۔ہمیں بہت کام ہے۔ میں کسی طرح دس دن نہیں بیٹھ سکتا۔ جب کہ ہمارے یہاں اکثر گھر ایسے ہیںکہ ایک ہی نہیں کئی کئی آدمی گھریلو کام کے لیے موجو دہوتے ہیں، ان میں ایک آدمی اگر اللہ کے لیے مسجد میں بیٹھ رہے تو اس سے ان کے گھریلوکام میں کچھ فرق نہیں آئے گا اور ڈھیروں ثواب کے مستحق بھی ہوں گے۔ایک حدیث پاک میں آیا ہے کہ ـ’’جس نے رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف کیا گویا اس نے تمام نیکیاں کیں ‘‘۔ (سنن ابن ماجہ،حدیث 1781)
  ایک دوسری روات میں آیا ہے’’جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کر لیا تو ایسا ہے جیسے دو حج اور دو عمرے کیے‘‘۔(شعب الایمان /جامع صغیر سیوطی،ص516،حدیث نمبر8479)
  حیرت ہے کہ جہاں ایک آدمی کو بھی اعتکاف کی فرصت نہیں ہوتی وہیں جب رمضان کا مہینہ گزرجاتا ہے اور خوشیوں بھری عید آتی ہے تواکثر  لوگ ہفتہ ہفتہ بھر کے لیے سیر و تفریح میں اور دوست احباب کی ملاقات کے لیے باآسانی نکل پڑتے ہیں۔اب نہ انھیں کوئی عذر ہوتا ہے اور نہ کوئی پریشانی لاحق ہوتی ہے۔دوست احباب سے ملنے کا اتنا شوق اور رب العالمین کی بارگاہ میں حاضری اور ا س کا قرب تلاش کرنے کے لیے ہی ہمارے یہاں ساری عدیم الفرصتی اور پریشانی آڑے آجاتی ہے۔
  اس سال (2020ء /1441ہجری)میں جب کہ کورونا وائرس (ایک مہلک بیماری)کی وجہ سے دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاؤن (تالابندی)کر دی گئی ہے۔ہمارا ہندوستان بھی اس میں پیچھے نہیں ہے۔ایسے وقت میں دیکھا جاتا ہے کہ اکثر افراد جو ڈیوٹی والے ہیں یا عام کاروباری لوگ یا تعلیمی اداروں سے جڑے افراد،پورے طور سے چھٹی منا رہے ہیں اور گھروں میں خالی بیٹھے ہیں، بہت کم ہی لوگ ہوں گے جو سبزی غلے یا میڈیکل سے متعلق ہیں وہی کچھ کام دھام  میں لگے ہوئے ہیں۔ورنہ اکثر لوگ فرصت ہی میں ہیں لہٰذا ایسے وقت تو کسی کو بہانا بنانے کی بھی گنجائش نہیں کہ ہمیں فرصت نہیں،لہٰذا ہماری مسجدیں اس سال تو اعتکاف کی روحانی برکتوں سے خالی نہ رہیں۔اور خدا کرے اس لاک ڈاؤن کی فرصت سے سبق لیتے ہوئے آئندہ بھی ہماری مسجدیں اعتکاف کرنے والوں سے خالی نہ رہنے پائیں۔ ہاں اس بات کا ضرور خیال رہے کہ مسجدوں میں زیادہ لوگوں کا جمع ہونا حکومت کی طرف سے سخت منع ہے، اس لیے ایک مسجد میں ایک سے زیادہ لوگ اعتکاف میں نہ بیٹھیں۔اسی میں ہماری سلامتی ہے اور عزت وآبروکی حفاظت بھی۔
  رمضان کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی پوری آبادی میںکسی ایک مسلمان نے اعتکاف کر لیا تو سب لوگ بری الذمہ ہو جائیں گے اور اگر کسی نے نہ کیا تو سب سے مواخذہ ہوگا۔لہٰذا ایسی عظیم الشان عبادت کے لیے ہمارے اندر ذوق و شوق اور دینی جذبہ بیدار ہونا چاہیے۔بڑے خوش نصیب ہیں وہ علاقے جہاں کئی کئی افراد بیک وقت اعتکاف کی سعادت سے شادکام ہوتے ہیں۔اب ذیل میں اختصار کے ساتھ چند احتیاطیں اور اہم مسائل جو اعتکاف سے متعلق ہیں پیش کیے جاتے ہیں، انھیں بغور ملاحظہ کرکے عمل میں لایا جائے۔ 
  اعتکاف کرنے والا ایک ہو یا بہت سے ہوں ، ان کو چاہیے کہ مسجد میں اعتکاف کی حالت میں دنیاوی اور غیر ضروری باتوں سے پرہیز کریں۔ہنسی،ٹھٹھا،مذاق نہ کریں۔مسجد میں شور و غوغا بالکل نہ کریں۔گالی گلوج اور فحش کلامی سے بچنا تو بہت ضروری ہے کہ اس سے اعتکاف اور روزہ دونوں مکروہ ہو جاتے ہیں اور ایسا کرنا گنا ہ بھی ہے۔کھانے پینے میں زیادتی نہ ہو کہ پیٹ خراب ہوجائے اوردیگر پریشانیاں یا بیماریا ں قریب آئیں اور پھر عبادت وتلاوت میں بھی فرق آجائے۔اعتکاف میں کم  کھانے اور کم بولنے اور کم سونے پر بہ طور خاص عمل کریں کہ یہ حکمت و روحانیت کا سرچشمہ ہے۔مسائل دینیہ شرعیہ سیکھیںکہ یہ سب عبادتوں سے بڑھ کر عبادت ہے۔اس کے لیے علما سے رابطہ کریں اور ان سے استفادہ کریں۔خود علما بھی ایسے مواقع پر عوام الناس کو دین کی باتیں بتانے میں خاص دلچسپی لیں اور وقت دیں کہ یہ دونوں کے لیے باعث سعادت اور موجب اجر ہے۔اور پڑھے لکھے افراد دینی کتابوں سے استفادہ کریں،خاص طور سے بہار شریعت یا قانون شریعت کو ضرور اپنے مطالعے میں رکھیں۔موبائل سے بالکل اجتناب کریںکہ یہ دنیاوی روابط کو بڑھاوا دینے والا اور اعتکاف کے لیے بہت ہی مضر ہے۔سخت ضرورت پر کبھی استعمال کر لیا تو حرج نہیں۔وہ عالم اورمفتی حضرات  جو اکثر اوقات مسائل شرعیہ بتانے میں مشغول رہا کرتے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔
  دوست احباب کی بھیڑ جمع نہ ہونے دیں ،اور دوسرے لوگ بھی معتکف کے پاس غیر ضروری  وقت نہ گزاریں۔ کسی ضرورت سے جانا ہو تو ضرورت پوری کرکے فوراً ان سے جدا ہو جائیں۔ اسی میں دونوں کے لیے بھلائی ہے۔ معتکف علما ہوںتو علمی و دینی استفادے کے لیے ان کے پا س بیٹھنے میں حرج نہیں بلکہ بہت مفیداور باعث ثواب ہے۔
غیر معتکف حضرات سے چند گزارشات:
  معتکف ایک ہو یا متعدد، دیگر حضرات ان کی خدمت کو اپنی سعادت تصور کریں۔ان کی ضروریات کی حتی الوسع تکمیل میں کوشاں رہیں کہ یہ بھی بڑے ثواب کا کام ہے۔
   دوسرے اسلامی بھائی اور انتظامیہ مساجد کے افراد بھی ان معتکفین کی ضروریات اور سہولیات کا خاص خیال رکھیںکہ اعتکاف کی برکتوں سے انھیں بھی مالاہونے کا یہ ایک حسین موقع ملتا ہے جو سال بھر میں پھر کبھی ہاتھ آنے والا نہیں۔ قرآن پاک میں آیا ہے کہ  
  ترجمہ: نیکی اور تقویٰ پر ایک دوسرے کی مددکرو، گناہ اور سرکشی پر مدد نہ کرو۔(مائدہ ۵،آیت نمبر ۲)
  اعتکاف کرنے والو ں کو بھی چاہیے کہ اپنے مقصد پر ہر وقت نظر رکھیں اور سوچیں کہ وہ دنیا کو چھوڑکر دس روز کے لیے کیوں خانہ خدا میں گوشہ نشین ہو ئے ہیں۔ ان کے اندر بھی عملی اور روحانی انقلاب آنا چاہیے۔ اگر ان کے اندر کوئی بری عادت تھی تو وہ دور ہوجانی چاہیے،ورنہ گناہ تو ہر جگہ گناہ ہوتاہے۔ اللہ کے گھر میں گناہ کا مواخذہ اور بڑھ جاتا ہے۔کہیں ایسانہ ہو کہ آپ نیکی اور ثواب کمانے آئے تھے الٹے گناہ کا بوجھ سرپرلاد کر لے جائیں۔ 
   اللہ عزوجل ہمیں اعتکاف کے روحانی اور اسلامی پروگرام پر عمل کرنے اوراس کی برکتوں سے مالا مال ہو نے کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین

Tuesday, May 5, 2020

روزہ صحت کا ضامن ہے

fasting-guarantee-health 70
روزہ صحت کا ضامن ہے
  admin مئ 2, 2020 0 تبصرے
🌹روزہ صحت کا ضامن ہے🌹
ازقلم: مفتی محمد عبدالمبین نعمانی قادری
محسن انسانیت تاجدار رسالت علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان عالی شان ہے ؛’’صُوموا تَصِحُّوا‘‘۔(ترغیب وترہیب منذری۲/۸۳)
ترجمہ: روزہ رکھو صحت یاب رہوگے۔
اس سے صاف واضح ہے کہ روزہ صحت کاباعث ہے۔اطبا اور حکما بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ روزہ صحت جسمانی کا ضامن ہے۔روزے کاحکم دے کر رب کائنات عزوجل نے اپنے بندوں پر بڑا کرم فرمایا ہے۔سال بھر بندے خوب ڈٹ کر کھاتے پیتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کو دعوت دے لیتے ہیں۔سال میں ایک ماہ کا روزہ ان بیماریوں کا بہترین علاج ہو جاتا ہے۔ معدے کی خوب اچھی طرح صفائی ہو جاتی ہے۔بہت سے مضر اور زہریلے مادے بدن سے خارج ہو جاتے ہیں۔
آج کل ڈپریشن اور ٹینشن کا مرض بھی عام ہے۔ روزے میں ان امراض کا بھی علاج ہے۔روزہ آدمی کو پرسکون بناتاہے۔صبح سویرے اٹھنے کا عادی بناتا ہے۔غروب آفتاب کے وقت روزے داردنیا و مافیہا کو بھول کو اپنے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہو کر افطار کی تیاری میں لگ جاتا ہے۔اور صحیح وقت ِافطار پر اس کی توجہ پورے طورپرمرکوز ہوجاتی ہے اور اس وقت جو خوشی حاصل ہوتی ہے، وہ دل کی بیماریوں کا علاج ہے۔حدیث میں بھی آیا ہے کہ روزے داربندے کو دو خوشیاں حاصل ہوتی ہیں ایک افطار کے وقت ،دوسری لقاے رحمٰن کے وقت اور خوش رہنے والا آدمی کبھی دل کی بیماریوں میں مبتلا نہیں ہوتا۔
ہمدرد دواخانے کے بانی حکیم عبدالحمید دہلوی کے برادرِ خرد جناب حکیم محمد سعید صاحب جو پاکستان کے ہمدرد فاؤنڈیشن کے بانی ہیں۔وہ روزے کے طبی فوائد پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں ؛
’’وہی قادر مطلق جس کے حکم کی آپ تعمیل کرتے ہیںاور روزہ رکھتے ہیں، آپ کو کھانے پینے کی پوری آزادی دیتا ہے مگر ایک حد کے ساتھ کہ اسراف نہ کرو اس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم اتنا نہ کھائیں کہ وہ ایک طرف اسراف کی تعریف میں آجائے اور دوسری طرف ہمارے جسم اور ہماری روح کے لیے سبب علالت بن جائے۔ہم جب بھی ضرورت سے زیادہ کھائیں گے ہمارا جسم اور اس کا نظام اسے قبول نہیں کرے گا اور وہ ضائع ہوگا۔
رمضان میںقدرت کی نعمتوں سے بے حساب متمتع(یعنی نفع اندوز)ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا ہے ہم صرف اپنے اقتصادی نظام کو متاثر کر لیں۔بلکہ اپنے لیے اکل وشرب کا زائداز ضرورت و حیثیت سامان مہیا کر کے اپنے لیے نئے مسائل پیدا کر لیں۔وہ لوگ جو بے حساب نعمتوں سے بے حساب متمتع ہونے کے اہل ہیں ان کو اپنے پڑوس اپنے معاشرے کو ضرورد یکھنا چاہیے کہ کوئی فاقہ تو نہیں کر رہا ہے۔
میری راے میں رمضان شریف میں افطار و سحر کے جو اہتمام و انتظامات لوگ کرتے ہیں وہ اس ماہ مبارک کی روح اور اسپرٹ کے خلاف ہے۔کھانے پینے میں تنوعات کثیرہ ( قسم قسم کی چیزیں ) نقصان دہ ہیں۔
افطار میں ہم عموماً جتنا کھالیتے ہیں اور رات کے کھانے سے جو شکم پری کر لیتے ہیں اور پھر صبح سحری میں جو لوازمات ہم کرتے ہیں وہ کھانے پرکھانے کی تعریف میں آتے ہیں اورقطعی طور پرہماری جسمانی ضرورت وحاجت سے زیادہ ہیں۔ہمیں اس کاحساب کرناچاہیے۔‘‘(ماہنامہ ضیاے حرم لاہور،ص۴۱،۴۲ مئی۱۹۸۶ء)
کتنی سچی اور سیدھی باتیں حکیم صاحب نے فرمائی ہیں، جو دلوں میں بھی اترتی جاتی ہیں اور عمل کی بھی دعوت دیتی ہیں۔واقعی قسم قسم کے کھانوں اور طرح طرح کی افطاریوں نے ہمیں اپنا گرویدہ بنا لیا ہے یا ہم خود ان کے دلدادہ ہوگئے ہیں۔ہم نے سوچ لیا ہے کہ دن بھر تو بھوکے رہتے ہی ہیں ،اب رات میں جتنا ہوسکے کھا لیں،جو جو ہو سکے استعمال کر لیں ہمیں صرف کھانے کی فکر ہوتی ہے،پیٹ خراب رہے یا ٹھیک ،اس کی طرف ذرا توجہ نہیںکرتے۔افسوس ہے ہم انسان اور اشرف المخلوقات ہوکر بھی جانوروں سے سبق نہیں لیتے کیوں کہ چوپاے اور دوسرے جانوروں کا حال یہ ہے کہ جب ان کا پیٹ بھر جاتا ہے توکھانے سے منہ موڑ لیتے ہیں اور ہم ہیں کہ کھانے پر کھانے میں کوئی تکلف نہیں کرتے۔یقیناً جولوگ ماہ رمضان میں بھی بیمار اورپیٹ کے طرح طرح کے عوارض کے شکار ہو جاتے ہیں اس میں ضرور ہماری بے اعتدالیوں کو دخل ہے۔حکیم محمد سعید صاحب رمضان شریف میں اپنی غذا اور احتیاط کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں اور ہمیں دعوت عمل دیتے ہیں۔
’’میں ذاتی طور پررمضان المبارک میں گزشتہ ۳۶ سال سے افطار کے وقت مروجہ افطاری یعنی دہی بڑے ،دال سموسے،پھلکیاں ،چٹنیاں ،قلمی بڑے ،آلو کچالو وغیرہ کچھ نہیں کھاتا ہوں۔ میرا معمول یہ ہے کہ میں کھجور سے روزہ افطار کرتاہوںاور اگر ممکن ہوتاہے تو لیموں یا کسی پھل کا ذرا رس پی لیتاہوںیا کوئی اچھا شربت پی لیتا ہوں۔نماز مغرب سے فارغ ہوکرناشتہ کر لیتا ہوں یعنی ایک گلاس دودھ،ذرا سی ڈبل روٹی بغیر مکھن کے ،گاہے انڈااور بس۔
سحری میں معمولی سادا کھاناکھاتا ہوں۔ گھی کی روٹی اور چاول رمضان المبارک میں، میں ترک کر دیتا ہوں۔ میں اس معمول پر۳۵،۳۶سال سے کاربند ہوں اور مجھے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔
شاید میںغلطی نہیں کروں گا اگرسب کو ایسا ہی کرنے کا مشورہ دوں۔یقین کرنا چاہیے کہ ایسا کرنے سے صحت کو کو ئی نقصان نہیں پہنچے گا اس کے بر عکس اس میں جسم اور روح دونوں کا فائدہ ہے۔پھر دیکھیے کہ تراویح اور تہجد میںکیامزہ آتا ہے۔یہ نماز ہوئی کہ رکوع کرتے ہیں توحلق میں پانی اچھل کر آرہاہے۔اور سجود میں غذا جیسے باہر نکلنی چاہتی ہو۔
آج جدید سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ روزہ کولیسٹرول کوضائع کرتا ہے۔یہ وہی خون کا کولیسٹرول ہے جو دل کی بیماریوں کا سب سے بڑا سبب ہے۔ آج کی دنیا میں اس سائنسی انکشاف کے لحاظ سے روزہ ایک برکت ہے۔ جو بات آج سائنس کو معلوم ہوتی ہے اس کا ادراک ذات ختم الرسل فداہ ابی وامی وروحی کو تھااور ضرور تھا اس لیے حضور نے روزے کو جسم اور روح کے لیے باعث خیر وبرکت قرار دیا ہے اورمسلمانوں کو اعتدال اورمیانہ روی کی تلقین فرمائی ہے۔‘‘(ایضاً)
بعض ڈاکٹر لوگ شوگر کے مریضوں کو روزہ ترک کردینے کا مشورہ دیتے ہیںجوصحیح نہیں۔ ہالینڈ کے ایک ڈاکٹر ایلف گال کا کہنا ہے’’میںنے شوگر،دل اور معدے کے مریضوں کو مسلسل تیس دن روزے رکھوائے تو شوگر کنٹرول ہوگئی۔دل کی گھبراہٹ میں افاقہ ہو گیا اور معدے کے مریضوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔(فیضان رمضان،ص ۱۰۷)
شوگر والوں کوکچھ زیادہ ہی اعتدا ل سے کھانے پینے پر عمل کرنا چاہیے۔چھنی تلی اور ثقیل غذاوں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے پھر بھی تھوڑی تکلیف ہو تو اس کو برداشت کرنیکی کوشش کرنی چاہیے۔آخر روزہ بھوکوں پیاسوں کی تکالیف کا احساس دلانے کے لیے ہی تو فرض کیا گیا ہے۔تاکہ غربا و مساکین اور مشکلات میںگھرے اللہ کے ان بندوں کی بھوک پیاس اور مشکل یاد آجائے جو مجبوراً بھوکے پیاسے رہتے ہیں۔
یہی بھوک پیاس کی تکلیف برداشت کرنا باعثِ صحت ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔گویاروزہ روحانی وجسمانی دونوں طرح کے فوائد وبرکات کا جامع ہے۔اور کھانے مین اعتدال کا درس تو قرآن نے دیا ہے۔ باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔
’’اور کھاؤ اور پیو اور حد سے نہ بڑھو،بے شک حد سے بڑھے اسے پسند نہیں۔(سورہ اعراف :۷/۳۱)
مفسر قرآن حضرت صدرالافاضل مرادآبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ؛
’’اورا سراف یہ ہے کہ سیر (آسودہ) ہو چکنے کے بعد بھی کھاتے رہو۔‘‘(خزائن العرفان)
اس آیت پر ہمیں رمضان اور غیررمضان ہمیشہ عمل کرنا چاہیے اگر ایسا کریں توہم بیماریوں سے کوسوں دور ہو جائیں گے لیکن افسوس کہ ہم رمضان المبارک میں دن بھر تو خوب صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن افطار کے بعد ہم اعتدال و میانہ روی کی ساری حدوں کو پار کر جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں نقصان اٹھا نا پڑجا تا ہے اور روزوں کی برکت اور صحت کے بجاے بیماری مول لیتے ہیں۔مولیٰ تعالیٰ ہمیں کھانے پینے میں اعتدال و میانہ روی کی روش پرچلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

مفتی محمد عبدالمبین نعمانی قادری
چریاکوٹ ضلع مئو،یوپی
9838189592

Sunday, April 19, 2020

حضور ﷺ کو حاضر و ناظر ماننا کیسا ہے

اللہ پاک نے اپنے پیارے حبیبِ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو بےشُمار کمالات  عطا فرمائے ہیں جن میں سے ایک حاضِر و ناظِر ہونا بھی ہے۔

حاضِرو ناظِر کا مطلب حاضِر و ناظِر ہونے کا معنیٰ یہ ہے   کہ قُدسی ( یعنی اللہ کی دی ہوئی) قوت والا ایک ہی جگہ رہ کر تمام عالَم (یعنی سارے جہان، زمین و آسمان، عرش و کرسی، لوح و قلم، ملک و ملکوت) کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح دیکھے اور دُور و قریب کی آوازیں  سُنے یا ایک آن (لمحہ بھر) میں تمام عالَم کی سیر کرے اور سینکڑوں مِیل دُور حاجت مندوں کی حاجت رَوائی کرے۔ یہ رفتار خواہ رُوحانی ہو یا جسمِ مثالی کے ساتھ ہو یا اسی مبارک جسم سے ہو جو قَبْر میں  مَدفون ہے۔(جاء الحق،ص116ملخصاً)

ضروری وضاحت ہمارا یہ دعویٰ ہرگز نہیں ہے کہ حُضُورِ اکرم، نبیِّ مکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ظاہری جسمِ اَقْدس ہر ہر جگہ موجود ہے،البتّہ حُضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیک وقت ایک سے زائد مقامات پر جلوہ فرما ہوسکتے ہیں۔(من عقائد اہل السنۃ، ص318ملتقطاً)

حاضِرو ناظِرکے مفہوم کو ایک مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح آسمان کا سورج اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر ہے لیکن اپنی روشنی اور نورانیّت کے ساتھ روئے زمین پر موجود ہے اسی طرح (بلاتشبیہ) آفتابِِ نبوت، ماہتابِِ رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اپنے جسمِ اَقْدس کے ساتھ مدینہ شریف میں  اپنے مزارِ پُراَنوار میں موجود ہیں لیکن ساری کائنات کو  یوں دیکھتے ہیں جیسے ہاتھ کی ہتھیلی کو،نیز اُمّتیوں کےاعمال کو دیکھتے ہیں اور اللہ کے حکم سے تصرُّف بھی فرماتے ہیں۔

آیتِ قراٰنی اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:(اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸)) تَرجَمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضر و ناظر اور خوشی اور ڈر سناتا۔(پ26، الفتح:8)(اس اٰیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)


تفاسیر (1)حضرت علّامہ علاء الدّين علی بن محمد خازِن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے پیارے حبیب! بے شک ہم نے آپ کو اپنی اُمّت کے اَعْمال اور اَحْوال کا مُشاہَدہ فرمانے والا بناکر بھیجا تاکہ آپ قِیامت کے دن ان کی گواہی دیں اور دنیا میں  ایمان والوں اور اطاعت گزاروں کو جنّت کی خوشخبری دینے والا اور کافروں، نافرمانوں  کو جہنّم کے عذاب کا ڈر سنانے والا بناکربھیجا ہے۔(تفسیرخازن، پ26،الفتح، تحت الآیۃ:8،ج 4،ص146)

(2)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:بیشک ہم نے تمھیں بھیجا گواہ اور خوشی اور ڈر سناتا کہ جو تمہاری تعظیم کرے اُسے فضلِ عظیم کی بَشارت دو اور جو مَعَاذَ اللہ بے تعظیمی سے پیش آئے اسے عذابِ اَلیم کا ڈر سناؤ، اور جب وہ شاہد وگواہ ہوئے اور شاہد کو مشاہدہ درکار، تو بہت مُناسِب ہوا کہ اُمّت کے تمام افعال و اقوال و اعمال و احوال اُن کے سامنے ہوں۔(اور اللہ  پاک نے آپ کو یہ مرتبہ عطا فرمایاہے جیساکہ) طبرانی کی حدیث میں  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم فرماتے ہیں:اِنَّ اللہ رَفَعَ لِیَ الدُّنْیَا فَاَنَا اَنْظُرُ اِلَیْھَا وَاِلٰی مَا ھُوَ کَائِنٌ فِیْھَا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ کَاَنَّمَا اَنْظُرُ اِلٰی کَفِّیْ ھٰذِہٖ بے شک  اللہکریم نے میرے سامنے دنیا اٹھالی تومیں دیکھ رہا ہوں اُسے اور جو اس میں قِیامت تک ہونے والا ہے جیسے اپنی اس ہتھیلی کو دیکھ رہا ہوں۔(کنز العمال، جز:11،ج 6،ص189، حدیث:31968، فتاویٰ رضویہ،ج 15،ص168ملخصاً)

آیتِ قراٰنی اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:( وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ-) تَرجَمۂ کنزُ الایمان:اور یہ رسول تمہارے نگہبان و گواہ۔(پ 2، البقرۃ:143)(اس اٰیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)


اس آیت کی تفسیر میں حضرت سیّدُنا امام ابنِ جَرِیر طَبَری رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت سیّدُنا ابوسعید خُدْری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًاؕ--بِمَا عَمِلْتُمْ اَوْ فَعَلْتُمْ یعنی تم جو جو اعمال و افعال کرتے ہو رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُن سب پر گواہ ہوں گے۔(تفسیر طبری، پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ:143،ج 2،ص10، حدیث:2186)

احادیث مبارکہ: نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے کثیر فرامین میں ”حاضِر و ناظِر“ کا مفہوم موجود ہے مثلاً (1)حضرت سیّدُنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک اللہ پاک  نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا تو میں   نے اس کے مشرقوں اور مغربوں (یعنی تمام جوانب و اطراف) کو دیکھ لیا۔(مسلم، ص1182، حدیث:7258) (2)حضرت سیّدُنا عمر فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حُضُور نبیِّ کریم، رءوفٌ رَّحیم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک نے میرے سامنے دنیا پیش فرمادی، میں دنیا  اور اس میں پیش آنے والے قِیامت تک کے واقعات کو اپنی اس ہتھیلی کی طرح دیکھ رہا ہوں۔(مجمع الزوائد،ج 8،ص510، حدیث:14067)

مُحَقِّقِین بُزُرگانِ دین کے ارشادات(1)حضرت امام جلالُ الدّین سیوطی شافعی رحمۃ اللہ علیہ حضرت ابومنصور عبدُالقاہِر بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل فرماتے ہیں:قَالَ الْمُتَكَلِّمُونَ الْمُحَقِّقُونَ مِنْ اَصْحَابِنَا اَنَّ نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ بَعْدَ وَفَاتِهٖ، وَاَنَّهٗ يَسَرُّ بِطَاعَاتِ اُمَّتِهٖ وَيَحْزَنُ بِمَعَاصِي الْعُصَاةِ مِنْهُمْ یعنی ہمارے اصحاب میں سے محقق متکلمین فرماتے ہیں: بے شک ہمارے نبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم اپنی وفات کے بعد بھی زندہ ہیں اور اپنی اُمّت کی نیکیاں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور ان کی نافرمانیاں دیکھ کر غمزدہ ہوتے

ہیں۔(الحاوی للفتاوی،ج2،ص180)

(2)شارح بخاری حضرت امام احمد بن محمد قَسْطَلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:لَا فَرقَ بَينَ مَوتِهٖ وَحَيَاتِهٖ فِي مُشاهَدَتِهٖ لِاُمَّتِهٖ، وَمَعرِفَتِهٖ بِاَحْوَالِهِم وَنِيَّاتِهِم وَعَزَائِمِهِم وَخَوَاطِرِهِم، وَذٰلِكَ عِندَهٗ جَليّ لَا خَفاءَ بِهٖ یعنی اپنی اُمّت کا مشاہدہ فرمانے، ان کے حالات، دِل کے ارادوں، نیّتوں اور ان کے راز جاننے میں نبیِّ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی وفات اور حیات میں کوئی فرق نہیں۔ یہ تمام چیزیں رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ہاں ظاہر ہیں ان میں سے کچھ پوشیدہ نہیں۔(مواھبِ لدنیہ،ج 3،ص410)

(3)شیخِ محقق علّامہ عبدُالحق مُحدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:عُلَمائے اُمّت میں اس مسئلہ میں ایک شخص کا بھی اختلاف نہیں کہ نبیِّ پاک   صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم حقیقی زندگی کے ساتھ دائم و باقی ہیں، اس بات میں کسی قسم کا شبہ یا کوئی تاویل نہیں اور آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم اُمّت کے حالات پر حاضر وناظر ہیں۔ (سلوک اقرب السبل مع اخبار الاخیار، ص 155)ایک مقام پر فرماتے ہیں:شاہد کا معنی ہے اُمّت کے حال، ان کی نجات و ہلاکت اور تصدیق و تکذیب پر حاضر اور عالِم۔(مدارج النبوۃ،ج1،ص260)

(4)حضرت شاہ عبدُالعزیز مُحدّث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اے لوگوتم پر تمہارے رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم قیامت کے دن اس لئے گواہی دیں گے کہ وہ نُورِ نبوت سے ہر پرہیزگار کے مرتبہ و مقام کو جانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ فلاں میرا اُمّتی کس درجہ پر پہنچا ہوا ہے اور یہ کہ اس کے ایمان کی حقیقت کیا ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ میرے فلاں اُمّتی کی ترقّی میں فُلاں چیز رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ پس نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم تمہارے گناہوں، ایمان کے درجات، اچّھے بُرے اَعْمال اورتمہارے خُلوص و مُنافَقَت کو پہچانتے ہیں۔(تفسیر عزیزی، پ2، البقرۃ، تحت الآیۃ:143،ج 1،ص636)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                    صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
📚 حوالہ۔ماہنامہ فیضان مدینہ ۔دعوت اسلامی ۔محرم الحرام 1441 ھ  ستمبر 2019 ٕ

Thursday, April 16, 2020

اللہ جسے رکھے اسے کون چکھے

حکایت نمبر445:

🌻 جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے🌻

حضرت سیدنامعدی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کا بیان ہے:ابوبغیل نامی ایک شخص نے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا: ''ایک مرتبہ طاعون کے مرض نے لاشوں کے انبار لگادیئے ،ہم مختلف قبیلوں میں جاکر مردوں کو دفن کرتے۔ جب پور ے پورے گاؤں ہلاک ہونے لگے اور لاشوں کی تعداد بہت بڑھ گئی تو ہم انہیں دفنانے سے عاجز آگئے۔چنانچہ، اب ہم جس گھر میں داخل ہوتے اور دیکھتے کہ اس کے رہائشی فوت ہوگئے ہیں اور ان کی لاشیں گھر کے اندر ہی ہیں تو تمام لاشیں ایک کمرے میں جمع کرکے دروازہ اورکھڑکیاں وغیرہ بند کردیتے۔ اسی طرح گھرگھر جاکر ہم لاشیں جمع کرتے رہے پھرایک گھر میں گئے تودیکھاکہ گھرمیں موجود سب لوگ مر چکے ہیں ،ان میں کوئی ایک بھی زندہ نہ تھا۔ ہم نے گھر کے تمام دروازے بند کئے اور واپس آگئے۔
جب طاعون کا مرض چلا گیا تو ہم نے بندگھروں کو کھولنا شروع کیا، پھر ہم ایک گھرمیں گئے جس کے تمام رہائشی مرچکے تھے اور ہم نے اس کے دروازے اچھی طرح بند کئے تھے۔جب دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ صحن میں ایک تر وتازہ، فربہ اور صاف ستھرابچہ موجود تھا۔ایسالگتا تھا جیسے ماں کی گود سے ابھی ابھی لیا گیا ہو۔ہم بڑی حیرانگی کے عالم میں قدرت خداوندی عزوجل کا نظارہ کررہےتھے اور متعجب تھے کہ یہ بچہ کہاں سے آیا اور اب تک بغیر خوراک کے کیسے زندہ ہے؟ ہم حیرت کی وادیوں میں گم تھے کہ اچانک ایک مادہ درندہ دیوار کے ٹوٹے ہوئے حصے سے اندر داخل ہوا اور بچے کے قریب آکر بیٹھ گیا،بچہ محبت سے اس کی طرف لپکا اور اس مادہ کا دودھ پینے لگا۔ خالق کائنات ورزاق مخلوقات جل جلالہٗ کی اس شان رزاقی کو دیکھ کرہم بہت حیران ہوئے کہ وہ جس طرح چاہتا ہے اپنے بندوں کو رزق کے اسباب مہیا کرتاہے ۔ اس نے ایک بچے کی خوراک کاانتظام کس طرح کیا۔ طاعون کی بیماری سے اس گھر کے تمام افراد عورتیں اور مرد موت کے گھاٹ اتر چکے تھے، انہیں افراد میں ایک حاملہ عورت بھی تھی جس کا انتقال ہوگیا پھر اس بچے کی ولادت ہوئی اور اس کے رزق کا انتظام ایک درندے کے ذریعے کیا گیا۔ حضرت سیدنا معدی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کہتے ہیں: '' اس بچے نے خوب پرورش پائی اورجو ان ہو گیا او ر میں نے وہ دن بھی دیکھا کہ وہ بصرہ کی مسجد میں اپنی داڑھی کو اپنے ہاتھوں سے سنواررہا تھا ۔خالق کائنات جل مجدہ سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ اپنے بندوں پر جس طرح چاہتا ہے احسان فرماتا ہے۔''

📚حوالہ۔عیون الحکایات

📚فلاح دارین گروپ📚
علماۓ اہلسنت کیلۓ جواٸن ہونے کیلۓ رابطہ کریں👇
🤲 طالب دعا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📲9773617995📱

کنجوسی کا انجام

🌻حکایت نمبر18: کنجوسی کا انجام🌹

حضرت سیدنا یزید بن میسرہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:''ہم سے پہلی امتوں میں ایک شخص تھا جس نے بہت زیادہ مال ومتا ع جمع کیا ہوا تھا ،اور اس کی اولاد بھی کافی تھی ، طر ح طر ح کی نعمتیں اسے میسر تھیں، کثیر مال ہونے کے باوجود وہ انتہائی کنجوس تھا۔اللہ عزوجل کی راہ میں کچھ بھی خرچ نہ کرتا ، ہر وقت اسی کوشش میں رہتا کہ کسی طر ح میری دولت میں اضافہ ہوجائے۔جب وہ بہت زیادہ مال جمع کر چکا تو اپنے آپ سے کہنے لگا :''اب تو میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزار وں گا ۔چنا نچہ وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ خوب عیش وعشرت سے رہنے لگا۔
بہت سے خدام ہر وقت ہاتھ باندھے اس کے حکم کے منتظر رہتے،الغر ض! وہ ان دنیاوی آسائشوں میں ایسا مگن ہوا کہ اپنی موت کو بالکل بھول گیا۔ ایک دن ملک الموت حضرت سیدناعزرا ئیل علیہ السلام ایک فقیر کی صورت میں اس کے گھر آئے، اور دروازہ کھٹکھٹا یا۔ غلام فورا دروازے کی طر ف دوڑے، اور جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے ایک فقیر کو پایا، اس سے پوچھا:'' تویہاں کس لئے آیاہے؟''ملک الموت علیہ السلام نے جواب دیا : '' جاؤ، اپنے مالک کو باہر بھیجو مجھے اسی سے کام ہے ۔''
خادموں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا:''وہ تو تیرے ہی جیسے کسی فقیر کی مدد کرنے باہر گئے ہیں۔'' حضرت سیدنا ملک الموت علیہ السلام یہ سن کر وہاں سے چلے گئے۔ ''کچھ دیر بعد دوبارہ آئے اور دروازہ کھٹکھٹایا، غلام باہر آئے تو ان سے کہا:'' جاؤ، اور اپنے آقا سے کہو: میں ملک الموت علیہ السلام ہوں۔''
جب اس مالدار شخص نے یہ بات سنی تو بہت خوف زدہ ہوا اور اپنے غلاموں سے کہا:'' جاؤ، اور ان سے بہت نرمی سے گفتگو کرو۔'' خدام باہر آئے اور حضرت سیدنا ملک الموت علیہ السلام سے کہنے لگے:''آپ ہمارے آقا کے بدلے کسی اور کی رو ح قبض کرلیں اور اسے چھوڑدیں، اللہ عزوجل آپ کو بر کتیں عطا فرمائے ۔''
حضرت سیدناملک الموت علیہ السلام نے فرمایا:''ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔''پھر ملک الموت علیہ السلام اندر تشریف لے گئے،اور اس مالدار شخص سے کہا:'' تجھے جو وصیت کرنی ہے کرلے، میں تیری روح قبض کئے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا ۔''
یہ سن کر سب گھر والے چیخ اٹھے ، اور رو نا دھونا شروع کردیا ، اس شخص نے اپنے گھر والوں اور غلاموں سے کہا:''سونے چاندی سے بھرے ہوئے صندو ق اور تابوت کھول دو، اور میری تمام دولت میرے سامنے لے آؤ۔'' فورا حکم کی تعمیل ہوئی ،او ر سارا خزانہ اس کے قدموں میں ڈھیر کردیا گیا ۔ وہ شخص سونے چاندی کے ڈھیر کے پاس آیا اور کہنے لگا: ''اے ذلیل وبد تر ین مال! تجھ پر لعنت ہو ، تو نے ہی مجھے پرور دگار عزوجل کے ذکر سے غافل رکھا ، تو نے ہی مجھے آخرت کی تیاری سے روکے رکھا ۔'' یہ سن کر وہ مال اس سے کہنے لگا:'' تو مجھے ملامت نہ کر ، کیا تو وہی نہیں کہ دنیاداروں کی نظروں میں حقیر تھا؟ میں نے تیری عزت بڑھائی۔ میری ہی وجہ سے تیری رسائی بادشاہوں کے دربار تک ہوئی ورنہ غریب ونیک لوگ تو وہاں تک پہنچ ہی نہیں سکتے، میری ہی وجہ سے تیرا نکاح شہزادیوں اور امیر زادیوں سے ہوا۔ ورنہ غریب لوگ ان سے کہا ں شادی کر سکتے ہیں۔ اب یہ تو تیری بدبختی ہے کہ تو نے مجھے شیطانی کاموں میں خرچ کیا ۔اگر تو مجھے اللہ عزوجل کے کاموں میں خرچ کرتا تو یہ ذلت ورسوائی تیرا مقدر نہ بنتی۔کیا میں نے تجھ سے کہا تھا کہ تو مجھے نیک کاموں میں خرچ نہ کر؟ آج کے دن میں نہیں بلکہ تو زیادہ ملامت ولعنت کا مستحق ہے ۔''
اے ابن آدم !بے شک میں اورتودونوں ہی مٹی سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ پس بہت سے لوگ ایسے ہیں جونیکی کی راہ پرگامزن ہیں اور بہت سے گناہوں میں مستغرق ہیں۔( امام ابن جوزی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں :)''گویا مال ہر شخص سے اسی طرح کہتا ہے، لہذا مال کی برائیوں سے بچ کر رہواور اسے نیک کاموں میں خرچ کرو۔''

📚عیون الحکایت۔حکایت نمبر 18

🤲طالب دعا محمد عمران علی نعمانی رضوی قادری
📲9773617995📱

Sunday, April 12, 2020

روزے میں فلمیں۔ڈرامے دیکھنا اور گانے ناجے سننا کیسا ہے?

روزے میں فلمیں، ڈرامے دیکھنا اور گانے باجے سننا کیسا؟
سوال:کیا روزے کی حالت میں فلمیں، ڈرامے دیکھنے یا گانے وغیرہ سننے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟
جواب:روزے کی حالت میں فلمیں، ڈرامے دیکھنے یا گانے وغیرہ سننے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، البتہ روزے میں اس طرح کے افعال کرنا مکروہ و سخت گناہ ہیں اور ان کی وجہ سے روزے کی نورانیت بھی جاتی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر رمضان المبارک کے روزے صرف بھوکا، پیاسا رہنے کیلئے فرض نہیں فرمائے بلکہ اس لئے فرض فرمائے ہیں تاکہ ہمیں تقویٰ و پرہیزگاری ملے۔ جیسا کہ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۱۸۳) ( ترجمۂ کنز الایمان:”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔“ (پ 2، البقرۃ:183)(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)یہ کیسا روزہ دار ہے جو فلمیں، ڈرامے دیکھے، گانے باجے سنے اور گناہوں کی حالت میں اپنا وقت پاس کرتے ہوئے خود ہی اپنی آخرت برباد کرے؟ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ ماہِ مبارک اپنی برکتیں لٹا رہا ہے فوراً سے پیشتر اپنے تمام گناہوں سے ہمیشہ کے لئے سچی توبہ کر کے ایسا تقویٰ حاصل کیجئے کہ پھر کبھی گناہ سرزد ہی نہ ہوں۔ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ رمضان میں گناہوں سے بچیں اور اس کے بعد مَعَاذَ اللہعَزَّوَجَلَّ دوبارہ گناہوں میں پڑ جائیں۔ گناہ تو کسی صورت کرنے ہی نہیں، گناہ اللہ  عَزَّوَجَلَّ کی ناراضی کا باعث اور جہنم میں جانے کا سبب ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہردم گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہُ تعالٰی علیہِ واٰلہٖ وسَلَّ
📝 حوالہ۔ماہنامہ فیضان مدینہ 2017