Showing posts with label فدیہ ‏کا ‏بیان. Show all posts
Showing posts with label فدیہ ‏کا ‏بیان. Show all posts

Saturday, May 16, 2020

روزے کا فدیہ وکفارہ کس طرح ادا کریں

*📢روزے کا فدیہ وکفارہ کس طرح ادا کریں؟📢*

الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia


السلام عليكم ورحمۃ اللہ 
سوال ۔۔ شیخ فانی نے اپنے روزہ کا فدیہ  نکال کر کسی ایک آدمی کو دے دیا  تو کیا اس کافدیہ ادا ہوجائے گا؟ 
 اور کسی نے جان بوجھ کر  روزہ توڑ دیا  اور وہ روزہ کا کفارہ نکال کر  ایک آدمی کوایک ہی دن میں دے دیا  تو اس کا کفارہ ادا ہوجائے گا؟  
 بارگاہ عالیہ میں گزارش ہیکہ  جواب عنایت فرمائیں. عین نوازش ہوگی
المستفتی (مولانا)اختررضاہرنے،مدھوبنی بہار؛
ا________(📢)___________
*وعلیکم السلام ورحمةاللہ وبرکاتہ؛*
*الجواب بتوفیق اللہ التواب؛* ہاں ایک ہی آدمی کوکٸی نمازوں وروزوں کافدیہ ایک ہی دن یاکٸی دن میں دےسکتےہیں اداہوجاٸےگااورکٸی فقیرکوبھی دیاجاسکتاہےمگرکسی ایک کونصف صاع یعنی ایک صدقہ فطرکی مقدارسےکم دیناجاٸزنہیں بلکہ فدیہ بھی ادانہ ہوگا،
*(📔درمختارمیں ہے”))*
*لوادی للفقیراقل من نصف صاع لم یجزولواعطاہ الکل جاز“ج١ص١٠١باب قضإالفوات)*
*(📙ایساہی فتاوی رضویہ ج١٠ص٥٣٤پرہے)*
اگراداٸےروزہ رمضان کی نیت سےروزہ رکھااورکوٸی عذرنہ تھااورنہ کوٸی مرض کہ جس سےرخصت ہواورنہ کسی کاجبرواکراہ شرعی اورنہ حیض ونفاس کی حالت ہونیزنیت بھی رات ہی میں کرلیاہوتوایسےروزہ کادانستہ توڑناقضاوکفارہ دونوں لازم کرتاہے
لہذااگرمذکورہ عذرنہ تھااورعمداتوڑلیاہےتوقضاوکفارہ دونوں لازم ہےاورکفارہ میں ساٹھ روزےلگاتاررکھنےہونگےگراس کی طاقت نہیں توساٹھ مسکینوں کودونوں وقت بھرپیٹ کھلاٸےیااس کی قیمت دیدے
مگرشخص مذکورنےدومہینےکےروزےرکھنےکی بجاٸےپہلےکفارہ ہی دیدیاجودرست نہیں بلکہ ترتیب کفارہ ضروری ہےاگرروزہ رکھنےکی بالکل  طاقت نہیں
ناابھی ناآٸندہ تب توٹھیک ہےمگرکٸی دنوں میں دےایک ہی آدمی کوایک ہی دن میں دینےمیں کفارہ ادانہ ہوگاکہ تجددحاجت درکارہےچاہےحقیقةہویاحکمااورایک ہی دن میں ایک ہی شخص کودینےسےوہ تعددنہیں پایاجاتاہےاس لیےاولاپھرسےکفارےکےروزےرکھےجبکہ طاقت ہوورنہ پھرسےانسٹھ مسکینوں کودےکرکفارہ اداکرے،
*(📗البحرالراٸق میں ہے”)*
*وان اعطی فقیراشہرین صح ولوفی یوم لاالاعن یومہ“ج٤ص١١٩)*
*(📕ایساہی فتاوی امجدیہ ج١ص٣٩٨کتاب الصوم میں ہے،)*
*(📘اورردالمحتارمیں ہے”)*
*وکفرای مثلھافی الترتیب فیعتق اولافان لم یجدصیام شہرین متتابعین فان لم  یستطع اطعم ستین* *مسکینا“(ج٣ص٣٩٠باب* *مایفسدالصوم ومالایفسدہ،)*
*اوراسی میں ہے”ثم انمایکفران نوی لیلاولم یکن مکرھاولم یطرأمسقط کمرض وحیض“ج٣ص٣٩٠*
*(📕ایساہی فتاوی رضویہ ج١٠ص٦٠٢اوربہارشریعت ح٥ص٩٩٤تاص٩٩٥پرہے))*
*واللہ تعالی اعلم*
١٣رمضان المبارک ١٤٤١ھ مطابق ٦مٸی ٢٠٢٠ٕ
 ا_______(🖊)________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ مفتی محمد عثمان غنی مصباحی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی صدر شعبئہ افتاء دارالعلوم فدائیہ خانقاہ سمرقندیہ دربھنگہ بہار؛*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛📞8578878441)*
*مورخہ؛7/5/2020)*
ا________(🖊)________
*🖊المشتـــہر فضل کبیر🖊*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا_________(🖊)__________

Friday, May 15, 2020

شیخ فانی اگر فدیہ دینے کی استطاعت نہ رکھتاہوتو کیا وصیت کرنالازم ہے؟

*💚شیخ فانی اگر فدیہ دینے کی استطاعت نہ رکھتاہوتو کیا وصیت کرنالازم ہے؟💚*

 الحلقة العلمية ٹیلیگرام :https://t.me/alhalqatulilmia

 سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ اگر کوئی شیخ فانی بھی ہے اور فدیہ دینے کی بھی استطاعت نہیں رکھتا وہ شخص کیا کرے؟
ا_________(💚)___________
*الجواب بعون الملک الوھاب؛*
شیخ فانی پر بحسب استطاعت فدیہ دینا واجب ہے اگر فدیہ دینے کی استطاعت نہیں ہے تو اس کے اوپرفدیہ کی وصیت کرنا لازم نہیں بلکہ استطاعت نہ رہنے کی صورت میں سرے سے فدیہ کا وجوب ہی  ساقط ہو جائے گا ۔
*(📕در مختار میں ہے:)* *والشیخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر و یفدی وجوبا لو موسرا)* 
یعنی شیخ فانی مالدار ہو تو اس پر فدیہ دینا لازم ہے ۔
*فدی لزوما عن المیت ولیہ بوصیۃ (فصل فی العوارض )*
*(📘فتاوی رضویہ میں ہے:)*
شیخ فانی پر روزہ کا فدیہ حیات میں دینا واجب ہے اگر قادر ہو بعد مرگ وجوب نہیں جب تک اپنے مال میں وصیت نہ کرے
*(📕ج10ص545)*
*واللہ اعلم بالصواب؛*
ا______(🖌)_________
*کتبـــہ؛*
*حضرت علامہ مفتی محمد ھاشم رضا مصباحی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی صدر شعبئہ افتاء دارالعلوم جامعہ رضویہ شاہ علیم دیوان شیموگہ کرناٹکا؛*
*مورخہ؛13/5/2020)*
*🖊الحلقةالعلمیہ گروپ🖊*
*رابطہ؛☎7760517611)*
ا________(🖊)__________
*🖌المشتـــہر فضل کبیر 🖌*
*منجانب؛منتظمین الحلقةالعلمیہ گروپ؛محمد عقیل احمد قادری حنفی سورت گجرات انڈیا؛*
ا________(🖊)___________
741

Monday, May 11, 2020

جو شخص روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو اسکے لئے فدیہ کا کیا حکم ہے🔸

*🔸جو شخص روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو اسکے لئے فدیہ کا کیا حکم ہے🔸*

السلام علیکم ورحمۃ اللہ 
کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس کے بارے میں کہ ایک ایسا بوڑھا شخص ہے جس میں روزہ رکھنے کی قوت نہیں ہے تو کیا وہ فدیہ ادا کرے اگر فدیہ ادا کرے گا تو ایک دن کا کتنا فدیہ ادا کرے گا برائے مہربانی جواب عنایت برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں
*فخر ازھر چینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔹سائل محمد عامر حسین🔹*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*

*الجواب بعون الملک الوھاب :* صورت مسئولہ میں اگر کمزوری عمر دراز کی وجہ سے ہے کہ عمر اتنی ہوگئی ہے جو حقیقتاً روزہ رکھنے  کی قدرت نہ رکھتے ہوں، اور نہ ہی آئندہ طاقت کی امید ہوں _ تو ایسا شخص روزہ چھوڑ دے اور ہر روزہ کے بدلے فدیہ ادا کرے_
ایک روزے کا فدیہ ہے :
دونوں وقت ایک مسکین کو پیٹ بھر کھانا کھلائے اس پر واجب ہے : یا تو پھر ہر روزہ کے بدلے صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دے 

📑البحر الرائق فی شرح کنز الدقائق میں ہے، *،الشيخ الفانى وهو يفدى یعنی شیخ فانی کے لئے فدیہ ادا کرے*
*(📘جلد دوم صفحہ 70 کتاب الصوم )*

📃قدوری میں میں ہے 
*" والشيخ الفانى الذى لا يقدر على الصيام يفطر و يطعم لكل يوم مسكينا كلما يطعم فى الكفارات*
یعنی اور بہت بوڑھا شخص جو روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو وہ افطار کرے اور ہر دن ایک مسکین کو اتنا کھانا کھلائے جتنا کفارات میں کھلایا جایا کرتا ہے
*(📕ماخوذ اشرف النوری شرح قدوری صفحہ 273 کتاب الصوم )*

📄 اعلی حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں: فدیہ صرف شیخ فانی کے لئے رکھا ہے جو بہ سبب پرانہ سالی حقیقتاً روزہ کی قدرت نہ رکھتا ہو نہ آئندہ طاقت کی امید کہ عمر جتنی بڑھے گی ضعف بڑھے گا اس کے لئے فدیہ کا حکم ہے
*(📚 فتاویٰ رضویہ مخرجہ جلد 10 ،صفحہ 520 کتاب الصوم باب الفدیہ )*

*🔸واللہ اعلم ورسولہ بالصواب🔸*
اـــــــــــــــــــــ❣♻❣ــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*اسیر حضور تاج الشریعہ حضرت مفتی محمد شمیم القادری احمدی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی ،،ساکن کھڑکمن پنچایت گوروکھال ٫پوسٹ کوئماری٫ پوٹھیا کشن گنج بہار*
*🗓 ۲۹ اپریل ٠٢٠٢؁ء مطابق ۵ رمضان المبارک ۱۴۴۱؁ھ بروز بدھ*
*رابطہ* https://wa.me/+918070567216
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح و صواب حضرت مفتی محمد رضا امجدی صاحب قبلہ ھرپوروا باجپٹی سیتامڑھی بھار*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وخواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ

Sunday, May 10, 2020

شیخ ‏فانی ‏خود ‏مستحق ‏زکوة ‏ہوتو ‏اس ‏کے ‏فدیہ ‏کا ‏کیا ‏حکم ‏ہے

شیخ فانی خود مستحق زکوۃ ہو تو اسکے فدیہ کا کیا حکم ہے؟

شیخ فانی خود مستحق زکوۃ ہو تو اسکے فدیہ کا کیا حکم ہے؟


*💶شیخ فانی خود مستحق زکوۃ ہو تو اسکے فدیہ کا کیا حکم ہے؟*🍙

https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
بعد سلام عرض یہ ہے کہ شیخ فانی اگر صاحب نصاب نہ ہو اور زکوٰۃ لینے کا مستحق ہو تو کیا اس پر روزہ نہ رکھنے کا کفارہ ہوگا یا نہیں؟؟؟
براۓ کرم جواب عنایت فرمائیں.....
عین نوازش ہوگی
*فخرازھرچینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل محمد علی سورت گجرات🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
کفارہ نہیں ، اسے فدیہ کہتے ہیں کفارہ الگ ہوتا ہے ، یہ شیخ فانی جو کہ خود فطرہ، زکاۃ لینے کے مستحق ہیں، اگر واقعی میں روزے کا فدیہ ادا کرنے پر قدرت نہیں رکھتے ہیں، مجبور ہیں، تو دل میں نیت رکھے اور اللہ کی ذات سے امید رکھے کہ اللہ عزوجل اس لائق بنائے کہ فدیہ ادا کر سکے تو ضرور کرینگے،نہیں تو اللہ عزوجل معاف فرمائے گا دلوں کا حال بیشک اللہ بہتر جانتا ہے

📑قال اللہ تعالی فی القرآن المجید: 
*لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا '*
*(📘القرآن)* 
مفہوم؛ اللہ عزوجل کسی بھی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں عطا فرماتا ہے، کہ جس بات پر قادر نہ ہو وہ کرنا ہی پڑے 

📜وقال؛
*' لا اکراہ فی الدین* 
*(📔القرآن)* 
مفھوم؛ دین اسلام میں زور زبردستی نہیں دین اسلام بوجھ نہیں ہے

🔎شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا /بوڑھی جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتے جائینگے، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتے ہیں نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکیں گے،تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھانا کھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار رقم مسکین کو دیدے
*(📚بحوالہ؛ الدرالمختار کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۱، وغیرہ-حوالہ بہار شریعت، حصہ پنجم )*

📌فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقہ نفل ہوکر رہ گیا اب ان روزوں کی قضا کرے
*(📚بحوالہ؛ الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷-حوالہ بہار شریعت، حصہ پنجم )*

*🔸واللّٰه تعالیٰ اعلم 🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی مانخورد ممبئی*
*🗓 ۱۷ رمضان المبارک ۴۴۱؁ھ مطابق ۱۱ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز سوموار*
*رابطہ* https://wa.me/+919167698708
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح و المجیب نجیح حضرت مولانا محمد جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ مسجد نور جاجپور اڑیسہ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وجواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*
0 comments
*💶شیخ فانی خود مستحق زکوۃ ہو تو اسکے فدیہ کا کیا حکم ہے؟*🍙

https://akbarashrafi.blogspot.com/?m=1
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
بعد سلام عرض یہ ہے کہ شیخ فانی اگر صاحب نصاب نہ ہو اور زکوٰۃ لینے کا مستحق ہو تو کیا اس پر روزہ نہ رکھنے کا کفارہ ہوگا یا نہیں؟؟؟
براۓ کرم جواب عنایت فرمائیں.....
عین نوازش ہوگی
*فخرازھرچینل لنک*
https://t.me/fakhreazhar
*🔸سائل محمد علی سورت گجرات🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*الجواب بعون الملک الوھاب*
کفارہ نہیں ، اسے فدیہ کہتے ہیں کفارہ الگ ہوتا ہے ، یہ شیخ فانی جو کہ خود فطرہ، زکاۃ لینے کے مستحق ہیں، اگر واقعی میں روزے کا فدیہ ادا کرنے پر قدرت نہیں رکھتے ہیں، مجبور ہیں، تو دل میں نیت رکھے اور اللہ کی ذات سے امید رکھے کہ اللہ عزوجل اس لائق بنائے کہ فدیہ ادا کر سکے تو ضرور کرینگے،نہیں تو اللہ عزوجل معاف فرمائے گا دلوں کا حال بیشک اللہ بہتر جانتا ہے

📑قال اللہ تعالی فی القرآن المجید: 
*لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا '*
*(📘القرآن)* 
مفہوم؛ اللہ عزوجل کسی بھی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں عطا فرماتا ہے، کہ جس بات پر قادر نہ ہو وہ کرنا ہی پڑے 

📜وقال؛
*' لا اکراہ فی الدین* 
*(📔القرآن)* 
مفھوم؛ دین اسلام میں زور زبردستی نہیں دین اسلام بوجھ نہیں ہے

🔎شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا /بوڑھی جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روز بروز کمزور ہی ہوتے جائینگے، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتے ہیں نہ آئندہ اس میں اتنی طاقت آنے کی امید ہے کہ روزہ رکھ سکیں گے،تو اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھانا کھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار رقم مسکین کو دیدے
*(📚بحوالہ؛ الدرالمختار کتاب الصوم، فصل في العوارض، ج۳، ص۴۷۱، وغیرہ-حوالہ بہار شریعت، حصہ پنجم )*

📌فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ صدقہ نفل ہوکر رہ گیا اب ان روزوں کی قضا کرے
*(📚بحوالہ؛ الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الصوم، الباب الخامس في الاعذار التی تبیح الإفطار، ج۱، ص۲۰۷-حوالہ بہار شریعت، حصہ پنجم )*

*🔸واللّٰه تعالیٰ اعلم 🔸*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبــــــــــــــــــــــــــــــہ*
*ابو حنیفہ محمد اکبر اشرفی رضوی مانخورد ممبئی*
*🗓 ۱۷ رمضان المبارک ۴۴۱؁ھ مطابق ۱۱ مئی ٠٢٠٢؁ء بروز سوموار*
*رابطہ* https://wa.me/+919167698708
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*✅الجواب صحیح و المجیب نجیح حضرت مولانا محمد جابرالقادری رضوی صاحب قبلہ مسجد نور جاجپور اڑیسہ*
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*🔸فیضان غوث وخواجہ گروپ میں ایڈ کے لئے🔸* https://wa.me/+917800878771
اــــــــــــــــــــــ❣♻❣ـــــــــــــــــــــــ
*المشتـــہر؛*
*منجانب منتظمین فیضان غوث وجواجہ*
*گروپ محمد ایوب خان یارعلوی بہرائچ*